Live Updates

{12ربیع الاول کے اگلے ہفتے ملک گیر ہڑتال ہوگی، حافظ نعیم الرحمن

ظ*پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی کیمپ قائم کریں گے، آج کراچی میں جلسہ عام ہوگا ھ*عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، امیر جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس

جمعرات 20 اگست 2026 19:50

'لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 اگست2026ء) اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 اگست2026ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر حکومت کو مزید احتجاج کا انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عوام کو سہولت دینے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ اٹھائے گئے تو دھرنوں کا دائرہ پورے ملک میں پھیلائیں گے، 12 ربیع الاول کے اگلے ہفتے ملک گیر ہڑتال ہوگی، جس میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن بھی شامل ہوگا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وہ آج لاہور میں دھرنا سے خطاب اور کل کراچی میں دھرنا کے مقام پر جلسہ عام ہوگا۔ اسلام آباد کی جانب پیدل مارچ بھی کرسکتے ہیں۔ نائب امیر میاں محمد اسلم ڈپٹی سیکریٹری سید فراست شاہ ، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

(جاری ہے)

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مقامی حکومتوں کا موثر نظام ہوتا تو نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت ہی پیش نہ آتی، بلدیاتی فنڈز صوبائی حکومتیں کھا جاتی ہیں، جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ نئے صوبے بن بھی سکتے ہیں تاہم اس کے لییقومی اتفاق رائے اور آئین میں دیے گئے اصولوں پر عملدرآمد ضروری ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں عوام کو مہنگائی سمیت ہر شعبے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

فارم سنتالیس کے حکمران شہریوں کو مطلوبہ سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہوگئے ۔ انہوں پٹرولیم لیوی عوام پر عائد بھتہ ٹیکس ہے،،لیٹر پر تقریباً 80 روپے ایسا ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔ پٹرولیم لیوی کا بنیادی مقصد ملک کی ریفائنریوں کو اپ گریڈ کرنا تھا، لیکن حکومت نے اب تک لیوی کی مد میں عوام سے 8 ہزار ارب روپے سے زائد جمع کیے جبکہ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن پر 100 ارب روپے بھی خرچ نہیں کیے گئے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ لاہور ، کراچی اور پشاور میں جماعت اسلامی کے دھرنے جاری ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں عوام کی شرکت بڑھ رہی ہے۔ تاجروں، علما، نوجوانوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سمیت مختلف طبقات دھرنوں میں شریک ہیں۔ یہ احتجاج اب عوام کے مسائل کے حل کا ذریعہ بن چکا ہے اور جماعت اسلامی ان دھرنوں کی حمایت میں ملک بھر میں احتجاجی کیمپ بھی قائم کرے گی۔

انہوں نے قوم سے احتجاجی تحریک کی حمایت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کسی ذاتی یا سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کے لیے ریلیف حاصل کرنا چاہتی ہے۔لیوی کا خاتمہ ہماری انا کا مسئلہ نہیں، عوام کا مسئلہ ہے۔آئی پی پیز کے خلاف جماعت اسلامی کے سابق احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جب جماعت اسلامی نے اسلام آباد کی طرف مارچ کیا تو اسے دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکا گیا، ہم پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی جس کے بعد کارکن راولپنڈی میں بیٹھ گئے اور حکومت کو مذاکرات کرنا پڑے۔

پانچ آئی پی پیز بند کیے گئے اور دیگر کے ساتھ نئے معاہدے کیے گئے، جس سے قومی خزانے کو 3,360 ارب روپے کا فائدہ ہوا۔ بجلی کے شعبے میں اب بھی 73 آئی پی پیز سے بات چیت کی ضرورت ہے۔ اگر ان سے مؤثر مذاکرات کیے جائیں تو اگلے ایک سے ڈیڑھ سال میں بجلی کی قیمت میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔آئی پی پیز بجلی پیدا نہ کرنے کی قیمت بھی قوم سے وصول کر رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت غریب اور کم آمدن والے شہریوں پر بھی بھاری ٹیکس عائد کر رہی ہے، اشرافیہ کے اخراجات عوام برداشت کررہے ہیں۔ انہوں نے اسے اشرافیہ نہیں بلکہ ’’بدمعاشیہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو عوام کی مشکلات کا احساس کرنا ہوگا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ اگر ڈیزل یا پٹرول کی قیمت کم کرنی ہے تو صرف 30 روپے نہیں بلکہ 130 روپے تک کا بوجھ کم کیا جائے۔

حکومت اگر موجودہ پالیسیوں سے پیچھے نہ ہٹی تو جماعت اسلامی احتجاج کو مزید وسیع کرے گی۔ملک میں بڑھتے ہوئے قرضوں کا ذکر کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان کا مجموعی قرض 98 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ ایک صحافی کے استفسار پر انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ سود کے خاتمے کے حوالے سے اپنے وعدے پورے کرے، کیونکہ سودی نظام قرضوں کے بوجھ میں اضافے کا ایک بڑا سبب ہے۔

انہوں نے بجلی کے نرخوں اور بلوں میں اضافے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے 25 ہزار ملازمین بھی اگر اپنے اہداف پورے نہیں کر سکتے تو اس ناکامی کا بوجھ عوام کی جیبوں پر ڈالنا قابل قبول نہیں۔ انہوں نے سرکاری اخراجات میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری گاڑیوں کی انجن گنجائش 1300 سی سی سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے مطالبات واضح ہیں، ملک میں کرپشن کا نظام ختم کیا جائے اور عوام پر غیرضروری ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے۔امیر جماعت اسلامی نے سندھ اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کو تباہ کردیا، جبکہ مسلم لیگ (ن) گزشتہ 40 سال سے پنجاب پر حکمرانی کر رہی ہے اور صوبے میں غربت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب حکومت کی تعلیمی پالیسی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے 11 ہزار اسکول آؤٹ سورس کردیے ہیں۔ اگر حکومت تعلیمی نظام نہیں چلا سکتی تو یہ اس کی ناکامی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غریب عوام پر لیوی کا بوجھ ڈالنا اور دوسری جانب اپنی بھتیجی کے لیے 11 ارب روپے کے اخراجات برداشت کرنا قابل قبول نہیں۔

حکومت کی بریفنگ اور مذاکرات سے متعلق جب پوچھا گیا تو حافظ نعیم نے کہا کہ جماعت اسلامی حکومتی بریفنگز میں بیٹھنے کے بجائے براہ راست عوام کے درمیان بات چیت چاہتی ہے۔ حکومت کی کسی بریفنگ میں نہیں بیٹھیں گے، حکمران دھرنوں میں آکر ہمارے ساتھ بات کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کو علاج کی سہولیات سے روکنا فسطائیت ہے، بانی پی ٹی آئی کو علاج کی تمام سہولیات دی جائیں۔ عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات