سینیٹ میں پمز سانحے پر شدید بحث، ہائوس کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور

سرکاری تنخواہ لینے والوں کے نجی اسپتال میں علاج پر پابندی لگ جائے تو سرکاری ہسپتال ایک دن میں ٹھیک ہو جائیں، پرویز رشید حکومتی کمیٹیوں پر عوام کو یقین نہیں ہے،معاملے پر سینیٹ کی کمیٹی بنائی جائے، جس کی سربراہی اپوزیشن کا کوئی رکن کرے، سینیٹر علی ظفر یہ حادثہ نہیں بچوں کا قتل ،سینیٹ کی کمیٹی بنائی جائے،بانی پی ٹی آئی کو اگر پمز میں لانے کی کوشش کی گئی ہے تو یہ قتل کی سازش ہے، راجہ ناصر عباس گی،سی ڈی اے کی رپورٹس پمز کی رپورٹس سے مختلف ہیں ، وہاں کی انتظامیہ سے پوچھا جائے کہ وہ کیا کررہی ہے، شیری رحمن ……4 صوبے نہیں چلا سکتے، 25 بنا دیے تو کیا حشر ہوگا ، سینیٹر جان بلیدی ………حکومت سانحے پر رنجیدہ بھی ہے اور سنجیدہ بھی ہے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ حکومت اس وقت ایک کٹھ پتلی ہے اور اس کا کوئی اختیار نہیں، مولانا عطاء الرحمن …یہ نظام گل سڑچکا ہے، 2 برے لوگوں میں ایک کم برے شخص کو لگانا ہوتا ہے، ہر کوئی کہتا ہے کہ کسی کا برا شخص ہٹا کر میرا برا آدمی لگادیں، مصطفی کمال

جمعہ 28 اگست 2026 16:00

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 اگست2026ء) سینیٹ کے اجلاس میں پمز سانحے پر شدید بحث ہوئی آئی جس میں واقعہ کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ سامنے آیا، جبکہ ہائوس کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور کی گئی۔ جمعہ کو سینیٹ کا اجلاس پریزائیڈنگ آفیسر منظور احمد کاکڑ کی زیر صدارت شروع ہوا، جس میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے معمول کی کارروائی معطل کرنے کا مطالبہ کیا جس پر سینیٹر شیری رحمان نے تحریک پیش کی۔

بعد ازاں سینیٹ نے معمول کی کارروائی معطل کردی اور پمز سانحہ پر بحث شروع کردی۔ سینیٹ میں سانحہ پمز پر بحث کے لیے وقفہ سوالات بھی معطل کردیا گیا، جس کی تحریک شیری رحمان نے پیش کی۔اجلاس میں حکومت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن تنظیم نو ترمیمی بل 2026 واپس لے لیا۔

(جاری ہے)

بل واپس لینے کی تحریک وزیر آئی ٹی کی جگہ وزیر مملکت طلال چوہدری نے پیش کی۔

سینیٹر علی ظفر نے پمز واقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے واقعے کی مکمل انکوائری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پمز واقعے کی ذمہ داری ہر اس شخص پر ہے جو بجٹ پاس کرنے میں شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صحت کے بجٹ پر کٹ کا غریب آدمی کی صحت پر اثر پڑنے کی نشاندہی کی تھی۔سینیٹر علی ظفر نے مطالبہ کیا کہ معاملے پر سینیٹ کی کمیٹی بنائی جائے، جس کی سربراہی اپوزیشن کا کوئی رکن کرے، کمیٹی میں 50 فیصد حکومتی اور 50 فیصد اپوزیشن ارکان ہونے چاہییں، جبکہ کمیٹی ہنگامی حالات سے نمٹنے کے ایس او پیز بنائے۔

علی ظفر نے کہا کہ کمیٹی کو اختیار دیا جائے کہ کسی بھی ادارے کو اپنی مدد کے لیے بلا سکے۔ انہوںنے کہاکہ حکومتی کمیٹیوں پر عوام کو یقین نہیں ہے۔سینیٹر پرویز رشید نے اظہار خیال کرتے ہوئے سی ایم ایچ کے نظام کو پمز میں بھی فالو کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ سی ایم ایچ میں سپاہی سے جنرل تک کا علاج ہوتا ہے اور وہاں ایسے واقعات کی کبھی شکایات نہیں آئیں۔

انہوں نے پمز سانحہ کو بہت بڑا المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا المیہ نہیں تھا، ایسے واقعات روز ہوتے ہیں۔ پرویز رشید نے کہا کہ روز المیہ ہوتا ہے، لوگ روتے ہیں اور پھر آگے چل پڑتے ہیں، ایسے المیے ختم نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹیاں بھی بنتی ہیں، تحقیقات بھی ہوتی ہیں اور سزا جزا بھی ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود مسئلہ برقرار رہتا ہے۔

پرویز رشید نے تجویز دی کہ قانون بنایا جائے کہ سرکاری تنخواہ اور مراعات لینے والوں اور ان کے اہلخانہ کا علاج سرکاری اسپتال میں ہوگا،سرکار سے تنخواہ لینے والوں کے نجی ہسپتال سے علاج پر پابندی لگائی جائے،ایسا قانون بنادیا جائے تو دنوں میں ہسپتال عالمی معیار کے ہوجائیں گے۔انہوں نے سرکار سے تنخواہ لینے والوں پر پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی پابندی اور ان کے بچوں کو سرکاری اسکولز میں لازمی داخل کرنے کا قانون بنانے کی تجویز بھی دی۔

نیشنل پارٹی کے سینیٹر جان محمد بلیدی نے پمز سانحے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 20 ہزار ارب روپے کا قومی بجٹ تھا لیکن پمز نہیں چلا سکتے،4 صوبے نہیں چلا سکتے، 25 بنا دیے تو کیا حشر ہوگا سینیٹ میں پمز سانحہ پر بحث کے دوران فلک ناز چترالی نے کہا کہ وزیر صحت سینیٹ اجلاس میں پمز کے قصیدے پڑھ رہے تھے، اس پر شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ واقعے کے دن پمز گئیں تو سیکیورٹی گارڈز نے دھکے دے کر باہر نکال دیا۔فلک ناز چترالی نے کہا کہ بچے شاپنگ بیگ میں والدین کو دیے گئے اور کہا گیا کہ کسی کو بتانا نہیں اور یہاں سے چلے جا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں دو اسپتال سنبھالے نہیں جاتے اور یہ اچھل اچھل کر کہتے ہیں کہ ہم نئے صوبے بنائیں گے۔فلک ناز چترالی نے وزیر صحت اور حکومت کو قصوروار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لیڈر بانی پی ٹی آئی کو اسی ہسپتال لے جایا گیا تھا،یہ جال بانی پی ٹی آئی کے لیے بچھایا گیا تھا اور بانی پی ٹی آئی کو پمز لانا سیکیورٹی رسک ہے۔

فلک ناز چترالی کی تقریر پر مسلم لیگ ن کے ارکان اور ایم کیو ایم کے سینیٹرز نے احتجاج کیا۔ وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ پہلے طے کرلیں کہ سیاست پر بات کرنی ہے یا پمز واقعے پر۔ انہوں نے کہا کہ پمز واقعے پر بات کے بجائے آخر میں یہ چور کو لے آئے۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سب سے زیادہ عوام کا خادم وزیر ہوتا ہے، ہم عوام کے نوکر ہیں اور عوام شہنشاہیوں سے تھک چکے ہیں، عوام کہتے ہیں ہمیں سہولت چاہیے ، لوگ ایوانوں سے لوگ ناامید ہوچکے ہیں۔

انہوں نے سانحے پر تحقیقات کیلئے ہائوس کمیٹی کا مطالبہ کیا۔شیری رحمان نے کہا کہ جو کمیٹیاں بنی ہیں، ہمیں ان پر کوئی اعتماد نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تحقیقات نہ ہوئیں تو استعفے مانگیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ 14بچوں کی مائیں رو رہی ہیں، ہنگامی اخراج کے راستے بند تھے،ہر ہسپتال میں عملہ صبح 6 بجے موجود ہوتا ہے، مگر وہاں عملہ نہیں تھا، پتہ کریں عملہ کہاں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم ساری زندگی اے سی میں بیٹھتے ہیں، کسی نے اے سی میں چنگاری دیکھی ہے، سسٹم کام ہی نہیں کررہے۔شیری رحمان نے سوال کیا کہ جولائی میں ہوسٹل میں آگ لگی تھی، بتایا جائے اس کا کیا بنا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات نہ ہوئی تو وہ یہ ایوان نہیں چلنے دیں گی،سی ڈی اے کی رپورٹس پمز کی رپورٹس سے مختلف ہیں ، وہاں کی انتظامیہ سے پوچھا جائے کہ وہ کیا کررہی ہے۔

شیری رحمان نے کہا کہ صرف سیکیورٹی کو الزام دینے سے کام نہیں چلے گا،سی ڈی اے نے جو فائر سیفٹی انتظامات کا کہا تھا، وہ کیوں نہیں ہوئی بتایا جائے ہنگامی راستے کیوں بند تھے۔ انہوں نے سینیٹ کی کمیٹی بنانے اور اسے 40 دن کا وقت دینے کا مطالبہ کیا۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ وزیراعظم نے کمیٹی بنائی ہے جو شاہد خان کی قیادت میں کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسری کمیٹی وزیراعظم نے ڈاکٹر کیانی کی سربراہی میں بنائی ہے۔ حکومت سانحے پر رنجیدہ بھی ہے اور سنجیدہ بھی ہے۔مولانا عطا الرحمان نے پمز میں ہونے والے سانحے کو لمحہ فکر قرار دیتے ہوئے ذمہ دار لوگوں کو نشان عبرت بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ معمولی نہیں ہے،دیگر ممالک میں یہ واقعات نہیں ہوتے، سانحے کے ذمہ دار بھی جانتے ہیں کہ کچھ دیر بات ہوگی اور پھر خاموشی چھا جائے گی۔

مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ پشاور میں آرمی پبلک اسکول کا سانحہ ہوا، اس کے ذمہ دار کہاں ہیں پمز کی متاثرہ مائیں رو رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جو بھی کمیٹی بنائی جائے اسے ڈیڈ لائن دی جائے،حکومت اس وقت ایک کٹھ پتلی ہے اور اس کا کوئی اختیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوتوں کے ایما پر ان کا ایجنڈا پورا کرنے والوں کو نشان عبرت بنانا چاہیے، ایک جوڑے کو چار پانچ سال بعد اولاد ملی اور وہ بھی سانحے میں جاں بحق ہوگیا،اگر یہ واقعہ قصداً اس لیے کیا گیا کہ ہم اس میں مصروف ہوجائیں اور وہ اپنا کام کرتے رہیں تو معاملہ سنگین ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئے روز نبی اکرم کی ناموس پر حملے ہورہے ہیں، یہاں قادیانیوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے، اصل ذمہ داروں کو نشان عبرت بنانا چاہیے۔سینیٹر خالدہ عطیب نے کہا کہ اس ایشو کو سیاسی رنگ دیا جارہا ہے۔ انہوں نے سندھ کے ولیکا اسپتال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل استعمال شدہ سرنجیں استعمال کرنے سے 70 سے زائد بچے ایڈز کا شکار ہوگئے تھے۔

اگر اس واقعے پر کچھ کرلیتے تو شاید یہ واقعہ نہ ہوتا۔ خالدہ عطیب نے کہا کہ بچوں کے وارڈ کو تالا لگادیا گیا تھا اور آدھا گھنٹہ چابی ڈھونڈنے میں لگ گیا، جس سے وارڈ بند رہا۔ چابی تلاش کرنے میں آدھا گھنٹہ لگا اور بچے دم گھٹنے سے فوت ہوئے۔ انہوں نے وارڈ کی انچارج اور ڈیوٹی پر موجود نرسز کے بارے میں سوالات اٹھائے۔خالدہ عطیب نے کہا کہ ولیکا اسپتال میں متاثرہ بچے روز جیتے اور روز مرتے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا سندھ حکومت نے ان بچوں کے علاج کی ذمہ داری اٹھائی اور اس واقعے پر کسی نے استعفا دیا سینیٹر دلاور حسین نے پمز کے انتظامی معاملات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال کے ای ڈی نے اپنے نیچے ایسے لوگ لگائے ہیں جو ان کی ہاں میں ہاں ملائیں،جاپان کے ادارے جائیکا نے بھاری فنڈنگ کرکے ایک منصوبہ دیا، لیکن جائیکا کے تعاون سے شروع ہونے والے منصوبے میں آپریشن بھی شروع نہیں ہوئے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ ای ڈی نے وہاں باقاعدہ ایک دکانداری لگا رکھی ہے،جو ڈاکٹر منظور نظر لیبارٹریوں کے ٹیسٹ نہیں لکھتا، اسے کھڈے لگا دیا جاتا ہے۔ اس سانحے کا ذمہ دار وزیر نہیں بلکہ موجودہ ای ڈی ہیں۔اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے کہا کہ پمز اسپتال کے ای ڈی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کے خلاف سپریم کورٹ کے کیسز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف پارلیمنٹرینز نے اس ای ڈی کے خلاف بات کی، اس کے باوجود اسے نہیں ہٹایا جاسکا،ای ڈی کو وزیراعظم بھی نہیں ہٹا سکے، سوال یہ ہے کہ نااہل آدمی کو کس نے لگایا تھا، اتنے بڑے المیے کے بعد بھی اس نااہل شخص کو نہیں ہٹایا جاسکا۔

انہوں نے سب سے پہلے ای ڈی کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ اس شخص کی موجودگی میں شفاف تحقیقات کیسے ہوسکتی ہیں۔راجہ ناصر عباس نے کہا کہ یہ حادثہ نہیں بچوں کا قتل ہے۔ اس پر سینیٹ کی کمیٹی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو اگر پمز میں لانے کی کوشش کی گئی ہے تو یہ قتل کی سازش ہے۔ انہوں نے سینیٹر پرویز رشید کی تائید بھی کی کہ حکومت پاکستان سے تنخواہ لینے والے کسی شخص کو نجی ہسپتال میں علاج کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ شہید بچوں کے والدین کو پریشرائز کیا جارہا ہے کہ وہ نہ بولیں۔ بعد ازاں وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کے ایوان میں خطاب سے پہلے پی ٹی آئی کے کارکنوں نے احتجاج کیا۔ سینیٹر مشعال یوسفزئی نے کہا کہ پہلے ہمیں بات کرنے کا موقع دیں، پھر وزیر کی بات سنیں۔ مصطفی کمال نے کہا کہ انہیں جواب دینے کا کوئی شوق نہیں، وہ بیٹھ جاتے ہیں۔

وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا کہ یہ اندوہناک واقعہ تھا اور اس کی کوئی توجیح نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا ہے۔ مصطفی کمال نے کمیٹی بنانے کی حمایت کی تاہم کہا کہ اس پر وقت کی قید نہ لگائی جائے۔انہوں نے کہا کہ ایک سال میں 4 لاکھ بچے مررہے ہیں اور ملک میں روزانہ 1300 بچے مررہے ہیں، اموات میں دنیا میں سب سے بڑا نمبر ہمارا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر سال 11 ہزار مائیں زچگی کے دوران مرجاتی ہیں۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ یہ نظام گل سڑچکا ہے، 2 برے لوگوں میں ایک کم برے شخص کو لگانا ہوتا ہے، جبکہ ہر کوئی کہتا ہے کہ کسی کا برا شخص ہٹا کر میرا برا آدمی لگادیں۔مصطفی کمال نے ایوان کو یقین دلایا کہ کسی ایک شخص کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔ وزارتوں کے لیے ہم اپنی قبر خراب نہیں کریں گے۔

پورے ہیلتھ کیئر نظام کو ٹھیک کرنا ہے، پھر کوئی ایم این اے یا سینیٹر کسی ڈاکٹر کے لیے فون نہ کرے۔مصطفی کمال نے کہا کہ سب کے بندے لگے ہوئے ہیں یہاں پر۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بچے کو بچایا گیا ہے اور اسے اسٹاف نے بچایا ہے۔ اس دوران سینیٹر شیری رحمان نے پمز سانحے کی تحقیقات کے لیے ہاس کمیٹی بنانے کی قرارداد پیش کردی۔شیری رحمان نے ایوان میں قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ یہ کمیٹی تشکیل دیں۔ ایوان نے قرارداد منظور کرلی۔