Live Updates

افغانستان کی جانب سے پاکستان مخالف شدت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی پر سرحدی گزرگاہیں دوبارہ کھولنے، ٹرانزٹ ٹریڈ بحال کرنے سمیت دیگر اقدامات کیلئے تیار ہیں ، ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ

جمعرات 17 ستمبر 2026 17:27

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 ستمبر2026ء) پاکستان نے کہا ہے کہ وہ سرحدی گزرگاہیں دوبارہ کھولنے، ٹرانزٹ ٹریڈ بحال کرنے اور افغانستان کو علاقائی رابطہ کاری کے مرکز کے طور پر استعمال کرنے کے لئے تیار ہے بشرطیکہ کابل پاکستان مخالف عسکریت پسند گروہوں کے خلاف فیصلہ کن اور قابل تصدیق کارروائی کرے۔جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ اگر افغانستان دہشت گردی کے خاتمہ کے حوالے سے تعاون کرے تو پاکستان کے لئے سرحدی گزرگاہیں کھولنے ، ٹرانزٹ ٹریڈ کی بحالی سمیت اس بندش کو جاری رکھنے کی کوئی وجہ نہیں، ہم اپنی سرحدیں کھولنے، تجارت کرنے، افغانستان کو کنیکٹنگ ہب کے طور پر استعمال کرنے کے لئے تیار ہیں اور پورا خطہ دراصل ایک پرامن خطے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، ہماری پالیسی ایک پرامن افغانستان کی رہی ہے جو اندر سے بھی پرامن ہو اور پڑوسی ممالک کے ساتھ بھی پرامن ہو۔

(جاری ہے)

انہوں نے گزشتہ سال نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے افغانستان کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ٹرانزٹ ٹریڈ پر بہت سی رعایتیں پیش کیں، ٹیرف کم کئے اور افغانستان سے کہا کہ وہاں سے ہونے والی دہشت گردی کو روکیں،بدقسمتی سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دوست ممالک قطر، ترکیہ اور چین کے ذریعے بھی کوشش کی لیکن افغانستان کی جانب سے عدم تعاون کی وجہ سے یہ کوششیں بارآور نہ ہو سکیں۔

ترجمان نے کہا کہ نہ صرف پاکستان بلکہ چین کے بھی دہشت گرد سرگرمیوں کے بارے میں اسی طرح کے مشاہدات ہیں اور وسطی ایشیائی ممالک بھی افغانستان میں سکیورٹی صورتحال پر ناخوش ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین، قطر اور ترکیہ نے ثالثی کے حوالے سے بہت تعمیری کردار ادا کیا کیونکہ پاکستان نے گزشتہ سال قطر اور استنبول میں کابل کے ساتھ دو بار بات چیت کی لیکن افغانستان کا رد عمل منفی رہا اور انہوں نے افغان سرزمین سے دہشت گردی روکنے کی یقین دہانی دینے سے انکار کر دیا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان تمام مسائل کو پرامن طریقوں سے، یقیناً بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے کا خواہشمند ہے، ہم نے اپنی ریڈ لائن واضح طور پر بیان کر دی ہے اور اب افغانستان کو دیکھنا ہے کہ وہ دہشت گردی کیسے روک سکتا ہے کیونکہ مسلسل ایک طرف سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی آزادی ہو اور پھر پاکستان کی طرف سے مختلف نتیجہ کی توقع نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پاکستان کی قیادت کریں گے، ان کے ساتھ نائب وزیراعظم محمد سینیٹر اسحاق ڈار اور دیگر وفاقی وزرا بھی ہوں گے، وہاں وہ علاقائی و عالمی ترقی پر پاکستان کا نکتہ نظر پیش کریں گے ، انسداد دہشت گردی اور اسلامو فوبیا پر ترجیحات بیان کریں گے اور بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر (آئی آئی او جے کے) اور فلسطین کی صورتحال کی طرف توجہ دلائیں گے۔

دورے کے دوران وہ اعلیٰ سطح کی تقریبات میں شرکت کریں گے اور عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے جن میں کثیر الجہتی نظام، اقوام متحدہ کے چارٹر، علاقائی امن اور بین الاقوامی تعاون کے لئے پاکستان کے عزم کو اجاگر کیا جائے گا۔ترجمان نے 1963 کے باؤنڈری معاہدے اور جوائنٹ کمیشن پر بھارت کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کشمیر کو اقوام متحدہ کے متنازعہ علاقے قرار دیا اور بھارت سے کہا کہ وہ 5 اگست 2019 کے اپنے فیصلوں کو واپس لے۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے بارے میں بھارت کے دعوے بھی اتنے ہی ناقابل قبول ہیں کیونکہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے جس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ریفرنڈم کے ذریعے طے ہونا ہے۔ انہوں نے بھارت سے اپنے غیر قانونی اور یکطرفہ فیصلوں پر خود احتسابی کرنے کی اپیل کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 15 ستمبر کو پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون میں ایک بھارتی بحری جہاز کی اشتعال انگیزی اور جارحانہ پیشقدمی پر بھارتی ناظم الامور کو طلب کیا جو دو طرفہ اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی تھا اور آج ہی پاکستان ہائی کمیشن نئی دہلی بھارتی وزارت خارجہ کو ڈیمارش جاری کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ اس سال پاکستان نے صرف اپریل میں ویساکھی کے لئے بھارتی زائرین کو 2,800 سے زیادہ ویزے جاری کئے، گرو ارجن دیو کی شہادت کے دن کے لئے 700 سےزیادہ اور جون میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کے لئے 438 ویزے جاری کئے اور پاکستان آنے والے ویساکھی میلہ کے لئے سکھ زائرین کا خیرمقدم کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں بھارتی ناظم الامور نے اس ہفتے کے اوائل میں ایس سی او۔آر اے ٹی ایس کونسل کے اجلاس میں شرکت کی اور بھارت کی نمائندگی کی اور امید ظاہر کی کہ ایس سی او میں بھارتی شرکت جاری رہے گی کیونکہ پاکستان اگلے سال ایس سی او سربراہان مملکت سمٹ کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان سٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ اور مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کا ان کی روح کے مطابق پابند ہے۔

ترجمان نے وضاحت کی کہ سکیورٹی اور دفاع کے شعبے میں سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری تسلیم شدہ ہے اور مکہ معاہدہ ان تینوں ممالک کے درمیان جاری تعاون اور طویل مدتی دو طرفہ تعاون کے بہت سے پہلوؤں کو باضابطہ اور مزید مضبوط کرتا ہے،یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی مقاصد کے لئے ہے، یہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی باضابطہ طور پر کوئی نیا بلاک تشکیل دیتا ہے۔

انہوں نے اسرائیل کی منصوبہ بند غزہ زمینی کارروائی کی شدید مذمت کی اور دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا جو 1967 کی سرحدوں پر مبنی ہو اور اس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو ہو۔مسعود اظہر پر انعام کے بارے میں انہوں نے بھارتی تنقید مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے بین الاقوامی قانونی فرائض سے پوری طرح آگاہ ہے اور باقاعدگی سے ضروری اقدامات اور کارروائیاں کرتا ہے تاکہ اپنے بین الاقوامی فرائض اور قابل اطلاق قوانین کے مطابق عمل کرے۔

افغانستان کے میڈیکل طلبہ کے پاکستان میں سٹیٹس کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ درست ویزے پر اور درست کورس کے لئے رجسٹرڈ طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھیں گے اور مکمل کریں گے۔ایران کی مہان ایئر پر پابندیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے متعلقہ ادارے اس معاملے پر کام کر رہے ہیں کیونکہ یہ ایئر لائن نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر مقامات پر بھی کام کرتی ہے۔

امریکہ۔ایران ثالثی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان 47 سال بعد پہلی بار دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لایا جس کے نتیجے میں اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ وجود میں آیا۔اگر ہم اسلام آباد ایم او یو میں دی گئی شقوں پر عمل کریں تو امن و استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے، ہم بات چیت اور سفارتکاری کے مضبوط حامی ہیں، جو ہم اپنی طرف سے جاری رکھیں گے۔

انہوں نے بی سی سی آئی کے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا کہ بھارتی خواتین ٹیم کو سٹیج پر جانے اور اے سی سی صدر محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے کی اجازت نہ دی جائے اور بھارت سے کہا کہ کھیل کو ہتھیار نہ بنائے۔ہاکی ٹیم کو بھارت نہ بھیجنے کے پاکستان کے فیصلے پر انہوں نے کہا کہ پاکستان تیسرے ملک کے پلیٹ فارم پر بھارت کے ساتھ کھیلنے میں بہت خوش ہوگا جیسا کہ کرکٹ میں کرتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ وزارت خارجہ دو شفٹوں میں روزانہ 17,000 سے 18,000 دستاویزات پر کارروائی کرتی ہے، 120 ممالک کے پوسٹل فریم ورک اور دستاویزات کی ڈیجیٹل پروسیسنگ کے ذریعے ڈائسپورا کے اخراجات کم کرتی ہے اور دو سال میں کیش لیس اور ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کے ذریعے 3.4 ارب روپے حاصل کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزارت نے سہولت اور دستاویزات کے لئے مختلف اقدامات کئے ہیں جن میں کیو آر کوڈ سسٹم اور کورئیر سسٹم کا تعارف، پاور آف اٹارنی کی ڈیجیٹل تصدیق اور ایچ ای سی اور آئی بی سی سی کے ساتھ ڈیٹا بیس کا انضمام شامل ہے۔

گزشتہ ہفتے کی سفارتی مصروفیات کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے مقدس مقام مکہ المکرمہ کی طرف مبینہ ڈرون حملے کی مذمت کا اعادہ کیا اور شاہی سعودی مسلح افواج کی غیر معمولی چوکسی، جرأت اور پیشہ وارانہ مہارت کی تعریف کی جو انہوں نے فوری دلیرانہ ردعمل میں دکھائی۔انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو، لبنانی وزیر داخلہ احمد الحاجار کے پاکستان کے دورے اور اعلیٰ قیادت سے ان کی ملاقاتوں، اور سفیر شفقت علی خان کی جمہوریہ آرمینیا میں پاکستان کے پہلے سفیر کے طور پر سفارتی اسناد پیش کرنے کا بھی ذکر کیا۔\932
Live سعودی عرب سے متعلق تازہ ترین معلومات