سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر واقع ماڈل ٹائون پر فائرنگ‘ایک گولی رات کو مرکزی دروازے اور ایک صبح کچن کی کھڑکی پر لگی، وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے فائرنگ کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے فوری رپورٹ طلب کرلی، چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس ثاقب نثار جسٹس اعجازالاحسن کی رہائش گاہ پہنچے اور صورتحال کی خود نگرانی کرتے رہے

اتوار اپریل 14:10

لاہور۔15 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار اپریل ء) لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ ہوئی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد کی جانب سے دو بار فائرنگ کی گئی ‘ فائرنگ کے واقعات گزشتہ شب 10:45 اوراتوار کی صبح 09:45 پر پیش آئے۔ پولیس کی جانب سے تاحال حملے میں ملوث کسی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

فرانزک ٹیموں نے دو مرتبہ جسٹس اعجازلاحسن کے گھر کا دورہ کیا اور گولیوں کے سکیاور دیگر شواہد اکھٹے کئے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق رات کو فائر کی گئی ایک گولی مرکزی دروازے اور صبح فائر کی گئی دوسری گولی کچن کی کھڑکی پر لگی ، فائرنگ نائن ایم ایم پستول سے کی گئی ، پولیس سی سی ٹی وی کیمروں سے جائے وقوعہ کا جائزہ لے رہی ہے،سپریم کورٹ سے جاری اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس ثاقب نثار جسٹس اعجازالاحسن کی رہائش گاہ پہنچ گئے اور صورتحال کی خود نگرانی کی۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس ثاقب نثار نے آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز خان کو بھی جسٹس اعجازالاحسن کے گھر طلب کر لیا ۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔اس حوالے سے صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ کے باہر سکیورٹی موجود ہوتی ہے اور وہاں کلوز سرکٹ کیمرے بھی نصب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فائرنگ کے واقعے کے حوالے سے فی الحال کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ پولیس ، رینجرز اور حساس ادارے اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچا جا سکے گا۔

Your Thoughts and Comments