خیبرپختونخواہ پولیس کا اہم شخصیات کوسکیورٹی واپس دینےکا فیصلہ

چیف جسٹس سپریم کورٹ نےبےتحاشہ سکیورٹی اورپروٹوکول رکھنےپرایکشن لیا تھا،اسفند یارولی،فضل الرحمن، آفتاب شیرپاؤ،بیگم نسیم ولی سمیت دیگر کوسکیورٹی دینےکا فیصلہ کرلیا۔میڈیا رپورٹس

جمعہ مئی 21:11

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ مئی ء): خیبرپختونخواہ پولیس نے اہم سیاسی و سرکاری شخصیات کو سکیورٹی دوبارہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے،سیاسی شخصیات کو سکیورٹی واپس دینے کا فیصلہ دہشتگردی کے واقعات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق خیبرپختونخواہ پولیس نے تمام سیاسی شخصیات کو واپس لی گئی سکیورٹی دوبارہ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

یہ فیصلہ پولیس کے اعلیٰ حکام کے اجلاس میں کیا گیا ہے۔ خیبرپختونخواہ پولیس نے اہم شخصیات کو سیکیورٹی دوبارہ دینے کا فیصلہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر کیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخواہ پولیس نے جن اہم شخصیات کو سکیورٹی واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے ان میں پشاورمیں 8 اہم سیاسی و سرکاری شخصیات کے ساتھ 13 اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

(جاری ہے)

اسی طرح چارسدہ کی7 سیاسی شخصیات کے ساتھ 22 اہلکارتعینات کیے جائیں گے۔ محکمہ پولیس خیبرپختونخواہ نے جن اہم سیاسی شخصیات کو سکیورٹی واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے ان میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی، اے این پی رہنماء غلام بلور، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپاؤ، اسفند یار ولی کی والدہ بیگم نسیم ولی، افراسیاب خٹک ، غلام علی، ہارون بلورشامل ہیں۔

واضح رہے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس میاں ثاقب نثار نے پروٹوکول اور سیاسی و سرکاری شخصیات کے ساتھ بلاوجہ بے تحاشہ سکیورٹی رکھنے پر ایکشن لیا تھا۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ کے حکم کے بعد مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف ،مریم نواز، حمزہ شہباز شریف، سابق صدرآصف زرداری، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو، جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سمیت دیگر ایم شخصیات سے اضافی سکیورٹی واپس لینے کا حکم دیا تھا۔ تاہم بعد ازاں ایک کیس کے دوران چیف جسٹس سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ جن سیاستدانوں کی زندگیوں کوخطرات لاحق ہیں ان کوسکیورٹی فراہم کردی جائے۔

Your Thoughts and Comments