میری خواہش ہے کہ میں کشمیر کے لیے جنگ میں حصہ لوں اور سرحد پر شہید ہوکر واپس لوٹوں: شیخ رشید احمد

بھارت نے ہماری شہ رگ کو پکڑا ہے اگر ہم نے آج کشمیریوں کا ساتھ نہ دیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی، سرفروشی کے لیے تیار ہو جائیں: وزیرِ ریلوے کا آزاد کشمیر میں خطاب

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ اتوار ستمبر 14:57

میری خواہش ہے کہ میں کشمیر کے لیے جنگ میں حصہ لوں اور سرحد پر شہید ہوکر ..
بھمبر (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 22 ستمبر 2019ء) وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد نے آزاد کشمیر میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری خواہش ہے کہ میں کشمیر کے لیے جنگ میں حصہ لوں اور سرحد پر شہید ہوکر واپس لوٹوں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہماری شہ رگ کو پکڑا ہے اگر ہم نے آج کشمیریوں کا ساتھ نہ دیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی، سرفروشی کے لیے تیار ہو جائیں۔

وزیرِ ریلوے آزاد جموں و کشمیر کے سیکٹر بھمبر میں جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے جب انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے خود کنٹرول لائن کا خاتمہ کرکے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرکے اور معاہدے ختم کرکے ایسا موقع دیا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران پاکستانی حکمرانوں، سیاست دانوں اور پاک فوج کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ جاگتے رہنا، قوم جاگ گئی ہے اور اب ہم مریں گے یا مار کر رہیں گے ایسا موقع دوبارہ نہیں آئے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نے جو غلطی کی ہے اس سے پوری پاکستانی قوم اور سیاسی جماعتیں ایک ہوگئی ہیں جو کشمیر کے لوگوں کے ساتھ نہیں کھڑا ہوا وہ غدار وطن اور بے ایمان وطن ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ خطاب سے حل نہیں ہوگا، کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور بھارت نے ہماری شہ رگ کو پکڑا ہے اگر ہم نے آج ان کا ساتھ نہ دیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

انہوں بھمر کے علاقے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے اس حصے سے لائن آف کنٹرول صرف ایک کلومیٹر دور ہے لیکن پھر بھی یہاں کے بے خوف لوگ یہاں سے نقل مکانی نہیں کر رہے ہیں۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کا اصل ایجنڈا پاکستان کو ختم کرنا ہے جس کے لیے وہ واہگہ کا راستہ کھول کر کابل سے کاروبار کرنا چاہتا ہے۔ وزیرِ ریلوے نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ صلح پسند شخصیت ہیں اور وہ دونوں جنگ نہیں چاہتے ہیں۔

مظفر آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments