سرحد چیمبر آف کامرس کا دونوں ممالک سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں درپیش مشکلات کو حل کرنے کا مطالبہ

سرحد چیمبر آف کامرس کا دونوں ممالک سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں درپیش مشکلات ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مارچ2019ء)سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدراور پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI) کے سابق نائب صدر فیض محمد فیضی،پاک افغان لیزان کمیٹی ٹرانزٹ ٹریڈکے ممبر ، پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI) اور سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(SCCI) کے سابق سینئر نائب صدر ضیاء الحق سرحدی نے حکومت پاکستان اور افغانستان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں درپیش مشکلات کو فوری طور پر حل کیا جائے اور سیاسی تنازعات کو پس پشت رکھ کر دونوں جانب کی بزنس کمیونٹی کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں آنیوالامال جو ایران کے راستے بندر عباس اور چاہ بہار منتقل ہوچکا ہے اُسے واپس پاکستان کے راستے افغانستان لے جایا جاسکے اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدہ پر بزنس کمیونٹی کے تحفظات دور کئے جائیں۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہارمشترکہ طور پرفیض محمد فیضی اور ضیاء الحق سرحدی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پرپاک افغان لیزان کمیٹی کے چیئرمین اور ٹرانزٹ ٹریڈ ،ڈائریکٹریٹ کے ڈائریکٹر فیض علی ،ْ ایڈیشنل ڈائریکٹرڈاکٹر فیصل بخاری‘ایڈیشنل کلکٹر کسٹم ضیاء الشمس‘اسسٹنٹ کمشنر لنڈی کوتل محمد عمران خان ،ْ سیکنڈ سیکرٹری افغان قونصلیٹ سلیم شاہ‘قائم مقام ٹریڈ آفیسرحامد فضل خیل‘اسسٹنٹ منیجر TDAPعامر خان،انچارج این ایل سی طورخم ،ْ سپرنٹنڈنٹ ٹرانزٹ ٹریڈ طورخم ،ْ سرحد چیمبر کے صدر فیض محمد فیضی اور فرنٹیئر کسٹم ایجنٹس گروپ کے صدر ضیاء الحق سرحدی اور دیگر بھی موجود تھے۔

پاک افغان لیزان کمیٹی کے اجلاس میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے پر پاکستان اور افغانستان کی بزنس کمیونٹی کے تحفظات اور خدشات پر تفصیلی غور و خوض کیاگیا اور دونوں حکومتوںسے مطالبہ کیاگیا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدہ پر دونوں جانب کی بزنس کمیونٹی کے تحفظات فوری طور پر دور کئے جائیں۔ اجلاس میں اس بات پر متفقہ طور پر اتفاق کیا گیا کہ پاک افغان لیزان کمیٹی ،ْ ٹرانزٹ ٹریڈ ڈائریکٹریٹ اور پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سمیت افغان قونصلیٹ پشاورٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ پر بزنس کمیونٹی کے خدشات کو دور کرنے کے حوالے سے اپنی سفارشات متعلقہ حکومتوں اور اداروں تک پہنچائیں گے اور اس مقصد کے لئے جلد وزارت تجارت اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطے کئے جائیں گے۔

لیزان کمیٹی کو مزید فعال بنانے کے لیے کمیٹی میں ایف سی‘پولیٹیکل انتظامیہ‘پولیس اور دیگر متعلقہ اداروںکے علاوہ مزید اسٹیک ہولڈرز کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے اورلیزان کمیٹی کے اجلاس ہر تین ماہ کے بعد منعقد کیے جائیں۔ ضیاء الحق سرحدی نے بتایا کہ دونوں جانب کی حکومتوں کی عد م توجہی کی وجہ سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈاور باہمی تجارت بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدہ پر گذشتہ 9سالوں سے نظرثانی نہ ہونے کی وجہ سے اس کاروبار سے وابستہ بزنس کمیونٹی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدہ پر نظرثانی کیلئے جلداز جلد اجلاس بلایا جائے جس میں دونوں ممالک کی حکومتوں اور اس کاروبار سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کو مدعو کرکے ان کی باہمی مشاورت سے مسائل کے حل کیلئے فوری اور موثر اقدامات اٹھائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ اضاخیل ڈرائی پورٹ اورنیشنل لاجسٹک سیل(NLC)طور خم بارڈرپرٹرمینل ، پاکستان اور افغانستان کے مابین باہمی تجارت کے فروغ کے راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے ،طورخم بارڈر کے قریب خور میدان میں پھنسے ہو ئے ٹرکوں اور کنٹینرز کو جلد سے جلد ریلیز کرنے اور دیگر رکاوٹوں کو دور کرنے کی فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔

اجلاس سے مطالبہ کیا گیا کہ طورخم بارڈر کے قریب خوڑ میدا ن میںپھنسے ہوئے کنٹینرز کی وجہ سے بانڈڈ کیریئر کے کرائے کراچی سے جلال آبادڈیڑھ لاکھ سے بڑھ کر 4لاکھ تک پہنچ گئے ہیں ،جس سے ٹرانزٹ ٹریڈ کا عمل بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ آخر میں پاک افغان لیزان کمیٹی کے چیئرمین اور ڈائریکٹر ٹرانزٹ ٹریڈفیض علی نے اجلاس کے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تمام مسائل کے حل کے لئے یقین دہانی کرائی۔

Your Thoughts and Comments