ایکسپورٹ سیکٹر کے بجلی نرخ میں ستر فیصد اضافہ حیران کن ہے: میاں زاہد حسین

مہنگی بجلی برآمدی شعبہ کی مسابقت کو متاثر کرے گی، برآمدات اور سرمایہ کاری میں کمی آ جائے گی

ایکسپورٹ سیکٹر کے بجلی نرخ میں ستر فیصد اضافہ حیران کن ہے: میاں زاہد ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جنوری2020ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ برآمدی شعبہ کے لئے بجلی مہنگی کرنے سے انکی مسابقت کی صلاحیت بری طرح متاثر ہو گی جس کے نتیجہ میں برآمدات اور سرمایہ کاری میں کمی آئے گی۔

برآمدی سیکٹر کو حریف ممالک کے نرخ پر بجلی فراہم کرنے سے کاروبار، روزگار اور برآمدات بڑھیں گی جبکہ ملک میں صنعتکاری کا عمل بڑھے گا۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ ایکسپورٹ سیکٹر نے عدم استحکام، توانائی بحران، روپے کی مصنوعی قدر، ریفنڈز کی ادائیگیوں میں تاخیراور زیرو ریٹنگ کی سہولت کے خاتمہ کا نقصان تو برداشت کر لیا مگر بجلی کی قیمت میں ہوشرباء اضافہ شاید برداشت نہ کر سکے۔

(جاری ہے)

برآمدی شعبہ جو یکم جنوری 2019 سے ساڑھے سات سینٹ فی کلو واٹ آور کے حساب سے بجلی کی قیمت ادا کر رہا تھا کو اب13 سینٹ کے حساب سے ادائیگی کرنا ہو گی جس سے ان کے بلوں میں 70فیصد اضافہ ہو جائے گا۔برآمدی شعبہ سے جنوری2019 سے اضافی وصولی بھی کی جائے گی جو حیران کن ہے کیونکہ اس سے برآمدی شعبہ دباؤ میں آ جائے گا اور سرمایہ کاروں میں مایوسی پھیلے گی۔

اس فیصلے سے پاکستان کے سب سے بڑی برآمدی شعبہ ٹیکسٹائل کی کاروباری لاگت میں 24 فیصد اضافہ ہو جائے گاجس سے برآمدات میں اضافہ کرنے کے تمام اقدامات بے اثر ہو جائیں گے۔بجلی مہنگی کرنے سے برآمدی شعبہ کے لئے غیر ملکی خریداروں سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل مشکل ہو جائے گی جبکہ ماضی میں کئے گئے کاروبار پر بجلی کی مد میں اضافہ وصولی سے صنعتی عمل متاثر ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں نے 2030 تک ٹیکسٹائل برآمدات کو50ارب ڈالر تک بڑھانے کے لئے 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہوا ہے جس میں ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن، ماڈرنائیزیشن اور غیرملکی سرمایہ کاری بھی شامل تھی اور اس پلان کے تحت ملک کے مختلف علاقوں میں لاکھوں افراد کو روزگار بھی ملنا تھا مگر بجلی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ کے بعد اس منصوبے پر عمل درآمد ممکن نہیں رہے گا۔انھوں نے کہا کہ بنیادی پالیسیوں اور اہم فیصلوں میں بار بار تبدیلی سے سرمایہ کاری کی فضاء کو کبھی فروغ نہیں دیا جا سکتا ہے۔

Your Thoughts and Comments