ٹیکسٹائل کی برآمدات بڑھانے کیلئے پاکستانی برآمد کنندگان کو حریف تجارتی ممالک کے مساوی سہولیات دی جائیں،ترجمان پٹیاکی اپیل

ٹیکسٹائل کی برآمدات بڑھانے کیلئے پاکستانی برآمد کنندگان کو حریف ..
فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 31 جولائی2020ء)پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کو قومی معیشت میں کلیدی اہمیت حاصل ہے لہٰذا کورونا کی عالمی وبا سے متاثر معیشت کی فوری بحالی کیلئے نئی ٹیکسٹائل پالیسی پر مبنی خصوصی ریلیف پیکیج کا فوری اعلان کیا جائے اور اس پر مئو ثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے وزارت ٹیکسٹائل کا مشیر بھی مقرر کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی برآمدات کا سب سے بڑا حصہ ٹیکسٹائل پر مشتمل ہے جس سے وطن عزیز چند سال قبل تک 26 ارب ڈالر سالانہ کما رہا تھا مگر سابق ادوار کی غلط پالیسیوں اور کورونا کی عالمی وبا کی وجہ سے قیمتی زرمبادلہ کمانے اور لوگوں کو بڑے پیمانے پر روزگار مہیا کرنے والا یہ سیکٹراس وقت بحران کا شکار ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اس سے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور ٹیکسٹائل کی برآمدات بتدریج کم ہونا شروع ہو گئیں اور اب پاکستان ٹیکسٹائل کی برآمدات سے 26 ارب ڈالر کی بجائے صرف 18 ارب ڈالر کما رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس کپاس نہ پیدا کرنے والے ملک بنگلہ دیش نے اپنی ٹیکسٹائل کی صنعت کو ٹھوس بنیادوں پر ترقی دی اور اس وقت اس کی ٹیکسٹائل کی برآمدات 30 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر چکی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں درآمدات اور برآمدات کا فرق کافی حد تک بڑھ گیا ہے اور صورتحال پر قابو پانے کی ایک ہی صورت ہے کہ ٹیکسٹائل کی برآمدات کو بڑھانے کیلئے ہمارے تجارتی حریف ملکوں کے مساوی سہولتیں پاکستانی برآمد کنندگان کو بھی دی جائیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت پہلے ہی ٹیکسٹائل پالیسی پر کام کر چکی ہے لہٰذا سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مذکورہ صنعت کی بحالی کیلئے فوری اقدامات ناگزیر ہیں کیونکہ اس کے بغیر ملکی معاشی استحکام ممکن نہیں۔

Your Thoughts and Comments