جی ڈی پی میں مینوفیکچرنگ کا حصہ سکڑکر 14فیصد رہ گیا ہے،میاں زاہد حسین

ایک کروڑ نوکریاں دینے والے مینوفیکچرنگ شعبے کو ترقی دی جائے،صدر کراچی انڈسٹریل الائنس

جی ڈی پی میں مینوفیکچرنگ کا حصہ سکڑکر 14فیصد رہ گیا ہے،میاں زاہد حسین
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 ستمبر2020ء)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملک میں ایک کروڑ افراد کو روزگار فراہم کرنے والے مینوفیکچرنگ کے شعبے کی ترقی کے لئے مزید اقدامات کئے جائیں۔ حکومت اور مرکزی بینک نے اس شعبے کو ترقی دینے کے لئے قابل تعریف اقدامات کئے ہیں تاہم اسے مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ جی ڈی پی میں مینوفیکچرنگ کا حصہ 14 فیصد ہے ۔ یہ شعبہ سکڑ رہا ہے جبکہ زیر زمین معیشت پھیل رہی ہے جس کا نوٹس لیا جائے۔ مینوفیکچرنگ شعبے کی کمزوری کی وجوہات میں بڑھتی ہوئی کاروباری لاگت، ضرورت سے زیادہ ٹیکس ، ماضی کی حکومتوں کی جانب سے ملکی مفاد کے خلاف کئے گئے تجارتی معاہدے جس کی وجہ سے ماضی میںپاکستان میں سستی درآمدات کی ڈمپنگ اور مختلف محکموں کی غیر ضروری مداخلت شامل ہیں۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا کہ مینوفیکچرنگ کا سب سے بڑا ذیلی شعبہ ٹیکسٹائل ہے جس سی53 فیصد افراد کو غیر دستاویزی صورت میںروزگار مل رہا ہے اور غیر دستاویزی شعبوں میں کام کرنے والے تقریباً تمام افراد کو دستاویزی شعبوں کے مقابلے میں کم تنخواہ ملتی ہے۔اسکے علاوہ وہ قانونی تحفظ، کم از کم تنخواہ، کام کے اچھے حالات، سماجی سیکورٹی،انشورنس، میڈیکل اور پنشن وغیرہ سمیت بہت سے فوائد سے محروم رہتے ہیں جس کی وجہ سے عدم اطمینان، اندیشے،بے یقینی ، عدم تحفظ اور غربت انھیں گھیرے رکھتی ہے جسکی وجہ سے انکی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

مینوفیکچرنگ سیکٹر کے زیادہ تر ملازمین ہر وقت پریشان رہتے ہیں اور اپنی کم تنخواہ میں ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں جسکی وجہ سے یہ اہم شعبہ زوال کا شکار ہو گیا ہے مگرز یادہ تر سرمایہ کاروں کو اس کا ادراک نہیں ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ انھیں سستی لیبر مل رہی ہے۔ اس شعبہ کے زوال نے عالمی منڈی میں بھی پاکستان کے قدم اکھاڑ نے میں اپنا کردار ادا کیا ہے جبکہ پاکستان کا حصہ بھارت، بنگلہ دیش ،چین اور ویتنام وغیرہ چھین رہے ہیں جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔اس شعبے پر ٹیکس کم کرنے، غیر دستاویزی حیثیت میں کام کرنے والوں کے لئے حالات بہتر بنانے اور انھیں تحفظ دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ دلجمعی سے کام کر سکیںجو ملکی ترقی کے لئے ضروری ہے۔

Your Thoughts and Comments