اپنا بھی ٹائم آئے گا۔۔۔تحریر:رومیصہ ملک

ایک ہجوم میں کھڑے افراد کی اندھی تقلید اور لاشعوری ہے اور دوسرا سوشل میڈیاکا غلط استعمال۔ سانحہ سیالکوٹ ہو، مشال قتل کیس یا کراچی کا ریحان ان تمام واقعات میں کھڑے کسی بھی فرد کو ان کے مجرم ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق نہیں تھی اور نہ ہی یہ معلوم تھا کہ تشدد کرنے والے افراد کیوں تشدد کررہے ہیں

ہفتہ اگست

apna bhi time aayega
آہ! اپنا بھی ٹائم آئے گا۔۔ ریحان کی شرٹ پر لکھی تحریر اور اس پر کیا جانے والا ظلم دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق تھا۔ شاید اس شرٹ کو پہنتے وقت پندرہ سالہ ریحان نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ گھر کی دہلیز سے قدم باہر رکھنے کے بعدکبھی اس کا ٹائم نہیں آئے گا۔کراچی کے پندرہ سالہ نوجوان ریحان کو چوری کے شعبے میں کچھ مہذب، تعلیم یافتہ نوجوانوں نے برہنا کرکے اور رسیوں سے باندھ کر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا لاتیں، ڈنڈے، گھوسیں،کیا نہیں تھا جو اس نوجوان نے نہ سہا ہو، کتنی تکلیف تھی جواس نے سہی ہو گی۔

مار تو سہی ہی سہی،،لیکن اس سے بھی زیاد ہ ظلم برہنا کر کے ویڈیو بنا نا تھا،، اتنی ذلت، اتنی رسوائی، اتنی بے بسی کہ الفاظ نہیں! بے بس بچے پر اتنا تشدد کیا گیاکہ بالاآخر اس نوجوان کی نازک ہڈیاں یہ درد، تکلیف نہ سہ سکیں اور وہ اپنا ٹائم آنے سے پہلے ہی اس دنیا سے چلا گیا۔

(جاری ہے)


ہمارے معاشرے میں ماب لنچنگ یعنی ہجوم کے تشدد اورہجوم کے ہاتھوں قتل کیے جانے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے،بازاروں،گلیوں، چوراہوں پر کبھی کسی کو دین کے نام پر مار دیا جاتاہے تو کبھی کسی کو چور ڈکیت کہہ کر، کبھی کسی حراسہ کئے جانے کے الزام میں ماردیا جاتا ہے۔

ریحان کی خبر کو پڑھتے اور ویڈیو دیکھتے وقت میرے ذہن میں ایک بار پھر سانحہ سیالکوٹ اور مشال قتل کیس کسی فلم کی طرح چلنے لگے۔ 15 اگست 2010 کی صبح اور رمضان المبارک کا مہینہ تھا اور سیالکوٹ کے بھرے بازار میں قانون کے پاسداروں کے سامنے دو بھائیوں کو چوری کے شعبے میں سرعام مار ا گیا۔ لیکن اس ہجوم میں کھڑے کسی انسان کو معلوم نہیں تھا کہ یہ افراد ان بھائیوں کو کیوں مارہے ہیں۔

مارے جانے والے بچے چور تھے یا نہیں اس سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑرہا تھا کیونکہ وہاں کھڑے لوگ تماش بین تھے، ویڈیوبنانے میں مصروف تھے کسی کو فرق نہیں پڑرہا تھا کہ اس تشددکے بعد کسی ماں کی گود اجڑ جائے گی۔
 تفتیش کے بعد معلوم ہوا کہ مارے جانے والے دونوں بھائی چور نہیں تھے بلکہ ذاتی رنجش میں اُنہیں ماراگیا تھا۔ آخر کار قتل کے پانچ سال بعد دونوں بھائیوں کو انصاف مل سکا۔

۔ لیکن کیا ان سب کو سزائے دینے کے بعد وہ واپس آسکتے ہیں؟ کیا ان کے والدین کو ان کا دکھ، ان پر کیے جانے والا ظلم بھول سکتا ہے؟ میرا خیال ہے نہیں۔۔2017 میں مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی میں زیر تعلیم نوجوان مشال خان کو مشتعل ہجوم نے توہین رسالت کا الزام لگاکر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، وہی ظلم کی داستان دہرائی گئی۔۔ ڈنڈے،لاتیں، پتھر، گھسیٹنا کیا نہیں ظلم تھا جو اس پر کیا گیاہو، لیکن وہ کوئی چور، ڈکیٹ یا رہزن نہیں تھا بلکہ اس کاقصور اساتذہ کے نا حق مطالبات کے آگے ڈٹ جانا تھا، جن انگلیوں سے وہ سچائی لکھتا تھا وہ توڑ دی گئیں، جو زبان حق کے لئے بولتی تھی بند کردی گئی۔

اور وہ بھی اپنا ٹائم آنے سے پہلے اس ظالم دنیا سے چلا گیا۔ قتل کے بعد مقدمہ چلا تفتیش شروع ہوئی اور معلو م ہوا کہ توہین رسالت کا مور دالزام ٹھہرائے جانیوالے نوجوان مشال کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے بعد قتل کیا گیا تھا جس کے بعد مرکز ی ملزمان اب تک فرار ہیں۔
کتنے مظالم ہیں جو لکھتے لکھتے شاید ہاتھ تھک جائیں یا ذہین بھی لیکن ان داستانوں کی تعداد ختم نہیں ہوگی۔

بہرحال ان تمام کیسز میں دو چیزیں اہم ہیں جن پر ہم سب کو بحیثیت انسان سوچنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک ہجوم میں کھڑے افراد کی اندھی تقلید اور لاشعوری ہے اور دوسرا سوشل میڈیاکا غلط استعمال۔ سانحہ سیالکوٹ ہو، مشال قتل کیس یا کراچی کا ریحان ان تمام واقعات میں کھڑے کسی بھی فرد کو ان کے مجرم کے ہونے یا ہونے کی تصدیق نہیں تھی اور نہ ہی یہ معلوم تھا کہ تشدد کرنے والے افراد کیوں تشدد کررہے ہیں۔

وہ تو بس اندھی تقلید کے فارمولے پر عمل پیرا تھے، اندھے، گونگے،بہرے لوگ۔۔۔دوسرا کیا کبھی ہم نے سوشل میڈیا پر ان ظلم کی تصاویر اورویڈیوز شیئر کرتے وقت کبھی سوچا ہے کہ متاثرہ خاندانوں پر کیابیتے گی، کیا کوئی ماں، کوئی باپ،یا کوئی بہن یا بھائی اپنے پیاروں پر کیے جانے والے اس ظلم کو دیکھ پائے گا؟؟ کیا اپنے پیاروں کو کھونے کے بعد کسی میں اتنی ہمت ہوگی کہ وہ ظلم کے بعد ایک اور ظلم سہے گا۔

۔خدارا اپنا انسان ہونے کاحق ادا کریں لیکن بول کر، لکھ کر، آوازبن کر لیکن اس قسم کی ویڈیوز اور تصاویر کوشیئر کرنے سے اجتناب کریں۔ یقین جانیں بہت تکلیف دہ ہے یہ سب۔۔۔سوشل میڈیا پر خبر پھیلنے کے بعد پولیس نے قتل کرنے والے نوجوانو ں کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ کچھ افراد فرار ہوگئے ہیں۔ اور تفتیش کا عمل جاری ہے۔
میں ریحان کی حمایت نہیں کرتی اور نہ کہتی ہوں کہ ریحان چوریا ڈاکو نہیں تھا،لیکن اگر وہ چور تھا یا ڈاکو تھا تو کیا ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیں؟کیا ہمیں بحیثیت مسلمان یہ ذیب دیتا ہے کہ ہم کسی کی اس طرح سے جان لیں؟کیا ہمارے ایمان اتنے کمزور ہوچکے ہیں کہ ہم کسی پر ہونے والے ظلم پر صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ کی مثال بن جائیں۔

کیا معاشرے میں ہونے والی برائیوں کو ختم کرنے کے لئے صرف ویڈیو بنا کر شیئر کرنے سے ہم اپنا فرض ادا کر دیتے ہیں۔بہرحال اس واقعے کے ملزموں کو سزا ملتی ہے یا نہیں یا شفاف تحقیقات ہوتی ہے یا نہیں۔۔ یہ وقت بتائے گا لیکن مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ہمیں اپنی آنکھیں، دماغ اورکان کھلیں رکھنے ہیں اور اندھی تقلید سے اجتناب کرنا ہے۔ ورنہ شاید ان سب سے دوری کسی ریحان، مشال اور معاز جیسے نوجوانوں کا اپنا ٹائم آنے سے پہلے کھو دیں گے۔۔!

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

apna bhi time aayega is a social article, and listed in the articles section of the site. It was published on 24 August 2019 and is famous in social category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.