عورت کو کبھی ہیچ سمجھنا نہ خدارا

اور میں کیسے بھول سکتی ہوں عرفہ عبدالکریم رندھاوا کی داستان اور ملالہ یوسفزئی کی تعلیمی خدمات کا کوئی نعم البدل نہیں۔صرف یہی نہیں بے شمار عورتوں کی مثالیں ہیں جو میری ہمت، میرا حوصلہ اور میرا خود پر اعتماد بڑھاتی ہیں

Kainat Iqbal کائنات اقبال پیر نومبر

Aurat KO Kabhi Heech Na Samjhna Khudara
مجھے یاد آتا ہے عورت کا دنیا میں ہونا
جب بھی دُہرائی جاتی ہے غم کی داستان
گر تم نے دیکھنی ہو ہمت کی صورت
تو ایک نظر دیکھ لو گھر میں اپنی ماں

ایک اندازے کے مطابق دنیا کی6 .49 فیصد آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ عورتوں اور مردوں کا تناسب میں خاصہ فرق نہیں ہے۔ اسی لئے آج کل جہاں نظر دوڑائی جائے وہاں مردوں کے شانہ بشانہ بلکہ ان سے بڑھ کر خواتین نظر آتی ہیں۔

اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جنگ کا میدان ہو یا کھیلوں کا، تعلیم و تربیت کا شعبہ ہو یا کاروبار کے مسائل، گھر داری ہو یا دوکان داری، میں نے ہر جگہ عورت کو مضبوط اور جامع پایا ہے۔
خواتین کو انڈر ایسٹیمیٹ کرنے والی عوام یہ بھول جاتی ہے کہ عورت نہ ہو تو مرد خود وجود میں بھی نہیں آ سکتا اور میں بہت حیران ہوتی ہوں جب وہ ہی مرد عورت کو سارے معاشرے کے سامنے رسوا کرتا پھرتا ہے اور اسکا یہ کہہ کر مزاق اُڑاتا ہے کہ وہ تو کمزور ہے حالانکہ عورت کو خطرہ بھی عورت سے نہیں بلکہ اسی ہوس کے پجاری مرد سے ہوتا ہے پھر آخر کس بنیاد پر معاشرہ عورت کو کمزور شمار کرتا ہے؟
یہ بات تو بہت پرانی ہے کہ عورت نے ہر دور میں ہی خود کو ہر فن مولا ثابت کیا ہے کہ آج سے 1400 سال پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ بہت مشہور کاروباری خاتون تھیں اور گھریلو معملات کی بات کی جائے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بہتر مجھے مثال نہیں ملتی۔

(جاری ہے)

اسی طرح سے اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے تعلیم کے شعبے میں عورت کے کردار کو واضح کر دیا۔ آگے چلتی ہوں تو حضرت اُمِ عمارہ رضی اللہ تعالی عنہ اور بے شمار دیگر صحابیات کی جنگی خدمات میرے سامنے ہمت و حوصلہ کی ایسی مثالیں ہیں جن چاہیں بھی تو کوئی مقابلہ نہیں۔
میں اکثر جب بھی زندگی کے کسی مرحلے میں خود کو بے بس محسوس کرتی ہوں تو مجھے یاد آ جاتی ہے پاکیزہ ہستی حضرت رابعہ بصری کی ہمت، حوصلہ اور پُر عظمی کی جو کہ اپنی مثال آپ ہیں تو میرے حوصلے پہاڑوں کی سی بلندیاں چھونے لگتے ہیں۔

جب میں دیکھتی ہوں مادرِ ملّت فاطمہ جناح اور شہید بے نظیر بھٹو کا اپنی قوم کے لیے جذبہ تو میرے جذبے میں جان آ جاتی ہے، جب ذکر ہوتا ہے عاصمہ جہانگیر کا تو میرے نڈھال اور بے جان وجود کو تقویت ملتی ہے، جب یاد کیا جاتا ہے شہید طاہرہ قاضی کو تو مجھے عورت ہونے پہ فخر ہوتا ہے۔ بانو قدسیہ اور پروین شاکر ادب کی تاریخ میں ایسی مثالیں ہیں جنہوں نے مجھے قلم اٹھانے کی طاقت دی۔

شہید مریم مختار جنوں نے اپنی جان کی پروہ نہ کرتے ہوئے دوسروں کے تحفظ کی خاطر جامِ شہادت نوش کیا انہیں کی طرح عائشہ فاروق اور حنا طاہر نے ثابت کر دکھایا کہ عورت بھی پرواز کا ہنر رکھتی ہے اور اڑان بھر سکتی ہے۔ جہاں سمینہ بیگ نے دنیا کی سب سے اونچی سات مشہور چوٹیوں کو عبور کر دکھایا وہیں منیبہ مزاری نے اپنی زندگی میں خوشیوں کے رنگ بھرتے ہوئے مصیبتوں کے پہاڑوں کو عبور کرنے کی زندہ مثال قائم کی۔


اور میں کیسے بھول سکتی ہوں عرفہ عبدالکریم رندھاوا کی داستان اور ملالہ یوسفزئی کی تعلیمی خدمات کا کوئی نعم البدل نہیں۔صرف یہی نہیں بے شمار عورتوں کی مثالیں ہیں جو میری ہمت، میرا حوصلہ اور میرا خود پر اعتماد بڑھاتی ہیں جہاں معاشرہ مجھے دبانے کی کوشش کرتا ہے وہاں میں ان مخصوص و معروف شخصیات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اندھیرے میں اجالا بن کر ابھرنے کی مسلسل کوشش کرتی رہتی ہوں۔


کیا دنیا میں کوئی شخص عورت کی ہمت اور حوصلہ کو چیلنج کر سکتا ہے؟ میں نے عورت کے ان گنت روپ دیکھے ہیں۔ اوپر دی گئی تمام مثالیں ورکنگ وومنز کی ہیں لیکن میں نے تو کبھی گھریلو خواتین کے جذبےمیں بھی کمی نہیں پائی۔ لوگ خیال کرتے ہیں کہ گھر پیسے سے چلتا ہے لیکن میں یہ تصور کرتی ہوں بلکہ یہ جانی مانی حقیقت ہے کہ گھر خواتین سے چلتا ہے۔ گھر بچانے سے لے کر گھر چلانے تک کا مرحلہ عورت بخوبی طے کرتی ہے۔

صرف اتنا ہی نہیں اگلی نسل کو جنم دینے اور پروان چڑھانے کی ذمہ داری بھی عورت کی ہی ہے۔
تشدد اور زیادتی کا نشانہ بھی عورت کو ہی بنایا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہاں ایک گھر کی عورت آزاد خیال اور خود مختار ہے وہیں دوسرے گھر کی عورت غلام اور مظلوم ہے۔
پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی اعلیٰ پائے کی خصوصیات رکھنے والی عورت کو ہی تنقید کا نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عورت اپنی ناموس کھو چلی ہے۔ خود کو مردوں کے برابر لاتے لاتے عورت بے پردگی اور بے حیائی کی طرف بڑھتی جارہی ہے۔ جہاں ہم 100 میں سے 60 فیصد بے پردہ خواتین کو دیکھتے ہیں وہیں باقی 40 فیصد پردہ دار خواتین کو تو ہم نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہاں میرا یہ سوال ہے کہ کیا ہم ان چالیس فیصد خواتین کو تقویت بخشتے ہوئے 60 فیصد  دوسری خواتین کو نظر انداز کرتے ہوئے عورت کی عزت و ناموس کا خیال نہیں رکھ سکتے؟
میرا مقصد عورت یا مرد میں کوئی تفریق یا کسی پر بھی تنقید قائم کرنا نہیں ہے۔

میری تمام تر بات اُس عورت کے لئے ہے جو اپنی عزت اور ناموس کو برقرار رکھتے ہوئے اس معاشرے میں مثبت کردار ادا کر رہی ہے اور کرتی رہے گی۔
ہمارے معاشرے کی خواتین کو زیادہ عزت دینے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی میری ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ عورت چاہے جس مذہب کی ہو جس ملک میں رہائش پذیر ہو اور جس مسلک سے بھی تعلق رکھتی ہو اس میں احساس کا مادہ مرد سے زیادہ ہوتا ہے اور احساس محبت کے پودے کا بیج ہے اور محبت زندگی جینے کا اہم سلیقہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ میں عورت کے جذبات کی بہت قدر کرتی ہوں اور عورت ہونے پر فخر کرتی ہوں۔ اپنی بات کا اختتام اس شعر کے ساتھ کرنا چاہوں گی کہ:
زندگی ہو بِتانی یا کرنا ہو کوئی بھی کام
میری آواز عورت کی حوصلہ افزائی کے نام ۔۔۔۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Aurat KO Kabhi Heech Na Samjhna Khudara is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 04 November 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.