آزاد کشمیر میں بننے والے بجلی منصوبے اور آبی چیلنجز

دریائے نیلم میں موسم گرما میں پانی کا بہاؤ چھ سو سے سات سو کیومک جبکہ موسم سرما میں یہ بہاؤ گھٹ کر محض اسی سے نوے کیومک ہی رہ جاتا ہے اور نیلم جہلم واٹر ٹنل میں پانی کی حد گنجائش محض 280 کیومک ہی ہے اس طرح سے گرمیوں میں مظفرآباد میں واٹر ٹنل میں پورا280 کیومک پانی بھی چھوڑا جائے تو مظفراباد میں پانی کا بہاؤ زیادہ کم نہیں ہوگا

سعید الرحمن صدیقی منگل جون

Azad Kashmir mein ban'nay walay bijli mansoobay aur aabi challenges
آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد کے مضافات میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹٍ تعمیر کیا گیا ہے جو ملک کا پہلا زیر زمین بجلی کا پراجیکٹ ہے منصوبے کی مجموعی پیداواری صلاحیت 969میگاواٹ ہے۔ اس کے چار پیداواری یونٹ ہیں، جن میں سے ہر ایک کی پیداواری صلاحیت 242اعشاریہ 25میگاواٹ ہے۔
نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ انجینئرنگ کاایک زبردست شاہکار ہے۔

اس کا 90فیصد حصہ بلند و بالا پہاڑوں کے نیچے زیر زمین تعمیر کیا گیا ہے۔اور ایک دریا کو دوسرے دریا کے نیچے سے گزارا گیا ہے۔ منصوبہ ہر سال نیشنل گرڈ کو تقریباً 5ارب یونٹ سستی پن بجلی مہیا کرے گا۔ اس منصوبے سے سالانہ تقریباً 55ارب روپے کی آمدنی ہوگی۔الحمداللہ۔منصبوبے کے چاروں یونٹ اس وقت اپنی پوری پیداواری صلاحیت کے مطابق نیشنل گرڈ کو 969میگاواٹ بجلی مہیا کررہے ہیں۔

(جاری ہے)

 نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ جدید انجینئرنگ کا حامل پن بجلی منصوبہ ہے، اِس منصوبے کا 90 فی صد حصہ زیر زمین واقع ہے۔ آزاد کشمیر میں دریائے نیلم پر تعمیر کئے گئے اِس منصوبے کے اہم حصوں میں نوسیری کے مقام پر تعمیر کیا گیا ڈیم، 52 کلو میٹر طویل سرنگوں پر مشتمل زیر زمین واٹر وے سسٹم اور چھتر کلاس کے مقام پر زیر زمین تعمیر کیا گیا پاور ہاوس شامل ہیں۔

 پاور ہاوس میں چار پیداواری یونٹ نصب کئے گئے ہیں دوسری جانب بھارت نے بھی دریائے نیلم ہر کشن گنگا پراجیکٹ تعمیر کر رکھا ہے کشن کنگا کو آذاد کشمیر میں دریائے نیلم کہا جاتا ہے۔ بھارت نے 2005 میں اس پر لائن آف کنٹرول کے بہت قریب وادی گریز میں ایک بجلی گھر بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اسے کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ کہتے ہیں۔ کشن گنگا چونکہ جہلم کا معاون دریا ہیسندھ طاس سمجھوتے کے مطابق اس کے پانی پر پاکستان کا حق ہے۔

اس منصوبے کی تعمیر پر بھارت نے تقریباً چھ ہزار کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔اس اعتبار سے یہ منصوبہ انتہائی مہنگا کم پیدوار کا حامل ہونے کی وجہ سے بجلی بھی مہنگی پیدا کرے گایہ منصوبے مقبوضہ کشمیر کی گریز وادی سے وادی کشمیر میں بانڈی پورہ تک پھیلا ہوا ہے۔
 اس کے لیے کشن گنگا کا پانی استعمال کیا جاتا ہے اور پھر اسے ایک مختلف راستہ استعمال کرتے ہوئے، جس کے لیے بانڈی پورہ تک تقریباً 24 کلومیٹر لمبی سرنگ بنائی گئی ہے، وولر جھیل میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔

پاکستان کا موقف ہے کہ اس پراجیکٹ سے دونوں ہی شرائط کی خلاف ورزی ہوتی ہے، نیلم میں پانی بھی کم ہوگا اور کشن گنگا کا راستہ بھی بدلا جائے گا۔ پاکستان خود اسی دریا پر ایک بجلی گھر نیلم جہلم ہائڈرو الیکٹرک پراجیکٹ بنا چکا ہے پاکستان کا موقف ہے کہ اسے جنتا پانی ملنا چاہیے، اس سے کافی کم ملے گا جس کی وجہ سے اس خطے میں پانی کی قلت اور سنگین شکل اختیار کر لے گی۔

اور ہوا بھی یہی ازاد کشمیر میں وادی گریز کے مقام پر یہ دریا اب محض چھوٹا سا نالہ بن کر رہ گیا ہے سارا پانی بھارت نے اس ہراجیکٹ کے زریعے روک لیا ہے ۔
330 میگاواٹ کے کشن گنگا پراجیکٹ کے اعلان کے فوراً بعد ہی پاکستان نے عالمی بینک کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ پاکستان کے اعتراض کے بعد بھارت نے بجلی گھر کے لیے 97 میٹر اونچا بند تعمیر کرنے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔

اب اس کی اونچائی 37میٹر ہے۔لیکن 2010 میں یہ تنازع دی ہیگ میں مصالحت کی عدالت میں پہنچا جس نے پراجیکٹ پر کام روکنے کا حکم دیا۔ تین سال بعد عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بھارت یہ بجلی گھر بنا تو سکتا ہے لیکن اسے کشن گنگا میں تعین شدہ مقدار میں پانی کے بہاؤ کو یقینی بنانا ہو گا۔
پاکستان نے 2016 میں پھر عالمی بینک سے رجوع کیا، اس مرتبہ کشن گنگا پراجیکٹ کے ڈیزائن پر اپنی تشویش کے سلسلے میں۔

آبی وسائل کے ماہر ہمانشو ٹھکر کے مطابق بینک نے اس مسئلہ کے تصفیے کے لیے دو سطح پر کارروائی شروع کی تھی لیکن فریقین کی اس دلیل پر کہ دونوں متضاد فیصلے سنا سکتے ہیں، اس کارروائی کو روک دیا گیا۔
 جب کشن گنگا میں بجلی بننا شروع ہوئی تو پاکستان نے پھر عالمی بینک سے کہا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنائے۔ اب اس پراجیکٹ کا باضابطہ افتتاح کر دیا گیا ہے۔

کشن گنگا پر ماہرین کی رائے کے مطابق یہ بہت چھوٹا پراجیکٹ ہے جہاں صرف 330 میگاواٹ بجلی بنے گی۔ آبی وسائل کے ماہرین کیمطابق اس کی ’سٹرٹیجک‘ اہمیت زیادہ ہے کیونکہ گریز سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے بہت قریب واقع ہے۔ چونکہ یہ انتہائی دشوار گزار علاقہ ہے اس لیے کشن گنگا پر لاگت معمول سے بہت زیادہ آئی جس کے نتیجے میں یہاں بننے والی بجلی بھی بہت مہنگی ہوگی۔

اس لیے اس پراجیکٹ کو بنانے کا کوئی اقتصادی جواز نہیں ہے اور اس کا مقامی معاشرے، ماحولیات، دریا اور وہاں بائیو ڈائیورسٹی سب کو نقصان پہنچے گا۔ بھارت میں جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے، اکثر یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو ختم کردے۔ خود بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی کہہ چکے ہیں کہ کشمیر میں خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا۔

ایک طرف تو بھارت نے اقتصادی جواز نہ ہونے کے باوجود محض پاکستان کو پانی روکنے کے لئے اپنی دفاعی ضرورت کے پیش نظر کشن گنگا بنا لیا دوسری جانب آزاد کشمیر میں نیلم جہلم پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد بھارت کافی پریشان نظر آرہا ہے۔
13 اپریل 2018 کو وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی اس منصوبے کا باضابطہ افتتاح کر چکے ہیں جبکہ واپڈا نے ملک میں بجلی کی خطرناک حد تک کمی اور ازاد کشمیر کی مقامی آبادی کی علاقائی اور ماحولیاتی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس منصوبے کی بنیاد رکھی تھی۔

1997 میں ہونے والی پورپی کمپنی کی سٹڈی رپورٹ کے مطابق مظفرآباد میں پانی اورماحولیاتء ضروت کے لئے تین کیومک پانی کی ضروت ہے لیکن 2011 میں واپڈا نے آزاد کشمیر حکومت کی تجویز پر دوبارہ سڈی کروائی تو مظفرآباد کے لئے تین سے بڑھا کرنو کیومک پانی کا بہاؤ بڑھا دیا گیا۔
 دریائے نیلم میں موسم گرما میں پانی کا بہاؤ چھ سو سے سات سو کیومک جبکہ موسم سرما میں یہ بہاؤ گھٹ کر محض اسی سے نوے کیومک ہی رہ جاتا ہے اور نیلم جہلم واٹر ٹنل میں پانی کی حد گنجائش محض 280 کیومک ہی ہے اس طرح سے گرمیوں میں مظفرآباد میں واٹر ٹنل میں پورا280 کیومک پانی بھی چھوڑا جائے تو مظفراباد میں پانی کا بہاؤ زیادہ کم نہیں ہوگا۔

چار ستمبر 2018 کو جب نیلم جہلم کے چاروں پیداواری یونٹ متحرک ہوئے تو طے شدہ معاہدے اور ماحولیاتی این او سی کی شرائط کے عین مطابق نوسیری سے نو کیومک پانی مظفرآباد کے لئے چھوڑا گیا جس پر شور ہوا کہ اس پانی سے ماکڑی واٹر سپلائی بھی بند ہو جائیگی لیکن وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان خود انتظامیہ کیساتھ ماکڑی آئے پر واٹر سپلائی معمول کے مطابق رواں دواں تھی۔

 اس وقت نوسیری پاور گھر سے بہاؤ نو کیومک جبکہ مظفرآباد میں پانی کا بہاؤ 28 کیومک تھا جس پر ہر دو جانب سے اطمینان کا اظہار کیا گیا بعد ازاں واپڈا پر اعتراض اُٹھایا گیا کہ واپڈا ظاہر تو نو کیومک بہاؤ کر رہی ہے لیکن مظفرآباد میں پانی کا بہاؤ اس سے بھی کم ہے جس سے ماحولیاتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں جبکہ واپڈا کا کہنا تھا کہ وہ تحفظ ماحولیات معاہدے کے عین مطابق نو کیومک پانی ہی چھوڑ رہی ہے۔

چناچہ 18 ستمبر کو تحفظ ماحولیات ایجنسی، واٹر سپلائی، واپڈا اور ضلعی انتظامیہ نے دوبارہ پانی کے بہاؤ کی پیمائش کا واپڈا سے عملی مظاہرہ کروایا جو پورا نکلا جس پر آزاد کشمیر حکومت نے کہا کہ واپڈا پانی کا بہاؤ مظفرآباد کے لئے اور بڑھائے۔
 واپڈا کا کہنا ہے کہ گو کہ این او سی اور معاہدہ میں نو کیومک ہے لیکن حکومت آزاد کشمیر کے مزید کہنے پر بہاؤ بڑھا دیا جو صرف تین دن بہاؤ نو کیومک رکھا گیا اس کے بعد سے مسلسل نوسیری سے بیس کیومک پانی چھوڑا جا رہا ہے جو مظفرآباد میں چالیس کیومک تک جاپہنچتا ہے اس کے عوض بجلی کم پیدا کی جا رہی ہے۔

جس کے روزانہ نقصان کی شرح ایک کروڑ ہے۔
 دوسری طرف واپڈا پراجیکٹ کے لئے حاصل شدہ زمینوں کے معاوضے حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے جو بھی طے کیے گئے ادا کر چکی ہے اسی پراجیکٹ کی این او سی میں چوبیس سکیمیں واپڈا کے فنڈز سے بنانے کی آذاد کشمیر حکومت کی جانب سے شرط رکھی گئی جو واپڈا نے تسلیم کرتے ہوئے چوبیس سکیموں کے لئے 5237 ملین یعنی 5.2ارب روپے کی آذاد کشمیر کے لئے فنڈز مختص کر دئیے جن میں سے بائیس سکیموں کی رقم آزاد کشمیر حکومت کو دے دی گئی ہے جبکہ دو سکیموں کی رقم ابھی واپڈا کے ذمے بقایا ہے جس میں 1448 ملین روپے کی جھلیوں کا بھی منصوبہ شامل ہے جوں ہی آزاد کشمیر حکومت اسکی فزیبلٹی مکمل کر کہ واپڈا کو دے گی باقی رقم پر آذاد کشمیر حکومت کو دے دی جاہیگی نیلم جہلم پر 2012 -13 میں آزاد کشمیر حکومت اور وفاقی وازرت پاور اینڈ ڈویلپمنٹ کے درمیان صدر آزاد کشمیر اور وزیر اعظم آزاد کشمیر کےُ دستخط کیساتھ معاہدہ وفاقی وزارت میں جا چکا ہے جس پر واٹر یوز ر چارج پر وفاقی وزارت نے آزاد کشمیر حکومت سے رائے مانگی تھی۔

 آذاد کشمیر کا صوبہ نہ ہونے اور متنازعہ حیثیت کی وجہ سے اس معاملہ میں کافی تکنیکی رکاوٹیں آرہی تھی لیکن بلاخر یہ معاملہ بھی تقریباً اب طے ہو چکا ہے آذاد کشمیر کے لئےُ اچھی خبر یہ ہے کہ آذاد کشمیر کیا لئے ایک روپے دس پیسے فی یونٹ واٹر یوز سرچارج طے کر لئے گئے ہیں۔نیلم جہلم ہائیڈرل پاور پروجیکٹ پاکستان کی خوشحالی اور آزاد کشمیر کی ترقی کا ایک اہم سنگ میل ہے جو رب تعالی کے فضل سے طے کر لیا گیا ہے۔ یہ واپڈا اور آزاد کشمیر حکومت نے چیلنج سمجھ کر اس منصوبے کا قبول کیا تھا جو کبھی ایک خواب تھا ۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Azad Kashmir mein ban'nay walay bijli mansoobay aur aabi challenges is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 04 June 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.