چائلڈ پروٹیکشن بیورو بچوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ

بحالی مراکز یا بچوں کے تحفظ کے اداروں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے

منگل جنوری

child protection bureau - bachoon k liye mehfooz panahgah
انعم شاہد
دنیا کی ترقی نے جہاں بہت ساری کامیابیاں حضرت انسان کی جھولی میں ڈالی ہیں وہاں اس ترقی کی منازل کے سائے میں کئی طرح کی سماجی برائیوں نے بھی جنم لیا،اس میں عالمی بالادستی اور مفادات کے حصول کی خاطر امن کو تہس نہس کرکے جنگ کا راستہ اپنانے والوں نے دنیا کی مشکلات میں اضافہ ہی کیا،جنگ عظیم اول اور دوم کے دوران ہونے والی تباہ کاریوں نے خواتین اور بچوں کو سب سے زیادہ متاثرہ کیا،مردوں کی جنگ میں ہلاکت کے بعد خواتین کی بڑی تعداد بے کار و مددگار ہو کر رہ گئی تو ایسے میں ہزاروں بچے یتیم اور بے آسرا ہو گئے جن کی بحالی انسانیت کیلئے اہم سوال تھا،اسی سوچ نے بچوں کو سماجی برائیوں اور تباہ حالی کے باعث جنم لینے والے جرائم کی دلدل سے محفوظ رکھنے کیلئے بحالی مراکز یا بچوں کے تحفظ کیلئے اداروں کے قیام جیسے اقدامات کو جنم دیا۔

(جاری ہے)

بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ مہینے میں ملک بھر میں ایک ہزار چارسو 89 بچوں کو جنسی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔
اور یہ تعداد گزشتہ سال کی نسبت 14 فیصد سے زائد تھی،اس کے علاوہ بچوں کو جن مشکلات کا سامنا رہتا ہے ان میں کم عمری کی شادی،جرائم کی دلدل،اغوا اور کم سنی میں مزدوری اور اس کے باعث جسمانی اور جنسی تشدد شامل ہیں۔

اسی طرح کے حالات سے بچوں کو بچانے کے لئے کسی ادارے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے جو مشکلات کا شکار بچوں کو ایک ایسی محفوظ چھت فراہم کر سکے جہاں نہ صرف وہ ان خطرات سے بچے رہیں بلکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ دیگر سرگرمیوں میں حصہ لے کر صحت مند شہری کے طور پر اپناکردار ادا کر سکیں۔مارچ 2004ء میں پنجاب میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کا قیام عمل میں لایا گیا۔

جس کا بنیادی مقصد بچوں کو مجرمانہ سرگرمیوں ملوث جرائم پیشہ افراد سے بچاتا تھا،یہ ادارہ بچوں کو نہ صرف کھانا اور چھت فراہم کرتا ہے بلکہ انہیں صحت مند اور باکردار شہری بنانے کے لئے تعلیم اور ہنر سیکھنے کی سہولتیں بھی فراہم کرتا ہے تاکہ وہ معاشرے میں مفید اور کارآمد شہری بن سکیں۔
پنجاب حکومت کے قائم کردہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو گھر سے بھاگنے والے یا لاپتہ ہونے والے بچوں کو ان کے والدین تک پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں،علاوہ ازیں بیورو میں موجود بچوں کی ذہنی نشوونما اور بحالی کے لئے چائلڈ فزیالوجسٹ جہاں مختلف اقدامات کرتے ہیں وہاں سرگرمیاں بھی منعقد کرتے ہیں۔

پنجاب حکومت کی طرف سے چائلڈ پروٹیکشن کورٹ بھی قائم کی گئی ہے،یہ عدالت بچوں کی تحویل کے معاملات،اور والدین سے بچوں کے قانونی ملاپ جیسے ایشو کو حل کرتے ہیں،اس حوالے سے پنجاب حکومت نے ایک چائلڈ ہیلپ لائن بھی قائم کی ہے گمشدہ یا لاپتہ بچوں کو ڈھونڈنے میں رہنمائی کرتی ہے اور مدد بھی فراہم کرتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بہترین کوآرڈینیشن کی سہولتیں بھی بہم پہنچاتی ہے‘بیورو کو چلانے کیلئے اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد،رہنما افسران جن میں پروٹیکشن آفیسرز،فزیا لوجسٹس‘لا افسر اور ڈاکٹر شامل ہیں ایک ٹیم کی شکل میں کام کرکے بچوں کے ایشوز کو حل کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔

پنجاب بھر کے بچوں کو ایسی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے پنجاب حکومت نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے زیر اہتمام فیصل آباد،گوجرانوالہ،ملتان،راولپنڈی،سیالکوٹ اور بہاولپور میں چائلڈ پروٹیکشن انسٹی ٹیوشنز بھی قائم کئے ہیں۔جہاں والدین سے بچھڑے اور معاشرے کی بے حسی کا شکار بچوں کو بہترین سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔راولپنڈی میں نومبر 2007ء میں ادارہ قائم کیا گیا اور مارچ 2008ء میں اسے پوری طرح فعال کر دیا گیا۔


چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے بارے میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہیں،حکومت پنجاب کا یہ عزم ہے کہ ہمارے بچوں کو روشن اور بہترین مستقبل فراہم کیا جائے،بے سہارا اور معاشرے کے نظر انداز کردہ بچوں کو روشن اور بہترین مستقبل فراہم کیا جائے،پنجاب حکومت کی طرف سے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو اسی مقصد کے لئے بے سہارا اور معاشرے کے نظر انداز کردہ بچوں کے تحفظ اور بحالی کیلئے قائم کیا گیا ہے،جہاں انہیں صحت،تعلیم اور گھر جیسے ماحول کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔

حکومت پنجاب چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے ذریعے گھر سے بھاگے ہوئے،ضرورت مند،فقیر اور زیادتی کا شکار بچوں کی بحالی کیلئے فنڈنگ کر رہی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے پیغام میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ہم اپنی مستقبل کی نسل کو تعلیم اور تربیت کے ذریعے خود انحصار بنائیں گے، بچوں کو،صحت،تعلیمی سہولتیں اور ممدو معاون ماحول فراہم کرنا ہمارے منشور کا حصہ ہے اور چیئر پرسن سارہ احمد کی بہترین قیادت میں چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو اہم کردار ادا کر رہا ہے اور بچوں کو یقینی طور پر مفید شہری بنانے کیلئے اپنی کوششوں کو جاری رکھے گا۔

چیئر پرسن بیورو سارہ احمد کا کہنا ہے کہ بے شک میرے لئے اس سماجی تنظیم کا چیئر پرسن ہونا کسی اعزاز کم نہیں،پاکستان بھی چائلڈ رائٹ کمیشن آف یونائیٹڈنیشن کا حصہ ہے،مجھے اس بات پر فخر ہے کہ پنجاب حکومت بچوں کے حقوق کے تحفظ جیسے اہداف کے حصول کیلئے صحیح سمت گامزن ہے،ہمارا اہم مقصد بازیاب ہونے والے بچوں کو والدین تک پہنچانا ہے کیونکہ کوئی ادارہ ماں باپ کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

child protection bureau - bachoon k liye mehfooz panahgah is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 05 January 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.