دنیا کے چند منفرد خِطے

ساحل ایک نیم صحرائی جغرافیائی پٹی کا نام ہے جو صحرائے صحارا کے جنوب اور سوڈانی گھاس کے میدانوں کے شمال میں واقع ہے۔ یہ بحرِ اوقیانوس سے بحیرة احمر تک پھیلی ہوئی ہے۔ ساحل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے کنارہ ۔یہ صحرا اعظم کے کنارے واقع ہے اس لیے اسے ساحل اور یہاں رہنے والوں کو ''ساحلی'' کہا جاتا ہے

Dr Syed Muhammad Azeem Shah Bukhari ڈاکٹر سید محمد عظیم شاہ بُخاری جمعہ مارچ

duniya ke chand munfarid khittay
 اس دنیا میں سات برِاعظم ہیں۔ لیکن یہ بات تو ہم سب جانتے ہیں اور آج سے نہیں کب سے جانتے ہیں۔ اس میں نئی بات کیا ہے؟
اس میں ایک چیز ذرا ہٹ کے ہے، وہ یہ کہ جناب ہر برِاعظم میں بہت سے ممالک اور خِطے اپنی جغرافیائی ہیئت، سیاسی و معاشرتی پہچان، طبعی خدوخال، قدرتی وسائل کی تقسیم اور منفرد ساخت کی بدولت ایک الگ حیثیت اور شناخت رکھتے ہیں۔

ان ناموں کے پسِ پردہ چند دلچسپ حقائق اور وجوہات ہیں۔ اسی بنیاد پر ان خِطوں کو بین الاقوامی طور پر بھی الگ الگ نام دیئے گئے ہیں جو برِاعظم کے اندر انکی انفرادیت کو ظاہر کرتے ہیں۔جاننا چاہیں گے؟؟؟چلیں شروع کرتے ہیں برِاعظم افریقہ سے۔
 برِ اعظم افریقہ:
طلسماتی کشِش اور سحر انگیز خوبصورتی کے حامل اس برِ اعظم میں کئی جغرافیائی اور تاریخی علاقے ایسے ہیں جن کو منفرد نام دیئے گئے ہیں، اِن میں سے کچھ انکی شباہت کی وجہ سے ہیں اور کچھ مختلف اشیاء کی تجارت کی بدولت۔

(جاری ہے)

 
1۔ قرن افریقہ:
مشرق میں برِ اعظم افریقہ کا ایک حصہ سمندر میں بہت دور تک چلا گیا ہے جسے قرنِ افریقہ یا افریقہ کا سینگ کہا جاتا ہے۔ اس نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس کی شکل بالکل گینڈے کے سینگ جیسی ہے۔ اس حِصے کو شمال مشرقی افریقا یا جزیرہ نما صومالیہ بھی کہتے ہیں۔ یہ مشرقی افریقا کا وہ جزیرہ نما ہے جو خلیج عدن کے جنوبی علاقے میں بحیرہ عرب کے ساتھ ساتھ واقع ہے۔

 قرن افریقہ کی یہ اصطلاح چار ملکوں، جبوتی، ایتھوپیا، اریٹریا اور صومالیہ پر مشتمل اس خطے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ علاقہ 2،000،000 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور اس میں 90.2 ملین افراد رہتے ہیں جن میں ایتھوپیا کی 75، صومالیہ 10، اریٹریا 4.5 اور جبوتی کی 0.7 ملین آبادی شامل ہے۔ یہ علاقہ عظیم درز کی تشکیل سے پیدا ہونے والے پہاڑوں پر مشتمل ہے اوردنیا کے گرم اور خشک ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہاں کی تاریخ مسلم مسیحی اور قوم پرستوں اور مارکسسٹوں کے درمیان فسادات سے بھری پڑی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر ممالک بھی مختلف مسائل سے دوچار رہے ہیں جن میں صومالیہ کی خانہ جنگی اور ایتھوپیا کا قحط شامل ہیں۔ اریٹریا اور جبوتی بھی مختلف تنازعات کا شکار ہیں۔ علاوہ ازیں یہ علاقہ قدرتی آفات کا بھی شکار رہتا ہے جن میں قحط یا سیلاب قابل ذکر ہیں جن سے خصوصاً دیہی علاقے بہت متاثر ہوتے ہیں۔

موغادیشو، ادیس ابابا، کسمایو،اسمارا اور جبوتی اس خطے کے بڑے شہر ہیں۔ برِاعظم افریقا کا پست ترین مقام، آسل جھیل بھی یہیں واقع ہے۔
2۔ ساحل :
ساحل ایک نیم صحرائی جغرافیائی پٹی کا نام ہے جو صحرائے صحارا کے جنوب اور سوڈانی گھاس کے میدانوں کے شمال میں واقع ہے۔ یہ بحرِ اوقیانوس سے بحیرة احمر تک پھیلی ہوئی ہے۔

ساحل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے کنارہ ۔یہ صحرا اعظم کے کنارے واقع ہے اس لیے اسے ساحل اور یہاں رہنے والوں کو ''ساحلی'' کہا جاتا ہے۔یہاں گھاس کے وسیع میدان ہیں۔
ساحل کے علاقے میں شمالی سینیگال، جنوبی موریطانیہ، مالی کا وسطی حِصہ، بروکینا فاسو، الجزائر کا جنوبی سِرّا، نائیجر، شمالی نائیجیریا، وسطی چاڈ، وسطی اور جنوبی سوڈان، اریٹیریا، وسطی افریقا جمہوری، کیمرون اور ایتھوپیا کا شمالی حِصی شامل ہے۔

3،053،200 مربع کلومیٹر کے ساتھ افریقا کا یہ سب سے بڑا خِطہ قریبا 14 ممالک تک پھیلا ہے۔ یہ خِطہ ہر سال قحط کا شکار ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہاں غربت بہت زیادہ ہے۔یہ علاقہ وسیع و عریض گھاس کے میدان، چراگاہوں، جنگلی جھاڑیوں کے میدان، دلدلی علاقوں اور سبزہ زاروں پر مشتمل ہے۔ یہاں اوسطا سالانہ 100 سے 600ملی لیٹر بارش ہوتی ہے۔ زیادہ تر لوگ مختلف قبائل کی شکل میں آباد ہیں جو مختلف ممالک میں بکھرے ہوئے ہیں۔

ٹمبکٹو، گاؤ، این جمینا، نیامے یہاں کے بڑے شہر ہیں۔
3۔ غلاموں کا ساحل و ساحلِ مرچ :
ساحلِ غلاماں یا سلیو کوسٹ، مغربی افریقا اور خیلجِ بینین کے ان علاقوں کو کہا جاتا ہے جہاں سولہویں صدی سے انیسویں صدی تک غلاموں کی تجارت کی جاتی تھی۔ سلیو کوسٹ کی یہ پٹی آج کے نائیجیریا، ٹوگو، بینین، گھانا اور آئیوری کوسٹ کے جنوبی علاقوں پر مشتمل تھی۔

فرنچ، جرمنوں، ڈینشوں، پرتگالیوں اور ڈچوں نے اپنی سہولت کے لیئے اس علاقے میں کئی قلعے بھی بنائے تھے۔ نوآبادیاتی دور میں واقع دیگر قریبی ساحلی خطے بھی اپنی برآمدات کی وجہ سے مختلف ناموں سے پہچانے جاتے تھے جیسے سونے کی تجارت والی ساحلی پٹی گولڈ کوسٹ، ہاتھی دانت کی پٹی آئیوری کوسٹ اور کالی مرچ کی تجارتی بیلٹ پیپر کوسٹ (ساحلِ مرچ) کے نام سے جانی جاتی تھی۔

ان میں ٹوگو، گھانا، آئیوری کوسٹ، لائیبیریا اور سیرالیون کے علاقے شامل تھے۔ جبکہ ساحل مرچ کا بڑا حصہ آج کے لائیبیریا پر مشتمل ہے۔
 برِاعظم ایشیاء:
بلحاظ رقبہ یہ دنیا کا سب سے بڑا برِاعظم ہے جہاں دنیا کی ساٹھ فیصد آبادی بستی ہے۔ عام طور پر ماہر ارضیات و طبعی جغرافیہ دان ایشیا اور یورپ کو الگ براعظم تصور نہیں کرتے اور ایک ہی عظیم قطعہ زمین کا حصہ قرار دیتے ہیں۔

لیکن ہم نے تو جب سے ہوش سنبھالا دونوں برِاعظموں کو الگ الگ ہی پایا۔ اس برِاعظم میں بھی بہت سے حصے ایسے ہیں جنکی سیاسی، جغرافیائی اور معاشرتی لحاظ سے ایک الگ شناخت ہے۔
 1۔ زرخیز ہلال :
شروع کرتے ہیں زرخیز ہلال سے۔ زرخیز ہلال مشرق وسطیٰ میں چاند کی شکل کا ایک تاریخی خطہ ہے جو تاریخ کے شاندار دور کا گواہ ہے۔

دنیا کی تاریخ کی چند عظیم ترین تہذیبیں اسی علاقے میں پروان چڑھیں۔ اسی لیے اس علاقے کو ''تہذیب کا گہوارہ'' یا ''تہزیبوں کا پالنا'' بھی کہا جاتا ہے۔
 چار عظیم تاریخی دریاؤں، نیل، اردن، فرات اور دجلہ کے پانیوں سے سیراب ہونے والا ایشیاء کا یہ زرخیز ترین علاقہ بحیرہ روم کے مشرقی ساحلوں سے صحرائے شام کے شمالی علاقوں اور مابین النہرین (دجلہ اور فرات کا درمیانی حصہ) سے خلیج فارس تک پھیلا ہوا ہے۔

اس علاقے میں عراق، شام، اُردن، کویت، مصر، اسرائیل، لبنان، فلسطین (غزہ اور مغربی کنارہ) جنوب مشرقی ترکی اور جنوب مغربی ایران کے چند علاقے شامل ہیں۔ زرخیز ہلال کی یہ اصطلاح بین الاقوامی سیاست میں بھی استعمال کی جاتی ہے۔دریائے نیل کے طاس کی آبادی 70 ملین، دریائے اردن کے طاس کی تقریباً 20 ملین اور دریائے دجلہ و فرات کے طاس کی 30 ملین ہے، اس طرح زرخیز ہلال کی موجودہ آبادی 120 ملین سے زائد بنتی ہے۔

یعنی یہ مشرق وسطیٰ کی کم از کم ایک تہائی آبادی کا حامل علاقہ ہے۔
یہاں دنیا کے چند قدیم ترین اور اہم شہر واقع ہیں جن میں دمشق، بغداد، قاہرہ، حمص، حلب، یروشلم، غزہ، عمان، بصرہ، بیروت، تل ابیب اور شامل ہیں۔ برِاعظم ایشیاء کا پست ترین مقام، بحیرہ مردار بھی یہیں واقع ہے۔
2۔ قفقاز :
قفقاز، یورپ اور ایشیا کی سرحد پر جغرافیائی و سیاسی بنیاد پر مبنی ایک خطہ ہے جسے میں کوہِ قاف بھی کہا جاتا ہے۔

یہ بحیرہ اسود اور بحیرہ قزوین کے درمیان واقع ایک پٹی ہے- یہاں موجود کوہ ِقاف کا پہاڑی سلسلہ ایشیا اور یورپ کو جدا کرتا ہے۔
یہ علاقہ جنوبی روس، آزربائیجان، آرمینیا اور جارجیا پر مشتمل خوبصورت پہاڑی خِطہ ہے۔ سیاسی اعتبار سے قفقاز کو شمالی اور جنوبی حصوں کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے۔ ابخازیہ اور جنوبی اوسیشیا کی جزوی طور پر تسلیم شُدہ ریاستیں بھی اس علاقے کا حِصہ ہیں۔

ایشیاء اور یورپ کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ انتہائی درجے کی اہمیت اختیار کر چکا ہے جہاں روس اور امریکا دونوں اپنی برتری چاہتے ہیں۔باکو، تبلیسی، یراوان اور گروزنی اہم شہر ہیں۔روس اور جارجیا کی سرحد پر واقع کوہِ البرس، برِاعظم یورپ کا سب سے اونچا مقام ہے۔
3۔ اناطولیہ :
اناطولیہ (ایشیائے کوچک) برِاعظم ایشیاء کے انتہائی مغرب میں واقع ایک جزیرہ نما ہے جسکے شمال میں بحیرہ اسود، جنوب میں بحیرہ روم اور مغرب میں بحیرہ ایجیئن واقع ہے۔

ترک باشندے اسے اناضول یا اناضولو کہتے ہیں۔ ترکی کا بیشتر حصہ اسی جزیرہ نما پر مشتمل ہے۔ جہاں ترک، کرد، عرب، یونانی اور آرمینیا ئی نسل کے لوگ رہتے ہیں۔ اناطولیہ کو لاطینی نام ایشیائے کوچک سے بھی پکارا جاتا ہے۔ازمیر، انقرہ، قونیہ اور انطالیہ یہاں کے بڑے شہر ہیں۔
4۔ بحر الکاہل کا حلقئہ آتش :
 یوں تو یہ علاقہ بحر الکاہل کے گرد واقع امریکی و ایشیائی ممالک پر مشتمل ہے لیکن اسکا اہم حِصہ ایشیاء میں واقع ہے۔

حلقہ آتش ایک اصطلاح ہے جو بحر الکاہل کے گرد پھیلے ہوئے آتش فشانوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ آتش فشاں زمین کی پرتوں میں حرکت اور دباؤ کے باعث اکثر پھٹتے رہتے ہیں اس لیے اس حلقے کو حلق آتش کہا جاتا ہے۔ یہ تقریباً 40 ہزار مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ دنیا کے کل 90 فیصد زلزلے اور بڑے زلزلوں میں سے 80 فیصد اس خطے میں آتے ہیں۔ یہ حلقہ جنوبی بحر الکاہل میں وانواٹو اور نیو کیلیڈونیا کے درمیان اور جزائر سولومن کے کناروں کے ساتھ اور نیو برٹن اور نیو گنی کے درمیان سے گذرتا ہے۔

یہاں واقع اہم ممالک میں چلی، پیرو، گوئیٹے مالا، بیلیز، ایل سلواڈور، میکسیکو، امریکا، کینیڈا،روس، جاپان، تائیوان، فلپائن، انڈونیشیا، پاپوا نیو گنی،ٹونگا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔ یہ علاقہ بحر الکاہل کے چاروں اطراف میں پھیلا ہے۔
5۔ ماوراء النہر :
ماوراء النہر(نہر یا دریا سے پار کا علاقہ) وسط ایشیا کے ایک علاقے کو کہا جاتا ہے جس میں آج ازبکستان، تاجکستان، جنوبی کیرغیزستان اور جنوب مغربی قازقستان شامل ہیں۔

جغرافیائی طور پر اس کا مطلب آمو دریا اور سیر دریا کے درمیان کا زرخیز علاقہ ہے۔ جہاں پہلے یہ ملک آباد تھا۔ ماوراء النہر کے اہم ترین شہروں میں سمرقند و بخارا، فرغانہ،اشروسنہ اور ترمذ شامل ہیں۔پانچ صدیوں تک یہ خطہ ایران اور عالم اسلام کا متمدن ترین خِطہ رہا ہے۔ یہ علاقہ بہت سے مشہور بزرگانِ دین، علما،دانشوروں، درویشوں اور اولیاء اللہ کا مدفن و مسکن رہا۔

1917 تا 1989ء تک روسی تسلط میں رہا اور اب وسط ایشیائی ریاستوں کا حصہ ہے۔ فارسی کے معروف شاعر فردوسی کے شاہنامے میں بھی ماوراء النہر کا ذکر ہے۔
 برِاعظم یورپ:
یوں تو سیاسی، سماجی اور مذہبی طور پر یورپ میں مشرقی اور مغربی حِصوں کی تقسیم بہت گہری ہے لیکن اسکے علاوہ بھی یہاں بہت سے چھوٹے چھوٹے خِطے ہیں جن کہ نہ صرف اپنی الگ حیثیت ہے بلکہ ان ممالک نے الگ صنعتی بلاکس بھی بنا رکھے ہیں۔

1۔ بلقان :
بلقان یا جزیرہ نما بلقان جنوب مشرقی یورپ کا تاریخی و جغرافیائی نام ہے۔ اس علاقے کا رقبہ 5 لاکھ 50 ہزار مربع کلومیٹر اور آبادی تقریبا 55 ملین ہے۔ اس خطے کو یہ نام کوہ بلقان کے مشہور پہاڑی سلسلے پر دیا گیا ہے جو بلغاریہ و سربیا کی سرحد سے لے کر ''بحیرہ اسود'' تک پھیلا ہوا ہے۔ یہاں موجود ممالک کو عموما بلقانی ریاستیں کہا جاتا ہے۔

اسے اکثر جزیرہ نما بلقان بھی کہتے ہیں کیونکہ اس کے تین جانب سمندر ہے جن میں مشرق میں بحیرہ اسود اور جنوب اور مغرب میں بحیرہ روم کی شاخیں (بحیرہ ایڈریاٹک، بحیرہ آیونین، بحیرہ ایجیئن اور بحیرہ مرمرہ) ہیں۔ اسکی شمالی حدود پہ دریائے ڈینیوب اور ساوا بہتے ہیں۔
جنگِ عظیم اول ہی سے اس علاقے کا سیاسی و جغرافیائی حلیہ تبدیل ہوتا رہا ہے۔

خصوصاً سابقہ یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے سے بلقانی ریاستوں کی تعداد میں اِضافہ ہوا ہے۔ آج بلقان میں البانیہ، بلغاریہ، بوسنیا ہرزیگوینا، کوسوو، مقدونیہ، مونٹینیگرو جبکہ کروشیا، یونان، اٹلی، رومانیہ، سربیا اور سلووینیا کے کچھ حِصے شامل ہیں۔اس علاقے کے بڑے شہروں میں تِرانہ، سرائیوو، ایتھنز، پرسٹینا،بلغراد اور سکو پچی شامل ہیں۔

اسکینڈینیویا :
 شمالی یورپ کے ممالک ڈنمارک، سویڈن، اور ناروے کو مجموعی طور پر اسکینڈے نیویا کہا جاتا ہے۔ جبکہ فِن لینڈ کا کچھ حِصہ اس میں شامل ہے۔ یہ ممالک بشمول شمالی بحر اوقیانوس کا جزیرہ آئس لینڈ ملتی جلتی زبانوں اور ثقافتوں کے حامل ہیں۔اسکینڈے نیویا کا شمالی اور مغربی حصہ بہت زیادہ کٹا پھٹا اور پہاڑی ہے جبکہ جنوب میں زمین زیادہ ہموار ہے اور گلیشیروں کی بدولت انتہائی زرخیز بھی ہے۔

فن لینڈ، ناروے اور سویڈن کا بیشتر حصہ گھنے جنگلات پر مشتمل ہے۔
آئس لینڈ دنیا کے سب سے زیادہ آتش فشانی علاقوں میں سے ایک ہے۔ اس خِطے کا مجموعی رقبہ 928،057 مربع کلومیٹر اور آبادی 21 ملین کے لگ بھگ ہے۔یہ دنیا کے وہ علاقے ہیں جہاں کئی کئی مہینے سورج نہیں نکلتا اور زیادہ تر شام کا سا سماں رہتا ہے۔ اوسلو، کوپن ہیگن اور سٹاک ہوم بڑے شہر ہیں۔

3۔ آئیبیریا :
جزیرہ نما آئبیریا یورپ کے انتہائی جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہ یورپ کے تین جزیرہ نماؤں (جزیرہ نما بلقان، جزیرہ نما اٹلی اور جزیرہ نما آئبیریا) میں سے انتہائی جنوب اور مغرب میں واقع آخری جزیرہ نما ہے۔ جنوب اور مشرق میں اس کی سرحدیں بحیرہ روم اور شمال اور مغرب میں بحر اوقیانوس سے ملتی ہیں۔

جزیرے کا بیشتر حِصہ اسپین اور پرتگال کے بیچ تقسیم ہے جبکہ شمال میں انڈورا اور فرانس کے کچھ علاقے اور جنوبی ساحلی کونے پر ''جبرالٹر'' واقع ہے۔582،000 مربع کلومیٹر رقبے کیساتھ یہ اسکینڈینیویا کے بعد برِاعظم یورپ کا دوسرا بڑا جزیرہ نما ہے جہاں لگ بھگ 57 ملین لوگ آباد ہیں۔ جزیرہ نما کے شمالی علاقے میں کوہ پائرینیس ہیں جو اسے بقیہ یورپ ملاتے ہیں۔

اس خطے میں یوارپ کے حسین ترین نظارے دیکھے جا سکتے ہیں۔میڈرڈ، لزبن، بارسلونا، ویلنشیو، قرطبہ، سیویل اور اوپورٹ اہم شہر ہیں۔
 4۔ بینیلکس :
بیلجیم، لکسمبرگ اور نیدر لینڈز کے اقتصادی اتحاد کو بینیلکس کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ تینوں ممالک کے الفاظ کے پہلے دو حروف جوڑ کر بنایا گیا ہے یعنی بیلجیم کا، نیدرلینڈ کا، اور لکسمبرگ کا۔

ان ممالک کے درمیان اقتصادی اتحاد کا باقاعدہ معاہدہ 1958ء میں طے پایا۔اس کے علاوہ انہیں زیریں ممالک بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس علاقے کا بیشتر حصہ ہموار اور سطح سمندر سے نیچے واقع ہے۔ خصوصاً نیدر لینڈز، جہاں کا بیشتر حصہ سطح زمین سے بھی نیچے ہے اس لیے ولندیزیوں نے کئی بند تعمیر کیے ہیں تاکہ سیلاب سے بچا جا سکے۔
بینیلکس ممالک یورپ کے سب سے زیادہ گنجان آباد ممالک ہیں اور یہاں کے لوگوں کا معیار زندگی انتہائی اعلٰی ہے۔

ان ممالک میں 30 ملین سے زائد افراد رہتے ہیں اور ہر 10 میں سے 9 افراد شہر یا قصبے میں رہائش پزیر ہیں۔ دوسری جانب دیہی علاقے بھی انتہائی گنجان آباد ہیں۔ نیدر لینڈز کے شہر ایمسٹرڈم سے بیلجیم کے شہر اینٹورپ تک کارخانوں کا ایک عظیم جال پھیلا ہوا ہے۔ دوسری جانب لکسمبرگ بنکاری کا ایک اہم مرکز ہے اور اس کے دار الحکومت میں دنیا کے کئی اہم بنکوں کے صدر دفاتر ہیں۔

ایمسڑڈیم، روٹرڈیم، لکسمبرگ سٹی، برگِس اور یورپی یونین کا ہیڈ کوارٹر برسلز اسی خِطے کا حِصہ ہیں۔
5۔ بالٹک ریاستیں :
سابقہ سوویت یونین سے آزاد ہونی والی ریاستوں اسٹونیا، لیٹویا اور لتھووینیا کو مجموعی طور پر بالٹک ریاستیں یا بالٹک اقوام کہا جاتا ہے۔ یہ تینوں ممالک 1940ء اور 1941ء میں اور 1944ء اور 1945ء سے 1991ء تک سوویت یونین کے قبضے میں رہے۔

یہ تینوں ممالک ''بحیرہ بالٹک'' کے مشرقی ساحل پر آباد ہیں جو اس نام کہ وجہ تسمیہ ہے۔ اس خِطے کی آبادی زیادہ نہیں ہے۔ ریگا، تالین اور ویلنیئس مرکزی شہر ہیں۔
# براعظم شمالی و جنوبی امریکا:
 برِاعظم شمالی و جنوبی امریکا کے زیادہ تر خِطوں کو قدرتی ہیئت اور طبعی خدوخال کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا ہے۔ ایسٹ انڈیز کے علاوہ زیادہ تر خِطے دو یا تین ممالک پر ہی مشتمل ہیں۔

1۔ عظیم جھیلوں کا خِطہ:
عظیم جھیلوں کا یہ علاقہ شمالی امریکا میں ایک دو قومی خِطہ ہے جو امریکا اور کینیڈا کے درمیان واقع ہے۔ اس میں ریاستہائے متحدہ امریکا کی آٹھ ریاستوں کے علاقے شامل ہیں، جن میں الینوائے، انڈیانا، مشی گن، مینیسوٹا، نیو یارک، اوہائیو، پنسلوانیا اور وسکونسن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کینیڈا کا صوبہ انٹاریو بھی اس میں شامل ہے۔

یہ علاقہ جھیل مشی گن، جھیل سپیریئر، جھیل آئر، جھیل اونٹاریو اور جھیل ہیورون پر مشتمل ہے جو مختلف چھوٹے بڑے دریاؤں سے منسلک ہیں اور امریکا و کینیڈا کے درمیان سرحد کا کام بھی کرتی ہیں۔شکاگو، ڈیٹرائیٹ، ٹورنٹو، اوٹاوہ، ہیملٹن، وینڈسر اور آئر جیسے بڑے شہر اِن جھیلوں کے آس پاس واقع ہیں۔
2۔ ویسٹ انڈیز:
ویسٹ انڈیز یا غرب الہند یا جزائر غرب الہند شمالی بحر اوقیانوس میں کیریبین کا وہ علاقہ ہے جہاں بے شمار جزائر بکھرے ہوئے ہیں۔

یورپی اقوام نے اس علاقے کو برِاعظم ایشیاء کے حِصے ایسٹ انڈیز یا جزائر شرق الہند (موجودہ انڈونیشیا) سے تفریق کرنے کے لیئے جزائر غرب الہند یا ویسٹ انڈیز کا نام دیا۔
یہ خِطہ ریاستہائے متحدہ امریکا کے جنوبی ساحلوں سے لیکر برِاعظم جنوبی امریکا کی شمالی ساحلی پٹی تک پھیلا ہوا ہے۔ویسٹ انڈیز میں کیوبا، جمیکا، ہیٹی، ہنڈوراس، ڈومینکن ریپبلک، پورٹو ریکو، جزائر کیمین، بہاماس، اینٹی گوا اینڈ باربوڈا، بارباڈوس، اروبا، ڈومینیکا، گرینیڈا، برٹش ورجن آئی لینڈ، سینٹ لوسیا، سینٹ کیٹز و ناویس اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متفرق فرانسیسی و امریکی نو آبادیاں شامل ہیں۔

ان میں سب سے بڑا اور مضبوط ملک کیوبا ہے۔یہ علاقہ کوکونٹ، کافی، پام آئل اور ربڑ کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ کیوبا کو دنیا میں اعلیٰ پائے کے سِگار بنانے کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔

3۔ پیٹا گونیا :
جنوبی امریکا میں واقع کم آبادی والا یہ خِطہ 297000 مربع میل کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کا جنوبی علاقہ انتہائی خشک اور سرد ہے۔

کوہ انڈیز کے مشرق کی جانب واقع یہ علاقہ دریائے کولوراڈو کے جنوب میں ہے۔ یہ خطہ دو ملکوں ارجنٹائن اور چلی میں پھیلا ہوا ہے۔ سطح مرتفع، گھاس کے میدانوں، صحرا اور بلند پہاڑوں پر مشتمل یہ علاقہ معدنی دولت سے مالا مال ہے۔ کان کنی، ماہی گیری اور شمالی علاقوں میں زراعت کا پیشہ، یہاں کی اہم صنعتیں ہیں۔ یہاں دنیا میں '' سوڈیم نائیٹریٹ '' کے سب سے بڑے ذخائر پائے جاتے ہیں'
مجموعی رقبہ 1,043,076 متبع کلومیٹر ہے۔

4۔ گیاناز :
جنوبی امریکا کے شمال مشرقی ساحلوں پر واقع تین ممالک کو مجموعی طور پر ''گیاناز'' کہا جاتا ہے جس میں گیانا، سورینام اور فرانسیسی گیانا شامل ہیں۔ کبھی کبھار یہ اصطلاح پڑوسی ممالک کے چند علاقوں کو شامل کرکے بھی استعمال کی جاتی ہے جن میں وینیزویلا کا خطہ گیانا اور برازیل کا خطہ گیانا شامل ہیں۔

یہاں جارج ٹاؤن اور پیراماریبو شہر واقع ہیں۔ جب وینیزویلا اور برازیل کے علاقوں کو اس تعریف میں شامل کیا جاتا ہے تو اس خطے کی جغرافیائی سرحدیں شمال مشرق میں بحر اوقیانوس، شمال مغرب میں اورینوکو اور جنوب مشرق میں دریائے ایمیزن تک پہنچ جاتی ہیں۔
یہ تو تھے دنیا کے چند مشہور خِطے لیکن ان کے علاوہ بھی بہت سے ایسے علاقے دنیا میں پائے جاتے ہیں جو اپنی وضع قطع میں بالکل مختلف اور بے مثال ہیں۔ ان کو اب آپ نے ڈھونڈنا ہے۔۔۔۔

Your Thoughts and Comments

duniya ke chand munfarid khittay is a khaas article, and listed in the articles section of the site. It was published on 27 March 2020 and is famous in khaas category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.