ایل این جی سکینڈل اور گیس بحران سے معیشت تباہ

معاہدے کی منسوخی سے سالانہ اربوں ڈالرز کا نقصان اور گیس کی شدید قلت پیدا ہوئی

منگل 18 جنوری 2022

رحمت خان وردگ
دنیا بھر میں قومی پراجیکٹس کے حوالے سے حکومتی سطح پر کئی کئی دہائیوں کیلئے منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔پاکستان میں بھی 25 سالہ منصوبہ سازی کی خبریں منظر عام پر آتی رہی ہیں۔طویل مدتی اور دیرپا منصوبہ سازی سے ہی قوم ترقی کرتی ہے جس کے دور رس نتائج ہوتے ہیں۔ آپ اگر 25 سالہ منصوبہ بندی کرکے کام نہیں کر سکتے تو کم از کم اتنا تو لازمی کرنا ہی پڑے گا کہ حکومت کا آغاز ہوتے ہی 5 سالہ منصوبہ بندی کے تحت کام کا آغاز کریں لیکن بدقسمتی سے موجودہ حکومت نے سرکاری پالیسیاں بھی بالکل اپنی پارٹی تنظیم سازی کی طرح چلائی ہیں کہ جب چاہے ایک ماہ بعد تنظیمیں توڑ دو اور پھر نئی بنا لو۔

توانائی سیکٹر میں گیس کی فراہمی میں بہترین ترجیحات،ایل این جی کی امپورٹ و تقسیم اور ستمبر سے لے کر مارچ تک جب ملک بھر میں گیس کی طلب میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے اس دورانیہ میں فرنس آئل کی فراہمی و استعمال سے معاملات درست انداز میں چلا کر ہی عوام کو ریلیف دیا جا سکتا ہے۔

(جاری ہے)

سابقہ حکومتی ادوار میں بھی تو گیس کی پیداوار میں اسی شرح سے کمی ہو رہی تھی لیکن گھریلو صارفین کبھی اتنی اذیت کا شکار نہیں ہوئے جتنا موجودہ حکومت میں ہو رہے ہیں۔


گیس کے استعمال پر سب سے پہلا حق عام گھریلو صارفین کا ہے اگر ملک بھر کے گھریلو صارفین کی ضروریات پوری کرکے گیس بچ جائے تو سی این جی سیکٹر اور چھوٹی انڈسٹری کو گیس فراہمی میں دوسری ترجیح ہونا چاہئے اور اگر اس کے باوجود گیس بچ جائے تو بالکل آخر میں بڑی صنعت کو گیس ملنی چاہئے اور یہی اصول جنرل مشرف نے اپنے پورے دور حکومت میں اختیار کیا جس میں یکسوئی رہی اور کہیں بھی عوام کو گھریلو ضرورت یا سی این جی میں گیس کی کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

جنرل مشرف کے دور میں انڈسٹریز کو سردیوں میں فرنس آئل پر چلایا جاتا تھا کیونکہ انڈسٹری مالکان نے این مصنوعات کی قیمتوں کا تعین فرنس آئل کے استعمال اور لاگت کے حساب سے منافع رکھ کر کیا ہوا ہے اگر انڈسٹری مالکان کو گیس ملتی ہے تو ان کے منافع میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے لیکن وہ عام آدمی کو مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرکے کسی قسم کا کوئی ریلیف دینے کو تیار نہیں ہوتے۔

انڈسٹری کو پہلی ترجیح میں گیس دیئے جانے سے عام گھریلو صارفین مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
حکومت ہر ماہ اپنی پالیسی تبدیل کرتی ہے پہلے حکومت نے فرنس آئل کے استعمال پر پابندی لگا کر توانائی سیکٹر میں گیس پر مکمل انحصار کیا جس کے نتیجے میں مقامی ریفائنریوں میں بننے والے فرنس کے ٹینک بھر گئے اور فروخت نہ ہونے کے باعث مزید اسٹوریج کی جگہ نہیں بچی اور مجبوراً پاکستان ریفائنری بند ہو گئی اسی طرح دیگر ریفائنریز نے بھی حکومت کو عنقریب مجبوری بندش کے متعلق آگاہ کیا تو حکومت نے اس متعلق تشویش کا اظہار کرکے حکومتی پالیسی میں یکسر تبدیلی لا کر فرنس آئل کے استعمال کی اجازت دی ایسے وقت میں جب اپنی مقامی ریفائنریز میں لاکھوں ٹن فرنس آئل تیار رکھا ہوا تھا تو سرکاری پیٹرولیم کمپنی پی ایس او نے بجائے مقامی فرنس کی خریداری کرنے کے ہزاروں ٹن فرنس آئل بیرون ملک سے درآمد کر لیا یہ اقدام سراسر غلط تھا کیونکہ اپنی مقامی ریفائنریز ناصرف فرنس آئل بناتی ہیں بلکہ ڈیزل‘پیٹرول‘ کیروسین،تارکول،خام لیوب آئل سمیت درجنوں مصنوعات تیار کرتی ہیں لیکن ریفائنری چلے گی تو تمام مصنوعات تیار ہوں گی۔


مسلم لیگ ن کے دور حکوت میں قطرے ایل این جی کا 20 سالہ طویل مدتی معاہدہ کیا تھا جس میں اس وقت کے ریٹ سے معمولی زیادہ فکس ریٹ پر 20 برس کا معاہدہ اس لئے کیا گیا تھا کہ اگر مستقبل میں ایل این جی کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تب بھی حکومت پاکستان کو اسی پرانے فکس ریٹ پر ہی ایل این جی ملے گی لیکن موجودہ حکومت نے آتے ہی ان کی حکومت پر کرپشن کے الزامات کے تحت مقدمات قائم کئے اور قطر سے ایل این جی معاہدہ منسوخ کر دیا اب ایک خبر کے مطابق موجودہ حکومت گزشتہ معاہدے سے ایک شپ ایل این جی کی خریداری میں مبینہ طور پر 65 ملین ڈالر کا نقصان کر رہی ہے۔

ایل این جی ریفرنس میں حکومت کو ابھی تک خاطر خواہ کامیابی بھی ملی نہیں اور ایل این جی سکینڈل اور معاہدہ منسوخی سے حکومت پاکستان کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں گیس کی شدید قلت بھی پیدا ہو گئی ہے،گزشتہ تمام حکومتوں میں تھرمل پاور اور میگا انڈسٹری فرنس آئل پر چلتی تھی اور گیس کا استعمال ایسی ترجیحات کے تحت کیا جاتا تھا کہ گھریلو صارفین کو کسی صورت بھی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اب گیس بحران کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ انڈسٹریز اور تھرمل پاور اسٹیشنز کو مارچ تک فرنس آئل پر چلایا جانا چاہئے تمام تھرمل پاور اسٹیشن،سرکاری و نجی پیٹرولیم کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ جب تک مقامی فرنس آئل دستیاب ہو‘اس وقت تک فرنس آئل کی امپورٹ نہیں کی جا سکتی اور اگر مقامی ریفائنریز سے فرنس آئل دستیاب نہ ہو تو ایسی صورت میں بھی صرف ضرورت مطابق ہی فرنس آئل امپورٹ کی اجازت ہو مقامی ریفائنریز کو ہر صورت چلایا جانا چاہئے اور انہیں حائل مشکلات کو دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اسی طرح گیس کی فراہمی میں ہر صورت پہلی ترجیح گھریلو صارفین کو ملنی چاہئے۔


ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

LNG Scandal Aur Gas Bohran Se Maeeshat Tabah is a national article, and listed in the articles section of the site. It was published on 18 January 2022 and is famous in national category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.