ملک مسائلستان بن گیا

کیا غریب اور مزدور ذمہ دار ہیں؟

پیر اگست

Mulk masailistan ban giya
محمد رمضان چشتی
روزنامہ نوائے وقت کی ایک دلخراش خبر کے مطابق جب 14اگست کو قوم جشن آزادی منا رہی تھی۔سگیاں پل کے نزدیک بند روڈ پر کٹی پتنگ کی ڈور گلے پر پھرنے سے زخمی ہونے والی چار سالہ فاطمہ میو ہسپتال میں دم توڑ گئی۔فاطمہ اپنے والد پرویز کے ساتھ موٹر سائیکل پر جشن آزادی کی رونقیں دیکھنے جا رہی تھی کہ گلے پر ڈور پھرنے سے وہ اور اس کا والد زخمی ہو گئے بعد ازاں فاطمہ نے ہسپتال میں دم توڑ دیا اس کی ماں صدمہ سے بے ہوش ہو گئی۔

واضح رہے کہ ڈیڑھ ماہ قبل بھی ساندہ کے علاقہ شبلی ٹاؤن میں والد کے ساتھ موٹر سائیکل پر جانے والی چھ سالہ حریم فاطمہ گلے پر ڈور پھرنے سے جاں بحق ہو گئی تھی جس پر وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کی اور آئی جی آپریشنز نے ایس ایچ او ساندہ انسپکٹر شرجیل ضیاء کو معطل کر دیا تھا۔

(جاری ہے)

چھ سالہ حریم فاطمہ والد عمران کے ساتھ موٹر سائیکل پر شبلی ٹاؤن ڈبل سٹرک پر جارہی تھی کہ اچانک گلے پر ڈور پھر گئی اور اس نے منشی ہسپتال میں دم توڑ دیا نعش گھر پہنچنے پر کہرام مچ گیا اور ماں پر غشی کے دورے پڑنے لگے۔

ڈی آئی جی آپریشنز اشفاق خان کا کہنا تھاکہ ایس پیز،ایس ڈی پی اور ایس ایچ اوز اپنے علاقوں میں پتنگ بازی ایکٹ پر عملدر آمد کو یقینی بنائیں۔
فیصل آباد میں تھانہ پیپلز کالونی کے عین سامنے کٹی پتنگ کی قاتل ڈور نے موٹر سائیکل سوار اٹھارہ سالہ جڑا نوالہ چک نمبر 240 (گ ب) کے رہائشی اٹھارہ سالہ حمزہ سرور کی جان لیوا ڈور نے اس کی شہ رگ کاٹ ڈالی۔

اسلام پورہ اور شاہدرہ میں دو موٹر سائیکل سوار عظیم اور راحیل گلے اور منہ پر کٹی پتنگ کی ڈور پھرنے سے شدید زخمی ہو گئے۔دونوں زخمیوں کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔وزیر آباد کے محلہ شیرو میں نو عمر سلیمان اپنے بارہ سالہ بچے علی شان کے ساتھ چھت پر پتنگ اڑا رہا تھا کہ اچانک نیچے آگرا اسے طبی امداد کے لئے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔


قابل غور امر یہ ہے کہ ابھی تو پتنگ بازی پر پابندی ہے اس کے باوجود آئے دن کسی نہ کسی بے گناہ اور معصوم شہری کی جان چلی جاتی ہے۔ ہماری بے حسی کی انتہا ہے ہمیں اپنے سوا کسی کی جان کی پروا نہیں جس ماں کا جگر گوشہ اور لعل مر جائے وہ کیسے زندہ رہے گی زیادہ سے زیادہ تھانیدار کو معطل کر دیا جاتا ہے۔ذمہ دار انتظامیہ اور افسران،وزیروں، مشیروں کو کوئی نہیں پوچھتا؟تھانیدار کو معطلی کے بعد گھر بیٹھے تنخواہ ملتی رہتی ہے۔

کس کس چیز کا رونا روئیں ،تفریحی مقامات،پارکس وغیرہ میں جھیلوں پر بغیر لائف جیکٹس کے کشتیاں چلتی ہیں ان پر چھوٹے بڑے سب سوار ہوتے ہیں منچلے اچھل کود کر رہے ہوتے ہیں جس سے اوور لوڈ چلتی کشتی کا توازن بگڑ جاتا ہے اور کوئی بڑا حادثہ رونما ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب کشتی کے ٹکٹ کے علاوہ لائف جیکٹس کا سو سو روپے کرایہ وصول کرتے ہیں۔
مائیں اور بچے اس کے بغیر ہی بیٹھ جاتے ہیں اور پھر کوئی المناک حادثہ پیش آجاتا ہے یہ سب کس کی غفلت ہے؟ٹکٹ کے ساتھ لائف جیکٹس بمعہ کرایہ لازمی مشروط ہونی چاہئے۔

ارکان پارلیمنٹ کو کیا کہ کس کی گردن کٹی یا کوئی ڈوب گیا۔خدا جانے ہم کب قوم بنیں گے اور لوٹ مار سے باز آئیں گے؟ٹی وی پر اینکرز اور سینئر صحافیوں اور تجزیہ کاروں کو سوائے سیاست کے کچھ بھی نظر نہیں آتا آتشیں اسلحہ سے انسانی جانیں جا رہی ہیں ارکان پارلیمنٹ مزے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ٹریفک پولیس والے گلی محلوں میں بھی ہیلمٹ نہ پہننے پر چالان کر دیتے ہیں۔

سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر کار والے کا چالان کر دیتے ہیں۔شام عالم مارکیٹ،مصری شاہ،گوالمنڈی سب جگہ عوام کا جینا دوبھر ہے۔سیاستدان آئے روز دھڑنے ،ہڑتالیں، مظاہرے کرتے ہیں کیا انہوں نے انسانی جان بچانے کے لئے بھی کبھی دھرنا دیا؟؟اللہ تعالیٰ تو ایک جان بچانے کی بھی بات کرتے ہیں یہاں تو آئے روز کتنی قیمتی جانیں چلی جاتی ہیں انسانی درندے اور ڈاکو آئے روز کتنے بے گناہ انسانوں کو مار دیتے ہیں۔


یہ پاکستان ہم نے کتنی مشکلوں اور قربانیوں کے بعد حاصل کیا تھا اس کی بنیادوں میں کتنے شہیدوں کا لہو ہے اور کتنی ماؤں،بہنوں اور بیٹیوں کی لٹی عصمت شامل ہیں۔ہم جشن آزادی بہت دھوم دھام سے مناتے ہیں اور تحریک پاکستان کے مقاصد پر عمل صفر کے برابر ہے۔آج ہماری تیسری نسل اس آزاد وطن میں سانس لے رہی ہے اسے کیا خبر کہ پاکستان کیسے بنا تھا۔

قدر تو اب انہیں ہیں جو چند بزرگ باقی بچے ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں سے وہ وحشت ناک مناظر دیکھے تھے۔میری والدہ پاکستان بننے کے 14سال بعد صرف 34 سال کی عمر میں روتے سسکتے فوت ہو گئیں۔قیام پاکستان کے وقت ان کی عمر 20 سال تھی ان کی دو بہنیں اور تھیں میری والدہ کی آنکھوں کے سامنے سکھوں نے میرے نانا،نانی کے گھر پر تلواروں اور برچھیوں سے لہولہان کر رہے اور میری نو عمر والدہ اپنے ماں باپ کو شہید ہوتے خوف،لاچارگی اور بے بسی سے روتے ہوئے دیکھ رہی تھیں میرے خون میں لت پت نانا جی نے جان کی پروا نہ کرتے ہوئے بیٹی سے فریاد کی کہ خدا کے لئے تم اپنے تایا کے گھر بھاگ کر جان بچالو اور میری والدہ روتی بلکتی ماں باپ کو خون میں لٹ پٹ تڑپتا چھوڑ کر تایا کے گھر آگئی جو بعد ازاں اپنے ساتھ پاکستان لے آئے میں نے تمام زندگی اپنی ماں کو شہید والدین کی یاد میں رونا تڑپتا پایا وہ یہی کہتیں میں بھی کیوں نا شہید ہو گئی انہیں کیوں چھوڑ کر آگئی یہی غم انہیں اندر اندر کھوکھلا کر گیا اور وہ عین جوانی میں داغ مفارقت دے گئیں۔


آج کوئی حکمرانوں سے پوچھے کہ یہ ملک جو مسائلستان بن چکا ہے کیا اسے غریبوں اور مزدوروں نے ایسا بنایا ہے کیا وہ ان سب خرابیوں کے ذمہ دار ہیں؟حکمران،بیوروکریٹ، سیاستدان،سرمایہ دار سب اس کے ذمہ دار ہیں انہیں کون پوچھتا ہے۔کیا ہم مسلمان کہلانے کے قابل ہیں،روز محشر اللہ تعالیٰ کو کیا منہ دکھائیں گے،ہم حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کا یہ حال دیکھ کر دل کتنا دکھتا ہو گا یہ کبھی ہم نے سوچا؟وہ اپنے بندوں پر خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں ظلم پسند نہیں کرتا،ہم ہیں کہ محض اپنے شوق کی خاطر لوگوں کی جانیں لینے سے بھی نہیں چوکتے۔

آج کی ماؤں کے پاس بھی تربیت کے لئے وقت نہیں یا انہیں اس کا شعور ہی نہیں۔ نوجوان نسل مریض نظر آتی ہے اس نے گڈی بازی،موٹر بائیک یا نشہ سے گلیوں،سڑکوں بازاروں اور ادھم مچایا ہوتا ہے انہیں نہ دوسروں کی زندگیوں کی پرواہے نہ ہی اپنی اسی وین ویلنگ سے آئے روز کتنی اموات ہوتی ہیں اور کتنے زخمی ہسپتالوں میں مہینوں پلاسٹرز میں جکڑے پڑے تڑپتے ہیں۔

لیکن ہم کوئی سبق نہیں سیکھتے۔بہت سے شوقین مزاج موبائل ویڈیو بنائے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں چاہے بدلے میں آپ اربوں،کھربوں دے دیں۔ہمارے ملنے والے منظور خان بتا رہے تھے کہ ایک جاننے والا زمین فروخت کر رہا تھا اس نے ایک شخص کو کم قیمت پر زمین فروخت نہ کی بلکہ دوسرے کو جس نے زیادہ قیمت دی۔اسے فروخت کر دی جس پر پہلے شخص نے اس کی زمین پر اسے گولیاں مار کر قتل کر دیا،ملزموں کی چند روز بعد ضمانت بھی ہو گئی،یہ ظلم کب ختم ہو گا اور انصاف کب ملے گا۔؟

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Mulk masailistan ban giya is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 31 August 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.