نئے پاکستان کا ہاؤسنگ منصوبہ

ایک کنال کے گھروں میں کون سے ”غریب“رہیں گے ؟

پیر دسمبر

naye Pakistan ka housing mansoobah
 خالد جاوید مشہدی
پاکستان میں حکومت چلا نا کس قدر مشکل کام ہے اس کا کافی حد تک اندازہ پی ٹی آئی کو ہورہا ہو گا ‘انہیں تو کوئی مسئلہ نہیں جن کا مطلوب ومقصود حکومت میں آکرمال بنانا ہے مگر جو عوام کی خدمت یا ملکی کا عزم لے کر میدان میں آئیں ۔ان کے لئے مشکلات کے پہاڑ ہیں ۔مطالبا ت کے انبار ہیں جائز بھی اور ناجائز بھی ‘کچھ کو الگ صوبہ چاہئے تو کچھ کو اس کی حدود پر اختلاف ہے کچھ کو سرائیکی صوبہ چاہئے تو کسی کو جنوبی پنجاب صوبہ اورکچھ کا مطالبہ بہاولپورصوبہ ہے ۔


وکلاء کو بھی ہائیکورٹ کے مزید بنچ چاہئیں اس لے لئے جو مہم چلائی جا رہی ہے ۔اس میں تشدد کم وبیش لازمی عنصر کی حیثیت اختیار کرچکا ہے جس کے لئے ”وکلا ء گردی “کی نئی اصطلاع باقاعدہ رائج ہو چکی ہے ۔

(جاری ہے)

اب ایک نیا مطالبہ سامنے آگیا گزشتہ ہفتے جہانگیر ترین اور صوبائی وزیر ہاؤسنگ محمود الرشید لودھراں آئے تو وکلاء نے ان کی گاڑیوں کو گھیر لیا۔


ان کا مطالبہ تھا کہ لودھراں کو بہاولپور بنچ سے منسلک کیا جائے۔یعنی نئے بنچ بھی بنائے جائیں اور ان کی حدود بھی وکلاء کی مرضی سے مقرر کی جائیں وکیل تو فیصلے بھی مرضی کے چاہتے ہیں جو جج ان کی مرضی کے فیصلے نہ کریں اس پر چڑھ دوڑتے ہیں اور اب تو اعلیٰ انتظامی عہدیدار بھی ان سے محفوظ نہیں ۔ایسا وہی کر سکتے ہیں جن کو یقین ہو کہ کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔


جس وقت لودھراں میں جہا نگیر ترین اور محمود الرشید کی گاڑیوں کا گھیراؤ کیا گیا ۔اس وقت وہ دونوں وہاں پی ٹی آئی کے ہاؤسنگ منصوبے کے لئے مختص زمین کا معائنہ کرنے آئے تھے ۔50ایکڑزمین حاصل کی گئی ہے جس میں 628پلاٹس ہوں گے جبکہ پارک ‘مارکیٹ ‘جامع مسجد اور قبرستان بھی ہوگا۔ا س موقع پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ لودھراں کے غریب لوگوں کے لئے مختص رقبہ میں ایک کنال کے30 ‘10مرلہ کے 64اور 5مرلہ کے 472پلاٹ ہوں گے ۔


بریفنگ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ایک کنال اور 10مرلہ کے مکانات میں رہنے والے ”غریبوں “کا انتخاب کس طرح ہوگا۔صوبائی وزیر محمود الرشید نے بتایا کہ ہاؤسنگ منصوبے کا آغاز لودھراں سے کیا جائے گا اور وزیراعظم عمران خان نئے سال کے آغاز پر کالونی کاسنگ بنیاد رکھیں گے ۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پرائیویٹ تعمیراتی کمپنیوں سے مذاکرات جاری ہیں جبکہ بنکوں سے قرض کے لئے ہوم ورک مکمل کر لیا گیا ہے ۔


اس موقع پر سپریم کورٹ سے سیاسی سرگرمیوں کے لئے نااہل قرار پانے والے جہانگیر ترین نے بتایا کہ جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کی راہ میں کچھ پیچیدگیاں ہیں جن کو جلد دور کرلیاجائے گا۔تاہم ملتا ن میں سول سیکرٹریٹ کے لئے کام تیزی سے جاری ہے اور یہ آئندہ مالی سال کے آغاز سے پہلے(یعنی موجودہ مالی سال کے دوران )کام شروع کردے گا اور اس خطہ کے لوگوں کو اپنے کاموں کے لئے لاہور نہیں جانا پڑے گا ۔


دوسرے لفظوں میں الگ صوبہ کے حامیوں کو فی الحال سیکرٹریٹ پر ہی قناعت کرنا پڑے گی ۔
ملتان میں20‘ 21 نومبر کی درمیانی رات کو عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روز قبل 4نوجوان لاہور سے کراچی جانے والی ٹرین کراچی ایکسپریس کے نیچے آکر کچلے گئے ۔ان کے بارے میں کئی کہانیاں سامنے آئی ہیں کہ یہ فیضان مدینہ میں عید میلا النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریب میں شرکت کے لئے آئے تھے اور وہ ریل لائن پر بیٹھے تھے ایک اور روایت کے مطابق یہ چاروں ریلوے لائن پر چہل قدمی کررہے تھے کہ اچانک ٹرین آگئی اور وہ نیچے آگئے ۔


 حیرت ہے کہ ان کو ٹرین کی آمد کا پتہ نہیں چلا ۔ٹرین جب آتی ہے تو زمین پر شدید دھمک پیدا ہوتی ہے اور چاہے کوئی دیکھ نہ رہا ہو مگر دھمک بتا دیتی ہے کہ ٹرین آرہی ہے اور یہ تو رات کا وقت تھا۔انجن کی تیز لائٹ ہوتی ہے جس سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ ٹرین آ رہی ہے عینی شاہد ین بتاتے ہیں کہ ٹرین اچانک آگئی اچانک کیسے آ گئی عینی شاہد ین تو دیکھ رہے ہوں گے ۔

انہوں نے شور کیوں نہیں مچایا کہ ہٹ جاؤ ٹرین آرہی ہے ۔
یہ نوجوان 17سے25سال کی عمر کے تھے ۔والدین پر قیامت گزر گئی۔یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ‘آئے روزایسے واقعات ہورہے ہیں ۔بیشتر واقعات میں وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے کانوں میں ہینڈ فون لگائے گانے وغیرہ سن رہے تھے یا بہرہ پن میں مبتلا تھے ۔یہ بات کسی حد تک قرین قیاس ہے ۔اس حوالے سے بچوں ‘نوجوانوں کی آگاہی کے لئے ٹی وی پر ہنگامی مہم چلانے کی ضرورت ہے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو پریشانیوں اور نا گہانی صورت حال سے محفوظ فرمائے۔ (آمین)

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

naye Pakistan ka housing mansoobah is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 03 December 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.