تعلیمی اداروں کو سکیورٹی کی فراہمی

حکومت کی آئینی ذمہ داری۔۔۔ پنجاب کی سرکاری درسگاہوں کے حفاظتی اقدامات موثر نہ ہونے کے باوجود انتظامیہ نے نجی تعلیمی اداروں کو ٹارگٹ کرنا شروع کردیا ہے، پنجاب کے 59فیصد سرکاری تعلیمی اداروں کی سکیورٹی انتہائی ناقص ہے

جمعرات فروری

Taleemi Idaroon Ki Security
ادیب جاودانی:
دو روز پیشتر گجرات میں گجرات کے ڈی سی او لیاقت علی چٹھہ اور گجرات کے ڈی پی او رائے ضمیر الحق کی صدارت میں تعلیمی اداروں کی سکیورٹی انتظامات کو فول پروف بنانے کے سلسلے میں ایک اجلاس گجرات میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈی او کالجز، ای ڈی او ایجوکیشن کاشف طاہر، ڈسٹرکٹ سکیورٹی آفیسر اور متعدد ایجنسیز کے سربراہان کے علاوہ آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن گجرات کے صدر محمد ناظم کھوکھر اور گجرات کے اہم تعلیمی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی ۔

اجلاس میں تمام تعلیمی اداروں کو سکیورٹی انتظامات کو فول پروف بنانے کیلئے تمام تعلیمی اداروں کے سربراہان کو ہدایت کی گئی کہ آپکے تعلیمی ادارے میں اگر کسی سکیورٹی گارڈ نے پولیس سے ٹریننگ حاصل نہ کی ہے تو اسکے بارے میں فوری طور پر مطلع کیا جائے اور اسے ٹریننگ کیلئے بھجوایا جائے ۔

(جاری ہے)

اجلاس میں ا فسران بالا نے بتایا کہ خادم اعلیٰ پنجاب نے حکم جاری کیا ہے کہ پرائیویٹ سکولوں کے مالکان سے سکیورٹی انتظامات پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے۔

پنجاب بھر کے اعلیٰ افسران آئے روز اس نوعیت کے اجلاس منعقد کر رہے ہیں لیکن وہ تعلیمی اداروں کے ناقص سکیورٹی انتظامات کو بہتر نہیں بنا سکے۔
پنجاب کی سرکاری درسگاہوں کے حفاظتی اقدامات موثر نہ ہونے کے باوجود انتظامیہ نے نجی تعلیمی اداروں کو ٹارگٹ کرنا شروع کردیا ہے، پنجاب کے 59فیصد سرکاری تعلیمی اداروں کی سکیورٹی انتہائی ناقص ہے۔

انتہائی حساس قرار دیئے جانیوالے سرکاری سکولوں میں بھی سرکار اپنے ہی ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کرواسکی۔ پنجاب کے سرکاری تعلیمی اداروں کی سکیورٹی پر تین ارب 21کروڑ روپے لگائے جانے اور تمام تر اعلیٰ حکومت عہدیداروں کے احکامات کے باوجود 58.91فیصد تعلیمی اداروں کی سکیورٹی انتہائی ناقص ہے۔ 4607 انتہائی حساس اور حساس کیٹگری میں آنیوالے سرکاری سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی بانڈری وال ہی موجود نہیں جبکہ خاردار تاریں اور واک تھرو گیٹس 90 فیصد سرکاری تعلیمی اداروں میں موجود ہی نہیں۔

درسگاہوں میں سی سی ٹی وی کیمرے انتہائی ناقص کوالٹی کے لگائے گئے جن میں سے 65فیصد سے زائد کیمروں کے رزلٹ خراب ہوچکے ہیں ۔ بعض تعلیمی اداروں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگائے ہی نہیں گئے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کے معاملات مالی اور چوکیداروں کے سپرد کر دیئے گئے۔گجرات کے اجلاس کے بعد راقم کی گجرات کے ڈی پی او رائے ضمیر الحق سے بھی ملاقات ہوئی۔

راقم نے انہیں بتایا کہ ضلع گجرات اور پنجاب کے اکثر پرائیویٹ سکولوں نے سکیورٹی کے انتظامات مکمل کر لئے ہیں۔ لیکن دہشت گرد بہت تربیت یافتہ ہوتے ہیں ان کا مقابلہ پرائیویٹ سکولوں کے سکیورٹی گارڈ نہیں کرسکتے۔ حکومت کو تمام پرائیویٹ سکولوں کو سکیورٹی فراہم کرنی چاہیئے۔ راقم نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو تحفظ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

گجرات کے ڈی پی او رائے ضمیر الحق نے راقم کو بتایا کہ ضلع گجرات کی پولیس سکولوں کی انتظامیہ کے ساتھ مل کرعلاقوں میں سکولوں کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے تمام تر اقدامات کر رہی ہے۔ سکولوں کو سکیورٹی پلان فراہم کیا گیا ہے اور محکمہ تعلیم کیساتھ مل کر اس پر عمل درآمد کروایا جا رہا ہے۔ امن و امان کے قیام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔

3مارچ سے پنجاب میں میٹرک کے امتحانات شروع ہو رہے ہیں ناقص سکیورٹی خدشات کی وجہ سے پنجاب ثانوی تعلیمی بورڈز کے 9 چیئرمین بہت پریشان ہیں۔ پی بی سی اور لاہور بورڈ کے چیئرمین نصراللہ ورک لاہور بورڈ کے سیکرٹری فقیر محمد کیفی نے راقم کو بتایا کہ حالیہ میٹرک کے امتحانات میں پنجاب بھر کے 21لاکھ 78ہزار طلباء و طالبات امتحان دینگے انکے امتحانات کیلئے 3645امتحانی مراکز بنائے گئے ہیں۔

پنجاب حکومت کو امتحانی مراکز کے باہر مورچے لگانے چاہیئے اور امتحانی مراکز کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنی چاہیئے ۔ فیصل آباد بورڈ کے چیئرمین پروفیسر غلام محمد جھگڑ اور گوجرانوالہ بورڈ کے چیئرمین پروفیسر محمد اسلم سیکھو نے بھی امتحانی مراکز کے ارد گرد پولیس تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ ناقص سکیورٹی کی وجہ سے دہشت گرد دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی کرسکتے ہیں۔

پنجاب حکومت کو امتحانی مراکز کے ارد گرد پولیس کی پٹرولنگ بھی کروانی چاہیئے۔ پنجاب حکومت نے سکیورٹی کی تمام ذمہ داری پرائیویٹ سکولوں پر ڈال کر رشوت کا ایک بازار گرم کردیا ہے چھوٹے سکولز جو حکومت کے مطابق سکیورٹی کے انتظامات نہیں کرسکتے پولیس نے انہیں ڈرا دھمکا کر آئے روز رشوت لینا شروع کردیا ہے۔ تعلیم تو پہلے ہی حکمرانوں کی طرف سے نظر انداز شدہ شعبہ ہے جبکہ اب اسے مزید تختہ مشق بنایا جا رہا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے میونخ میں منعقدہ ایک سکیورٹی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری سکولوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے پرائیویٹ سکولوں کو اپنی سکیورٹی کا خود بندوبست کرنا پڑے گا۔ پرائیویٹ سکولز کاروبار کر رہے ہیں، سکولوں کی حفاظت کرنا ان کا فرض بنتا ہے۔ خواجہ آصف کے اس بیان سے پاکستان کے پرائیویٹ سکولوں کے مالکان کو بہت دکھ ہوا ایک طرف تو حکومت پرائیویٹ سکولوں سے 23 قسم کے ٹیکسز بھی لے رہی ہے لیکن اسے سکیورٹی فراہم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔

73ء کے آئین کے مطابق پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے خلاف اور ان کے تعلیمی ادروں میں زیر تعلیم بچوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے لیکن وہ یہ ذمہ داری نبھاتی تو نظر نہیں آتی اسی بنا پر راقم نے آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر کی حیثیت سے لاہور ہائی کورٹ میں پرائیویٹ سکولوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کیلئے پنجاب حکومت کے خلاف ایک رٹ دائر کردی ہے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Taleemi Idaroon Ki Security is a national article, and listed in the articles section of the site. It was published on 18 February 2016 and is famous in national category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.