مغربی بنگال الیکشن:مسلمانوں سے کھیلتی سیاسی پارٹیاں

آسام کی طرح ہندو توا کی سیاست کے سہارے بی جے پی بنگال میں کامیاب ہونا چاہتی ہے

منگل مارچ

west bengal election
رابعہ عظمت
بنگال میں اس وقت انتخاب زوروں پر ہے اور بی جے پی نے بنگال کو فتح کرنے کیلئے ہر ہتھکنڈہ آزمانا شروع کر دیا ہے۔وہیں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بھی بی جے پی کو سخت ٹکر دینے کیلئے میدان میں ہیں۔پہلی بار وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی الیکشن کے موقع پر ریاست میں 600 ریلیوں سے خطاب کریں گی جبکہ وزیر داخلہ امت شاہ بھی بنگال میں ہیں۔

در حقیقت مغربی بنگال بھارت کی وہ واحد ریاست ہے جہاں بی جے پی کی دال اب تک نہیں گلی بلکہ مودی نواز متعصب میڈیا کے مطابق ممتا آخری اور واحد عورت ہے جو بی جے پی کے خلاف کھڑی ہے۔یوپی کے جاٹوں نے تو اعلانیہ کہہ دیا ہے کہ ہم نے بی جے پی کو ووٹ کیا مگر اس نے دھوکہ دیا،اس کی وجہ سے بی جے پی کی سیاسی زمین میں دراڑ پڑ گئی ہے،لیکن عین موقع پر وہ اپنا کامیاب اور استحصالی”ہندو مسلم کارڈ“ کھیلے گی اور کامیاب ہو جائے گی۔

(جاری ہے)

اب سوال یہ ہے کہ مسلمان کیا کریں؟ کہاں جائیں؟۔کیا آسام کی طرح ہندو توا کی سیاست کے سہارے بی جے پی بنگال میں کامیاب ہونا چاہتی ہے؟۔ممتا بنرجی نے انتخابی مہم کے دوران کہا کہ”اس مرتبہ لڑائی بنگال کی تمام سیٹوں پر مودی بمقابلہ ممتا ہے۔“
کورونا کے انجکشن سرٹیفکیٹ پر تصویر کے حوالے سے وزیراعظم مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ممتا نے طنزیہ کہا کہ”وہ دن دور نہیں جب ملک کا نام بھی بدل کر مودی پر رکھ دیا جائے گا۔

“انہوں نے دعویٰ کیا تمام سیٹوں پر ترنمول کانگریس کے امیدواروں کو سبقت ملے گی۔بی جے پی مغربی بنگال پر قبضہ کرنے کیلئے پچھلے چار،پانچ سالوں سے جس طرح منصوبہ بندی کر رہی ہے۔اس کی ایک اہم وجہ کانگریس اور بائیں محاذ کے یہاں کمزور پڑ جانے کی وجہ سے سیاسی خلا بھی ہے اور بی جے پی اسی کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔مسلمانوں کو اب یہ تسلیم کرکے ووٹ دینا ہو گا کہ نئی پارٹی کی ایم آئی ایم کی تشکیل سے بی جے پی کو پولرائزیشن کرنے میں مدد ملے گی۔

مذکورہ پارٹی کو ووٹ دینے کا مطلب فرقہ پرستی کو ختم کرنا نہیں بلکہ بی جے پی کی فرقہ پرستی اور فسطائیت کو تقویت پہنچانا ہو گا۔جہاں تک سیاسی اتحاد اور ترنمول کا معاملہ ہے تو یہ کہنا صحیح ہو گا کہ مقابلہ دراصل بی جے پی اور مودی کی جارحیت اور فرقہ پرستی سے ہے۔بی جے پی کا مذموم منصوبہ یہی ہے کہ مسلمانوں کی کوئی ایسی پارٹی ضرور میدان انتخاب میں آئے تاکہ مسلم ووٹوں کی تقسیم ہو اور مغربی بنگال میں بی جے پی اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔


اب فسطائیوں کے نشانے پر مغربی بنگال ہے۔مغربی بنگال اس طوفان اور سیلاب کا مقابلہ کیلئے ترنمول کانگریس،بایاں محاذ اور کانگریس اتحاد میدان میں ہے۔2014ء کے عام انتخابات،اسمبلی انتخابات اور ضمنی انتخاب میں بی جے پی کے ووٹ فیصد میں اضافے نے بھگوا رہنماؤں کا حوصلہ بڑھایا ہے۔2014ء میں ہوئے عام انتخابات میں بی جے پی کو 16.8 فیصد ووٹ ملے تھے،جو پچھلے انتخابات کے مقابلے میں 10.66 فیصد زیادہ تھے۔

حالانکہ، اس انتخاب میں بی جے پی محض دو سیٹ ہی جیت پائی۔بی جے پی کی انتخابی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ تھا،جب مغربی بنگال میں بی جے پی کو اتنا زیادہ ووٹ ملا تھا۔اس سے پہلے 1991ء میں رام جنم بھومی کو ہوا دینے کے باوجود بی جے پی کو بنگال میں محض 12 فیصد ووٹ ملے تھے۔ 2016ء میں ہوئے اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کو 10.2 فیصد ووٹ ملے،جو گزشتہ انتخاب کے مقابلے میں 5.6 فیصد زیادہ تھے۔

پارٹی نے تین سیٹوں پر قبضہ کیا۔
بھارتی تجزیہ نگار ڈاکٹر چکرورتی کہتے ہیں،مغربی بنگال میں کوئی بھی سیاسی پارٹی اقلیتوں(مسلمانوں) کو درکنار کرکے اپنے پیر نہیں جما سکتی ہے۔’مغربی بنگال میں مسلمانوں کی آبادی 27 فیصد ہے،جو کسی بھی پارٹی کے لئے بہت اہم ہے۔تمام بنگالی سی پی آئی(ایم) نہیں ہیں، لیکن ان کا جھکاؤ کمیونسٹ نظریہ کی طرف ہے۔

اس لئے تقسیم کرنے کی سیاست یہاں پھول پھل نہیں سکتی۔“
تاہم 2016ء کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے امیدواروں کی فہرست سے پتا چلتا ہے کہ پارٹی نے کچھ سیٹوں پر مسلم امیدوار اتارے تھے۔2014ء کے لوک سبھا انتخاب میں پارٹی نے 2 اور 2016ء کے اسمبلی انتخابات میں 6 مسلم رہنماؤں کو ٹکٹ دیا تھا۔ گزشتہ سال ہوئے بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی کے جتنے امیدوار میدان میں آئے،ان میں 14 فیصد سے زیادہ امیدوار مسلم تھے۔

بنگال کا سیاسی مستقبل پچھلے لوک سبھا انتخابات اور اس کے بعد کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کے ووٹ بینک میں اضافے کا بنگال کی سیاست پر جو ایک بڑا اثر پڑا،وہ یہ ہے کہ یہاں مذہبی صف بندی تیز ہو گئی ہے۔بی جے پی نے ہندو ووٹروں خاص کر ہندی بھاشی ہندو ووٹروں کو لبھانے کیلئے بڑے پیمانے پر رام نومی کی یاترا نکالنی شروع کی،تو آر ایس ایس،وشو و ہندو پریشد،ہندو سنہت جیسی تنظیموں کی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئیں۔

اس سے بی جے پی کو فائدہ ہوا اور وہ غیر بنگالی ہندوؤں میں مضبوط ہونے لگی۔
ترنمول کانگریس نے اس سے مقابلہ کرنے کیلئے ’سافٹ ہندو توا‘ کا سہارا لیا تو دوسری جانب ترنمول سپریمو ممتا بنرجی کے اشارے پر ترنمول کانگریس رہنماؤں نے بھی رام نومی کے جلوس نکالے۔ترنمول کانگریس نے 10 سوریہ مندر بنانے کا اعلان کیا۔مذہبی سرگرمیوں کے ذریعے ووٹروں کو لبھانے کیلئے بی جے پی اور ترنمول کے یہ ہتھکنڈے ختم ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں،بلکہ آنے والے وقت میں اس میں اضافے کے آثار نظر آرہے ہیں۔

بنگال کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے صحافی شبھم گھوش کہتے ہیں،’شمالی ہندوستان کی طرح بنگال میں بھی مسلم آبادی زیادہ ہے،اس لئے آنے والے وقت میں یہاں فرقہ وارانہ پولرائزیشن تیزی سے ہو گا۔ترنمول کانگریس بھی اکثریتی خوشامدانہ پالیسی کا کھیل کھیلے گی کیونکہ اس کے پاس اپنا کوئی نظریہ نہیں ہے۔‘بی جے پی آسام کی طرح بنگال میں بھی این آر سی جیسے قدم بھی اٹھا سکتی ہے اور مسلمانوں کی بقا خطرے میں پڑ جائے گی۔

کچھ بھی ہو بنگال 2021ء کے انتخابات بہت اہم ہیں کیونکہ یہ نہ صرف پارلیمنٹ میں اہم نمائندگی کی لڑائی ہے بلکہ بنگال کے سیکولرازم کو بچانے کی بھی جنگ ہے۔بنگال ہمیشہ ہی مارکسسٹ نظریہ کی طرف مائل ہونے کیلئے جانا جاتا ہے۔1977ء میں کانگریس کی حکمرانی کے خاتمے کے بعد،کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی سربراہی میں،بائیں بازو محاذ نے بنگال پر 34 سال تک حکومت کی۔

مغربی بنگال کی ستائیس فیصد مسلم آبادی کانگریس لیفٹ اور ترنمول کانگریس کو ووٹ دیتی آئی ہے۔بایاں بازو محاذ کے 34 سالہ طویل دور اقتدار کا ایک اہم ستون یہی مسلم آبادی اور اسی طرح ممتا کے دس سالہ دور حکومت بھی مسلمانوں کا ہی مرہون منت ہے۔آبادی کے تناسب سے بنگال اسمبلی کی کل 294 سیٹوں میں مسلمانوں کی 79 سیٹیں بنتی ہیں لیکن ایسا کبھی نہیں ہو پایا پچھلے دو انتخابات میں مسلم نمائندگی 59 سیٹیں ہی رہیں جو کہ کل سیٹوں کا بیس فیصد ہے۔


تجزیہ کاروں کے مطابق ان سیاسی پارٹیوں کے تنظیمی ڈھانچے میں مسلمانوں کا فیصد انتہائی کم ہے یعنی جو کوئی مسلمان الیکشن جیتتا ہے وہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح پارٹی کے نہیں بلکہ اپنے بل پر جیتتا ہے یعنی مسلمان متحد طور پر الیکشن لڑیں اور متحد طور پر ووٹنگ کریں تو جیت کو بڑھایا جا سکتا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق بنگال میں کم از کم ایک سو پچیس سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلمان فیصلہ کن حیثیت کے حامل ہیں۔

افسوس یہاں کے مسلمان سیاست کے نام پر خیموں میں بٹے ہیں اور مزید تقسیم ہو سکتے ہیں۔مسلمانوں کیلئے ضروری ہے کہ نہ صرف اپنی نمائندگی بڑھانے کی فکر کریں بلکہ مخالفین کو روکنے کیلئے بھی بہترین تدبیر کریں،دیکھنے میں آرہا ہے کہ جہاں بھی بی جے پی کا گراف بڑھا ہے مسلم نمائندگی کم ہوئی ہے مسلمانوں کی سیاسی وقعت کم ہوئی ہے لہٰذا اپنی سیاسی وقعت بڑھانے کے لئے بی جے پی کو روکنا بھی ضروری ہے۔

مسلمان بی جے پی کو شاذو نادر ہی ووٹنگ کرتے ہیں اور بی جے پی بھی مسلم ووٹوں کی پروا نہیں کرتی وہ تو صرف ہندوؤں کو مسلمانوں سے ڈرا کر اپنی طرف کھینچتی اور مخالفین پر مسلم منھ بھرائی کا الزام لگا کر ان سے بدظن کرتی ہے،بنگال کے لئے بھی بی جے پی کا جو پلان میڈیا میں آیا ہے اس میں کسان ادیو اسی مزدورو اور پچھڑے طبقوں کا ذکر تو ان سے تعلقات استوار کرنے کی بات کی گئی ہے لیکن مسلمانوں کا کوئی ذکر نہیں۔


اس کے لئے ضروری ہے کہ مسلمان ایسی سیاسی چال چلیں کہ ہندو بی جے پی کی طرف راغب نہ ہوں پچھلے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی نمایاں کامیابی اس بات کی غماز ہے کہ اس نے بنگلہ دیش بارڈر سے مسلمانوں کی در اندازی،گایوں کی اسمگلنگ،شہریت ترمیمی قانون اور آسام کی طرح یہاں بھی این آر سی کے نفاذ کے نام اور ممتا بنرجی پر مسلمانوں کی دوستی کا الزام لگا کر جو جال بچھایا تھا بنگال کے ہندوؤں کی بڑی اکثریت اس میں پھنس چکی ہے ایسے میں ضروری ہے کہ ایسی سیاست کریں کہ بی جے پی کی طرف ہندو پولرائزیشن اور ریورس پولرائزیشن ہی نہ ہو بلکہ اس کے ذریعہ پھیلائے گئے جال میں جو لوگ پھنس چکے ہیں وہ بھی باہر نکلیں۔

اگر مسلم کمیونٹی یہ کام نہیں کر سکتی،صرف مسلم اکثریت والی سیٹوں کو اپنے نام کرنے کے چکر میں مسلم ووٹوں کی مزید تقسیم کو اور ریورس پولرائزیشن کی صورت بی جے پی کو ہونے والے سیاسی فائدے کو خاطر میں نہیں لاتی تو یہ مسلم سیاست کی فتح نہیں بلکہ شکست فاش ہو گی۔اس لئے تو مغربی بنگال کے مسلمانوں کو ان کے حال پر ان کی سیاسی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

west bengal election is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 23 March 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.