مغرب کا معاشی نظام منہدم ہو رہا ہے؟

جمعہ مئی

Aslam Awan

اسلم اعوان

 لاک ڈاون کے خاتمہ کے بعد دنیا کے نظام ہائے زندگی کی صورت بدل جائے گی؟کیا بیسویں صدی کے معاشی علوم بیکار ہو چکے ہیں؟ کیا سرمایادارنہ نظام اپنی طبی موت مر رہا ہے؟ان سوالات کے مفصل جوابات تو ہمیں لاک ڈاون کھلنے کے بعد ملیں گے لیکن اتنا تو دیکھائی دے رہا کہ یوروپ کی مستحکم معیشتیں اب سکڑ رہی ہیں،جس کے نتیجہ میں مغربی تہذیب کی چکا چوند ماند اور ریاستوں کی ساخت بدل جائے گی، معاشی کساد بازاری کی وجہ سے اگر ہائی ٹیک جیسی انتہائی قیمتی وارمشینری متروک اور مہنگے ترین فوجی ڈھانچے،جو کرہ ارض کے ستر فیصد وسائل نگل جاتے ہیں،تحلیل ہوگئے تو قوموں کے مابین دوستی و دشمنی کی اقدار اور جنگ و امن کی سائنس بھی تبدیل ہو جائے گی۔


اس میں اب کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہا کہ اس کورونا لاک ڈاون کے بعد ابھرنے والے عہد نو میں دنیا کا معاشی نظام مختلف شکل اختیار کرلے گا اورمصنوعی طریقوں سے پھیلی ہوئی معیشتیں اپنی حقیقی اساس کی طرف سمٹ آئیں گی۔

(جاری ہے)

سودی قرضوں کے اجراء اور غریب مملکتوں کو مالی امداد فراہم کرنے کی روایت ختم ہوئی تو دنیا کی کمزور مملکتوں کو مالی معاونت کے سہارا وینٹی لیٹر پہ زندہ رکھنا کا رواج بھی ختم ہو جائے گا۔

یو این کے اداروں کو سب سے زیادہ مالی معاونت دینے والے ملک،امریکہ ،نے ڈبلیو ایچ او کی،کورونا وائرس بارے قبل از وقت اقدامات میں،ناکامی کو جواز بنا کے مالی امداد روک کے اسی سمت چلنے کا اشارہ دے دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے تحت عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے غریب ممالک کو مختلف شعبوں میں ملنے والی مالی معاونت کا سسٹم سکڑ گیا تو اس مالیاتی نظام کو مینیج کرنے والابنکنگ سسٹم بھی کوئی دوسری صورت اختیار کر لے گا۔

گویا اب ہر قوم کو اپنی ذہنی استعداد،افرادی قوت اور دستیاب وسائل کے اندر جینے کا ہنر سیکھنا پڑے گا۔بظاہر یہی لگتا ہے کہ نئے عالمی نظام کے تحت اجتماعی حیات کے تین شعبوں میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔
پہلا یہ کہ جنگ عظیم دوم کے بعد دنیا کو کنٹرول کرنے کے لئے جس عالمی مالیاتی نظام کو مرتب کیا گیا تھا وہ اب اپنی طبی عمر پوری کر کے متروکہ ہونے جا رہا ہے،جس کا قدرتی اختتام دنیا بھر کی اقوام کو اپنی معیشت کے لئے کسی نئی مالیاتی اساس تلاش کرنے پر مجبور کر دے گا،اسی تگ و دو کے دوران سرمایا دارانہ نظام سے وابستہ پوری دنیا کی معیشتیں جزیات تک متاثر ہوں گی،الجزیرہ ٹی وی کے مطابق جرمنی کے محکمہ وفاقی شماریات نے کہا ہے کہ مشرقی اور مغربی جرمنی کی دوبارہ اتحاد اور دس سال قبل کے مالیاتی بحران کے بعد لاک ڈاون کی وجہ سے جرمنی کی معیشت شدیدترین مشکلات کا شکار ہوئی،خاصکر سیاحت،میکدے اور ریسٹورنٹ کے شعبہ جات بُری طرح متاثر ہوئے جس سے مملکت کی پوری اقتصادایات کساد بازاری کے دہانے پہ آ کھڑی ہوئی۔

جرمنی کی طرح دیگر یوروپی ممالک بھی معاشی بحران کی لپیٹ میں ہیں۔عالمی مالیاتی اداروں کی مالی معاونت اور قرضوں سے چلنے والی چھوٹی معیشتوں کو اپنی اصلی اقتصادی بنیادوں پہ کھڑا ہونے کیلئے ہر صورت خود انحصاری کی راہ اپنانا پڑے گی تاہم اسی اثناء میں تغیرات زمانہ کی مہیب لہریں کئی کمزور مملکتوں کو صفحہ ہستی سے مٹا بھی سکتی ہیں۔

جس ملک کے جو حقیقی وسائل ہیں انہی کے مطابق نظام حکومت،انتظامی ڈھانچہ کی ترتیب اور دفاعی نظام تشکیل دینا ہوں گے،امریکہ اور سعودی عرب سمیت دنیا کی بڑی معیشتیں اب کسی غریب مملکت کی دفاعی ضروریات کا بوجھ اٹھانے کی روادار نہیں ہوں گی۔اس کایا کلپ سے قبل ہی امریکہ اور یوروپ کے علاوہ مشرق کی مملکتوں میں بھی مہنگے ریاستی سسٹم کو ترک کرکے سافٹ وئیر پہ مبنی نیا اور سستا انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔

عالمی تجارت اپنے علاقائی دائروں میں سمٹ آئے گا،دور دراز کے ممالک کی بجائے سب کو اپنے پڑوسی ملکوں سے تجارتی رشتے استوار کرنا ہوں گے،جس سے ہر ملک کی تزویری حکمت عملی بھی از خود بدل جائے گی۔اس وقت چین کے سوا تین پڑوسی ممالک سے ہمارے اقتصادی تعلقات نہ ہونے کے برابرہیں لیکن اب علاقائی تنازعات کی بساط لپیٹ کے ہمیں بھارت،ایران،افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے نئے سرے سے تجارتی تعلقات بحال کرنا ہوں گے۔

پہلے ہم مالی امداد دینے والے یوروپی و امریکی ملکوں سے ٹیکنالوجی اور بعض اشیاء ضروریہ منگوانے کے پابند تھے لیکن اب حالات کا جبر ہمیں پڑوسی ملکوں سے لین دین پہ مجبور کرے گا۔
 دوسرا جدید دفاعی سسٹم اور مہنگا ترین ہائی ٹیک نظام ہائے جنگ کی جگہ جزیاتی سطح پر ہدف کو نشانہ بنانے والا Close combat war پہ مبنی کم خرچ دفاعی سسٹم رواج پائے گا،جس سے ایک بار پھر کم و بیش روایتی جنگووں سے ملتا جلتا دور پلٹ آئے گا۔

اس وقت کہنے کو تو دنیا کی تمام مملکتوں کی جنگی تیاریاں دفاعی ضروریات کے دائرہ میں آتی ہیں مگر اصلاً اسی کے اندر جارحیت پسندانہ عزائم چھپے ہوتے ہیں تاہم مستقبل میں افغانستان، عراق،شام اور مڈل ایسٹ کی جنگووں کی مانند ملکوں کے مابین لڑائیوں میں بی باون اور ایف سکسٹین یا قیمتی لیزر گائیڈڈ مزائل کا استعمال محدود ہو جائے گاکیونکہ ان پہ کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے علاوہ ناقابل یقین اجتماعی تباہی کو بھی جھیلنا پڑتا ہے،اکثر یہ ہتھیار اپنے ہدف کی بجائے اردگرد کا نقصان زیادہ کرتے ہیں لیکن اس ہائی ٹیک اسلحہ سے قوموں کی تسخیر کے مقاصد بھی پورے نہیں ہوتے۔

جدید ترین مہنگی جنگی مشین کے استعمال سے عراق اور افغانستان کو اگرچہ فتح کرلیا گیا لیکن وہاں جنگ کی آگ بجھائی نہیں جا سکی،آخر کار امریکی فورسیز کو وہاں جزیات میں جا کے مزاحمت کاروں کے خلاف دوبدو جنگ لڑنا پڑی۔چونکہ اب کوئی ملک دوسرے ملک کو فتح کر کے اسے مستقل قبضہ میں رکھنے کا متحمل نہیں رہا اس لئے مہنگے ترین دفاعی ڈھانچہ کی تشکیل اور انتہائی قیمتی جنگی مشین پہ کھربوں ڈالر خرچ کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

شدیدترین معاشی بحرانوں کی وجہ سے اب شاید قیمتی اسلحہ کی خرید و فروخت کی تجارت ویسے بھی محدود ہوجائے گی،جو بلآخر دنیا کے جنگی کلچر کی تبدیلی کا سبب بنے۔
ماضی گواہ ہے،ہمیشہ ہر علاقائی تنازعہ اور ہر مزاحمتی جنگ کے پیچھے استعماری طاقتوں کاسرمایا کارفرما رہا،اب چونکہ دنیا کی طاقتور معشتیں اپنی اتحادی مملکتوں کو جنگی ضروریات کیلئے سرمایا فراہم کرنے کے قابل نہیں رہیں توجنگی جنون کو بھی کچھ سکون مل جائے گا۔

جس سے تیسری دنیا کی پاور پالیٹکس کی حرکیات اور دفاعی نظام کی ہیت بدل جائے گی۔ ایک بار پھر دنیا ایسی کنونشنل وار کی طرف بڑھ جائے گی جسمیں کم خرچہ پہ پروآن چڑھنے والی رضاکار تنظیموں کی آبیاری اہم ہو گی،جسے کسی بھی عالمی طاقت کیلئے مہیب جنگی مشین کے ذریعے مسخرکرنا آسان نہیں ہوتا بلکہ مغربی طاقتوں کو بھی اپنے فوجی جوانوں میں دوبدو لڑنے کی مہارت پیدا کرنا پڑے گی تاکہ گوریلہ وار لڑنے والے ان عسکری گروپوں کا مقابلہ کر سکیں جو پہاڑوں کی غاروں اور گنجان آباد علاقوں کی پیچیدہ عمارتوں میں چھپ کے لڑنے کی مہارت رکھتے ہیں،یعنی ایک بار پھر ہمیں ماہر جنگجووں اور بہادرسورماوں کی ضرورت پڑے گی،اس قسم کی جنگووں میں ملکوں کی افرادی قوت بہت اہم کردار ادا کریگی،زیادہ آبادی والے ممالک طاقت کی علامت بن سکتے ہیں۔

 تیسرے،جس طرح اقتصادیات کے تقاضے دفاعی پالیسیوں پہ اثر انداز ہو کے انہیں نئی صورت فراہم کرنے کا سبب بنیں گے اسی طرح نئی دفاعی پالیسیز بھی پاور پالیٹکس کے تقاضوں میں حیران کن تبدیلیوں کا سبب بن سکتی ہے،نئے عہد میں جمہوریت ہماری سماجی و سیاسی آزادیوں کو ریگولیٹ کرنے کے لئے ناکافی ثابت ہو گی۔ 
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Maghrib Ka Muashi Nizam Munhadim Ho Raha Hai? Column By Aslam Awan, the column was published on 22 May 2020. Aslam Awan has written 8 columns on Urdu Point. Read all columns written by Aslam Awan on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.