حسب معمول !!!

پیر اکتوبر

Ayesha Noor

عائشہ نور

 ریاستی اداروں کوہرطرح سے گھیرنے کیلیے بھرپور الزام تراشی اور دھمکی آمیز بلیک میلنگ ہورہی ہے۔ جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل اس کی ایک تازہ ترین مثال ہے۔ 19 اکتوبر کووفاقی وزیرمملکت برائے انسداد منشیات شہریارآفریدی نے میڈیا سے ایک نشست کی , جسے سن کر یہ خیال ضرور ذہن میں آیا کہ یہ واقعی کسی بااختیار حکومتی وزیرکا اندازگفتگوتھایا کسی لاچار حزب اختلاف کے راہنما کا؟؟؟
 آپ میڈیا کے سامنے بہت سی باتیں لائے, مگراس سے تاثرکیاملا؟؟؟ ظاہرہے کہ حکومت کی رٹ, قانون کی حاکمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کی کارگردگی پر بہت سے سوالات اٹھے ہیں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اے این ایف کے اہلکاروں کو سیکیورٹی فراہم کرنے سے قاصرہے؟؟؟ کیا پولیس اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہے جو گواہوں کی جان کو خطرہ ہے اورگواہوں کے تحفظ کیلیے اقدامات کرنے کیلیے ایک وزیر کو میڈیا کے ذریعے آئی جی پنجاب پولیس سے اقدامات کی درخواست کرنی پڑرہی ہے؟؟؟؟ کیا ڈرگ ڈیلرزمافیا اتنا طاقتور ہے کہ جج صاحبان بلیک میلنگ کا اس قدر شکار ہیں کہ مقدمے کی سماعت میں پس و پیش کرنی پڑرہی ہے؟؟؟ گویا جج صاحبان دباؤکا شکارہیں۔

(جاری ہے)

کیا ڈرگ ڈیلرزمافیا اس حد تک طاقتورہے کہ ایک وزیر کو مقدمہ لاہور سے راولپنڈی منتقل کرنے یا جیل کے اندرسماعت کیلیے مقرر کرنے کیلیے لاہور ہائیکورٹ سے بذریعہ میڈیا استدعا کرنی پڑرہی ہے؟؟؟ اور اتنے ہائی پروفائل کیس میں ایک وزیرکو روزانہ کی بنیادپرمقدمے کی سماعت اور ثبوت پیش کرنے کا موقع مانگنے کیلیے میڈیا کا سہارا لیناپڑرہا ہے حالانکہ یہ مطالبہ کرنے کی نوبت ہی نہیں آنی چائیے تھی بلکہ مقدمے کی سماعت کرنے والے جج صاحبان کو ازخود یہ اقدامات کرلینے چاہئیے تھے۔

 گویا ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں کہ جہاں مافیاز سرعام حکومتی رٹ چیلنج کررہے ہیں۔ قانون نافذکرنے والے اداروں کے اہلکارخود محفوظ نہیں اورنہ ہی وہ اتنے ہائی پروفائل کیس کے گواہان کو تحفظ دے پارہے ہیں اورنہ ہی عدالتیں ان کے خلاف مقدمات سننے اور فیصلے دینے کی پوزیشن میں ہیں۔ یہ منظرنامہ تو ملک میں جنگل کے قانون کی سی صورتحال پیش کرتا ہے۔

توپھرخود سوچ لیجیئے کہ ایک عام آدمی کی عزت و آبرو اورجان و مال کا تحفظ کون کرے گا؟؟؟ ہمیں سوچنا ہوگا کہ آخرہم بحثیت ریاست پاکستان کہاں کھڑے ہیں؟؟؟ کیا ریاست جرائم پیشہ عناصرکی سرکوبی کی ذمہ دار نہیں ہے؟؟؟ یقیناََ ہے توپھرمافیازکوکیسے اتنی جرات ہوتی ہے کہ وہ ریاست کو سرعام چیلنج کرتے ہیں۔ آخرہمارے قانون نافذکرنے والے ادارے کمزورپرہی اپنی طاقت کیوں آزماتے ہیں؟؟؟
 طاقتورکے سامنے توسب کی زبان کیوں بند ہوجاتی ہے۔

ابھی مظلوم صلاح الدین کا واقعہ زیادہ پرانا نہیں ہوا۔ آخرمیرے دیس میں قانون غریب اور بے بس کے خلاف ہی کیوں حرکت میں آتا ہے؟؟؟ جبکہ نواز شریف جیسے امراء اورطاقتورتو من مرضی کی مراعات لے رہے ہیں۔ موصوف کیلیے گھر کے بنے خوش ذائقہ پکوان باقاعدگی سے جیل جاتے ہیں۔ پورا موسم گرما آپ موصوف کا اے سی, ٹی وی اورفریج چھیننے کی جرات نہیں کرسکے تودوسری جانب ان کی دختر نیک اخترمریم نوازکو جیل میں بھی بناو سنگھارکی اجازت ہے۔

آصف زرداری کے بھی جیل میں ناکافی سہولیات کے رونے دھونے ختم نہیں ہوتے اور نہ ان کی بہن فریال تالپورکی فرمائشیں ختم ہوپاتی ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ یہ لوگ جیل میں نہیں بلکہ کسی پکنک اسپاٹ پرموجود ہیں۔ مگراگرصلاح الدین جیسا کوئی غریب جان سے بھی چلاجائے تو بس گاوں کی پکی سڑک اور گیس کنکشن کے عوض اس کے غریب باپ سے اس کا خون بآسانی معاف کروا لیاجاتاہے۔

افسوس کہ میرے دیس میں غریب کا خون ہے ہی بہت ستا اور بے وقعت!!! 
جناب وزیراعظم کیا آپ کی آئیڈیل ''ریاست مدینہ '' ایسی ہی تھی؟؟؟ ریاست مدینہ میں تو ریاست کی عملداری اورقانون کی حاکمیت قائم تھی۔ قانون کی نظرمیں امیر،غریب،طاقتور اورکمزور سبھی برابرتھے۔ پھریہ کون لوگ ہیں جوجیلوں میں بیٹھ کر بھی دھمکیاں دیتے ہیں؟؟؟ یہ کون لوگ ہیں جو جیلوں میں بھی وی آئی پی بنے ہوئے ہیں؟؟؟ ان کے مقابلے میں ریاستی اداروں ایف بی آر،نیب اور اے این ایف کی پوزیشن کمزور کیوں ہے؟؟؟ ان اداروں کا میڈیا ٹرائل کیوں ہوتا رہتا ہے؟؟؟ سچ تو یہ ہے کہ ہمارا نظام ناکارہ ہوچکا ہے۔

یہ نظام بدعنوان عناصر اور مافیاز کی مضبوط پناہ گاہ ہے۔ اس نظام کے رہتے ہوئے مخلص ترین لوگ بھی گفتارکے غازی بن کررہ گئے ہیں۔ اوروہ عملی طورپر مسائل سے نمٹنے میں ناکام نظرآتے ہیں۔ جب یہ نظام ڈلیورہی نہیں کرسکتاتوپھراس نظام میں رہتے ہوئے کوئی تبدیلی کیسے آسکتی ہے؟؟؟ 
بلکہ معاملات نسبتاََ مزیدبگڑنے کا قوی امکان موجود ہے۔ اس ناکارہ نظام کے تمام محافظ اس کو بچانے کیلیے ایک پیج پرآچکے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اسی نظام میں ان کے سیاسی مفادات کی بقاء ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج کل اسلام آباد پرجتھوں ذریعیچڑھائی کیلیے بہت سے لوگ درپردہ رہ کر مولانا فضل الرحمن کوبھرپور فنڈنگ کرہے ہیں۔ 
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Hasb E Mamool Column By Ayesha Noor, the column was published on 21 October 2019. Ayesha Noor has written 23 columns on Urdu Point. Read all columns written by Ayesha Noor on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.