ملکی سیاست، احتجاج اور کورونا‎

بدھ دسمبر

Sheikh Jawad Hussain

شیخ جواد حسین

اپوزیشن کے احتجاج نے جہاں پاکستانی سیاست میں ہلچل مچا رکھی ہے وہاں اس احتجاج سے کورونا کی وباء نے بھی دوبارہ سر اُٹھانا شروع کردیا ہے جو ایک طرف تو پوری قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے تو دوسری طرف حکومت کے لئے ایک کھلا چیلنج بھی، کیونکہ ابھی تک کسی بھی احتجاجی جلسے میں حکومتی ایس او پیز پر پوری طرح عمل درآمد نہیں کروایا جا سکا۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ اپوزیشن و حکومت ملکی صورتحال کے مطابق فیصلے کریں۔
اگر ایک لمحے کے لئے یہ مان بھی لیا جائے کہ اپوزیشن کے لئے احتجاج لازم ہی ٹھہرا ہے تو ٹھیک ہے احتجاج کریں کیونکہ احتجاج تو اپوزیشن کا جمہوری و آئینی حق ہے مگر کیا خوب ہو کہ کورونا کی صورتحال کو مدِ نظر رکھ کر احتجاج کا طریقہ کار ہی تبدیل کر دیا جائے اور احتجاج کیلئے نئی روایت کی داغ بیل ڈالی جائے۔

(جاری ہے)

ویسے بھی اس وقت پورا ملک گرداب کی سی کیفیت میں ہے اور اسی زمن میں کورونا کے باعث دوبارہ سے لاک ڈاؤن کی طرف جا رہا ہے، اپوزیشن کو موقعہ کی مناسبت سے ان مسائل کا حل تلاش کرنا ہو گا، ضروری نہیں کہ ہر دور میں سڑکیں بلاک کر کے، جلسے جلوس کرکے اور ایک دوسرے کیساتھ دست و گریباں ہو کرہی احتجاج ریکارڈ کروایا جائے۔میرے خیال میں تو اس وقت احتجاج سیاسی کارکنان کا امتحان لینے کے مترادف ہے۔

بہت سے سادہ لو دیہاتی لوگ انہی جلسے جلسوں کی وجہ سے کورونا کی مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں کیونکہ ان کو احتیاطی تدابیر کی عادت و ادراک نہیں ہے، اوراب جلسوں میں دو میٹر کا فاصلہ رکھنا تو نا ممکنات میں سے ہے اس لئے اگر احتجاج کرنا ہی ہے تو اس کے لئے بہتر طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے سادہ لو عوام پر رحم کیا جائے ۔کم از کم اس مشکل گھڑی میں اپوزیشن کو اپنے احتجاجی سفر کو ملک و قوم کے لئے موخر کرکے عوام و حکومت کی مد دو معاونت کرنی چاہیئے۔

مگر افسوس کہ صورت حال قدرے مختلف ہے۔
ابھی چند روز قبل ہی حکومت کی طرف سے کوروناکی صورتحال سے نمٹنے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے بلائے گئے اجلاس کا اپوزیشن نے مکمل طور پر بائی کاٹ کردیا جو میری نظر میں شاید کوئی اچھا فیصلہ نہیں تھا۔ کیونکہ ملک کو درپیش تمام مسائل پر اپوزیشن کو اپنی رائے کا اظہار اور عوام کی نمائندگی جمہوری و آئینی طور پر کرنی چاہیئے ،یہ اپوزیشن کا اولین فریضہ بھی ہے اور قومی ذمہ داری بھی۔

اب چونکہ ملک کورونا کی دوسری لہر میں داخل ہو چکا ہے جلسے و جلوسوں کے علاوہ عوام مجموعی طور پر بھی احتیاطی تدابیر کرتے دیکھائی نہیں دیتے جو خدا نخواستہ کسی مصیبت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ بد قسمتی سے پاکستان تو ہمیشہ سے ہی وسائل کی کمی کا شکار رہا ہے اورویسے بھی بقول وزیراعظم لاک ڈاؤن کی سب سے مشکل چیز دیہاڑی دار طبقے کے مسائل ہیں، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت پوری قوم ہی اس تکلیف میں مجموعی طور پر گھیری ہوئی ہے، کاروبار تباہ حال ہیں، نوکریاں ناپید ہو چکی ہیں، مہنگائی آسمانوں سے باتیں کر رہی ہے اور غریب دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں ان حالات میں پاکستان کسی طور بھی اس قسم کے چیلنجز کا متحمل نہیں ہو سکتا۔


ملک میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کی شدت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ایک ہی دن میں 3000 سے بھی زیادہ کورونا کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہسپتالوں میں جگہ نہ ہونے کے برابر ہے۔وینٹی لیٹر ز کی تعداد پاکستان کے کسی حد تک اس انڈسٹری میں خود کفیل ہونے کے باوجود محدود ہے۔ ویکسین تو بن چکی ہے مگر پوری دنیا کے لئے ویکسین بنانے کے لیے شاید ابھی مزید ایک سال درکار ہو گا۔

اس وقت احتیاط ہی واحد حل ہے، خدا را اپنے اور ملک کے حال پر رحم کیجیے۔ اس وقت پوری دنیا میں لاک ڈاؤن کی صورت حال ہے۔ برطانیہ، اٹلی، جرمنی ،آئر لینڈ، بھارت اور امریکہ سمیت بے شمار ممالک اس وقت اس مصیبت میں پھر سے مبتلا ہیں۔ یورپ و امریکہ میں تو عوام کو کاروبار کے لئے آسان قرضے اور ذاتی نوعیت کے قرضے و حکومتی امداد فراہم کی جارہی ہے مگر پاکستانی حکومت وسائل کی کمی کے باعث ایسا کرنے کی خواہش کے باوجود کرنے سے قاصر ہے۔


اپوزیشن کو اب اپنے احتجاج کا طریقہ کار بدلنا ہوگا۔ابھی کچھ عرصہ قبل ہی ایران میں حکومت کی جانب سے احتجاج پر سخت پابندی عائد کی گئی مگر سخت پابندیوں کے جواب میں اپوزیشن نے ملک بھر میں احتجاج کا نیا طریقہ کار متعارف کروایا۔ محدود وسائل و حکومتی پابندیوں کے باوجود اس احتجاج کی بازگشت پوری دنیا میں سُنا ئی دی۔ اپوزیشن کے ارکان کرنسی نوٹ پر لیڈ پینسل سے مختلف نعرے درج کرتے اور اپنی آواز عوام الناس تک پہنچاتے نظر آئے۔

اس احتجاجی طریقہ کار کا اس قدر اثر ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے پورے ایران میں ایک تحریک برپا ہو گئی۔ یہاں میرا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ کرنسی نوٹ پر نعرے لکھ کر احتجاج ریکارڈ کروایا جائے ،بات کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر اپوزیشن چاہے تو مختلف طریقوں سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا سکتی ہے۔ انگریزی محاورا ہے کہ There is a will there is a way
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Mulki Siyasat Ehtejaj Or Corona Column By Sheikh Jawad Hussain, the column was published on 02 December 2020. Sheikh Jawad Hussain has written 39 columns on Urdu Point. Read all columns written by Sheikh Jawad Hussain on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.