سیاسی ورکرز کی پذیرائی ہی نہیں ہے،

ورکروں کے پاس سوائے گتھم گتھا ہونے کے اور کوئی کام نہیں رہ گیا ،ْریا ض حسین پیر زادہ

جمعہ مئی 16:24

سیاسی ورکرز کی پذیرائی ہی نہیں ہے،
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے بجٹ پر بحث کے دور ان پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان کی عدم موجودگی پر شدیدتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بغیر بحث کے بجٹ لے آئے ،ْ ہم منظور کرلیتے ہیں ،ْعمران خان بھی نہ آکر پارلیمنٹ کو عزت نہیں دیتے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں نقطہ اعتراض پر قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ میں نے ہمیشہ پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کی ہے مگر بجٹ کے دوران حکومتی ارکان کا ایوان میں موجود نہ ہونا افسوسناک بات ہے۔

ایسی صورتحال میں بجٹ پر بحث کی کوئی اہمیت نہیں ہے، بجٹ لے آئیں اوربحث کے بغیر منظور کرا لیں، میری بھی مصروفیات اور ذمہ داریاں ہیں، ہم بھی انسان ہیں، ہم آگے کی بجائے پیچھے جا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ارکان کی تعداد بھی کم ہے، ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ بغیر کٹوتی کی تحاریک کے آج ہی بجٹ لے آئیں، ہم منظور کرلیتے ہیں، عمران خان بھی نہ آکر پارلیمنٹ کو عزت نہیں دیتے۔

سپیکر نے قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ کے موقف کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ تمام ارکان کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ بجٹ پر بحث کے موقع پر موجود رہیں تاہم زیادہ ذمہ داری حکومت کی بنتی ہے۔قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ کے نقطہ ء اعتراض کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے جمہوریت کیلئے جدوجہد کی ہے، وقت کے ساتھ ساتھ بہت کچھ بدل گیا ہے، سیاسی ورکرز کی پذیرائی ہی نہیں ہے، ورکروں کے پاس سوائے گتھم گتھا ہونے کے اور کوئی کام نہیں رہ گیا، لوگ ہمارا گریبان بھی پکڑتے ہیں، سیاسی قیادت کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ اس ایوان میں بھی وہی عکاسی ہے، یونین کونسل کے اجلاس میں جس طرح لڑائیاں ہوتی ہیں اسی طرح یہاں بھی ہو رہا ہے، اس حوالے سے قائد حزب اختلاف کی بات درست ہے۔۔جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق الله نے وفاقی بجٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں آمدن کم اور اخراجات زیادہ دکھائے گئے ہیں، قرضوں پر انحصار نامناسب بات ہے، نئے این ایف سی ایوارڈ کا اجراء نہ ہونے سے بجٹ میں آئینی سقم موجود ہے۔

ہمیں چادر دیکھ کر پائوں پھیلانے چاہئیں۔صاحبزادہ طارق الله نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے چھٹا بجٹ پیش کیا ہے۔ حکومت کی طرف سے 2018-19ء کا بجٹ پیش کرنا سوالیہ نشان ہے کیونکہ یہ آنے والی حکومت کا اختیار استعمال کرنے کے مترادف ہے۔ اپوزیشن نے ہماری صرف چار ماہ کا بجٹ پیش کرنے کی تجویز تسلیم نہیں کی۔ 2007ء کے بعد این ایف سی نہیں دیا گیا۔

اس بجٹ میں یہ آئینی سقم ہے۔ قومی اقتصادی کونسل سے تین صوبوں نے واک آئوٹ کیا۔ صوبوں کا اتفاق رائے لازمی تھا۔ اس صورتحال میں صوبوں میں محاصل تقسیم کرنے کا طریقہ کار کیا ہوگا۔ بجٹ کا مقصد قوم کے لئے موثر منصوبہ بندی ہے۔بحث میں حصہ لیتے ہوئے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی امجد علی خان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ریونیو جمع کرنے سمیت کوئی بھی معاشی اہداف حاصل نہیں کئے گئے۔

یہ غریب کش بجٹ ہے، امیر اور غریب سے یکساں ٹیکس لئے جا رہے ہیں۔ بالواسطہ ٹیکس زیادہ ہیں، اب معاشی استحصال کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ شاہدہ اختر علی نے کہا کہ بجٹ متوازن ہونا چاہئے تاکہ خط غربت سے نیچے رہنے والوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ بجٹ میں ارکان نے جن بنیادی غلطیوں کی نشاندہی کی ان کو درست کیا جائے، افراط زر کم ہونا خوش آئند ہے۔

ایم کیو ایم کے وسیم حسین نے کہا کہ حیدر آباد میں یونیورسٹی اور ہسپتال بننے چاہئیں، ہماری آواز کو دبایا گیا، انہوں نے پیپلز پارٹی پر شدید تنقید کی۔ پیپلز پارٹی کے اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ ان کی پارٹی ہمیشہ اقتدار میں رہی، یہ اپنا جواب دیں انہوں نے کیا کیا۔۔فاٹا سے رکن قومی اسمبلی حاجی شاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ زراعت پر سبسڈی دینے کی بجائے زرعی تحقیق پر توجہ مرکوز کی جائے اور دنیا کے ساتھ تجارت اور ایکسپورٹس میں اضافہ کے لئے ٹرانسپورٹ کے شعبہ کے حوالے سے جامع پالیسی بنائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ مالی کمزوریوں کی وجہ سے ہم نامساعد حالات سے گذر رہے ہیں اس وجہ سے ہماری خارجہ پالیسی بھی کمزور ہے۔ ہماری مغربی سرحدیں محفوظ ہوگئی ہیں، ہمیں دنیا کے ساتھ تجارت کو فروغ دینا چاہئے۔ افغانستان بھی ڈبلیو ٹی او کا رکن بن گیا ہے۔ افغانستان کے لئے وسطی ایشیائی ریاستوں اور یورپ تک بذریعہ سڑک تجارت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹرانسپورٹ کے بزنس کے حوالے سے کوئی جامع پالیسی بنائی جائے۔

اس شعبہ سے سالانہ 500 سے 600 ارب روپے کا ٹیکس حاصل ہوتا ہے۔ اس سے ہماری تجارت اور ایکسپورٹ پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ زراعت پر سبسڈی دینے کی بجائے زرعی تحقیق پر توجہ مرکوز کی جائے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ سے توانائی کی درآمدات متاثر ہوں گی، گردشی قرضوں کی ادائیگی کے حوالے سے بجٹ میں کوئی طریقہ کار نہیں بتایا گیا، اس سے لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ سے توانائی پیدا کرنے والی درآمدات مہنگی ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی کارکردگی اچھی نہیں ہے۔ رواں سال ایف بی آر نے صرف 200 ارب روپے کے بالواسطہ ٹیکس جمع کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیل پر لیوی کی شرح بڑھانے سے پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوں گی۔ بجٹ میں گردشی قرضوں کی ادائیگی کا کوئی طریقہ کار نہیں رکھا گیا، اس سے لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہوگا، ٹیکس چوری کا پیسہ جائیداد کی خریداری میں استعمال ہوتا ہے جس پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے، افراط زر کی موجودہ صورتحال منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے ہے۔

انہوں نے آبادی کی شرح میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس کے لئے موثر منصوبہ بندی کی جائے۔مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی چوہدری خادم حسین نے کہا کہ مجھے باہر سے فون آئے ہیں کہ معصوم بچیوں اور بچوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے، قانون سازی ہونی چاہئے۔ میں پوری پارلیمنٹ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس مسئلہ پر قانون سازی کر کے ایسے واقعات کے مرتکب افراد کو سرعام گولی ماری جائے۔

انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کے مسئلے کو سیاسی بنا دیا گیا، اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے، ہمیں ڈیم بنانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے والد 1937ء میں پاکستان آئے تھے وہ اس وقت کے رئیس تھے۔ اگر انہوں نے پیسہ باہر بھجوایا ہے تو میرے اور آپ کے باپ کا پیسہ باہر تو نہیں بھیجا۔ اپوزیشن نے یہ ڈرامہ بنا رکھا ہے کہ ہم عدلیہ اور اداروں کے خلاف ہیں۔

اجلاس کے دور ان اراکین اسمبلی میر اعجاز جاکھرانی، ڈاکٹر اظہر جدون، نذیر بھگیو نے نکتہ ء اعتراض پر کہا کہ گزشتہ روز ایوان میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں سفارش کی گئی ہے کہ قائداعظم یونیورسٹی کے فزکس ڈیپارٹمنٹ کا نام ممتاز مسلمان سائنسدان عبدالرحمان الخزیمی کے نام پر رکھا جائے تاہم میڈیا میں یہ رپورٹ کیا گیا ہے کہ قومی اسمبلی نے یہ قرارداد منظور کی ہے کہ قائداعظم یونیورسٹی کے سینٹر آف فزکس کا نام ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے تبدیل کرکے عبدالرحمان الخزیمی کے نام پر رکھا جائے۔

اس طرح کی رپورٹیں حقائق کے برعکس ہیں، ریکارڈ درست کیا جائے۔ ہم نے قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کا نام تبدیل کرنے کی قرارداد منظور کی ہے اس میں کوئی ہال یا کوئی دوسرا شعبہ شامل نہیں ہے۔۔پی ٹی آئی کے عامر ڈوگر نے کہا کہ جمعرات کو کیپٹن صفدر نے ایک قرارداد پر ہم سے دستخط کروائے۔ ہم نے نیک نیتی کی بنیاد پر اس قرارداد پر دستخط کئے جس کے تحت عبدالرحمان المنصور الخزیمی جو مسلمانوں کے پہلے سائنسدان تھے، کے نام سے قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کو منسوب کرنے کی حمایت کی گئی لیکن ایک چینل نے جس طرح اس معاملے کو اچھالا وہ زیادتی ہے۔

عثمان ترکئی نے کہا کہ پاکستانی اور مسلمان ہونے کے ناطے ہم نے اس قرارداد کی حمایت کی لیکن میڈیا نے اس معاملے کو غلط اچھالا۔بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام پانچ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔