وزیراعلیٰ کی مشیر برائے خزانہ کیپٹن (ر)ڈاکٹر رقیہ سعید ہاشمی کی بجٹ تقریر کا مکمل متن

پیر مئی 22:04

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) بلوچستان صوبائی اسمبلی کا بجٹ اجلاس پیر کو اسپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ حمید خان درانی کی صدارت میں 50منٹ کی تاخیر سے تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ کی مشیر برائے خزانہ کیپٹن (ر) ڈاکٹر رقیہ سعید ہاشمی نے بلوچستان کا مالی سال2018-19کا بجٹ ایوان میں پیش کیا جو مندرجہ ذیل ہے ۔میڈیم اسپیکر !میرے لئے یہ بات باعث اعزاز ہے کہ میں اس منتخب شدہ معزز ایوان کے سامنے صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بطور خاتون رکن اسمبلی موجودہ جمہوری صوبائی حکومت کا سالانہ بجٹ 2018-19پیش کرنے جارہی ہوں میں مشکور ہوں اپنے اتحادی ساتھیوں کی جن کے تعاون اور رہنمائی سے یہ سب ممکن ہوا۔

میڈیم اسپیکر !موجودہ حکومت پہلے ہی دن سے جن رہنما اصولوں کی روشنی مین کام کرتی رہی ہے وہ اس طرح ہیں۔

(جاری ہے)

صوبے میں ترقی کا عمل تیز کرنے کی خاطر سازگار ماحول فراہم کرنا،تعلم ،صحت اور فراہمی آب جیسے سماجی شعبوں میں بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کیلئے ٹھوس اور مربوط کوششیں کرنا،غیر ضروری اخراجات کا خاتمہ کرکے وسائل کو ترقیاتی سرگرمیوں کیلئے استعمال میں لانا ، بہتر اور موثر انداز میں وصولیوں کے ذریعے وسائل پیدا کرنے کی مشینری کوا ز سر نو منظم کرنا ،ہر سطح پر مالیاتی نظم و ضبط قائم کرنابلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کو ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کی کوشسوں کو تقویت پہنچانا ۔

میڈیم اسپیکر !آج بلوچستان امن کے راستے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدلقدوس بزنجو کی قیادت میں صوبائی حکومت نے قلیل عرصے میں صوبے کو صحیح سمت پر گامزن کردیا ہے اب دہشت گرد نہیں بلکہ سرمایہ کار بلوچستان آرہے ہیں اب نوجوان پہاڑوں پر نہیں یونیورسٹی جارہے ہیں اورانکے ہاتھ میں بندوق نہیں بلکہ قلم ہے ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ اب ہم شکوے شکایات کی بجائے محنت کریں اور سب ملکر اپنے صوبے کی ترقی میں کردار ادا کریں۔

بلوچستان کے وسائل:میڈیم اسپیکر!ہماراہ صوبہ زمانہ قدیم سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے صوبہ بلوچستان ملک کے 44فیصد رقبے پر محیط ہے جبکہ اسکی آبادی ایک کروڑ23لاکھ سے زائد ہے اور محل وقوع کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل صوبہ ہے مختلف جنگلی حیات کے حوالے سے یہ پاکستان کا انتہائی اہم علاقہ ہے دنیا میں صنوبر کے سب سے بڑے جنگلات یہاں پائے جاتے ہیں ہمیں قدرت نے 775کلو میٹر طویل ساحلی پٹی سے نوازا ہے ہمارے ساحلی علاقے معاشی لحاظ سے خاص اہمیت کے حامل ہیںیہاں زیر زمین بے پناہ معدنی ذخائر موجود ہیں جنہیں دریافت کرنے اورانہیں استعمال میں لانے کی ضرورت ہے ہمارے پاس سونا ،چاندی اور تانبے کے علاوہ قدرتی گیس ،،تیل اور کوئلے کے وسیع ذخائر ہیںگیس 1952ء میں سب سے پہلے بلوچستان میں دریافت ہوئی جس نے پورے ملک کی معاشی ترقی میںکلیدی کردار ادا کیا ہے اور آج ایک بار پھر اپنی طویل ساحلی پٹی اور قیمتی قدرتی وسائل اور چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے باعث یہ علاقہ نہ صرف ملکی معیشت کی ترقی کا زینہ بن رہا ہے بلکہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے اہم مرکز کے طور پر ابھر تا دکھائی دے رہا ہے ۔

میڈیم اسپیکر! موجودہ بجٹ ان مقاصد کو پیش نظر رکھ کر بنایا گیا ہے جن سے عام آدمی کے مسائل کو حل کیا جاسکے آئندہ بجٹ کی خاص بات صوبے کے ترقیاتی مقاصد کو حاصل کرنا ہے اور یہی وہ بنیاد ہے جس کو پیش نظر رکھ کر یہ بجٹ پیش کیا جارہا ہے ان مقاصد کے حصول سے ہم بلوچستان کو ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن کرسکتے ہیں۔ میڈیم اسپیکر!سی پیک گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت چین اور پاکستان کے درمیان تاریخی رابطوں کوبحال کرنا انکو مزید مستحکم اور پائیدار بنانا شامل ہے اوراس منصوبے کے تحت پاکستان میں انفراسٹرکچر کو مزید بہتر طور پر تعمیر کرنا اوراسکو وسطی ایشیاء تک بڑھایا جانا شامل ہے ہم اس اہم کلیدی نوعیت کے منصوبے پر فخر محسوس کرتے ہیں جس سے نہ صرف ملکی معیشت پر انتہائی مثبت اوردور رس نتائج مرتب ہونگے بلکہ دوسری طرف صوبائی حکومت کی معاشی تقدیر بھی بدلے گی اور روزگار کے وسیع مواقعوں کے ساتھ ساتھ ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

میڈیم اسپیکر!آنے والے دنوں میں گوادر پاکستان کی معاشی ترقی میں انتہائی اہم کردارادا کریگا گوادر کی ترقی کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں مرکزی حیثیت حاصل ہے جس کے لئے بجٹ میں وفاقی حکومت کے تعاون سے خطیرر قم خرچ کی جائے گی اس ضمن میں مالی سال 2018-19ء میں بہت سے منصوبوں پر کام کیا جائے گا جس میں گوادر میں نئے بین الاقوامی ائیر پورٹ کا قیام ،جدید ہسپتال ، بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ اور صاف پینے کا پانی فراہم کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔

میڈیم اسپیکر!میں یقین رکھتی ہوں کہ بلوچستان میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے بے پناہ فوائد حاصل ہوں گے مستقبل میں پاکستان کی زرعی اور تجارتی ترقی میں بلوچستان کا بڑا حصہ ہوگا بلوچستان میں بیرونی سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے بلوچستان انوسٹ منٹ بورڈ کو مزید فعال بنایا جارہا ہے حال ہی میں بلوچستان صوبائی اسمبلی نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ بل 2018ء کی منظٖوری دی ہے جس سے صوبے میں سرکاری نجی شراکت داری اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اسی طرح معدنی پیداوار اور تجارتی سرگرمیوں کا بڑا مرکز بھی آئندہ بلوچستان بنے گا۔

(انشاء اللہ)میڈیم اسپیکر!اب میں آپکی اجازت سے اس معزز و جمہوری ایوان کے سامنے رواں مالی سال کے دوران صوبے میں حکومت کی کارکردگی بیان کرنا چاہوں گی۔جائزہ بجٹ2017-18 :میڈیم اسپیکر!آئندہ مالی سال 2018-19کا بجٹ پیش کرنے سے پہلے یہ مناسب ہوگا کہ موجودہ مالی سال 2017-18کا نظرثانی شدہ بجٹ معزز ایوان کے سامنے پیش کیا جائے جس کے بعد میں معزز ایوان کو موجودہ صوبائی حکومت کے نئے مالی سال 2018-19کے اقدامات کے بارے میں آگاہ کروں گی جاری مالی سال 2017-18کے کل بجٹ کا ابتدائی تخمینہ 328.5ارب روپے تھانظرثانی شدہ بجٹ برائے سال2017-18کا تخمینہ 326.4ارب روپے ہوگیا ہے 2017-18کے اخراجات جاریہ کا تخمینہ 242.5ارب روپے تھا جو نظرثانی شدہ تخمینے میں کم ہوکر249.5ارب روپے رہ گیا ہے۔

پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام 2017-18 :میڈیم اسپیکر!مالی سال2017-18میں پی ایس ڈی پی کا حجم 86ارب روپے تھا اس میں 1211جاری اسکیمیں جبکہ 1549نئی اسکیمیں شامل تھیں مالی سال2017-18ء میں پی ایس ڈی پی پر نظرثانی کے بعد اسکا حجم 76.8ارب روپے ہوگیا ہے نظرثانی کے بعد 1231جاری اسکیموں کیلئے 27.9ارب روپے اور 1432نئی اسکیموں کیلئے 67.1ارب روپے مختص کئے گئے وفاقی حکومت کے پی ایس ڈی پی سے صوبائی محکموں کے توسط سے عملدرآمد ہونے والی اسکیموںاور صوبائی ترقیاتی پروگرام کے ذریعے چلنے والے منصوبوں کے فنڈز کی مد میں 6ارب روپے اسکے علاوہ ہیں۔

امن وا مان:میڈیم اسپیکر!امن و امان قائم کرنا ریاست کی بنیادی اور آئینی ذمہ داری ہے ہماری صوبائی حکومت اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھر پور حوصلہ افزائی و معاونت کررہی ہے اس حوالے سے یو این ڈی پی کے تعاون سے پانچ سالہ منصوبہ پر کام جاری ہے جن میں عدلیہ ،انتظامیہ ،،پولیس ،ْلیویزپروسیکویشن اور محکمہ جیل خانہ جات کے تمام شعبوں میں بہتری لانے کیلئے ایک مربوط پانچ سالہ نظام پر کام ہورہا ہے۔

میڈیم اسپیکر!امن و امان قائم رکھنے میں افواج پاکستان ،،پولیس ،لیویز اورایف سی کا کردار قابل تحسین ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں اورفورسز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے علاوہ دیگر اقدامات بھی اٹھائے جارہے ہیں تاکہ صوبے کا مثالی امن و بھائی چارے کی فضاء دوبارہ بحال کی جاسکے ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باہمت و جرات مند اہلکار نہایت حوصلے اورجواں مردی سے امن وا مان کو برقرا ررکھنے کیلئے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا ر ہے ہیں ان حالات میںہماری فورسز کے مورال کو بلند رکھنا اورانکے خاندانوں کو مناسب دیکھ بھال کرنا انتہائی ضروری ہے اس سلسلے میں ایک مربوط پالیسی کے تحت شہادت پانے والے اہلکاروں کے پسماندگان کو نقد مالی معاونت پوری تنخواہ ،صحت ،،تعلیم اور رہائش کی سہولتیں بھی مہیا کی جارہی ہیں۔

میڈیم اسپیکر!اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری حکومت کے سنجیدہ اقدامات کے نتیجے میں امن وامان میں نمایاں بہتری آئی ہے مگرشرپسند عناصر کی سرگرمیاں ابھی تک مکمل طور پرختم نہیں ہوسکیں جن کی وجہ سے کبھی کبھار وقوع پذیر ہونے والے واقعات حکومت کی کوششوں کو ناکام کرنے کی سازش ہوتی ہے ان واقعات پر حکومتی سطح پر قابو پانے کیلئے بھر پور اقدامات کئے جارہے ہیںآنے والے مالی سال2018-19میں امن و امان کیلئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 34ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً10فیصد زیادہ ہیں۔

لیویز اور پولیس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے پاک آرمی سے پیشہ وارانہ تربیت دی جارہی ہے میرٹ پر پولیس افسران کی تقرریاں اور ترقیاں ،،پولیس میں سیاسی عدم مداخلت اور انٹیلی جنس فیوژن سیل کی مزید بہتر کارکردگی ہماری ترجیحات میں شامل ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودہ حالات اورچیلنجز سے نمٹنے کیلئے جدید خطوط پرمنظم کیا جارہا ہے اس سلسلے میں 2ارب روپے کی خطیر رقم سے جدید معیاری اسلحہ اوردیگر ضروری آلات فراہم کرنے کا بندوبست کیا جارہا ہے اسکے علاوہ پولیس اور لیویز میں خصوصی انسداد دہشت گردی فورس کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے جو اپنے اضلاع میں دہشت گردی کے خلاف موثر کردارادا کرسکیں گے قانونان نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی تر بیت کیلئے 4کروڑ روپے فراہم کئے جائیں گے ہزاروں بے روزگار و اہل نوجوانوں کو بلوچستان لیویز فورس میں میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کردیا گیا ہے کوئٹہ سیف سٹی اور گوادرسیف سٹی منصوبے حکومت بلوچستان کی کاوشوں کا نتیجہ ہے جن پر تیزی سے کام جاری ہے سی پیک روٹ اور منصوبوں کی حفاظت کیلئے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے جس کے تحت ہزاروں بے روزگار نوجوانوں کو لیویز اور پولیس فورس میں بھرتی کیا جائے گا۔

تعلیم((اسکولز): میڈیم اسپیکر!ناخواندگی سے لڑنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم مستقل مزاجی کے ساتھ درست راستے پر چلتے رہیں اور تعلیم کے فروغ کیلئے زیادہ سے زیادہ وسائل بروئے کار لائیں آئین پاکستان کے آرٹیکل 25-Aکے تسلسل میں ’’تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے‘‘ جسکے نفاذ کے لئے حکومت بلوچستان بھر پور کوشش کر رہی ہے حکومت بلوچستان نے اپنا پانچ سالہ بلوچستان ایجوکیشن سیکٹر پلان مرتب کیا ہے جسکے تحت نئے اسکولوں کا قیام ،موجودہ اسکولوں کی اپ گریڈیشن اور(Early Childhood Education)کلاسز کا اجرا کیا جائے گا۔

میڈیم اسپیکر!آنے والے مالی سال 2018-19ء میں محکمہ اسکولز کیلئے غیر ترقیاتی مد میں 43.9ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں 25فیصد زیادہ ہے آنے والے مالی سال 2018-19میں 100سے زائد نئے پرائمری اسکول قائم کئے جائیں گے تاکہ تعلیم تک رسائی کو ممکن بنایا جاسکے آئندہ مالی سال 2018-19میں 100پرائمری اسکولوں کو مڈل اسکولوں کا درجہ دیا جائے گا جبکہ 100مڈل اسکولوں کو ہائی کا درجہ دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اساتذہ کی بھرتی میرٹ پر کرنے کیلئی(Independent Testing Services)کومتعارف کروادیا گیا ہے صوبے کے تمام اسکولوں میں فرنیچر ،لکھائی پڑھائی و اسٹیشنری کا سامان ،سائنسی آلات ، ٹاٹ اور کھیلوں کے سامان کی کمی کو دور کرنے کیلئے 83.3کروڑ روپے رکھے گئے ہیں عالمی بینک کے تعاون سیGlobal Partnership for Educatonکے تحت نئے پرائمری اسکولوں کا قیام ، موجودہ اسکولوں کو بلڈنگ کی فراہمی اور خواتین اساتذہ کی تقرری عمل میں لائی جارہی ہے اساتذہ اور افسران کی کارکردگی جانچنے کیلئے 1.5ارب روپے کی خطر رقم (Performance Management System)متعارف کرایا جارہا ہے ۔

بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کی چھپائی اور سپلائی کیلئے 52کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے تاکہ ہر بچے کو مفت کتابوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے ہم اپنے اساتذہ کی دل سے قدرت کرتے ہیںاورانکی خدمات کوسراہتے ہیں مگر بعض اساتذہ تعلیمی اداروں میں ڈیوٹی نہیں دیتے اس لئے ہماری حکومت رئیل ٹائم سکول مانیٹرنگ کے موثر طریقہ کار پر عمل پیرا ہے جس سے بلوچستان میں اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنایا جارہا ہے ۔

(ب)کالجز۔میڈیم اسپیکر!صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے تربت یونیورسٹی اور لورالائی یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایاگیا ہے جبکہ جامعہ بلوچستان سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی ،بیوٹمز کے سب کیمپس تمام اضلاع میں مرحلہ وار قائم کئے جارہے ہیں اسکے علاوہ تربت یونیورسٹی کا سب کیمپس گوادر میں قائم کردیاگیا ہے آنے والے مالی سال2018-19میں محکمہ کالجز کے لئے غیر ترًقیاتی مد میں تقریباً 8.5ارب روپے رکھے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں 10فیصد زیادہ ہیں صوبے میں اسوقت چھ کیڈٹ کالجز قائم ہیں جن میں کیڈت کالج مستونگ، پشین ،جعفرآباد ، قلعہ سیف اللہ ، پنجگواور کوہلو شامل ہیں ان کالجز میں تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں جبکہ کیڈٹ کالج نوشکی اور قلعہ عبداللہ میں رواں تعلیمی سال میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کردیا جائے گا اس طرح کیڈٹ کالج خاران پر بھی تعمیراتی کام تیز کردیا گیا ہے مزید برآں اسوقت صوبے میں چار ریذیڈیشنل کالجز بمقام تربت ، لورالائی ،خضدار اور ژوب میں تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں جبکہ ریذیڈیشنل کالج اوتھل کو فعال کیا جارہا ہے اسکے ساتھ ساتھ ریذیڈیشنل کالج سبی ،خاران اورقلات کے قیام کیلئے تعمیراتی کام جاری ہیں جو انشا اللہ جلد مکمل کرلئے جائیں گے اسوقت کالجز سیکشن کی کل 40نئی اور 55جاری اسکیموں پر ترقیاتی کام جاری ہے یہ ترقیاتی اسکیمات صوبے میں کالجوں ،تکینکی اداروں،ریذیڈیشنل کالجوں ، کیڈٹ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے جال بچھانے میں معاون و مدد گار ثابت ہوں گی۔

40کروڑ روپے کی لاگت سے کوئٹہ کالج ڈائریکٹریٹ کا قیام عمل میں لایا جائے گا ضلع کوئٹہ میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST)کے کیمپس کے قیام کیلئے زمین خریدنے کی غرض سے 1.2ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ،صوبائی حکومت نے مالی سال 2017-18میں 50کروڑ روپے کی خطیر رقم سے صوبے بھر کے 8500طلباء و طالبات کو میرٹ کی بنیاد پر لیپ ٹاپ تقسیم کئے ،مالی سال 2017-18کے ترقیاتی بجٹ میں صوبے کے 30کالجز میں بیچلر لاجز کی تعمیر کیلئے 50کروڑ روپے کی خطیر لاگت سے تعمیرات کی منظوری دیدی گئی ہے۔

مالی سال 2017-18میں صوبے کے 30ڈگری کالجز میں چارسالہ بی ایس ڈگری پروگرام کے کلاسز کا آغاز کردیا گیا ہے جس کے بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کیلئے حکومت نے 60کروڑ روپے مختص کردیئے ہیں ۔صحت:میڈیم اسپیکر!تعلیم اور صحت کے شعبے ترقی کیلئے بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتے ہیں موجودہ صوبائی حکومت کی کاوشوں کی وجہ سے ایک جامع ہیلتھ پالیسی پر تیزی سے کام ہورہا ہے جوکہ عنقریب نافذ العمل کردی جائے گی جس کے بعد صحت کے شعبے میں قوی بہتری متوقع ہے آئندہ مالی سال 2018-19کے لئے شعبہ صحت کے لئے غیر ترقیاتی بجٹ کی مد میں 19.4ارب روپے مختص کئے گئے جو پچھلے مالی سال کے مقابلے میں 6فیصد زیادہ ہیں آنے والے مالی سال 2018-19کے دوران صوبے میں واحد کینسر ہسپتال بنانے کیلئے 2ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اور بلوچستان ادارہ برائے قلب کی تعمیر کی غرض سے 2.5ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔

صوبائی سول ہسپتال کوئٹہ کی نئے سرے سے جدید طرز پر تعمیر زیر غور ہے جس پر لاگت کا تخمینہ تقریباً 3ارب روپے ہے وزیراعلیٰ صحت انشورنس پروگرام کو تمام اضلاع میں شروع کیا جارہا ہے اس پروگرام کے تحت غریب اورحقدار شہریوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی اس پر لاگت کا تخمینہ 1ارب روپے ہے حکومت بلوچستان آنے والے مالی سال 2018-19کے دوران ہیپاٹائٹس ،ٹی بی ،ملیریا اور ایچ آئی وی مریضوں کو مفت ادویات فراہم کریگی آنے والے مالی سال 2018-19میں صحت کے شعبے کیلئے 70کروڑ روپے کی لاگت سے جدید مشینری خریدی جائے گی۔

میڈیم اسپیکر!صوبے سے پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے ایمرجنسی سینٹر قائم کیا گیا ہے جس سے پولیو کے کیسز میں خاطر خواہ کمی آئی ہے جس پر پولیوٹیم کی کارکردگی کو سراہا جاتا ہے اور صوبائی حکومت یہ عہد کرتی ہے کہ انشاء اللہ بلوچستان سے پولیو کا مکمل خاتمہ کردیا جائے گا آئندہ مالی سال 2018-19میں تقریباً2ارب روپے کی مفت ادویات دی جائیں گی آنے والے مالی سال 2018-19میں صوبہ بھر کے 90دیہی صحت مراکز کی بحالی اور مرمت کی جائے گی صوبے میں غربت کے خاتمے کیلئے 1ارب روپے کی لاگت سے کوئٹہ،،لورالائی ،گوادر ،کیچ اور لسبیلہ میں میڈیکل سپورٹ پروگرام جاری ہیVector Borne Diseasesکے خاتمے کیلئے 2.5ارب روپے مختص کئے گئے ہیں امراض چشم پروگرام کے تحت30کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے بولان میڈیکل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کیلئے 1ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔

Dental College Quettaکے قیام کیلئے 1ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ،سنڈیمن صوبائی ہسپتال میں نئے زیر تعمیر او پی ڈی بلاک کیلئے 19.8کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ضلعی معلومات برائے صحت سسٹم کے تحت صوبہ بھر میں 18.5کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے ،صوبہ بھر کی تمام اہم شاہراہوں پر ایمرجنسی سینٹرز کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے ۔زراعت :میڈیم اسپیکر !زراعت کو ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہدی کی حیثیت حاصل ہے GDPمیںزراعت کا حصہ 33فیصدسے زیادہ ہے جبکہ صوبے کی آبادی کا تقریباً70فیصد بلواسطہ یا بلاواسطہ زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے قدرت نے بلوچستان کو مختلف اقسام کے پھل ،سببزیوں اوراجناس کی کاشت کیلئے مناسب زرعی ماحول سے نوازا ہے ہم معیاری پھل مثلاًسیب ، انگور،کھجور اور خوبانی وغیرہ کی پیداوار میں خصوصی شہرت رکھتے ہیں۔

میڈیم اسپیکر!ہماری حکومت زراعت کے شعبے کو ترقی دینے کیلئے خصوصی اقدامات کررہی ہے اس ضمن میں معیاری بیچ اور پودوں کی فراہمی ،کھاد اور کیڑے مار ادویات کی دستیابی ،جدید سائنسی طریقوں پر کاشتکاری کی ترویج و ترغیب اورزرعی اجناس کی مارکیٹ تک رسائی کے حوالے سے مختلف منصوبوں پر کام ہورہا ہے پکے تالاب اور نالیوں کے ذریعے پانی کے ضیاع کو کافی حد تک کنٹرول کیا گیا ہے اسوقت صوبے میں تقریباً96لاکھ ہیکٹر قابل کاشت زمین موجود ہے جس کو ہموار کرکے زرعی پیداوار میں کئی گنا اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔

میڈیم اسپیکر!آنے والے مالی سال 2018-19میں محکمہ زراعت کے لئے تقریباً 8,7ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 5فیصد زیادہ ہیں قلعہ سیف اللہ اور اوتھل میں مارکیٹ اسکوائرز کو 5کروڑ کی لاگت سے جلد ہی مکمل کرلیا جائے گا اٹھارہ مختلف اضلاع میں تقریباً 28.8کروڑ روپے کی لاگت سے سرکاری زرعی فارمز کو مکمل طورپرفعال بنایا جارہا ہے زرعی ٹریننگ ادارے کی تعمیر پر 50کروڑ روپے کی لاگت سے کام کا آغاز ہوچکا ہے معیاری پودوں کی فراہمی کی غرض سے ٹشو کلچر (Tissue Culture)کی ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے کیلئے زرعی شعبہ کے تحت تقریباً5.6کروڑ روپے کی لاگت سے ایک اہم منصوبے پر کام جاری ہے اگلے مالی سال کے دوران بلڈوزروں کے پچاس ہزار گھنٹے ضرورت مند زمینداروں میں تقسیم کئے جائیں گے تاکہ مزید غیر کاشت رقبہ کو زیر کاشت لایا جاسکے۔

امور حیوانات:میڈیم اسپیکر!صوبائی معیشت میںامور حیوانات کا حصہ تقریباً 48فیصد بنتا ہے مال مویشیوں کا دیہی ترقی میں اضافے اور غریب عوام کی خوشحالی سے گہرا تعلق ہے صوبہ بلوچستان میں امور حیوانات ترقیات ڈیری کا ایک وسیع جال بچھا ہوا ہے جس کے ذریعے تخم ریزی ، مال مویشیوں کا علاج معالجہ اور بیماریوں کے خلاف حفاظتی ٹیکہ جات کے ساتھ ساتھ مال مویشیوں کی پیداوار میں اضافہ کیا جانا ہے آنے والے مالی سال 2018-19میں محکمہ لائیو اسٹاک کیلئے تقریباً 4ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 2فیصد زیادہ ہے نئے مالی سال کے دوران جانوروں کی مختلف بیماریوں کے علاج کیلئے 30کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں امور حیوانات ہسپتال کی تعمیر پرکام تیزی سے جاری ہے جس پر لاگت کا تخمینہ 50کروڑ روپے ہے صوبے کے 20مختلف اضلاع میں 11کروڑ روپے کی لاگت سے ویٹرنری سروسز فراہم کی جائیں گی 2کروڑ روپے کی لاگت سے ویٹرنری تعلیم اور آگاہی مہم چلائی جائے گی کانگو وائرس کے خاتمے کیلئے 22کروڑ روپے کی لاگت سے کام جاری ہے صوبے کے چھ مختلف اضلاع میں لائیوسٹاک مارکیٹس کے قیام کی تجویز زیرغور ہے جس پر لاگت کا تخمینہ تقریباً 20کروڑ روپے ہے ۔

ماہی گیری:میڈیم اسپیکر!صوبہ بلوچستان کو اللہ تعالیٰ نے ایک وسیع و عریض رقبے کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی اہم پیداواری سمندری حدود سے نوازا ہے جو لگ بھگ ساڑھے سات سو کلومیٹر ساحلی پٹی پر محیط ہے جس میں مچھلیوں کے غیرقانونی شکار کی روک تھا م،ماہی گیری کی رہنمائی اورانکو سہولیات بہم پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہے بحیرہ عرب کی یہ سمندری پٹی کم و بیش 60ہزارلوگوں کو روزگار مہیا کر رہی ہے اس حوالے سے ہماری حکومت درج ذیل عملی اقدامات اٹھانے میں ہر طرح سے سنجیدہ ہے آنے واًے مالی سال 2018-19میں ماہی گیری کیلئے تقریباً 92کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں تقریبا4فیصد زیادہ ہیں فش ہیچری بمقام ژوب اور حب پر تقریباً 15کروڑ روپے کی لاگت سے کام جاری ہے اسی طرح فش ہیچری بمقام ضلع صحبت پور جعفرآباد کا قیام منظوری کیلئے زیر غور ہے جس پر لاگت کا تخمینہ تقریباً23کروڑ روپے ہے بلوچستان کی ساحلی پٹی پرVessels Monitoring Systemمتعارف کرایا جارہا ہے جس پر لاگت کا تخمینہ 10کروڑ روپے ہے پانچ کروڑ روپے کی لاگت سے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں Model Fish Farmکے قیام کا منصوبہ بھی زیر غور ہے ۔

لوکل گورنمنٹ اور دیہی ترقی:میڈیم اسپیکر !دیہی علاقوں کے بنیادی انفراسٹرکچر کو کارآمد بنانے میں اس شعبے کے اہم کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتابلوچستان میں کوئٹہ میونسپل کارپوریشن کو میٹرو پولیٹن کارپوریشن اور پانچ میونسپل کمیٹیوں کو کارپوریشنز کا درجہ دیدیا گیا ہے جن میں ایک مربوط پروگرام کے تحت ترقیاتی منصوبوں کو مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا اسکے علاوہ دیہی علاقوں میں بھی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

میڈیم اسپیکر !مالی سال 2017-18کے دوران محکمہ لوکل گورنمنٹ کو لوکل باڈیز کیلئے غیر ترقیاتی مد میں تقریباً6.4ارب روپے اور ترقیاتی مد میں 5ارب روپے فراہم کردیئے گئے ہیں اس سلسلے کو اگلے مالی سال 2018-19میں بھی جاری رکھا جائے گا۔تمام اضلاع میں صوبائی (Sanitation Policy)کے تحت صحت و صفائی کے جامع پروگرام شروع کئے جائیں گے۔ مرحلہ وار تمام اضلاع میں لوکل گورنمنٹ اورچیئرمین ضلع کونسل کے دفاتر تعمیر کئے جارہے ہیں مرحلہ وار سب اضلاع ،میونسپل کمیٹیوںاور میونسپل کارپوریشنز کے چیئرمینوں کو گاڑیاں دی جائیں گی۔

مواصلات:میڈیم اسپیکر !کسی بھی علاقے و عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے ذرائع مواصلات اہم کردارادا کرتے ہیں چاہے اسکول و ہسپتال تک رسد ہو ،کاشتکاروں کو منڈیوں تک مال پہنچانا ہو یا معدنیات کے ذخائر کی تلاش ہو ،سڑکوں کا جال ہمارے صوبے کی ترقی کیلئے ناگزیر ہے جس کی اہمیت خصوصاً چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کی صورت میں کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔

میڈیم اسپیکر !رواں مالی سال 2017-18کے دوران تقریباً 1200کلو میٹر معیاری بلیک ٹاپ سڑکیں بنائی گئیں اور آنے والے مالی سال 2018-19کے دوران مزید اتنی ہی بلیک ٹاپ سڑکوں کا ہدف رکھا گیا ہے فلائی اوور بمقام کوئلہ پھاٹک کوئٹہ تکمیل تک پہنچا چکا ہے جس سے ٹریفک کے دباؤ میں نمایاں کمی آئی ہے اور ٹریفک کی روانی کافی حد تک بہتر ہوگئی ہے ۔میڈیم اسپیکر !عوام کو سہولت کی غرض سے سیکرٹریٹ ماسٹر پلان جس کی مالیت 62.6کروڑ روپے ہے کے تحت سول سیکرٹریٹ کوئٹہ میں باقی ماندہ کام مثلاً کیفے ٹیریا وغیرہ پر کام تیزی سے جاری ہے۔

معدنیات و معدنی وسائل:میڈیم اسپیکر !بلوچستان میں معدنیات و معدنی وسائل کا شعبہ ہمیشہ سے صوبائی اور وفاقی حکومت کی دلچسپی کامحور رہا ہے کیونکہ اس شعبے کی ترقی سے بلوچستان کی ترقی کا مستقبل وابستہ ہے ملک میں اب تک نکالی گئی پچاس معدنیات میں سے چالیس بلوچستان سے حاصل کی جارہی ہیں ہمارے کوئلے کے ذخائر کا تخمینہ 217ملین ٹن ہے چمالانگ میں کوئلے کی کانوں پر کام کے آغاز سے صوبے میں کئی ہزار افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔

میڈیم اسپیکر !آنے والے مالی سال 2018-19میں محکمہ معدنیات کیلئے غیرترقیاتی مد میں تقریباً 2ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال 2017-18کے مقابلے میں تقریباً 15فیصد زیادہ ہے ،،بلوچستان کی معدنی دولت پر قبضے کے غیرقانونی لیز منسوخ کرنے پر تیزی سے کام جاری ہے مائیننگ انڈسٹری کی ترقی پر خاص توجہ دی جائے گی اس کی ترقی و توسیع میں جدید آلات و مشینری کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے گی ،حکومت بلوچستان ریکوڈک کیس کو (International Arbitration Tribunal)میں بھر پور انداز میں اپنے دفاع میں لڑ ر ہی ہے ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان کے خلاف فیصلہ نہ آئے اور اگر آبھی جائے تو نقصان کم سے کم ہو۔

سیندک منصوبے کے پندرہ سو ملازمین اور منصوبے شے انے والی آمدن کو مد نظر رکھتے ہوئے اس پراجیکٹ کو حکومت بلو چستان کی این او سی کے بعد وفاقی حکومت نے اس لیز کو چائنیز کمپنی کیلئے پانچ سال تک توسیع دیدی ہے۔آب پاشی:میڈیم اسپیکر !بلوچست ان کے عوام کی بقاء کے حوالے سے سب سے اہم مسئلہ پانی کا ہے آب پاشی جیسے اہم شعبے پر ہمیں خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ایک طرف محدود پانی کے وسائل ضائع ہورہے ہیں تو دوسری طرف زیر زمین پانی کی سطح ٹیوب ویلوں کے زیادہ استعمال سے خطرناک حد تک نیچے گر چکی ہے ان ناموافق صورتحال سے ہماری حکومت بخوبی واقف ہے جس سے نمٹنے کے لئے جدید آب پاشی کے نظام کی اشد ضرورت ہے ہم اس حوالے سے ہر قسم کے اقدامات اٹھانے کا عزم رکھتے ہیں ۔

آنے والے مالی سال2018-19میں محکمہ آبپاشی کے لئے 2.8ارب روپے مختص کئے گئے ہیں وفاقی حکومت کے تعاون سے آبپاشی کے 9بڑے اور 19چھوٹے منصوبے زیر تکمیل ہیں جس پر تقریباً 5.5ارب روپے خرچ آئے گا ان منصوبوں پر عملدرآمد سے زیر زمین پانی کی سطح میں بہتری آئے گی اور ہزاروں ایکڑ اراضی زیرکاشت لائی جاسکے گی علاوہ ازیں مختلف اضلاعع میں آبادی کو پینے کا صاف پانی بھی میسر ہوگا۔

آبنوشی:میڈیم اسپیکر !پینے کا صاف پانی ہرانسان کی بنیادی ضرورت ہے ہماری حکومت کی بھی یہ اولین ترجیح رہی ہے کہ صوبے کے دیہی اور شہری آبادی کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے آنے والے مالی سال 2018-19میں آبنوشی کے شعبے کیلئے تقریباً 3.8ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو گزشتہ مالی سال 2017.18کے مقابلے میں 3فیصد زیادہ ہیں خصوصی ترقیاتی پروگرام کے تحت 60نئی اور 14جاری پینے کے صاف پانی کی اسکیموں کو مکمل کرلیا گیا ہے 538پرانے اور غیر فعال واٹرسپلائی اسکیموں کی توسیع و مرمت کرکے انہیں فعال کردیا گیا ہے پینے کے صاف پانی کے ذخیرہ کے لئے مختلف اضلاع بمقام نوحصار ، کچلاک ، قلعہ عبداللہ ،قلعہ سیف اللہ ،موسیٰ خیل اور قلات میں چھ ڈیموں کی تعمیرپر تیزی سے کام جاری ہے 9ارب روپے کی لاگت سے کوئٹہ شہر کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے مانگی ڈیم کی تعمیر کی جارہی ہے اسی طرح 40.3ارب روپے کی لاگت سے کوئٹہ شہر کو پٹ فیڈر کینال سے صاف پینے کے پانی کی فراہمی پر کام ہورہا ہے ۔

پانچ سول واٹرس پلائی ٹیوب ویلوں کو سولرسسٹم پر منتقل کیا جائے گا جس پر تقریباً 1.5ارب روپے کا خرچہ ہوگا گوادر میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے سمندر کے کھارے پانی کو میٹھا بنانے کے پلانٹ بمقام کارواٹ کی بحالی کی جارہی ہے جس پرلاگت کا تخمینہ 8.03ارب روپے ہے حال ہی میں حکومت بلوچستان اورچائنہ کی ایک معروف کمپنی کے مابین گوادر شہر کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے معاہدے پر دستخط کئے گئے ہیں جس کے تحت گوادر شہر کو یومیہ 3لاکھ گیلن پانی فراہم کیا جائے گا جس سے گوادر شہر کو درپیش مانی کے بحران پر قابو پایا جاسکے گا۔

محنت و افرادی قوت:میڈیم اسپیکر !صوبہ بلوچستان میں آبادی کی شرح نمو میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ہمارے صوبے میں پندرہ سے چوبیس سال کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد 15لاکھ سے زائد ہے لوگوں کو روزگار فراہم کرنا بلاشبہ ہم سب کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے نوجوان نسل کو مختلف ہنر کے شعبوں میں تربیت دیکر انہیں کارآمد بنانا اورانکی سماجی و معاشی زندگی میں مثبت تبدیلی لانا حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے تاکہ وہ سماج میں ایک بہتر مقام حاصل کرسکیں اور منفی رجحانات کی طرف مائل نہ ہوںاس حوالے سے فنی مہارت اور تیکنیکی تعلیم فراہم کرنے کے غیر فعال اداروں کو نجی سعبے کے تعاون سے فعال بنایا جارہا ہے جو ہمارے بے روزگار نوجوانوں کو ہنر مند بناکر روزگار کے قابل بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں 15ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹرز برائے مرد اور 7ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹرز برائے خواتین صوبے کے مختلف اضلاع میں 18شعبوں میں نوجوان نسل کو ٹریننگ دے رہے ہیں۔

ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر بمقام مستونگ اور ضلع قلعہ سیف اللہ پر بھی کام تیز ی سے جاری ہے۔خوراک:میڈیم اسپیکر !جیسا کہ آپ اوراس معزز ایوان کوبخوبی علم ہے کہ گندم ہماری بنیادی ضروریات میں سرفہرست ہے اوراس کے مہنگا ہونے سے عام آدمی ب راہ راست متاثر ہوتا ہے اگرچہ حکومت اپنے کاشتکار بھائیوں سے گندم کی 100کلو کی بوری وفاقی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ امدادی نرخوں تقریباً3250روپے میں انکے گھر کی دہلیز سے خریدتی ہے لیکن چند ناگزیر اور ضمنی اخراجات مثلاخریداری کی جگہوں سے صوبے کے دوردراز علاقوں تک انکی ترسی بینکوں سے لئے گئے قرضوں پر سود کے اخراجات ،باردانے ،لوڈنگ ان لوڈنگ اوراس طرح کے دوسرے اخراجات کی وجہ سے گندم کی قیمت میں اضافہ ہوجاتا ہے لہذا گندم کی قیمت کو اعتدال پر رکھنے اور عام لوگوں کو سستے داموں گندم کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے بلوچستان کابینہ نے اس سال گندم پر 87کروڑ روپے کی سبسڈی کی منظوری دی ہے اور مزید برآں کھلی منڈی میں قیمتوں کو برقرا ر کھنے اور وفاقی حکومت کے فیصلے کی تقلید کرتے ہوئے اشیاء صرف کی دوسری چیزوں کے علاوہ رمضان پیکج کی مد میں مزید60کروڑ روپے سستے آٹے کی فراہمی کیلئے مختص کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔

میڈیم اسپیکر !گندم کو خراب ہونے سے بچانے اور طویل عرصے تک محفوظ کرنے کے لئے چند منصوبے حکومت بلوچستان کے زیر غور ہیں جس سے حکومت کو گندم خراب نہ ہونے کی صورت میں کروڑوں روپٖے کی بچت ہوگی اس سلسلے میں صوبے کے مختلف ضلعی مراکز میں نئے گوداموں کی تعمیر اور پرانے گوداموں کی مرمت اور اپ گریڈیشن کی جارہی ہے جس میں گندم کی وافر مقدار کو ذخیرہ کیا جاسکے گا اسکے علاوہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی جس کا قانون 2014میں منظور ہوچکا ہے جس کے تحت فوڈاتھارٹی کو فعال کرنے پر تیزی سے کام ہورہا ہے ۔

میڈیم اسپیکر !صوبے کو گندم میں خود کفیل کرنے کیلئے صوبے کے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی اولین ترجیح ہے اس سلسلے میں گندم کاشت کے علاقوں میں ون ونڈو آپریشن کے لئے پہلے مرحلے میں اوستہ محمد اورڈیرہ اللہ یار میں گندم خریداری کے جدید مراکز تعمیر کروانے کے لئے فنڈز مختص کئے جارہے ہیں جس میں خریدی گئی گندم کو ذخیرہ کرنے اور بعد میں دوسرے اضلاع کو منتقل کرنے کیلئے گودام کاشتکاروں کو برقت گندم کی قیمت کی ادائیگی کیلئے بینکوں کے بوتھ اور تمام سہولتیں میسر ہونگی ۔

جنگلات و جنگلی حیات:میڈیم اسپیکر !جنگلات سماجی و اقتصادی ترقی اور ماحولیات کی بہتری میں اہم کردارادا کرتے ہیں جنگلات کو محفوظ بنانے اورانکی ترقی کیلئے رواں مالی سال کے دوران شجرکاری مہم کے تحت ایک کروڑ پندرہ لاکھ پودے لگانے کا منصوبہ پایہہ تکمیل تک پہنچ گیا ہے بلوچستان میں 18 River Basinہیں ہربیسن پر اگر دس لاکھ پودے لگائے جائیں تو نہ صرف ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جاسکتا ہے بلکہ بارش میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے جس سے زیر مزین پانی کی سطح میں بہتری آسکتی ہے۔

جنگلات و جنگلی حیات کی بہتری کیلئے رواں مالی سال میں خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔جاری مالی سال 2018-19 کے دوران جنگلات کی بہتری کیلئے مختلف اضلاع میں خاطر خواہ تعداد میں نرسریاں بنائیں گئی ہیں تاکہ شجرکاری مہم کے دوران زیادہ سے زیادہ پودے میسر آسکیں علاوہ ازیں محکمے کے کام میں بہتری کیلئے غیرترقیاتی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے جس حجم 1ارب روپے کردیا گیا ہے مزید برآں مالی سال 2018-19میں 13جاری اور 6نئے منصوبوں کے لئے 12.3کروڑ روپے کے ضروری فنڈز مہیا کئے جائیں گے تاکہہ صنوبر ، تمر ، شینہ ، زیتون و چلغوزہ کے قدرتی جنگلات کی بہتری،چراگاہوں کے بہتر بندوبست ،واٹرشیڈ کے تحفظ ، جنگلی حیات کی حفاظت اور شاہراہوں کے کناروں پر شجرکاری جیسے اقدامات کئے جاسکیں۔

صوبہ بھر میں ماحول کوصاف ستھرا بنانے کے لئے وزیراعظم گرین پاکستان پروگرام کے تحت بھی شجرکاری مہم میں درخت لگانے کیلئے کثیر فنڈز مہیا کئے جارہے ہیں اس سال پہلی مرتبہ اربن فارسٹری یعنی شہروں میں مین شاہراہوں اوراوپن جگہوں پر پودے لگانے کا ہدف رکھا گیا ہے تاکہ عام لوگوں درختوں سے فائدہ اٹھاسکے اور ماحول میں بہتری آسکے اسکے علاوہ جنگلی حیات اور رینج کی بقاء کیلئے مختلف اقدامات شامل کئے گئے ہیں۔

توانائی:میڈیم اسپیکر !توانائی صوبے کی معاشی ترقی کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے موجودہ توانائی بحران نے زندگی کے تمام شعبوں پر سنگین اثرات مرتب کئے ہیں اس بحران کے خاتمے کیلئے ہماری حکومت ہرممکن کوشش کر رہی ہے خوش قسمتی سے بلوچستان توانائی خصوصاً متبادل توانائی کے وسائل سے مالا مال ہے جن سے شمسی ،ہوا اور جیوتھرمل کی وافر توانائی حاصل کی جاسکتی ہے ،ْکویت انویسٹمنٹ اتھارٹی کے اشتراک سے بوستان ضلع پشین میں شمسی توانائی کا پلانٹ لگایا جائے گا جس سے 100میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکے گی سرکاری عمارتوں کو بھی بتدریج شمسی توانائی کے نظام پر لایا جائے گا جس کیلئے (Private Investor)کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ ان عمارتوں پرسولر پلانٹ لگائیںاوراضافی بجلی یوٹیلٹی کمپنی کو فروخت کریں سولرانرجی کے آلات کو جانچنے کیلئے ایک ٹیکنیکل لیبارٹری کی تجویز ہے جس پرلاگت کا تخمینہ 38کروڑ روپے ہے نجی شعبے نے توانائی کے نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے اینگرو کارپوریشن ،زورلوانرجی ، نظام انرجی اور متعدد قومی اور بین الاقوامی کمپنیوں نے متبادل توانائی کے منصوبوں میں لیٹر آف انٹرسٹ حاصل کئے ہیں اور مجموعی طور پر 5500میگاواٹ کے ونڈ اور سولرانرجی کے منصوبوں پر کام شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اس طرح بلوچستان مستقبل میں پاکستا ن کی انرجی باسکٹ کی حیثیت اختیار کرسکتا ہے ان منصوبوں سے نہ صرف پائیدار بلکہ سستی بجلی میسر ہوگی۔

محکمہ توانائی نے پرائیویٹ بینک کے تعاون سے سرکاری ملازمین کیلئے ہوم سولر ایڈوانس کیلئے اسکیم تیار کی ہے جس سے ملازمین کو ہوم سولر سسٹم کیلئے آسان شرائط پر قرضہ دستیاب ہوگا جس سے نہ صرف لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی ہوگی بلکہ متبادل ذرائع سے توانائی حاصل کرنے کے عزم کو بڑھاؤ ملے گا اور پاکستان جوکہ مالیاتی تبدیلی کے شکار ممالک میں پہلے دس ممالک میں شامل ہے اس سے ہوا میں کاربن کی مقدار کم کرنے میں مدد ملے گی حکومت بلوچستان نے گوادر میں 50میگاواٹ سولر اور ونڈ پاور پلانٹ کی تعمیر کیلئے زمین الاٹ کی ہے جسے اگلے مالی سال میں نیشنل اور انٹرنیشنل انویسٹر کو Competative Bidding کے ذریعے الاٹ کیا جائے گا۔

صنعت و تجارت:میڈیم اسپیکر !ہماری عوامی حکومت نے صوبے میں صنعتی سرگرمیوں میں اضافے کو اپنی او لین ترجیحات میں شامل کیا ہے اس سلسلے میں انڈسٹریل اسٹیٹس کے قیام اوراس سے روزگار کے مواقع میں اضافے جیسے اقدامات شامل ہیں اسوقت صوبے کے مختلف اضلاع میں انڈسٹریل اسٹیٹس موجود ہیں جن میں کوئٹہ ،ڈیرہ مراد جمالی ،گوادر،لسبیلہ اور بوستان شامل ہیں جبکہ چمن ،خضدار ،تربت اور مسلم باغ میں منی انڈسٹریل اسٹیٹس کے قیام کیلئے کام تیزی سے جاری ہے اسوقت صوبے بھر میں سمال انڈسٹریز کے تحت کم و بیش 179سے زائد تربیتی مراکز ہیں جن میں بچوں اور بچیوں کو مختلف پیشوں میں ہنر سکھائے جاتے ہیں ان تربیتی مراکز میں سہولیات بہم پہنچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ ان مراکز سے تربیت حاصل کرنے کے بعد مقامی لوگ روایتی دستکاری کے ذریعے اپنا ر وزگار خود پیدا کرکے خود کفیل ہوں گے۔

آنے والے مالی سال 2018-19میں محکمہ صنعت و تجارت کیلئے تقریباً 1.2ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال 2017-18کے مقابلے میں تقریباً10فیصد زیادہ ہیں خضدار اور بوستان میں اسپیشل اکنامک زونز کا قیام عمل میں لایاجارہا ہے جس سے صوبے میں مزید صنعتوں کا قیام عمل میں آسکے گا اور بے روگاری میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔ چالیس سے زائد ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز کی تعمیر کا کام مکمل کرکے فعال بنادیادیا گیا ہے جہاں پر نوجوانوں کو ٹریننگ دی جائے گی جس کی بدولت بے روزگاری پر قابو پایا جاسکے گا انڈسٹریل اسٹیٹ کوئٹہ ،ڈیرہ مراد جمالی اور حب کو فعال بنادیا گیا ہے جہاں مختلف صنعتی مراکز کے قیام عمل میں لایا گیا ہے جس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں بلکہ قومی خزانے کو ریونیو بھی فراہم کیا جاتا ہے بوستان میں وفاقی حکومت کے تعاون سے کام ہورہا ہے جو عنقریب صنعتی اور اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز بنے گا۔

معلومات عامہ:میڈیم اسپیکر !معلومات عامہ کے شعبے کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا خاص طور پرآج کے اس جدید دور میں اسکی اہمیت دوچند ہوگئی ہے ہر حکومت کوعوامی مشکلات سے باخبر رہنے اور ان کے حل کیلئے معلومات عامہ کا سہارا لینا پڑتا ہے یہ شعبہ حکومت کو بروقت و بہتر تجاویز کے ذریعے مسائل حل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ چونکہ صحافت سے وابستہ افراد ہیں لہذا حکومت میڈیا اور اسکے مختلف شعبوں کی فلاح و بہبود پر مسلسل توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔

میڈیم اسپیکر !حکومت بلوچستان کبھی بھی صحافیوں کے مسائل کے حل اورانکی فلاح و بہبود سے غافل نہیں رہی ہے اس حوالے سے درج ذیل اقدامات قابل ذکر ہیں حکومت بلوچستان نے جرنلسٹ ویلفیئر فنڈ جوکہ 30ملین روپے تھا اسے بڑھا کر 200ملین روپے کردیا ہے اس رقم سے حاصل شدہ منافع صحافیوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا پریس کلب کوئٹہ جوکہ تمام عوامی و سیاسی مسائل کی شنوائی کے لئے پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے حکومت نے پریس کلب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں بھر پور معاونت فراہم کی ہے اوراسکی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے سالانہ گرانٹ 10ملین روپے سے بڑھا کر 20ملین روپے کردی گئی ہے صحافت کے شعبہ سے وابستہ ایک اہم طبقہ ’’ہاکرز‘‘ ہے ہاکرز کی فلاح و بہبود کے لئے حکومت نے کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں جس میں اخبار مارکیٹ سرفہرست ہے علاوہ ازیں ہاکرز کی فلاح و بہبود کیلئے 11ملین روپے سے فنڈز بھی قائم کیا گیا ہے ۔

ترقی نسواں:ہماری حکومت خواتین کے حقوق ،تحفظ اورفلاح و بہبود اور ترقی کیلئے کوشاں ہے تاکہ خواتین کو زندگی کے ہرشعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ لایا جاسکے اس مقصد کیلئے رواں مالی سال میں اس محکمے کے لئے نہ صرف اسامیاں رکھی گئی ہیں بلکہ اگلے مالی سال 2018-19میں اس محکمے کیلئے تقریباً 11.2کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی رکھا گیا ہے ڈائریکٹریٹ آف وومن ڈویلپمنٹ جس کا قیام 2010میں لایا گیا ہے مگرعمارت نہ ہونے کی وجہ سے یہ دفتر عارضی طور پر (Rented Building)میں کام کررہا ہے اس لئے اس مالی سال میں ڈائریکٹریٹ آف وومن ڈیویلپمنٹ کی عمارت کی تعمیر کے لئے 5کروڑ روپے کی ترقیاتی رقم مختص کی گئی ہے اس طرح وومن ڈائریکٹریٹ کے ذیلی دفترشہید بے نظیر بھٹو وومن سینٹر کوئٹہ کی عمارت کی تعمیر کیلئی2.5کروڑ روپے کی ترقیاتی رقم مختص کی گئی ہے اسکے علاوہ عورتوں کی فلاح و بہبود کیلئے ایک اسکیم متعارف کروائی جارہی ہے جسے (Women Enclave)کا نام دیا گیا ہے جس میں خواتین سے متعلق تمام سہولیات شامل ہونگی فی الحال خواتین کے ایک ہاسٹل کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس کیلئے حکومت بلوچستان نے 2.5کروڑ روپے کی ترقیاتی رقم مختص کی ہے۔

ثقافت و سیاحت:میڈیم اسپیکر ! ہماری صوبائی حکومت صوبے کی ثقافت کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات پر یقین رکھتی ہے اسی طرح اس بات سے بھی پوری طرح آگاہ ہے کہ بلوچستان میں تفریح اور سیاحت کے مواقع بہت کم ہیں آنے والی مالی سال 2018-19کیلئے محکمہ ثقافت وسیاحت کیلئے غیر ترقیاتی مد میں تقریباً 19.8کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں بلوچستان آرٹ کونسل ایکٹ2017کو نافذ کرنے کیلئے صوبائی اسمبلی سے منظور کرایا جارہا ہے صوبے میں سیاحت کے فروغ کیلئے 60سے زائد تفریحی مقامات کی نشاندہی کردی گئی ہے ادارہ برائے سیاحت کوئٹہ کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے بلوچستان آڑٹسٹ ویلفیئر فنڈ کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

نوجوانوں کیلئے روزگار اور تعلیم کے مواقع:میڈیم اسپیکر !بلوچستان پبلک سروس کمیشن جو اقربا پروری ،ذاتی پسند و ناپسند اور کرپشن کی نظر ہوچکا تھا کو کافی کوششوں کے بعد انصاف و میرٹ کی راہ پر گامزن کردیا گیا ہے ایک ایسے شخص کو بطور چیئرمین توسیع دیدی گئی ہے جس کا ماضی انصاف ،ایمانداری اور قابلیت پر مبنی فیصلوںسے بھرا پڑا ہے آئندہ بھی اس انتہائی اہم ادارے کی فعالیت اور کارکردگی بڑھانے کے لئے کسی بھی مشکل اور غیر مقبول فیصلے میں جھجک محسوس نہیں کی جائے گی۔

میڈیم اسپیکر !ہر حکومت کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ اپنے محدود وسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے عوام کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرے اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے اگلے مالی سال کے لئے 8035نئی اسامیاں پیدا کی جائیں گی جس سے براہ راست روزگار کے مواقع میسر ہونگے صوبائی حکومت کے مختلف اداروں میں موجود تربیتی اداروں مثلاًً ٹی ٹی سی ، وی ٹی سی اورسمال انڈسٹریز کے تحت کام کرنے والے اداروں میں نوجوانوں کو تربیت دی جائے گی تاکہ وہ اپنے لئے خود روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے قابل بن جائیں مزید یہ کہ تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کیلئے انٹرن شپ کا بندوبست کیا جارہا ہے اسکے علاوہ وفاقی اداروں میں وفاقی بجٹ سے ہزاروں اسامیوں پر بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بے روزگار نوجوانوں کو اہلیت اور میرٹ کی بنیاد پر روزگار فراہم کرنے کی بھر پور کوشش کی جائے گی۔

سرکاری ملازمین ،پینشنرز اور ورکرز کیلئے ریلیف اقدامات:میڈیم اسپیکر ! صوبے کی انتظامی مشینری کو چلانے ،منصوبہ سازی اور منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں سرکاری ملازمین ہمارے دست و بازو ہیں انکی مالی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے مسائل حل کرنا ہماری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ہمیں اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں موجودہ مہنگائی کے تناسب سے ناکافی ہیں لہذا اس ضمن میں حکومت بلوچستان نے اپنے سرکاری ملازمین ،پنشنرز اور ورکرز کے لئے مندرجہ ذیل ریلیف اقدامات کئے ہیں محکمہ صحت کے صوبائی سنڈیمن ہسپتال میں ٹراما سینٹر کے ڈاکٹرز اور سٹاف کیلئے پروفیشنل الاؤنس میں خاطر خواہ اضافہ کردیا گیا ہے باقی صوبوں کی طرز پر ہمارے صوبے کے ضلعی سپورٹس آفیسران کی اسامیوں کو گریڈ16سے گریڈ17میں اپ گریڈ کردیا گیا ہے جس سے سپورٹس سرگرمیوں پر مثبت اثرات مرتب ہونگے آئندہ مالی سال 2018-19میں تنخواہوں اور پنشن کے حوالے سے ہماری حکومت اپنے ملازمین اور پینشنرز کے لئے وفاقی حکومت کے اعلان کردہ طرز پراضافے کا اعلان کرتی ہے موجودہ حکومت نے ایم فل الاونس کی طرح ایم ایس ڈگری پاس کرنے والوں کو بھی 5ہزار روپے ماہانہ الاونس دینے کی منظوری دیدی ہے اسسٹنٹ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر کو گریڈ16سے گریڈ17میں اپ گریڈیشن دیدی گئی ہے محکمہ Reclamaton And Probationکے ملازمین کے ماہانہ الاونس اور تنخواہ نیشنل پالیسی 2009کے مطابق کردی گئی ہے ۔

اقلیتی امور:اقلیتوں کے بنیادی و آئینی حقوق کو تحفظ فراہم کیا جارہا ہے اقلیتوں کے پانچ فیصد کوٹہ پر سختی سے عملدرآمد کیلئے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں خلاف ورزی پر سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی بلوچستان کے اسکول کی سطح پر غیر مسلم بچوں کو اسلامیات کی بجائے اخلاقیات کا مضمون پڑھانے کے اقدامات کردیئے گئے ہیں بلوچستان کے غریب اور نادار افراد اور طلبہ و طالب ات کو گرانٹ ان ایڈ کے تحت مالی امداد اور وظائف دیئے جارہے ہیں ضلعی سطح پر Interfaith Harmony Committeesکو فعال کردیا گیا ہے جوکہ بین العقائد ہم آہنگی کے فروغ کیلئے بہت بہتر کام کر رہی ہیںہندو برادری کیلئے قانون برائے شادی رجسٹریشن بن چکا ہے جوکہ تمام اضلاع میں عملدرآمد کیلئے بھجوادیا گیا ہے جبکہ عیسائی برادری کے لئے قانون برائے شادی رجسٹریشن پر کام ہورہا ہے ۔

سماجی بہبود اور معذوروں کیلئے مراعات:معذوروں کے بنیادی و آئینی حقوق کو بھی تحفظ فراہم کیا جارہا ہے معذوروں کے لئے مختص کردہ کوٹہ پر سختی سے عملدرآمد کیلئے کام جاری ہے تمام پبلک مقامات ،شاپنگ سینٹرز وغیرہ میں اسپیشل انتظامات کے لئے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں آنے والے مالی سا