گلگت بلتستان میں اصلاحات ایک انتظامی معاملہ ہے،بھارت کے پانچ اگست کے اقدامات کی بنیاد پر نہیں ،ترجمان دفتر خارجہ

گلگت بلتستان کے عوام کی خواہشات کے مطابق اصلاحات لائی جارہی ہیں،جموں و کشمیر تنازعہ کے حوالے سے ہمارا موقف بڑا واضح ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہے، کلبھوشن یادیو کیس کے از سر جائزے تک پھانسی پر حکمٴْ امتناعی رہے گا، اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ زیر غور نہیں ہے، ہمارا موقف بالکل واضح ہے،وزیراعظم عمران خان(کل) 25 ستمبر کو جنرل اسمبلی اجلاس میں خطاب کریں گے، ہفتہ وار بریفنگ

جمعرات ستمبر 19:32

گلگت بلتستان میں اصلاحات ایک انتظامی معاملہ ہے،بھارت کے پانچ اگست ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 ستمبر2020ء) ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں اصلاحات ایک انتظامی معاملہ ہے،بھارت کے پانچ اگست کے اقدامات کی بنیاد پر نہیں ،گلگت بلتستان کے عوام کی خواہشات کے مطابق اصلاحات لائی جارہی ہیں،جموں و کشمیر تنازعہ کے حوالے سے ہمارا موقف بڑا واضح ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہے، کلبھوشن یادیو کیس کے از سر جائزے تک پھانسی پر حکمٴْ امتناعی رہے گا، اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ زیر غور نہیں ہے، ہمارا موقف بالکل واضح ہے،وزیراعظم عمران خان(کل) 25 ستمبر کو جنرل اسمبلی اجلاس میں خطاب کریں گے۔

جمعرا ت کو ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ کرونا کی وجہ سے پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کا اجلاس ورچوئل ہو رہا ہے وزیراعظم اور وزیر خارجہ ورچوئلی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں وزیراعظم (کل) 25 ستمبر کو جنرل اسمبلی اجلاس میں خطاب کریں گے۔

(جاری ہے)

ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ابھی بھی غیر قانونی محاصرہ جاری ہے ،پاکستان نے 18 جولائی کو تین کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوںنے کہاکہ دو ماہ گزر جانے کے بعد بھارتی فوج نے اپنے بیان میں تین کشمیری نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل کا اعتراف کیا ہے،پاکستان سمجھتا ہے کہ بھارتی فوج کا بیان مظالم اور جرائم کا اعتراف ہے، بھارتی فوج کے سنگین جنگی جرائم کا جوڈیشل انکوائری کے تحت تحقیقات ہونی چاہیے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کالے قوانین کا خاتمہ کرے ،پاکستان مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تناسب میں تبدیلی کی کوششوں کو یکسر مسترد کرتا ہے ۔

انہوںنتے کہاہک بھارت کا کوئی غیر قانونی قدم قابل قبول نہیں،جون سے لیکر اب تک بھارت نے ہزاروں جعلی ڈومیسائل جاری کئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ترک صدر کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں، پاکستان کی طرف سے بار بار کہنے کے باوجود بھارت نے اب تک جودھ پور میں گیارہ پاکستانی ہندوؤں کے قتل کی تحقیقات سے آگاہ نہیں کیا،بھارت جانے والے ہندووں کی سیکیورٹی کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

انہوںنے کہاکہ کرتارپور راہداری صرف اور صرف سکھوں کے مذہبی جذبات کے پیشِ نظر کھولا گیا،اب دوبارہ ایس او پیز کے تحت کرتارپور کھول دیا گیا ہے،بھارت میں دیگر تفریحی مقامات کھولے جا رہے ہیں مگر کرتارپور بند ہے،بھارت کی جانب سے ایل او سی پر کلسٹر اسلحہ اور پیلٹ گنز کا استعمال غیر قانونی اور بین الاقوامی کنونشنز کے منافی ہے،اس قسم کے اسلحہ کا استعمال ممنوعہ اور انسانی حقوق کے خلاف ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ہم نے جے سی پی او اے پر امریکی و دیگر بیانات دیکھے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ جے سی پی او اے سفارتی طریقہ سے مسائل کے حل کی مثبت کوشش ہے،پاکستان اور افغانستان کے درمیان دشوار گزار بارڈر ہے، اسی لئے بارڈر پر باڑ لگانے کا فیصلہ کیا گیا، حکومت پاکستان جلد باڑ لگانے کا عمل مکمل کرنا چاہتی ہے،افغانستان کو بارہا باور کرایا گیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہئے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں القاعدہ کا کوئی وجود نہیں ، القاعدہ کے حوالے سے بھارتی زرائع ابلاغ کے پاکستان پر بے بنیاد الزامات پراپیگنڈا ہیں، پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے سائبر کرائمز کے حوالے سے بھرپور کارروائیاں کرتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ کلبھوشن جادیو کا معاملہ عدالت میں ہے،پاکستان نے کمانڈر کلبھوشن جادیو کے حوالے سے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد کیا ہے،کیس کے از سر جائزے تک پھانسی پر حکمٴْ امتناعی رہے گا ،عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے تحت کیس کا ازسرنو جائزہ لیا جارہا ہے ۔

ترجمان نے واضح کیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ زیر غور نہیں ہے،ہم دو ریاستی حل کے حامی ہیں، فلسطین کی آزاد ریاست جس کا القدس الشریف دارالحکومت ہو چاہتے ہیں۔