ئ*ضمنی انتخابات: 13 نشستوں پر غیر سرکاری نتائج جاری، مسلم لیگ (ن) نے میدان مار لیا

oاین اے 143 ساہیوال سے مسلم لیگ ن کے محمد طفیل جٹ کامیاب، وزیرِ اعظم کی مبارکباد،این اے 129 لاہور میں،حافظ نعمان کی برتری برقرار،این اے 18 ہری پور میں آزاد امیدوار شہرناز عمر ایوب کی سبقت xپی پی 203 ساہیوال سے مسلم لیگ ن کے چوہدری محمد حنیف جٹ کامیاب ًضمنی انتخابات میں پولنگ پٴْرامن، پنجاب بھر میں 20 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات تھے

اتوار 23 نومبر 2025 23:30

ﷺاسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 نومبر2025ء) قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کی 13 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج جاری کردیئے گئے ۔ ابتدائی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کو برتری حاصل جبکہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 143 ساہیوال سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار محمد طفیل جٹ کامیاب قرار پائے ہیں۔

این اے 143 ساہیوال میں 442 پولنگ اسٹیشنز کے تمام غیر سرکاری، غیر حتمی نتائج موصول ہونے کے بعد محمد طفیل جٹ کی کامیابی کی تصدیق ہوئی۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ جیت قائد میاں نواز شریف کے ویژن، ان کی قیادت اور پارٹی کارکنان کی محنت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی پنجاب بھر میں ترقیاتی کاوشوں پر عوام نے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

(جاری ہے)

این اے 129 لاہور ریٹرننگ افسر کے مطابق 200 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج مکمل ہوچکے ہیں۔حافظ محمد نعمان (مسلم لیگ ن): 38,252 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ارسلان احمد (آزاد): 17,047 ووٹ ٹرن آؤٹ 11.32 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔این اے 185 ڈیرہ غازی خان کے غیر سرکاری نتائج کے مطابقمسلم لیگ ن 27,941 ووٹ پیپلز پارٹی 13,624 ووٹ این اے 18 ہری پور257 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق ٴآزاد امیدوار شہرناز عمر ایوب:** 83,732 ووٹ بابر نواز خان (ن لیگ):** 57,610 ووٹ لئے پی پی 203 ساہیوال کے ۴ غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق چوہدری محمد حنیف جٹ (ن لیگ): 46,820 ووٹ فلک شیر ڈوگر (آزاد): 10,975 ووٹ مسلم لیگ ن کے امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں۔

واضح رہے ضمنی انتخابات ان نشستوں پر کرائے گئے جو بنیادی طور پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اٴْن اراکین کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھیں جنہیں 9 مئی 2023 کے واقعات میں ملوث ہونے پر سزائیں سنائی گئی تھیں۔پنجاب بھر میں ضمنی انتخابات کے دوران 20 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات رہے حساس ترین پولنگ اسٹیشنز پر پاک فوج کے اہلکار بیرونی سیکیورٹی پر مامور رہے الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق فوج نے تیسرے درجے کے رسپانس فورس کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھائیںفوج اور پولیس اہلکاروں کو واضح ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ ووٹرز کے تحفظ اور پٴْرامن ماحول یقینی بنانے پر توجہ دیں اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کا بروقت جواب دیں، جبکہ ووٹرز کو داخلے سے روکنے کا کوئی اختیار ان کے پاس نہیں تھا سوائے ممنوعہ اشیا یا خطرناک سرگرمی کی نشاندہی کے۔