ٹرمپ ٹیرفس، بند سرحدیں اور تعطل کا شکار جنوبی ایشیائی تجارت

DW ڈی ڈبلیو اتوار 29 مارچ 2026 13:00

ٹرمپ ٹیرفس، بند سرحدیں اور تعطل کا شکار جنوبی ایشیائی تجارت

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 29 مارچ 2026ء) پاکستانی سوٹ، شرارے اور غرارے خاص طور پر ان خاندانوں میں بے حد مقبول ہیں، جہاں شادی کی تیاریاں کی جا رہی ہوں۔ مریم کہتی ہیں، ''خواتین، خاص طور پر دلہنیں، پاکستانی شراروں، اور غراروں کے لیے بڑی رقم ادا کرنے کو تیار ہوتی ہیں۔‘‘

طالبان نے افغانستان کو بھارت کی کالونی میں تبدیل کر دیا ہے، پاکستانی وزیر دفاع کا الزام

مریم ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے اس کاروبار سے وابستہ ہیں۔

ان کے مطابق اگر یہ ملبوسات براہ راست واہگہ اٹاری کی پاک بھارت سرحد کے ذریعے بھارت آتے تو لاگت کہیں کم ہوتی، مگر اب یہ دبئی کے راستے درآمد کیے جاتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ''اگر براہ راست تجارت ممکن ہوتی، تو قیمت بھی کم ہوتی اور فائدہ بھی گاہک تک منتقل کیا جا سکتا تھا۔

(جاری ہے)

‘‘

مہنگا اور پیچیدہ کاروبار

بھارتی ٹی وی ڈراموں اور تفریحی شوز نے پاکستانی فیشن کی مانگ میں اضافہ کیا ہے، لیکن کسی واضح اور مستقل تجارتی پالیسی کے فقدان نے اس طلب کو ایک مہنگے اور پیچیدہ کاروبار میں بدل دیا ہے۔

اسی کہانی کا دوسرا رخ جودھ پور میں نظر آتا ہے، جہاں راجیو شرما برسوں سے ہاتھ سے بنے فرنیچر اور ہینڈی کرافٹس امریکی منڈی کو برآمد کرتے رہے ہیں۔

مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ''پہلے ہمارے آرڈرز مہینوں پہلے بک ہو جاتے تھے۔ اب خریدار قیمتوں پر دوبارہ بات کرتے ہیں، آرڈر کم کر دیتے یا مؤخر کر دیتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عائد کردہ امپورٹ ٹیرفس نے پوری منڈی کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

‘‘

امریکہ کی نئی ٹیرف پالیسیوں نے جنوبی ایشیائی برآمدکنندگان، خاص طور پر ٹیکسٹائل اور ہینڈی کرافٹس کے شعبوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ کم ہوتے ہوئے بزنس آرڈرز، بڑھتی ہوئی لاگت اور غیر یقینی طلب نے پورے کاروبار کو ہی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

یہ صورتحال ایک بڑے تضاد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جب عالمی منڈیاں بے یقینی کا شکار ہوں تو قریبی علاقائی تجارت ایک سہارا بن سکتی ہے۔

مگر جنوبی ایشیا میں یہ امکان بھی مسلسل نظر انداز ہوتا رہا ہے۔

بھارت نے پہلی انسداد دہشت گردی پالیسی 'پراہار‘ جاری کر دی

اعداد و شمار کے مطابق جنوبی ایشیائی ممالک کی باہمی تجارت دنیا کے دیگر خطوں کے ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ یورپی یونین اور آسیان کے خطوں نے تو جغرافیائی قربت کو اپنی اپنی معاشی طاقت میں تبدیل کر لیا تاہم جنوبی ایشیا میں یہی قربت ایک ادھورا موقع بنی ہوئی ہے۔

ایک ادھورا موقع: واشنگٹن سے ملنے والا اشارہ

پاکستان کے ایک سابق سفارت کار جلیل عباس جیلانی بتاتےہیں کہ 2014 میں بھارت اور پاکستان ایک تجارتی معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تجارتی پہل اس وقت اچانک رک گئی تھی، جب 2014 کے شروع میں نریندر مودی کے ایک قریبی نمائندے نے ان کے دفتر کا دورہ کیا تھا۔

تب بھارت میں عام انتخابات ہونے والے تھے اور نریندر مودی اپوزیشن اتحاد یعنی این ڈی اے کے وزارت اعظمیٰ کے لیے امیدوار تھے۔

جلیل عباس جیلانی کے بقول اس شخص کا پیغام انتہائی واضح تھا: ''تجارتی معاہدے پر دستخطوں کو فی الحال مؤخر کر دیا جائے۔‘‘

جیلانی کے مطابق اس نمائندے نے دلیل دی تھی کہ اگر اس وقت پاکستان نے معاہدے پر دستخط کیے، تو اسے بھارت کے انتخابات میں پاکستان کی جانب سے کانگریس پارٹی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش سمجھا جائے گا۔

مودی کی مہم میں یہ تاثر دیا جا سکتا تھا کہ پاکستان کانگریس کو مضبوط کر رہا ہے۔ تب چونکہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت اپنی مدت پوری کر رہی تھی، اس لیے مودی کے کیمپ کی جانب سے یہ تجویز دی گئی تھی کہ سیاسی طور پر دانشمندی یہی ہوگی کہ نئی دہلی میں آنے والی نئی حکومت (جو تب ممکنہ طور پر بی جے پی کی ہونا تھی) کو یہ معاہدہ باضابطہ طور پر طے کرنے دیا جائے، تاکہ اس کا سہرا اس کے سر بندھے اور یوں یہ دہلی میں نئی بھارتی حکومت کے لیے بھی ایک مثبت آغاز ثابت ہو۔

اسلام آباد دھماکہ: پاکستان کا بھارت-افغان گٹھ جوڑ پر الزام

جلیل عباس جیلانی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ انہوں نے یہ پیغام اسلام آباد پہنچا دیا تھا۔ پاکستانی حکام نے نئی دہلی میں اپنے ہائی کمشنر کے ذریعے اس مذکورہ نمائندے کے حوالے سےتصدیق کی اور پھر اس امید پر دوطرفہ معاہدے کو ٹال دیا کہ نریندر مودی اقتدار میں آ کر پاکستان کے ساتھ تعلقات کا ایک مثبت اور تعمیری دور شروع کریں گے۔

مگر پھر مودی مئی 2014 میں اقتدار میں تو آ گئے، تاہم وہ تجارتی بحالی جس کا خواب دکھایا گیا تھا، کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکی۔

سافٹا: وعدہ کاغذ پر، لیکن جمود عملی

جنوبی ایشیائی آزاد تجارتی معاہدہ (سافٹا) ایک تصور کے طور پر اپنی افادیت میں ابتدا میں اسی امید کے ساتھ متعارف کرایا گیا تھا کہ اس کی مدد سے خطے میں تجارتی رکاوٹیں کم ہوں گی اور علاقائی ممالک کا ایک دوسرے کے ساتھ اقتصادی اشتراک عمل بڑھے گا۔

مگر دو دہائیاں گزر جانے کے باوجود یہ معاہدہ اپنے جملہ امکانات کے مطابق ابھی تک عملی صورت اختیار نہیں کر سکا۔

بلوچستان میں 145 ’بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں‘ کو ہلاک کر دیا، پاکستان

بھارتی انسٹیٹیوٹ آف فارن ٹریڈ کی ریسرچر دھرتی مکھرجی پپیل کے مطابق، ''جنوبی ایشیا عالمی تجارت میں سب سے بڑا تضاد ہے، جہاں جغرافیائی قربت کو تجارتی انضمام میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔

‘‘

2006 میں سارک کے تحت شروع ہونے والے اس ماڈل کی سوچ یورپی یونین اور آسیان سے متاثر تھی۔ اس کا مقصد محصولات کو کم کر کے صفر سے پانچ فیصد تک لانا تھا، مگر عملی طور پر یہ اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے۔ اس کے نتیجے میں ریجینل ویلیو چینز بھی ابھی تک تشکیل نہیں پا سکیں۔

رکاوٹوں کی وجہ سرحدیں یا ذہنیت؟

جنوبی ایشیا میں علاقائی تجارت کی راہ میں بڑی رکاوٹیں سرحدیں نہیں بلکہ پالیسیوں میں بے یقینی اور سیاسی عدم اعتماد ہیں۔

فوڈ سکیورٹی، اسٹریٹیجک خدشات اور داخلی سیاست، ایسے سبھی عوامل اکثر تجارت پر غالب آ جاتے ہیں۔

ورلڈ بینک کے مطابق خطے کی تجارت میں سرحدوں پر کارروائی کی تکمیل کے لیے وقت کا دورانیہ مشرقی ایشیا کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ پیچیدہ ضوابط اور منظوری کے طویل مراحل بھی اخراجات اور خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔

فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس کے ڈائریکٹر جنرل جیوتی وِج کہتے ہیں، ''ضوابط کی پیچیدگی اور پالیسیوں کی غیر یقینی فضا مل کر کاروبار کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔

‘‘

پاک بھارت کشیدگی کے اقتصادی اثرات

پلوامہ میں حملے اور آرٹیکل 370 کی منسو خی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارت تقریباً معطل ہو گئی۔ بھارت نے پاکستان سے درآمدات پر 200 فیصد ڈیوٹی عائد کی، جبکہ پاکستان نے تجارت روک دی۔

اس کے نتیجے میں جو تجارتی سامان پہلے چند گھنٹوں میں سرحد پار پہنچتا تھا، اب اسے دبئی یا کولمبو کے ذریعے طویل اور مہنگے راستوں سے گزارنا پڑتا ہے۔

2018 میں دو طرفہ تجارت 2.41 بلین ڈالر تھی، جو اب نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے۔

پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی پابندی 24 فروری تک بڑھا دی

سینئر صحافی رنجیت کمار کے مطابق، ''اگر بھارت واقعی ایک عالمی اقتصادی طاقت بننا چاہتا ہے تو اسے اپنے پڑوسیوں کو سکیورٹی کے بجائے معاشی شراکت داری کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔

‘‘

سبق کیا سیکھا جا سکتا ہے؟

جنوبی ایشیائی ممالک کے لیے مغربی منڈیوں تک رسائی مہنگی ضرور ہے، مگر وہاں کی پالیسیوں کا استحکام انہیں زیادہ قابل اعتماد بنا دیتا ہے۔ اس کے برعکس علاقائی تجارت کسی بھی وقت خطے میں سیاسی کشیدگی کی نذر ہو سکتی ہے۔

پاکستان کے شہر کراچی میں بحریہ یونیورسٹی کی پروفیسر سدرہ احمد کہتی ہیں، ''علاقائی سیاسی استحکام براہ راست معاشی مفادات سے جڑا ہوا ہے۔

اگر خطے کے ممالک اسے نظر انداز کریں گے، تو عدم استحکام بڑھتا ہی جائے گا۔‘‘

پاکستان سے کہا ہے ’ڈرونز کے ذریعے مداخلت‘ بند کرے، بھارتی آرمی چیف

عالمی سطح پر یورپی یونین اور آسیان کے خطے دونوں نے دکھا دیا ہے کہ ماضی میں دشمن رہنے والے ممالک میں بھی معاشی انحصار کے ذریعے تعاون ممکن ہے۔ اس لیے بھی کہ جنوبی ایشیا کا مسئلہ وسائل یا منڈیوں کی کمی نہیں، بلکہ اعتماد کی کمی اور پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان ہیں۔

ماہرین کے بقول جنوبی ایشیائی ممالک نے اگر اپنی تجارت کو سیاسی اتار چڑھاؤ سے الگ نہ کیا اور کوئی واضح اور مسلسل قابل عمل ضوابط طے نہ کیے، تو یہ خطہ عالمی معیشت میں پیچھے رہ جائے گا۔

یہ فیصلہ صرف جنوبی ایشیائی ممالک کے رہنما خود ہی کر سکتے ہیں کہ جنوبی ایشیا آئندہ ایک علاقائی اقتصادی طاقت بنے گا یا مستقل محرومی کا شکار خطہ۔

ادارت: مقبول ملک