حکومت اپوزیشن کے جلسہ میں رکاوٹ نہیں کھڑی کرے گی، یہ لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں،

آرگنائزرز اور کرسیاں دینے والوں کے خلاف مقدمات درج ہوں گے،وزیراعظم عمران خان نجی ٹی وی کوخصوصی انٹرویو

ہفتہ دسمبر 22:49

حکومت اپوزیشن  کے جلسہ میں  رکاوٹ نہیں کھڑی کرے گی، یہ لوگوں کی زندگیوں ..
اسلام آباد۔5دسمبر  (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 دسمبر2020ء) :وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت اپوزیشن  کے جلسہ میں  رکاوٹ نہیں کھڑی کرے گی، یہ لوگ کورونا کی صورتحال میں اپنی چوری بچانے کیلئے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، آرگنائزرز اور کرسیاں دینے والوں کے خلاف مقدمات درج ہوں گے، اپوزیشن جماعتوں کو ملک کے ایشوز میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، یہ لوگ صرف چاہتے ہیں کہ میں ان کو این آر او دے دوں،یہ جو مرضی کر لیں انہیں این آراو نہیں دوں گا، پاکستان کو عظیم قوم بنانا میرا آخری مشن ہے، پاکستان کو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر کھڑا کرنا اور اسے فلاحی ریاست بنانا میرا خواب ہے، ملک میں انصاف کا ایک نظام ہو تاکہ طاقتور اور کمزور قانون کے سامنے برابر ہوں، یہ نہیں کہ طاقتور کو این آر او دو اور کمزوروں کو جیلوں میں ڈالو، کبھی شک نہیں ہوا کہ ہم کامیاب نہیں ہوں گے، ملکوں کو قوم اٹھاتی ہے، 22 کروڑ میں سے صرف 15 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں، لوگ ٹیکس دیں گے تو ملک ترقی کرے گا اور ہم پاکستان کو دنیا کیلئے مثال بنائیں گے، ہم وہ قوم بنے گی دنیا دیکھے گی،  اپوزیشن سمجھتی ہے کہ میں ان کے جلسوں سے دبائو میں آ جائوں گا ان کی غلط فہمی ہے،  ، مجھے اگر کرسی چھوڑنی پڑی چھوڑ دوں گا لیکن بدعنوان عناصر کو این آر او دے کر ملک کے ساتھ اتنی بڑی غداری نہیں کر سکتا، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے دور حکومتوں کے دوران ملک کا قرضہ 6 ہزار ارب ڈالر سے 30 ہزار ارب ڈالرز تک پہنچا، قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی سے ملک پر بوجھ بڑھا، جھوٹ بول کر ملک سے فرار ہونے والے دندناتے پھر رہے ہیں، کچھ صحافی ہائیکورٹ گئے کہ نواز شریف کو تقریر کرنے کا موقع دیا جائے، یہ اربوں روپے لوٹنے والوں کو آزادی اظہارے رائے کا نام دے رہے ہیں، ایسی سوچ سے معاشرے کو نقصان پہنچ رہا ہے، مغربی میڈیا کرپٹ افراد کے خلاف وہ کرتا ہے جو اسحاق ڈار کے ساتھ ہوا، ماضی میں کراچی، بلوچستان، فاٹا اور گلگت بلتستان کو نظرانداز کیا گیا، حکومت اپوزیشن کو جلسہ کرنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں کھڑی کرے گی، یہ لوگ کورونا کی صورتحال میں اپنی چوری بچانے کیلئے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، آرگنائزرز اور کرسیاں دینے والوں کے خلاف مقدمات درج ہوں گے، موجودہ حکومت کراچی سمیت بلوچستان، فاٹا اور گلگت بلتستان کی ترقی کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے، گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دینے پر کام ہو رہا ہے، حکومت ملک میں یکساں نصاب تعلیم پر کام کر رہی ہے، یہ نظام 70 سال پہلے لاگو ہونا چاہیے تھا، کوشش ہے کہ اگلے سال ملک بھر میں یکساں تعلیمی نظام شروع ہو جائے، موبائل فون سے بچوں میں منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، بدقسمتی سے ملک میں جنسی جرائم بڑھ رہے ہیں، بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو عبرتناک سزائیں دیں گے، نبی کریم ؐکے علاوہ کسی کو رول ماڈل نہیں سمجھتا، ہمیں ان کی زندگی سے سیکھنا چاہیے۔

(جاری ہے)

ہفتہ کو نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا بڑا مسئلہ آمدنی اور خرچ میں خسارہ ہے، یہ دو سالوں کا نہیں بلکہ گزشتہ چالیس پچاس سال کا مسئلہ ہے، ن لیگ کے پانچ سالہ دور میں برآمدات پانچ فیصد کم اور درآمدات 60 فیصد بڑھیں، جب برآمدات اور درآمدات کا اتنا بڑا فرق ہو تو ایسے کون سا ملک آگے بڑھ سکتا ہے، سنگاپور کی آبادی 50 لاکھ ہے اور اس کی برآمدات 323 ارب ڈالر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کیلئے پہلے دو سال مشکل تھے لیکن اب ملک کا رخ مڑ رہا ہے، گزشتہ 50 سالوں میں پہلی مرتبہ ہمارا ملک انڈسٹریلائزیشن کی طرف جا رہا ہے،گزشتہ 17 برس بعد پاکستان کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ گزشتہ چار ماہ سے سرپلس میں جا رہا ہے اور برآمدات 25 فیصد تک پہنچ گئی ہیں، جو لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم نے دو سالوں میں کیا کیا، ان کو بتاتے ہیں کہ ہم نے یہ کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 22 کروڑ آبادی میں سے صرف 15 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں، ڈھائی کروڑ ایسے لوگ ہیں جن کے پاس دو دو گاڑیاں ہیں اور بڑے بڑے مکانات ہیں لیکن وہ ٹیکس نہیں دیتے، ملک کو قوم اٹھاتی ہے، جب لوگ ٹیکس ہی نہیں دیں گے تو حکومت انہیں کیسے سہولت دے گی، اگر لوگ ٹیکس دینا شروع کر دیں تو نہ صرف ملک اوپر اٹھے گا بلکہ ہمارے زیادہ تر مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میرا مقصد پاکستان کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنا ہے، دوسرے ملکوں سے پیسے مانگنا مشکل ہوتا ہے، میں نے اپنی ذات کیلئے اپنے والد سے کبھی پیسے نہیں مانگے، جب ایک ملک کا سربراہ دوسرے ممالک سے قرضہ لینے جاتا ہے تو اس سے ملک کا وقار نیچے چلا جاتا ہے، پاکستان میں بہت پوٹینشل موجود ہے لیکن بدقسمتی سے ماضی میں معدنیات پر توجہ نہیں دی گئی، سوئٹزرلینڈ سالانہ80 ارب ڈالر صرف سیاحت سے کماتا ہے، ہمارے شمالی علاقے سوئٹزرلینڈ پلس ہیں اور زیادہ خوبصورت ہیں، اگر ہم صرف سیاحت کو ٹھیک کر لیں تو لاکھوں ڈالرز کما سکتے ہیں، چین کے ساتھ مل کر زراعت کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ سی پیک اسپیشل اکنامک زونز اور آئی ٹی پارکس بنا رہے ہیں، ملک استحکام کی جانب گامزن ہے، جسطرح 60 کی دہائی میں پاکستان اوپر جا رہا تھا اب اسی طرح دوبارہ اوپر اٹھے گا۔

انہوں نے کہا کہ  جو لوگ معاشرے کی اصلاح کرتے ہیں ان کا بڑا نام ہوتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب وزیراعظم بنا تو تمام صوبوں کے آئی جیز کو بلایا، کرائم چارٹ دیکھ کر دکھ ہوا کہ ملک میں جنسی جرائم تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں، بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی اور زیادتی کے بعد قتل کے واقعات بڑھ رہے ہیں، ان لوگوں کو عبرتناک سزائیں دیں گے، یہ جرائم صرف سزا سے ہی ختم نہیں ہوں گے بلکہ پورے معاشرے کو کردار ادا کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ موبائل فون نے معاشرے میں تباہی مچا دی ہے اور اس سے بچوں میں منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، بچے موبائل پر ایسی چیزیں دیکھ رہے ہیں جن کا تصور بھی نہیں کیا جاتا، معاشرے کی تربیت کیلئے ترکی کا ڈرامہ ارطغرل نشر کروایا جس میں اسلامی اقدار ہیں، میڈیا کے لوگوں کو انگیج کرنے کیلئے کوشش کر رہے ہیں، کوشش ہے کہ میڈیا کے ذریعے معاشرے کی اخلاقیات اوپر لیکر جائیں، اخلاقی ترقی کرنے والا معاشرہ ہی اوپر جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں تین قسم کا تدریسی نظام ہے، انگلش، اردو میڈیم اور دینی مدارس میں الگ الگ کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، موجودہ حکومت ملک بھر میں یکساں تعلیمی نصاب کیلئے کوششیں کر رہی ہے، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اس حوالے سے سخت محنت کی ہے اور ہماری کوشش ہے کہ اگلے سال سے ملک میں یکساں تعلیمی نظام لا ہو جائے، یہ کام 70 سال پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نواز شریف جھوٹ بول کر بیرون ملک بھاگ گئے اور دندناتے پھر رہے ہیں، کئی صحافی ہائیکورٹ چلے گئے کہ نواز شریف کو تقریر کرنے کی اجازت دیں، اربوں روپے لوٹنے والوں کو آزادی اظہار رائے کا نام دیا جا رہا ہے جس سے معاشرے میں اچھا پیغام نہیں جا رہا، سنگاپور کے وزیراعظم نے اقتدار میں آنے کے بعد معاشرے سے کرپشن کا خاتمہ کیا، صرف احتساب کر کے ہم کرپشن کا خاتمہ نہیں کر سکتے اس کیلئے معاشرے کو کردار ادا کرنا پڑے گا، مغربی میڈیا میں کرپٹ افراد کے خلاف وہ کیا جاتا ہے جو اسحاق ڈار کے ساتھ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ میں اپوزیشن قومی ایشوز پر تیاری کر کے آتی ہے، بریگزٹ ایشو پر تین سال بحث ہوئی، بدقسمتی سے پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کو ملک کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ پہلے ہماری کرپشن معاف کریں پھر آگے بڑھیں گے، پارلیمنٹ پھر کیسے چل سکتی ہے، اپوزیشن جماعتوں کے سارے سوالوں کے جواب دینے کو تیار ہوں، اپوزیشن کو معیشت سمیت کورونا وبا پر قابو پانے کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے تھا لیکن یہ لوگ صرف اپنی چوری بچانے میں لگے ہوئے ہیں، اپوزیشن کے جلسوں سے دبائومیں نہیں آئوں گا، یہ لوگ جو مرضی کر لیں انہیں کسی صورت میں این آر او نہیں دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ تیس سال سے حکومتوں میں رہنے والوں نے اربوں روپے کی جائیدادیں بنائیں لیکن ابھی تک کوئی دستاویزات نہیں دیں، میرا کوئی پبلک آفس نہیں تھا پھر بھی 40 سال پرانی منی ٹریل دی، اپوزیشن نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) قانون سازی کے دوران نیب قانون میں ترامیم کیلئے این آر او ٹرپل پلس مانگا تھا،  نواز شریف کے خلاف حدیبہ کیس اوپن اینڈ شٹ کیس تھا اور زرداری کے خلاف سوئس بینکوں اور سرے محل کیسز معاف ہوئے، میں کرسی چھوڑ دوں گا لیکن ان کی کرپشن معاف نہیں کروں گا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے دور حکومتوں کے دوران ملک کا قرضہ 6 ہزار ارب ڈالر سے 30 ہزار ارب ڈالرز تک پہنچا، اب قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی کی وجہ سے ملک پر بوجھ بڑھا ہے، یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے کیسز معاف کر دیئے جائیں، بدعنوان عناصر کو معاف کرنے سے قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کورونا کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے اپنے جلسے منسوخ کئے، ریسٹورنٹس، شادی ہالز اور تعلیمی ادارے بند کر دیئے ہیں، یہ لوگ اپنی چوری بچانے کیلئے انقلابی بننے کی کوشش کر رہے ہیں، جس جس نے عوام کا پیسہ لوٹا ہے قوم سب جانتی  ہے، قانون توڑنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا فیملی نظام ہماری بہت بڑی طاقت ہے، پہلے غلامی اور اب ذہنی غلامی کا دور ہے، مغرب میں زبردست فلاحی نظام ہے، وہاں پر غریب کو تعلیم، صحت، قانونی معاونت اور بے روزگاری الائونس دیا جاتا ہے، ہمارا خاندانی نظام ہماری طاقت ہے، اگر کوئی ایک بے روزگار ہو جاتا ہے تو پوری فیملی مل کر اس کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری زندگی کا تجربہ باقیوں سے مختلف ہے، باہر جا کر پاکستان اور مغرب کے کلچر کے فرق کو سمجھنے کا موقع ملا، فاسٹ بائولر بننا چاہتا تھا کہا گیا کہ نہیں بن سکتا، شوکت خانم ہسپتال بنانا چاہا تو کہا گیا کہ نہیں بن سکتا، پرائیویٹ یونیورسٹی کی بات کی تو کہا گیا کہ نہیں بن سکتی، میں ہمیشہ اپنی زندگی کا جائزہ لیتا ہوں اسلئے کامیاب ہوں، جب آپ ایک خواب کے پیچھے جاتے ہیں تو اس کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ کشتیاں جلا کر جائیں، کوئی پلان بھی نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مغرب میں پاپ اسٹارز نے منشیات کو فیشن بنایا جس کی وجہ سے ان کا فیملی نظام تباہ ہوا، ہمیں علامہ اقبال کی تعلیمات کی طرف جانا ہو گا، القادر یونیورسٹی میں روحانیت اور تصوف کی تعلیم دی جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بلوچستان، گلگت بلتستان اور فاٹا پیچھے رہ گئے، کراچی کی عجیب صورتحال ہے، سندھ میں جو جماعت حکومت میں آتی ہے وہ اندرون سندھ سے ووٹ لیتی ہے، صرف اپنے ووٹ بینک کیلئے ادھر ہی سارا فوکس رکھتی ہے، اختیارات ہمارے پاس نہیں ہیں، وفاق سے پیسہ صوبوں کے پاس چلا جاتا ہے، وفاقی حکومت نے کراچی کے مسائل حل کرنے کیلئے تاریخی پیکیج کا اعلان کیا ہے، وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر اس پر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت بلوچستان کی ترقی پر بھی توجہ دی رہی ہے، تربت کیلئے بڑا پیکیج لائے ہیں، اس کے علاوہ گلگت بلتستان کو صوبائی درجہ دینے پر کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں شوکت خانم ہسپتال بنانے کیلئے نکلا تو دوستوں نے حوصلہ افزائی کی لیکن مالی تعاون نہ کیا، پھر جب میں عوام میں نکلا تو سکول کے بچوں سمیت قوم نے ساتھ دیا جس سے بڑا انقلاب آیا، پیسے بنانے والوں کا تاریخ میں ذکر نہیں ہوتا، جو کوئی انسانیت کیلئے کام کرتا ہے تاریخ اسے یاد رکھتی ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments