ض* کراچی، ہم صوبہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات مارچ 2022 چاہتے ہیں، صوبائی وزراء

۷ مردم شماری پر ہمارے آج بھی تحفظات ہیں لیکن جوائنٹ سیشن میں جس طرح مردم شماری کے سندھ کے تحفظات کے باوجود منظوری دی گئی، ہم تمام تحفظات کے باوجود بلدیاتی انتخابات کروا رہے ہیں اور اس حوالے سے آج ایوان میں نیا بلدیاتی قانون بھی منظور کرایا ہے جو الیکشن کمیشن کی ڈیمانڈ تھی،زیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ اور وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی کی پریس کانفرنس

جمعہ 26 نومبر 2021 21:00

) کراچی(آن لائن) وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ اور وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ہم صوبہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات مارچ 2022 چاہتے ہیں۔ مردم شماری پر ہمارے آج بھی تحفظات ہیں لیکن جوائنٹ سیشن میں جس طرح مردم شماری کے سندھ کے تحفظات کے باوجود منظوری دی گئی، ہم تمام تحفظات کے باوجود بلدیاتی انتخابات کروا رہے ہیں اور اس حوالے سے آج ایوان میں نیا بلدیاتی قانون بھی منظور کرایا ہے، جو الیکشن کمیشن کی ڈیمانڈ تھی۔

اپوزیشن جماعتیں ایوان میں آکر روایتی طریقے کا اپنا رہی ہیں جبکہ اس قانون کے لئے ہم نے تحریک انصاف، ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کی تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا ہے، نسلہ ٹاور پر سپریم کورٹ اور معزز چیف جسٹس کے احکامات پر عمل درآمد کیا جارہا ہے البتہ اس کی این او سی اس وقت کی مقامی حکومتوں نے دی تھی۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز سندھ اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا کارنر پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل حلقہ بندیوں کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی جانب سے قوانین کے لئے مختصر وقت کے بعد آج اسمبلی میں بلدیاتی قانون کو منظور کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون میں ہم نے بلدیاتی اداروں کو مزید فعال اور اختیارات دینے کے غرض سے اقدامات کئے ہیں اور تمام اسٹیک ہولڈرز اور سیاسی جماعتوں بشمول پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور دیگر سے اس سلسلے میں مشاورت کے لئے لکھا گیا اور ان سب کی مشاورت کے بعد ٹاؤن سسٹم کو دوبارہ بحال کیا گیا ہے اور ایسا قانون مرتب کیا گیا ہے، جس میں منتخب مئیر کو سولڈ ویسٹ، بلڈنگ کنٹرول، واٹر بورڈ سمیت دیگر میں رول دیا گیا ہے۔

سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے یہ الزام کہ ہمیں بل کی کاپی فراہم نہیں کی گئی سراسر غلط ہے، انہیں بلز کی کاپی فراہم کی گئی تھی اسی لئے تو انہوں نے ترامیم جمع کروائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ایوان میں میری اور ڈپٹی اسپیکر صاحبہ کی جانب سے بل کی پیش کرنے کے بعد اس پر بحث کی اجازت کی یقین دہانی کے باوجود اپوزیشن جماعتوں نے اپنا روایتی رویہ برقرار رکھتے ہوئے پہلے شور شرابہ کیا اور بعد ازاں ایوان سے چلے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پیش کردہ ترامیم کو شامل کیا جائے اور ابھی بھی میں نے اور سعید غنی نے اپوزیشن کی جماعتوں سے بات کرکے انہیں کہا ہے کہ ہم خود ان کے پاس آئیں گے اور جو بھی ان کی تجاویز ہوں گی اس کو بل میں شامل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ہمیں واضح طور پر ہدایات دی گئی ہیں کہ بلدیاتی قوانین میں تمام جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لیا جائے تاکہ ایم مضبوط اور مستحکم بلدیاتی قانون بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت اربن ایریا میں کارپوریشن جیسے کراچی، حیدرآبادم سکھر،لاڑکانہ، میر پور خاص اور شہید بینظیر آباد میں ٹاؤن سسٹم ہوگا اور پاپولیشن کی بنیاد پر کارپوریشن، یونین کونسلز، یونین کمیٹیاں، ٹاؤن کونسلز اور کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس قانون میں زیادہ تر اپوزیشن جماعتوں کی تجاویز کو شامل کیا گیا ہے اور اگر ٹاؤن سسٹم کی بات کی جائے تو یہ پی ٹی آئی، ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کی جانب سے تجویز تھی، اسی طرح تمام میونسپل سروسز بلدیاتی اداروں کے پاس ہوں گی۔

ایک سوال پر سعید غنی نے کہا کہ مئیر کا انتخاب منتخب نمائندوں کے ووٹوں سے ہی ہوگا، انہوں نے کہا کہ یہ تجویز کہ مئیر کا انتخاب خود وہ براہ راست الیکشن لے کر لڑے تو یہ ممکن ہی نہیں ہے، کیونکہ اگر ہم صرف کراچی کی بات کریں تو یہاں قومی اسمبلی کے 22 حلقہ ہیں اور ایک قومی اسمبلی کا کوئی الیکشن لڑتا ہے تو وہ اس حلقہ کو پورا کور نہیں کرسکتا تو پورے شہر کو کوئی کیسے کور کرسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ جو یہ بات کرتے ہیں وہ بتائیں کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کا انتخاب وہ کیوں براہ راست نہیں کروانا چاہتے۔ نسلہ ٹاور کے حوالے سے سوال کے جواب میں سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ اور معزز چیف جسٹس کی ہدایات پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی این او سی اس وقت کے مقامی اداروں نے دی تھی اور 40 سے زائد سڑکوں کو رہائشی سے کمرشل کچھ نعمت اللہ خان اور کچھ مصطفیٰ کمال کے روز میں کی گئی تھی۔

بلدیاتی صحت اور تعلیمی اداروں کے بل میں اختیارات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ تجاویز تھی کہ چونکہ یہ ادارے جو بلدیاتی اداروں کے زیر انتظام ہیں بالخصوص صحت اور تعلیم کے شعبہ وہ اس طرح اپنی پرفارمنس نہیں دے رہے ہیں اس لئے ان کو سپورٹ کرنے اور مضبوط کرنے کی غرض سے کچھ تجاویز بل میں شامل کی گئی ہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے مردم شماری کے حوالے سے شدید تحفظات رہے ہیں اور اب بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس پر تحفظار ہمارے نفیس دوستوں کو بھی تھے تاہم جب ان کے نفیس وزرائ بن گئے تو انہوں نے جوائنٹ سیشن میں اس کی حمایت کردی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قوانین کسی کی ذاتی منشائ اور خواہش پر نہیں بنائے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے مئیر کا فیصلہ اس شہر کے عوام کریں گے اور انہیں اب اس بات کا بخوبی علم ہوگیا ہے کہ ان کو کسی نے کیا کچھ دیا ہے اور کسی نے ان کے نام کو استعمال کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پرامید ہیں کہ اس بار کراچی کا مئیر پیپلز پارٹی کا ہی ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے چاہے وہ ہمیں پسند ہوں یا نہ ہو اس پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔ ہم چاہتے تھے کہ نسلہ ٹاور سمیت جو بھی غیر قانونی یا کچھ غیر قانونی طریقے سے بنی ہیں،اس کے بنانے والوں اور اس میں شامل جو بھی لوگ ہوں ان کے خلاف پہلے ایکشن ہو لیکن بحرحال سپریم کورٹ کا نسلہ ٹاور کا مسمار کرنے کا فیصلہ ہے اس لئے اس پر من و من عمل درآمد کیا جارہا ہے۔

آباد سمیت متاثرین پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کئے جانے کے سوال پر سعید غنی نے کہا کہ جب یہ واقعہ ہوا اس وقت اسمبلی کا اجلاس جاری تھا اور وہاں پر فون کام نہیں کرتے، البتہ جیسے ہی اجلاس ختم ہوا میں نے ان سے رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا جمہوری حق ہے اور پولیس کی جانب سے اس اقدام کی میں مذمت کرتا ہوں اور اس سلسلے میں جلد ہی تمام تفصیلات طلب کررہا ہوں

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments

>