پاکستان کو 4میچوں میں شکست ۔انگلینڈ کا 444رنز کا ورلڈ ریکارڈ

Pakistan Ko 4 Matches Main Shikast

اظہر علی اس سیریز سے پہلے تک20وَن ڈے میچز کی قیادت کر چکے تھے جن میں سے8جیتے اور11میں شکست ہوئی تھی ۔ لیکن اب پاکستانی کرکٹ ٹیم پہلے 3 میچزمیں شکست کھانے کے بعد فی الوقت 9ویں پوزیشن پر قائم رہنے کے ساتھ ورلڈ کپ کرکٹ کے کوالیفائنگ راؤنڈ کی باز گشت بھی سن رہی ہے

Arif Jameel عارف‌جمیل جمعہ 2 ستمبر 2016

Pakistan Ko 4 Matches Main Shikast
پاکستان بمقابلہ انگلینڈ ٹیسٹ سیریز 2016ء برابر ہوئی اور پاکستان مصباح الحق کی قیادت میں تاریخ میں پہلی دفعہ ٹیسٹ رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر آگیا تو پاکستانی شائقین کی خواہش تھی کی انگلینڈ کے ساتھ ہونے والی 5بین الاقوامی وَن ڈے کی سیریز بھی اظہر علی کی قیادت میں جیت کر پاکستان 9ویں پوزیشن سے آگے آنے کی کوشش کرے۔اظہر علی اس سیریز سے پہلے تک20وَن ڈے میچز کی قیادت کر چکے تھے جن میں سے8جیتے اور11میں شکست ہوئی تھی ۔

لیکن اب پاکستانی کرکٹ ٹیم پہلے 3 میچزمیں شکست کھانے کے بعد فی الوقت 9ویں پوزیشن پر قائم رہنے کے ساتھ ورلڈ کپ کرکٹ کے کوالیفائنگ راؤنڈ کی باز گشت بھی سن رہی ہے۔
انگلینڈ پاکستان وَن ڈے کی مختصر تاریخ:
آسٹریلیا انگلینڈ کی کرکٹ ٹیمیں جنوری1971ء میں ملبورن میں ٹیسٹ کھیلنے کیلئے تیار تھیں کہ بارش کی وجہ سے 3دِن تک کھیل ممکن نہ ہو سکا ۔

(جاری ہے)

منتظمین نے شائقین کی بیزاری کو مد ِنظر رکھتے ہوئے 8گیندوں پر مشتمل ایک اَوور کے مطابق 40اوورز کا ایک میچ منعقد کروا دیا جو آسٹریلیا نے 5وکٹوں سے تو جیت لیا لیکن شائقین کی دِلچسپی نے اُس مقابلے کرکٹ کی تاریخ کا پہلا وَن ڈے کا اعزازدلوا دیا ۔
اس سلسلے نے جلد ہی پذیرائی حاصل کر گیا۔لہذا پاکستان اور انگلینڈ درمیان پہلا وَن ڈے میچ 31ِ اگست1974ء کو انگلینڈ میں ہی کھیلا گیا تھا جو پاکستان نے7وکٹوں سے جیتا تھا۔

اس میچ میں ماجد خان 109رنز بناکر مین آف دی میچ قرار پائے اور آخری وَن ڈے دونوں ٹیموں کے درمیان 20نومبر2015ء کو دبئی میں کھیلا گیا جو انگلینڈ نے84رنز سے جیتا اور اُنکے وکٹ کیپرجوزف بٹلر نے116رنز بنا کر مین آف دی میچ کا اعزاز حاصل کیا۔
اس سیریزسے پہلے دونوں ممالک کے درمیان 76ایک روزہ میچ کھیلے جا چکے تھے۔جن میں سے پاکستان 29اور انگلینڈ نے 45میچ جیتے اور 2میچ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو ئے۔

دوسری جانب دونوں ٹیموں کے مابین ابھی تک16ایک روزہ سیر یز کھیلی جا چکی ہیں۔جس میں انگلینڈ11 جیت چکا ہے اورپاکستان3 اور2 برابر کی سطح پر ختم ہوئی ہیں۔
پاکستان انگلینڈوَن ڈے سیریز 2016ء:
کیلئے پاکستان کی ٹیم میں شامل کیئے گئے : کپتان اظہر علی ۔ شرجیل خان ،محمد حفیظ،سمیع اسلم، بابر اعظم، شعیب ملک،سرفراز احمد،محمد رضوان،محمد عامر ، وہاب ریاض، حسن علی،یاسر شاہ عماد وسیم ،عمر گُل اور محمد نواز۔


انگلینڈ کی طرف سے نام آئے :کپتان این مورگن،الیکس ہیلز، لیام پلنکٹ،معین علی ، جونی برسٹو، جوز بٹلر، لیام ڈاوسن، کرس جورڈن، عادل رشید، جوروٹ، جیسن رائے، بین اسٹوکس،ڈیوڈ ولی، کرس ووکس اور مارک ووڈ۔
پہلا وَن ڈے کرکٹ میچ روز باؤل گراؤنڈ میں :
اس سیریز کا پہلا وَن ڈے میچ 24ِاگست 2016ء کو ساؤتھ ہیمپٹن کے گراؤنڈ "روز باؤل" میں کھیلا گیا جہاں اس سے پہلے2میچز کھیلے جا چکے تھے جن میں سے ایک پاکستان اورایک انگلینڈ جیت چکا تھا۔

پاکستان کے 11کھلاڑی تھے :کپتان اظہر علی، شرجیل خان ،محمد حفیظ، بابر اعظم، شعیب ملک،سرفراز احمد،محمد عامر ، وہاب ریاض ،عماد وسیم ، عمر گُل اور محمد نواز۔ جبکہ انگلینڈ کی طرف شامل تھے:کپتان این مورگن،الیکس ہیلز، لیام پلنکٹ،معین علی ، جوز بٹلر، عادل رشید، جوروٹ، جیسن رائے، بین اسٹوکس، کرس ووکس اور مارک ووڈ۔
پاکستان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور اوپنر آئے کپتان اظہر علی اور شرجیل خان ۔

اُمید تھی کہ پاکستان کی طرف سے ایک بڑ ااسکور کیا جائے گا لیکن شرجیل خان شروع میں ہی فاسٹ باؤلر ووڈ کی جس اُٹھتی ہوئی گیند کو بے مقصد طریقے سے کھیلتے ہوئے16رنز بنا کر آؤٹ ہوئے ٹیم اور شائقین کو بہت دُکھ ہوا۔ محمد حفیظ وَن ڈاؤن آکر ایک دفعہ پھر ناکام ہوئے اور صرف11رنز بنا پائے۔ کپتان اظہر علی نے گو کہ اسکور توسب سے زیادہ 82رنزکیئے لیکن حسب ِروایت اس دوران اُنکے کیچ بھی ڈراپ ہوئے۔

بابر اعظم اور وکٹ کیپر سرفراز نے بالترتیب 40اور 55رنز بناکر مجموعی اسکور میں کچھ اضافے کی کوشش کی جبکہ سینئر بلے باز شعیب ملک صرف17رنز بنا سکے۔محمد نواز 17رنز اور عماد وسیم نے18 رنز بنائے اور50اَورز میں ٹیم کے مجموعی اسکور260رنز 6کھلاڑی آؤٹ پردونوں ناٹ آؤٹ رہے۔ انگلینڈ کی طرف سے باؤلرزووڈ،ووکس، پلنکٹ،جو روٹ نے ایک ایک کھلاڑی آؤٹ کیئے اور سپنئر عادل رشید نے 2کھلاڑی آؤٹ کیئے۔


انگلینڈ ٹیم کی بیٹنگ کے دوران وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ " ڈک ورتھ لوئیس سسٹم" لگنے کا باعث بن گیااور 34.3اَوورز میں انگلینڈ کو 194رنز 3 کھلاڑی آؤٹ پر کامیاب قرار دے دیا گیا۔ اُنکی طرف سے صرف ہیلز نے7رنز بنائے۔جبکہ جیسن رائے 65 رنز پر آؤٹ اورجوروٹ 61رنز بنا کر رَن آؤٹ ہوئے۔ کپتان مورگن 33اور بین سٹوکس 15رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔عمر گُل اور محمد نواز نے ایک ایک کھلاڑی آؤٹ کیا ۔

محمد عامر کے ساتھ فیلڈرز نے وہی ماضی والا سلوک کیا اوروکٹ کیپر سرفراز نے اُسکی گیند پر جیسن رائے کا اُس وقت کیچ ڈراپ کر دیا جس وقت وہ24رنز پر کھیل رہا تھا۔
شکست کی وجہ ڈک ورتھ لوئیس سسٹم؟
پاکستان کے بلے باز ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کے شوق میں تو نظر آئے لیکن بہترین بیٹنگ کے ذوق میں نظر نہ آئے۔حالانکہ انگلینڈ کے باؤلرز نے کوئی خاص گیند بازی نہیں کی تھی کہ اُنکی ٹیم کو ایک بڑاٹارگٹ نہ دیا جا سکتا ۔

کیچ اُنکے کھلاڑیوں نے بھی چھوڑے لیکن پاکستانی بلے بازوں نے جیسے دِل ہی چھوڑ دیئے ہوئے تھے۔ لہذا 4وکٹیں بچانے کا کیا فائدہ ہوا ایک طرف یہ غور طلب رہا اور دوسری طرف باؤلنگ کے دوران زیادہ تر شارٹ پیچ گیندیں کروانے سے انگلینڈ کے بلے بازوں کو اسکور بنانے کا موقع کیوں فراہم کیا گیا جسکا نتیجہ" ڈک ورتھ لوئیس سسٹم" کے لگنے سے پہلے ہی انگلینڈ کے حق میں واضح نظر آنا شروع ہو گیا تھا۔


دوسرا وَن ڈے لارڈز میں:
27ِاگست کو ہونے والا دوسرا وَن ڈے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کیلئے بہت اہم تھا ۔کیونکہ تجزیہ کاروں اور مبصروں کا دباؤ تھا کہ یہ میچ جیتنے کیلئے ٹیم میں اہم تبدیلیاں کی جائیں ۔لہذا محمد حفیظ ، محمد نواز اور عمر گُل کی جگہ سمیع اسلم ،یاسر شاہ اور حسن علی کو شامل کیا گیا۔جبکہ انگلینڈ نے اپنی پہلے وَن ڈے والی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

لارڈز میں کھیلے جانے والے اس میچ سے پہلے اس گراؤنڈ پر دونوں ٹیموں کے درمیان 7 وَن ڈے کھیلے جا چکے تھے جن میں پاکستان کا پلڑا بھاری تھا ۔یعنی 4پاکستان نے اور 3انگلینڈ نے جیتے ہوئے تھے۔
پاکستان نے ٹاس جیت کر ایک دفعہ پھر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور 2اسکور پر پہلے تینوں بلے باز سمیع اسلم1رَن ،شرجیل خان اور وَن ڈاؤن آنے والے کپتان اظہر علی صفر،0 پر پویلن میں تھے۔

ٹیم کی کمر ٹوٹ چکی تھی لیکن وکٹ کیپر سرفراز کے105رنز کے ساتھ بابر اعظم کے 30، شعیب ملک کے28اور عماد وسیم کے خصوصی طور پر ناٹ آؤٹ رہتے ہوئے 63رنز پاکستان کے مجموعی اسکورمیں اضافے کا باعث بنے اور ساری ٹیم49.5اَوورزمیں 251رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔وہاب ریاض اور محمد عامر نے6،6رنز بنائے اور حسن علی اور یاسر شاہ بھی صفر ،0پر آؤٹ ہوئے۔(چار کھلاڑی صفر پر)۔

انگلینڈ کی طرف سے باؤلرزووڈ،ووکس نے3،3 ، پلنکٹ نے2 اور عادل رشید نے ایک وکٹ حاصل کی۔محمد عامر رَن آؤٹ ہوئے۔
انگلینڈ ٹیم کی جوابی اننگز کا آغاز سنسنی خیز انداز میں ہوا جب محمد عامر نے جیسن رائے کو دوسری گیند پر صفر پر بولڈ کر دیااور پھر جلد ہی عماد وسیم نے اوپنر ہیلز کو 14رنز بنانے کے بعد بولڈ کر دیا۔ لیکن ایک دفعہ پھر جوروٹ نے پاکستانی باؤلرز کے خلا ف وکٹ پر قدم جمائے اور کپتان مورگن کے ساتھ مِل کر میچ پر گرفت مضبوط کرنی شروع کی اور تیسری وکٹ کی رفاقت میں 112رنز کا اضافہ کیا۔

مورگن 68 اور جوروٹ 89رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اور پھر بین اسٹوکس 42رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔اس ہی دوران وکٹ کیپر جے۔ بٹلر بھی 4رنز پر رَن آؤٹ ہو گئے۔لیکن معین علی کے 21رنز ناٹ آؤٹ نے انگلینڈ کی ٹیم کو 47.3اَوورز میں 4وکٹوں سے فتح دلوا دی۔ اُنکا ساتھ دیا ووکس نے 7رنز پر ناٹ آؤٹ رہ کر۔پاکستان کی طرف سے محمد عامر ، حسن علی اور وہاب ریاض نے ایک ایک کھلاڑی آؤٹ کیا اور عماد وسیم نے 2وکٹیں لیں۔


شکست پر اظہر علی نشانہ پر:
سرفرزا احمد انگلینڈ کے خلاف اُنکی سرزمین پر سنچری بنانے والے پہلے پاکستانی وکٹ کیپر بلے باز اور لارڈزمیں سنچری بنانے والے دُنیا کے تیسرے وکٹ کیپر بھی بن گئے۔عماد وسیم نے بحیثیت آل راؤنڈر قابلِ تعریف ذمہداری نبھائی۔میچ کے آغاز میں ہی 3وکٹیں کھونے کے بعد چوتھی اور چھٹی وکٹ پر 50 پلس کی شراکت قائم کر کے پاکستان ٹیم نے وَن ڈے کرکٹ کی تاریخ میں منفرد کارنامہ انجام بھی دے دیا۔

لیکن یہ سب اُس وقت بے معنی نظر آیا جس وقت انگلینڈ کے بلے بازوں نے صرف 15گیندیں پہلے مطلوبہ ہدف حاصل کر لیا۔
کپتان اظہر علی کی باؤلنگ کے دوران جارحانہ کی بجائے دفاعی حکمت ِعملی انگلینڈ کی فتح کا سبب بنی۔۔ شاید اُنھیں آؤٹ کرنے سے زیادہ اسکور روکنے میں دلچسپی تھی۔لیکن سپینئر یاسر شاہ نے 9.3اوورز میں بغیر کوئی وکٹ لیئے سب سے زیادہ 62اسکور دے کر کپتان کی حکمت ِعملی پر پانی پھیر دیا۔

اگر اظہر علی اُنھیں اسکور پڑنے پر فیصلہ کرتے ہوئے جارحانہ باؤلنگ کو ترجیع دیتے تو وکٹیں بھی حاصل کر سکتے تھے یا انگلینڈ کو مطلوبہ اسکور کرنے سے بھی روک سکتے تھے۔
فیس بُک پر ایک دلچسپ جُملہ:
ایک کرکٹ کا شوقین "جہانگیر شیخ" اپنی بیوی کے ساتھ لارڈز گراؤنڈ میں یہی دوسرا وَن ڈے دیکھنے گیا اور آغاز میں ہی پاکستان کے 3بلے باز آؤٹ ہو نے پر لگاتا ہے کہ حیرانگی میں اُس ہی وقت ایک جملہ فیس بُک پر لکھ دیا جسکو شیئر کیا گیا:
"What the hell is going on. 3 down. Be home by lunch".
ناٹنگھم کی گراؤنڈ ٹرنٹ بریج میں تیسرا وَن ڈے:
30ِاگست کو کھیلا گیا۔

دوسرے وَن ڈے میں پاکستانی ٹیم کو شکست کے بعدسخت تنقید کا سامنا تھا اور جو مبصر ین اس سیریز سے پہلے نئے ٹیلنٹ اور اوپنرز کی تبدیلیوں کی بات کر رہے تھے اُنکے پاس بھی محمد حفیظ کی جگہ سمیع اسلم کی شمولیت و ناکامی اور اظہر علی کی وِن ڈاؤن پوزیشن پر ناکامی کا کوئی جواب نہیں تھا سوائے اسکے کہ شرجیل اور اظہر باؤلرز کی بہترین گیندوں پر آؤٹ ہوئے۔

باقی غصہ اُنھوں نے کپتان اظہر علی پر نکال کو اُس کو ہی تبدیل کرنے کی تجویز دے ڈا لی۔دوسری طرف خبر آئی کے ٹیم کے کوچزکی طرف سے ڈومور کی وجہ سے کھلاڑی ذہنی طور پر دباؤ محسوس کر رہے تھے۔تیسرا محمد حفیظ بہترین کار گردگی نہ دکھانے کے بعد انجیری کے باعث ٹیم سے الگ ہو گئے ہیں اور اُنکی جگہ فاسٹ باؤلر محمد عرفان انگلینڈ پہنچ کرٹیم میں شامل ہو گئے ہیں۔


اس میچ کیلئے پاکستان ٹیم میں صرف ایک تبدیلی کی گئی ۔ عماد وسیم کو چوٹ لگنے کی وجہ سے محمد نواز کو شامل کیا گیا۔ انگلینڈ کی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔ بس اس دفعہ ٹاس انگلینڈ کے حق میں گیا اور بیٹنگ وکٹ پر اُنکے بلے بازوں نے پاکستان کے باؤلرز کی خو ب پٹائی کی اور ہر طرف چھکے چوکے لگائے۔
اوپنر الیکس ہیلز جو پاکستان کے خلاف اب تک سیریز میں ناکام رہے تھے نے نے 171رنز کی یاد گار اننگز کھیل کر نہ کہ انگلینڈ کی طرف سے وَن ڈے میں پاکستان کے خلاف سب سے زیادہ اسکور کرنے والے کھلاڑ ی بنے بلکہ کسی بھی ملک کے خلاف وَن ڈے میں سب سے زیادہ اسکور کرنے والے انگلینڈ کے بلے باز بن گئے۔

دوسری طرف جیسن رائے کے 15، جوروٹ کے 85،وکٹ کیپر بٹلر کے90اور کپتان مورگن کے 57 رنز کی بدولت انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے 50اوورز میں 3کھلاڑی آؤٹ 440رنز بنا کر وَن ڈے میں ورلڈ ریکارڈ اسکور بورڈ پر لگا دیا۔ دس سال پہلے سری لنکا نے ہالینڈ کے خلاف 443رنز بنائے تھے۔ ایک ریکادڑ بحیثیت پہلے پاکستانی اور دوسرے دُنیا کرکٹ کے باؤلر بنے وہاب ریاض ۔جنہوں نے باؤلنگ میں کوئی وکٹ لیئے بغیر 110رنز دے ڈالے۔

2بلے باز حسن علی اور ایک کو نواز نے آؤٹ کیا۔
پہلے دو وَن ڈے میں شکست کی وجہ سے دباؤ کا شکار پاکستانی بلے باز آگے بڑھے۔۔ کوشش کی۔۔ لیکن پہاڑ جیسے ٹارگٹ کے سامنے بے بس نظر آئے۔ صرف اوپنر شرجیل خان تیس گیندوں پر 58 اور آخری کھلاڑی محمد عامر آٹھائیس گیندوں پر58 رنز کر پائے جن میں4چھکے اور5چوکے لگائے ۔ اسطرح وَن ڈے میں 11 ویں نمبر پر محمد عامر سب سے بڑی انفرادی اننگز کھیلنے اور نصف سنچری کرنے والے پہلے کر کٹر بن گئے۔


سمیع اسلم 8، کپتان اظہر علی 13،بابر اعظم 9 ،سرفراز احمد38،شعیب ملک1 ،محمد نواز34،حسن علی 4،وہاب ریاض14رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ یاسر شاہ 26رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔ ساری ٹیم 42.4اوورز میں 275رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ انگلینڈ کی طرف سے ایک دفعہ پھر ووکس 4بلے باز آؤٹ کر کے پاکستانی ٹیم پر حاوی نظر آیا۔ عادل رشید نے 2آؤٹ کیئے اور ووڈز، پلنکٹ، بین اسٹوکس اورمعین علی نے ایک ایک وکٹ لی۔

بس انگلینڈ کی دفعہ بیٹنگ وکت کہلائی اور پاکستان کے بلے بازوں پر باؤلر حاوی رہے۔ بہرحال169رنز سے شکست دے کر فاتح کہلائے انگلینڈ والے۔
تنقید نہیں:
پاکستان کے خلاف انگلینڈ کا وَن ڈے میں مجموعی اسکور444 کا ورلڈریکارڈ، الیکس ہیلز کا اپنے ملک کی طرف سے انفرادی 171رنز کا ریکارڈجہاں اُنکی ٹیم کی صلاحیتوں کا پیش خیمہ نظر آیا وہاں پاکستانی کرکٹ ٹیم نوجوانوں پر مشتمل ہونی چاہیئے کا جو شور گزشتہ ایک مدت سے پاکستانی مبصرین مچاتے رہے وہ نوجوان ٹیم بے حال نظر آئی۔

فیلڈنگ کمزور، کیچ ڈراپ اور باؤلنگ پر نہ کنٹرول یعنی 2 آؤٹ کر ہی دیئے تو وہ 2"نو" بالز ہی ہوگئیں۔یہ سب کیوں ہوا کیا؟ اس پر تنقید نہیں غور و فکر کا معاملہ اپنانا ہو گا۔نوجوانوں کا موریل بڑھنا ہو گا۔اُنکی قدرتی صلاحیتوں کو نکھارنا ہو گا۔ گو کہ5میچوں کی سیریز پاکستان 3صفر سے ہار چکا ہے لیکن ابھی 2وَن ڈے باقی ہیں اور ایک ٹونٹی20جسکی کپتانی وکٹ کیپر سرفراز احمد نے پہلی دفعہ کرنی ہے۔

لہذا آنے والے یہ میچز مستقبل کے بہت سے مثبت فیصلوں کی رہنمائی کا باعث بن سکتے ہیں۔لیکن اظہر علی کی کپتانی اس سیریز کے بعد سوالیہ نشان بن گئی۔
ہیڈانگلے کرکٹ اسٹیڈیم لیڈیز میں چوتھا وَن ڈے:
یکم ستمبر کو ہوونے والے چوتھے وَن ڈے میں پاکستان ٹیم میں 4اہم تبدیلیاں کی گئیں۔وہاب ریاض ،محمد عامر،یاسرشاہ اور شعیب ملک کی جگہ محمد عرفان ،عمر گُل،عماد وسیم اور محمد رضوان کو ٹیم میں شامل کیا گیا اور انگلینڈ کی طرف سے پہلی دفعہ اس وَن ڈے سیریز میں تین تبدیلیاں کی گئیں۔

ووکس اور ووڈز کی جگہ ڈی ۔ویلی اور سی۔جورڈن کو کھیلا یا گیا۔ وکٹ کیپر جوز بٹلر کی بجائے جونی برسٹو بحیثیت وکٹ کیپر شامل کیئے گئے۔
پاکستان کے کپتان نے ٹاس جیتا اور بیٹنگ کو ترجیع دی۔لیکن ایک دفعہ ٹیم پھر ایک بڑا اسکور کرنے میں ناکام رہی۔ اظہر علی کے 80 رنز اور عماد وسیم کے ناقابل ِشکست 57رنز ٹیم کے مجموعی اسکور میں اضافے کا باعث بنے جبکہ سمیع اسلم 24، شرجیل خان16،بابر اعظم 12، سرفرازاحمد12، محمد رضوان6،محمدنواز13اورحسن علی9رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

عمر گُل 6رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے کیونکہ 50اَوورز ختم ہونے پر پاکستانی ٹیم نے 8کھلاڑی آؤٹ 247اسکور بنا کر انگلینڈ کو 248 کا ہدف دیا تھا۔انگلینڈ کی طرف سے عادل رشید نے 3، سی ۔جورڈن اور معین علی نے2,2اور ایک بلے باز کو پلنکٹ نے آؤٹ کیا۔
پاکستان کی طرف سے باؤلنگ کا آغاز تو اچھا ہوا ۔ جیسن 14 اور ہیلز8 رنز بنا کر محمد عرفان کا شکار بنے۔ جو روٹ کو 30 کے انفرادی اسکور پر حسن علی اور عمر گُل نے کپتان مورگن کو11رنز زپر پویلین کی راہ دِکھا ئی۔

لیکن پھر وہی ماضی کی میچوں کی صورت ِحال کی طرح بین اسٹوکس کے ساتھ جونی برسٹو نے وکٹ پر قدم جما لیئے اور پاکستانی باؤلز کی طرف سے ابتدائی 4کھلاڑی جلد آؤٹ کرنے پر پانی پھیر دیا۔ اُن دونوں نے مل کر مجموعی اسکور میں103رنز کا اضافہ کیااور میچ انگلینڈ کے حق میں کر دیا۔69کے انفرادی اسکور پر بین اسٹوکس کو عماد وسیم نے آؤٹ کیا تو اگلے کھلاڑی تھے معین علی۔

دونوں کی شراکت آگے بڑھی اور جب انگلینڈ کو جیت کیلئے 23رنز درکار تھے تو جونی برسٹو 61رنز بنا کر رَن آؤٹ گئے۔جسکے بعد ڈی ۔ویلی کے ساتھ مل کر معین علی نے مطلوبہ ہدف 48اَوور میں حاصل کر کے 4وکٹوں سے میچ جیت لیا اورچوتھے وَن ڈے میں بھی مسلسل فتح انگلینڈ کے حصے میں آگئی۔
ایک کوشش لیکن صرف اپنے لیئے:
پہلے تو سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس وَن ڈے ٹیم میں مبصرین کی رائے کے مطابق اُنکے پسندیدہ نوجوان کھلاڑی شامل کیئے گئے تھے۔

لیکن شاید وَن ڈے سیزیز ہارنے کی وجہ سے چوتھے وَن ڈے میں ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کپتان اظہر علی سمیت ہر کھلاڑی اپنی صلاحیت کے مطابق کھیل کر مستقبل میں ٹیم میں جگہ بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے ۔ تاکہ سیلیکٹرز کی بجائے مبصرین کی نظر میں رہے۔ لہذا اس سلسلے میں میچ جیتنے کیلئے ہر کھلاڑی کی طرف سے جو ذاتی طور پرکچھ کوشش نظر آئی وہ بیٹنگ و باؤلنگ میں کام نہ آسکی اور نتیجہ چوتھا وَن ڈے بھی پاکستانی کرکٹ ٹیم اظہر علی کی قیادت میں ہار گئی۔
محمد عرفان نے بہرحال شاندار باؤلنگ کا مظاہر ہ کر کے اپنی سلیکشن کا حق ادا کر دیا۔

مزید مضامین :