خطے میں پاکستان کی جغرافیا ئی سیا سی اہمیت ہے جسے سفارتی طور پر استعمال کیا جا نا چا ہیے،ایف پی سی سی آئی

خطے میں پاکستان کی جغرافیا ئی سیا سی اہمیت ہے جسے سفارتی طور پر استعمال ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 ستمبر2020ء) خطے میں پاکستان کی جغرافیا ئی سیا سی اہمیت ہے جسے سفارتی طور پر استعمال کیا جا نا چا ہیے یہ بات ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر شیخ سلطا ن رحمان نے جغرافیا ئی سیا سی چیلنجزپر انٹر یکٹوویبنار کی صدارت کرتے ہوئے کئی جو فیڈریشن ہا ئوس کراچی میں بذریعہ ویڈلنک منعقد کی گئی ۔ ویبنا ر میں ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر شیخ سلطا ن رحمان،بین الاقوامی تعلقا ت کی سنیئر تجزیہ کا ر، ماہر معاشیات کے علاوہ قیصراشیخ ، کو آرڈینٹر وویمن انٹر پر نیورزایف پی سی سی آئی ، پروفیسرڈاکٹر شائستہ تبسم، چیئر مین شعبہ بین الاقو امی تعلقا ت، جا معہ کراچی، اپلا ئیڈاکنا مکسریسر چ سینٹر (AERC)سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر آگر علی ریسر چ اکانومسٹ،ڈاکٹر سیما شفیق خان، ڈائر یکٹر PITAD، پروفیسرڈاکٹر عبدالجبار، صدر پاکستان سو سائٹی نیوروسائنسدان، ناصر حیات مگوں ، سابق صدر کراچی چیمبر آف کامر س، ایف پی سی سی آئی کی پاکستان تر کی بز نس کو نسل کے چیئر مین امجد رفیع اور ڈاکٹر صبا شیخ نے شر کت کی ۔

(جاری ہے)

ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر شیخ سلطا ن رحمان نے تبا دلہ خیال کرتے ہو ئے کہاکہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے معاملے پر افغا نستان ، ایران اور خاص طور پر بھارت کے ساتھ مشکل سفا رتی تعلقا ت ، چین کا بین الاقوامی اثر ورسوخ بڑھا دیا ہے ۔ عالمی میدا ن امریکہ کی حیثیت کچھ خلیجی ممالک کے ذریعہ اسرائیل کی قبولیت حالیہ تا ریخ کے چند واقعا ت ہیں جنہو ں نے عالمی سطح پر جغرافیا ئی سیا ست کو کو تبد یل کر دیاہے ۔

قیصرا شیخ نے کہا کہ فو جی ، معا شی استحکام ، نظریا تی قیادت اور گڈگو رننس ایک مضبو ط قو م کے چا رستو ن ہیں ، خوش قسمتی سے پاکستان کی فو ج مضبو ط تا ہم معا شی نمو ، مضبوط قیادت اور اچھی حکمرانی خطے میں ہماری اہمیت کو مزید بڑھا ئے گی ۔پروفیسر ڈاکٹر شا ئستہ تبسم نے دہشت گردی ، پاک افغان تعلقا ت ، پاک ایران تعلقات اور امریکہ کے ساتھ ہما رے معا شی اور سیا سی تعلقا ت پر اس کے اثرا ت ، مشر ق وسطیٰ میں ابھر تے ہو ئے منظر نا مے کی وجہ سے پا کستان کو در پیش مسا ئل پر بات کی ۔

انہو ں نے کہاکہ مو جو دہ عا لمی سیا سی منظر نا مہ بین الاقوامی پلیٹ فا رمز پر ہما ری مضبو ط سفا رتی موجو دگی کا مطا لبہ کرتی ہے ۔ ڈاکٹر اصغر نے کہاکہ کو ویڈ- 19 نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ در آمدی انحصار اور مشر ق وسطیٰ سے تر سیلا ت زر پر انحصار ان وجو ہا ت میں سے ایک ہے جو ہما ری سیا سی پو زیشن کو کمزور بنا رہی ہے ۔ ڈاکٹر سیما شفیق خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے کہاکہ چین پاکستان اور CPECواحد طا قت ہے جو ہما رے خطے میں ہندوستا ن کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ پر قابو پا سکتی ہے اور ہمیں اسے مو ثر سفا رتی حکمت عملی کے ساتھ منظم کرنا چا ہیے ۔

پروفیسر ڈاکٹر عبدالجبار نے کہاکہ ایک کمزور معیشت خطے میں اثر و رسو خ پیدا نہیں کر سکتی۔ پاکستان کو اندرونی طور پر در پیش مسا ئل کے با رے میں بات کر تے ہو ئے انہو ں نے کہاکہ افقی اور عمودی پولر ائز یشن ہما ری داخلی طا قت کو کمزور کر رہی ہے اور پاکستان کو بیرونی معاملا ت میں ایک متا ثر کن قو م کی حیثیت سے ابھر نے کے لیے اندرونی طو رپر مضبو ط بننا ہو گا ۔ نا صر حیات مگوں نے سیا سی میدا ن پر بہتر اثرورسو خ حاصل کرنے کی ہما ری کو ششو ں میں پاک چین تعلقا ت اور CPECکی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔تقریب کے اختتام پر ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر شیخ سلطا ن رحمان نے زور دیا کہ علاقا ئی اور بین الاقوامی محا ز پر چیلنجو ں کا مقابلہ مل کر کیا جا سکتا ہے ۔

Your Thoughts and Comments