کپاس کی پیداوار میں تشویشناک حد تک کمی، 4 ارب ڈالر کی70 لاکھ گانٹھیں درآمد کرنا پڑیں گی

فی الحال تقریبا 45 لاکھ گانٹھوں کے درآمدی معاہدے ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے ملک کی معیشت پر زبردست دبا پڑرہا ہے

کپاس کی پیداوار میں تشویشناک حد تک کمی، 4 ارب ڈالر کی70 لاکھ گانٹھیں ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 مارچ2021ء)پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن نے 03 مارچ تک ملک میں کپاس کی پیداوار کے اعداد و شمار جاری کئے ہے جس کے مطابق اس عرصے کے دوران ملک میں روئی کی 56 لاکھ 37 ہزار 749 گانٹھوں کی پیداوار ہوئی جو گزشتہ سال کی اسی عرصے کی پیداوار 85 لاکھ 65 ہزار 376 گانٹھوں کے نسبت 29 لاکھ 27 ہزار 627 گانٹھیں 34.18 فیصد ہیں۔

صوبہ پنجاب میں صرف 35 لاکھ 01 ہزار 580 گانٹھوں کی پیداوار ہوئی ہے جو گزشتہ سال کی اسی عرصے کی پیداوار 50 لاکھ 91 ہزار 397 گانٹھوں کے سبب 15 لاکھ 89 ہزار 817 گانٹھیں 31.23 فیصد کم ہیں۔صوبہ سندھ 21 لاکھ 36 ہزار 169 گانٹھیں پیدا ہوئی جو گزشتہ سال اسی عرصے کی پیداوار 34 لاکھ 73 ہزار 979 گانٹھوں کے نسبت 13 لاکھ 37 ہزار 810 گانٹھیں 38.51 فیصد کم ہے۔

(جاری ہے)

اس عرصے میں کپاس کے نجی برآمد کنندگان نے 70 ہزار 200 گانٹھیں برآمد کی جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 58 ہزار 666 گانٹھوں کے برآمدی معاہدے ہوئے تھے جو 11 ہزار 534 گانٹھیں 19.66 فیصد زیادہ ہیں اس عرصے میں مقامی ٹیکسٹائل ملز نے 53 لاکھ 75 ہزار 941 گانٹھیں خریدی گزشتہ سال اسی عرصے میں خریدی گئی 79 لاکھ 29 ہزار 439 گانٹھوں کے سبب 25 لاکھ 53 ہزار 498 گانٹھیں 32.20 فیصد کم ہیں۔

جنرز کے پاس روئی کی 1 لاکھ 91 ہزار 608 گانٹھوں کا اسٹاک موجود ہے جو گزشتہ سال اسی عرصے کے اسٹاک 5 لاکھ 77 ہزار 271 گانٹھوں کے نسبت 3 لاکھ 85 ہزار 663 66.81 فیصدگانٹھیں کم ہیں جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 31 جننگ فیکٹریوں کے نسبت 22 جننگ فیکٹریاں چل رہی ہیں۔کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سال ملک میں کپاس کی پیداوار تشویشناک حد تک کم ہوئی ہے جو گزشتہ 30 سالوں کی پیداوار سے کم ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت کے متعلقہ اداروں کو کپاس کی پیداوار بڑھانے کیلئے فوری طورپر مثبت اقدام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت کی طرف سے کپاس کی فصل کی پیداوار بڑھانے پر کوئی دھیان نہیں دیا جارہا۔ اس کے علاوہ خصوصی طور پر گنے کی فصل پر زیادہ دھیان دیا جارہا ہے اور گنے کی فصل بڑھانے کیلئے کاشتکاروں کو حکومت کی طرف سے سبسڈی دی جارہی ہے۔

کپاس کی فصل کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے کپاس کی فصل بڑھانے کیلئے ایسا لگ رہا ہے کہ بلکل دھیان نہیں دیا جارہا خصوصی طور پر 18 ویں ترمیم کے بعد زراعت کا شعبہ بھی صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری میں آتا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ صوبائی حکومتیں آنکھیں اور کان بند کرکے بیٹھی ہوئی ہے کیوں کہ وہ روایتی طور پر اپنے اسٹیٹمینٹ دے دیتے ہیں وزیر آعلی پنجاب عثمان بزدار صاحب اور سندھ کے وزیر آعلی انھیں شاید ہی کوئی فکر لاحق ہو کہ کپاس کی فصل تزلیلی کی طرف جارہی ہے اور وزیر برائے زراعت پنجاب جہانیاں صاحب اور سندھ کے وزیر زراعت ظفر خان جمالی انکی تو بلکل ہی کوئی خیر خبر نہیں کہ کیا ہورہا ہے اور کیا نہیں ہورہا صرف روایتی طور پر اسٹیٹمنٹ دے دیتے ہیں جبکہ عملی طور پر کوئی نتیجہ سامنے نہیں آرہا اسی لئے حکومت کے عہدیداروں کو چاہئے کہ ان پر زور دیں دھیان دیں ورنہ ہمارا سارا کپاس کا دار و مدار بیرون ممالک کو چلا جائے گا البتہ اس سال بین الاقوامی کاٹن مارکیٹ میں تیزی کی وجہ سے ہماری مقامی ٹیکسٹائل ملز فائدہ اٹھا چکی ہے لیکن اب ٹیکسٹائل سیکٹر کو بھی اس بات کو گمبیر لینی چاہئے کہ کپاس کی پیداوار بڑھانے کیلئے کوئی لائحہ عمل طے کرنا چاہئے کیوں کہ آئندہ دنوں میں بھی لگ رہا ہے کہ انٹرنیشنل کاٹن مارکیٹوں میں کوئی تبدیلی نہیں آسکے گی اور روئی قیمت نیچے آنے سے رہی جو ملز کم داموں پر دڑادڑ ہزاروں ٹن روئی درآمد کررہے تھے اگر بھا ؤبڑھ گیا تو بمشکل 200 ٹن کی درآمد کر سکیں گے کیوں کہ زیادہ ریٹ کی وجہ سے مشکلات سامنے آئینگی۔

کپاس کی فصل بڑھانے کیلئے تمام مشترکہ اسٹیک ہولڈرز کو اب سر جوڑ کر بیٹھنا چاہئے کیوں کہ نئی سیزن سر پر آچکی ہے اب فوری طورپر جو اقدام ہو سکتے ہیں وہ کئے جائیں۔ اخباروں میں بھی خبریں آرہی ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ انڈیا سے براستہ واہگہ بارڈر کاٹن اور کاٹن یارن درآمد کرنے کی اجازت دی جائے اور اس پر کسٹم ڈیوٹییاں وغیرہ ختم کردی جائیں وزیر اعظم عمران خان نے جو کاٹن ٹاسک فورس بنائی تھی وہ باوقت بنائی تھی لیکن ہمارے چیئرمین کاٹن ٹاسک فورس گوہر اعجاز صاحب کا ابھی تک کوئی اسٹیٹمینٹ سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کوئی حکمت عملی سامنے آئی ابھی مزید مشوروں اور تبصروں کا وقت نہیں ہے اب فوری طورپر حکمت عملی کرنے کی ضرورت ہے ورنہ اگلا سال بھی اسی طرح گزر جائے گا اور ہم کاٹن ایکسپورٹرز کے بجائے کاٹن امپورٹرز بن جائیں گے۔

سنا جارہا ہے کہ افغانستان سے بھی سیڈ منگوایا جارہا ہے بہر حال جو بھی کرنا چاہئے ابھی کریں ابھی نہیں تو پھر کبھی نہیں۔ ہم کئی ہفتوں سے اپنے تبصروں میں لکھتے رہیں ہیں اللہ کے واسطے جو کچھ کرنا ہے تو کرو پہلے ہی فنانس کی حالت خراب ہے یہ ہمارے ملک کیلئے بہت ہی تشویشناک حالت ہو جائے گی برائے مہربانی سب اسٹیک ہولڈرز کو اور حکومت کے عہدیداران کو ایکٹو ہو جانا چاہئے

Your Thoughts and Comments