عجائب گھروں کی دنیا ۔۔ چوتھا حصہ

پاکستان کے حوالے سے بات کی جائے تو جتنا یہ تاریخ و ثقافت کے حوالے سے امیر ملک ہے، اتنے ہی کم ہمارے پاس عجائب گھر ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق حکومتی سرپرستی میں ہمارے پاس تقریباً 56 چھوٹے بڑے میوزیم اور 12 آرٹ گیلریز موجود ہیں۔

Dr Syed Muhammad Azeem Shah Bukhari ڈاکٹر سید محمد عظیم شاہ بُخاری جمعرات ستمبر

ajaib gharoon ki dunya - 4th part
47- کے - ٹو میوزیم
1954 میں جب پہلی بار ایک اطالوی ٹیم نے کامیابی سے کے ٹو سر کیا تو اس کی پچاسویں سالگرہ کی یاد میں پاکستان ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن موٹیل سکردو کے لان میں اپنی طرز کا ایک منفرد میوزیم قائم کیا گیا۔ یہ میوزیم ایک خیمے میں بنایا گیا ہے۔ اطالوی کوہ پیما ٹیم (جس کے سربراہ آگسٹو پولینزا تھے) نے یہ بڑا خیمہ کے ٹو بیس کیمپ پر لگایا تھا جو مہم کی کامیابی کے بعد یہاں لا کر گاڑ دیا گیا اور اسے ایک میوزیم کی شکل دے دی گئی۔


 اس میوزیم میں ڈاکیومینٹریز، نقشہ جات، تاریخی و جغرافیائی معلومات، کے-ٹو ریجن سے متعلق ثقافتی اشیاء اور مہم جوئی سے متعلق تصاویر رکھی گئی ہیں۔ اب یہاں ہر سال اطالوی کوہ پیماؤں کی تصویری نمائش منعقد کی جاتی ہے۔

(جاری ہے)


48- پاکستان میری ٹائم میوزیم
پاک بحریہ کے زیر انتظام یہ عجائب گھر و تفریح گاہ کراچی کی مشہور شاہراہ شاہراہ فیصل کے قریب واقع ہے۔

یہاں بحری امور سے وابستہ نادر اشیاء کا  اہم ذخیرہ موجود ہے۔
یہ میوزیم چھ گیلریز اور ایک آڈیٹوریم پر مشتمل ہے۔ اس میوزیم میں جدید طریقوں سے پاک بحریہ کی تاریخ کو نمائش کے لیئے پیش کیا گیا ہے۔ بحریہ کا قدیم ورثہ اور میری ٹائم کے مختلف لوازمات، خوبصورت تصاویر جن میں محمد بن قاسم کی دیبل پر حملے کی تصویر بھی شامل ہے، قدیم اسلامی جہاز رانی کے اوزار، نقشے اور تھری-ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے دکھائے گئے ہیں۔

ان سب کے علاوہ پاک بحریہ کی آبدوز پی این ایس ہنگوراور مجاہد بھی یہاں رکھی گئی ہیں۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ کی تاریخ کو تصویروں کے ذریعے دکھایا گیا ہے۔ پارک کے اندر منوڑا لائٹ ہاؤس جیسا ایک لائٹ ہاؤس بھی بنایا گیا ہے۔ دیکھنے والے اس لائٹ ہاؤس سے پورے میوزیم کا نظارہ بھی کر سکتے ہیں۔
یہاں کی میرین لائف گیلری میں سمندر کے اندر موجود بے شمار مخلوق اور کورل ریف  کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں۔


ایک جگہ ایک عظیم الجژثہ وہیل کا ڈحانچہ چھت سے لٹکایا گیا ہے جو دیکھنے والے کو مبہوت کر دیتا ہے۔
بحریہ سے محبت رکھنے والوں کو پاکستان میں بحری امور سے متعلق واحد میوزیم لازمی دیکھنا چاہیئے۔
49- پنجاب یونیورسٹی میوزیم
یہ میوزیم لاہور کی پنجاب یونیورسٹی میں ایگریکلچرل سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے سامنے واقع ہے جس کا افتتاح جنوری 2016 میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران نے کیا۔


یہ میوزیم خاص طور پر علمِ حیوانات و حیاتیات کے طالب علموں کی تحقیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیئے بنایا گیا ہے۔ یہ علمی و تحقیقی عجائب گھر بیشتر حیوانات بشمول آبی جانور، کیڑے و حشرات الارض، پرندوں اور رینگنے والے جانوروں کا احاطہ کیئے ہوئے ہے۔ جانوروں سے محبت کرنے والوں اور ماہر حیاتیات کے لیئے یہ دیکھنے لائق ہے۔
50- لاہور ہریٹیج کلب میوزیم
طاہر یزدانی ملک صاحب (مرحوم) لاہور کی ایک جانی مانی ہستی تھے۔

وہ ایک سیاح اور تاریخ و ثقافت سے انتہائی محبت کرنے والے شخص تھے جنہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اپنی اسی محبت بلکہ جنون سے مجبور ہو کر انہوں نے انے اپنے گھر کے ایک مخصوص حصے میں لاہور ہیریٹیج کلب اور میوزیم کی بنیاد رکھی۔
ان کی یہ تنظیم خالصتاً غیر سرکاری اور غیر منافع بخش ہے۔
کہتے ہیں کہ ان کے پاس زبردست معلومات تھیں اور جب ایک بار وہ کسی موضوع پربولنا شروع ہوتے تھے تو سننے والا گنگ رہ جاتا تھا۔


ان کے اس میوزیم میں آپ ہزارہ و وادئ کالاش کے خوبصورت اور نفیس ملبوسات کے علاوہ خوبصورت گھڑٰیاں، شمع دان، چھوٹا دھاتی سامان، ڈھیر ساری پرانی استریاں، عطر کی شیشیاں، بُدھا کے مجسمے، ہزارہ ثقافت کی خوبصورت جائے نماز اور پرانی پاکستانی و ہندوستانی فلموں کی تصاویر بھی دیکھ سکتے ہیں۔
تاریخ کے متوالوں کے لیئے یہ میوزیم کسی خزانے سے کم نہیں۔


یہ میوزیم گلبرگ بلاک ای میں واقع ہے۔
51- قومی عجائب گھر برائے سائنس و ٹیکنالوجی
آج کے دور میں سائنس و ٹیکناوجی کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں۔ یہ وہ شعبہ ہے جس میں ہم بہت پیچھے رہ چکے ہیں۔ اسی تناظر میں جی ٹی روڈ پر لاہور کی انجینیئرنگ یونیورسٹی کے مقابل 1965 میں ایک میوزیم بنایا گیا جہاں سائنس سے متعلق بہت سا کام نمائش کے لیئے رکھا گیا ہے۔

اس میوزیم کا آئیڈیا 1965 میں محمد اکمل صاحب نامی ایک سابقہ مکینیکل انجینیئر نے پیش کیا تھا جنہوں نے سب سے پہلے اسے انجینیئرنگ یونیورسٹی کے طالبعلموں کے لیئے کھولنے کا خیال پیش کیا تھا۔ اس میوزیم کو 1976میں عوام کے لیئے کھولا گیا۔ اپنی مقبولیت کی بدولت گزشتہ پگپن سالوں میں اس عجائب گھر کی کئی بار توسیع کی گئی اور اسے عالمی معیار کے مطابق بنانے کی بھرپور کوششس کی گئی ہے۔


اس عجائب گھر کی مختلف گیلریوں سے گزرتے ہوئے آپ نت نئی مشینیں، مقناطیس، ڈیزل جنریٹر، برقی آلات، راکٹ ٹیکنالوجی، پینڈولم اور دیگر اہم سائنسی سامان دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں دوسری منزل پر ایک لائبریری بھی بنائی گئی ہے جہاں طالب علم مختلف سائنسی جریدوں سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
پاکستان کا واحد سائنسی میوزیم ہونے کی بدولت یہاں عوام الناس کا رش دیکھنے کو ملتا ہے۔


 52- کومو میوزیم آف آرٹ
 COMO (contemporary/modern) Museum of Art

لاہور کے علاقے گلبرگ کے قلب میں واقع کومو میوزیم، پاکستان کا پہلا میوزیم ہے جو خصوصی طور پر صرف جدید و ہم عصر آرٹ کی ترقی و ترویج کے لیئے بنایا گیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اس کے مقاصد میں لاہور میں ادب، ثقافت اور آرٹ کو پروان چڑھانا بھی شامل ہے جس کے لیئے یہاں ہر قسم کی نمائشیں اور بیٹھکیں منعقد کی جاتی ہیں۔


یہ میوزیم سال 2019 کے اوائل میں آرٹسٹ و ڈیزائنر سحر ترین نے بنایا ہے۔ یہاں کا خوبصورت سٹوڈیو تمام آرٹسٹس کے کام کو سراہنے کا کام بخوبی انجام دے رہا ہے۔۔ یہ میوزیم سال 2019 کے لاہور لٹریری فیسٹیول اور لاہور بینالے جیسے ایونٹس کی میزبانی بھی کر چکا ہے۔
53- آرمی میوزیم لاہور
لاہور کینٹ میں واقع یہ میوزیم پاک فوج کا دوسرا اور جدید میوزیم ہے ( پہلا راولپنڈی میں واقع ہے) جسے اگر افواجِ  پاکستان کی آن ، بان اور شان کہا جائے تو یہ بے جا نہ ہو گا۔

کیونکہ اس میوزیم میں پاک فوج سے متعلق ہر اس چیز اور واقعے کو محفوظ کیا گیا ہے جو آپ کے لیئے جاننا ضروری ہے۔ اس عجائب گھر کا سنگِ بنیاد اگست 2017 میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے رکھا تھا۔ یہ میوزیم اندرونی اور بیرونی حصے میں منقسم ہے۔ اندرونی حصے میں مختلف گیلریاں جبکہ بیرونی حصے میں ہیلی کاپٹر، اور ٹینک وغیرہ نمائش کے لیئے رکھے گئے ہیں۔


داخلی دروازے سے اندر جائیں تو چار بھارتی ٹینک سب سے پہلے آپ کی توجہ کھینچتے ہیں۔ ان میں سے تین خطے میں لڑی گئی ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ ''چونڈہ'' کے دوران قبضے میں لیئے گئے تھے جبکہ بقیہ ایک اکتہر کی جنگ میں دشمن سے چھینا گیا تھا۔ ان کے سامنے ان کی تاریخ بھی درج کی گئی ہے۔
اندرونی حصے میں سب سے پہلے پتھر کے وہ کتبے لگے ہیں جن پر 1947 سے لے کر اب تک پاک فوج کے شہداء کے نام لکھے گئے ہیں جنہوں نے مختلف جنگوں اور دہشت گردی کے خلاف افواج پاکستان کی کارروائیوں میں اپنی جان کا نزرانہ پیش کیا۔

اس کے بعد ایک بڑے نقشے کی مدد سے پاکستان آرمی کے بنیادی ڈھانچے کی معلومات دی گئی ہیں جس کے سامنے 1947 سے لے کر اب تک کے تمام آرمی چیفس کے مجسمے اور انکی تفصیل ترتیب سے رکھی گئی ہیں۔
اس سے آگے آپ ایک بڑے ہال میں داخل ہونگے جس سے مختلف گیلریاں نکل رہی ہیں۔ اس ہال میں قد آور جنگی ہاتھیوں اور گھوڑوں کے مجسمے ان کے سواروں سمیت لڑتے ہوئے دکھائے گئے ہیں جس کے ساتھ ان پرانی جنگی تکنیکوں کی تفصیل بھی موجود ہے۔

اس سے آگے 1947 میں بابائے قوم کو پاکستان کی پہلی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے  اور ساتھ ہی  تحریکِ پاکستان کے دیگر لیڈران کی تصاویر انکے نام اور اہم کارناموں سمیت دیکھی جا سکتی ہیں۔ آگے کی گیلری بھارتی چالبازیوں، اکتہر کی جنگ اور بنگلہ دیش کے قیام کا احاطہ کرتی ہے جس میں اس زمانے کے اخباری تراشوں، نقشوں، مکتی باہنی کے کیمپوں کی تفصیل اور جنگی جہازوں کے پرزوں کو نمائش کے لیئے رکھا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہجرت کی وہ دلدوز تصویر ہے جسے دیکھ کر کوئی بھی حساس دل تڑپ اٹھے۔ یہ بھارت سے ہجرت کرنے والے مسافروں کی جلتی ہوئی ٹرین ہے جس پر لوگ اپنا بچا کھچا اسباب لادے سوار ہیں۔
سائیڈ کی گیلریوں میں پرانے اور روائتی ہتھیار اور پاک فوج کے غیر مسلم فوجیوں کی تصاویر آویزاں ہیں۔
اس میوزیم کی سب سے منفرد اور نئی چیز وہ آڑھی ترچھی گیلری ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور کاوشوں کی ایمان افروز اور خونچکاں داستان سناتی ہے۔

یہاں پاکستان میں کیئے گئے تمام آپریشنز کی تصاویر،علاقوں کے تفصیلی نقشوں کی مدد سے آویزاں کی گئی ہے۔ سانحہ آرمی پبلک سکول کو بھی ایک درد ناک منظر کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک خوبصورت گیلری نشان حیدر پانے والے تمام فوجیوں، ایک 1965 کی پاک بھارت جنگ اور عوام کے جزبے جبکہ ایک دنیا کے سب سے اونچے محاذ، سیاچن کے لیئے مختص کی گئی ہے۔

ایک گیلری میں بڑے خوبصورت طریقے سے اقوامِ متحدہ کے تحت دنیا بھر میں موجود پاک فوج کے دستوں کے بارے میں ضروری معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
میوزیم کے کیفے ٹیریا سے بایر نکلیں تو ایک وسیع میدان میں مختلف ہوائی جہاز اور ٹینک ڈسپلے پر رکھے گئے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان اور افواجِ پاکستان سے محبت رکھنے والے ہر پاکستانی کو یہ میوزیم لازمی دیکھنا چاہیئے۔


54- بلتت فورٹ میوزیم ، کریم آباد ہنزہ
یونیسکو کی عارضی ثقافتی ورثہ کی لسٹ میں شامل  بلتِت کا قلعہ، پریوں کی کہانیوں میں موجود کسی خوبصورت پری کا گھر لگتا ہے۔ پہاڑ کے اوپر واقع یہ قلعہ کوئی 650 سال پہلے تب بنایا گیا جب ہُنزہ کے شاہی خاندان میں پھوٹ پڑی اور پھر پایہ تخت التِت سے بلتِت قلعے میں منتقل ہو گیا جسے وقت کے ساتھ ساتھ مرمت کیا گیا۔

16 ویں صدی میں جب یہاں کے شہزادے نے بلتستان کی شہزادی سے شادی کی تو وہ بلتی ہنرمندوں اور کاریگروں کو اپنے ہمراہ لائی تاکہ وہ اس قلعے کی تزئین و آرائش کر سکیں اور اس قلعے کی موجودہ شکل تب کے بلتی کاریگروں کی ہی عنایت شدہ ہے۔
آغا خان ٹرسٹ اور لندن کی ''رائل جیوگرافیکل سوسائٹی'' کے اشتراک سے اسکی مرمت کی گئی اور اس قلعے کو ایک عجائب گھر کی شکل دے دی گئی جسے بلتت ٹرسٹ چلا رہا ہے۔


بلتت کا قلعہ بھی کچھ کچھ التت قلعہ سے مماثلت رکھتا ہے۔ اسکے دروازے کھڑکیاں چھوتے اور خوبصورت ڈیزائنوں سے مزین ہیں۔ سیڑھیوں سے اوپر جائیں تو ایک ہال ہے جس میں سیڑھیوں سمیت تین کمروں کے دروازے کھلتے ہیں۔ ایک کمرے میں برتن اور خوبصورت لال قالین رکھا گیا ہے۔ جبکہ دوسرا کچن ہے جہاں ہر قسم کے برتن اور ایک انوکھی چیز رکھی ہے جو سمجھ نہیں آتی، غور کرنے پر پتہ چلا کہ یہ ''چوہے دانی'' ہے۔

پہاڑی بکروں کی کھال اور پرندوں کے پر بھی رکھے گئے ہیں۔ غرض یہ وادئ ہُنزہ کی ثقافت کا بھر پور عکاس ہے۔
اوپر جائیں تو ایک شاندار منظر آپ کو ملتا ہے۔ لکڑی کے کام سے مُزین ایک جھروکے میں ریاستِ ہُنزہ کے امیران کا خوبصورت تخت بچھا ہے جہاں بیٹھ کر وہ اپنی رعایا سے خطاب کرتے تھے۔ اس کے ساتھ لکڑی کی دیوار پر مارخور کا ڈھانچہ اور سینگ نمائش کے لیئے لگائے گئے ہیں۔

اس قلعے کے لکڑی سے بنے دالانوں سے سورج غروب ہونے کا منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
اوپر کے تمام کمرے میوزیم کا حِصہ ہیں جہاں پہلے کمرے میں ہنزہ کے والیان کی تصاویر، پوشاکیں، ہُنزہ کا جھنڈا، ڈھالیں اور تلواریں رکھی گئی ہیں۔ اس سے آگے کا کمرہ خوبصورت کشمیری سٹائل کی چھت سے مزین ہے اور وہاں میر محمد کلیم خان کے دور کا کشمیری قالین ، تانبے کے برتن اور ریاست ہُنزہ اور چین کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدات کی نقول رکھی گئی ہیں جو چینی اور شیناء زبان میں قلم بند ہیں۔

اگلا کمرہ میرانِ ہنزہ کی خاندانی تصاویر، آرام کرسی، گھڑیال اور پرانے ٹیلی فون پر مشتمل چیزوں سے سجا ہے۔ اس سے آگے کچن ہے جہاں بڑے چھوٹے برتن اور ایک بچے کا خوبصورت پنگھوڑا رکھا ہے۔
سب سے آخری کمرے میں علاقے کی ثقافت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ایک طرف دیوار پر ڈھول، رُباب اور طمبق جیسے علاقائی سازوں سے سجا یہ کمرہ دوسری جانب لال، پیلے،نیلے، ہرے شیشوں کی کھڑکیوں سے مُزین ہے۔

یہاں 1920 کے دور کے پرانے چینی نوٹ بھی رکھے گئے ہیں۔ جبکہ ایک اور دیوار پر 1900 کے زمانے کا سنکیانگ چائنہ کا قالین لٹک رہا ہے۔
یہاں سے باہر سیڑھیاں آپ کو نیچے اس جگہ لے جاتی ہیں جہاں ہُنزہ کی مشہور ''زلزلہ'' توپ رکھی گئی ہے۔ اس توپ کے لیئے اہلِ ہُنزہ نے تانبے کے برتن اور کوئلہ مہیا کیا اور یہ 1891 میں انگریوں کے خلاف استعمال کی گئی۔ انگریز فوج نے گلگت اور ہُنزہ کی ریاستوں کو گتح کرنے کے بعد یہ توپ گلگت ایجنسی کے انگریز پولیٹکل ایجنٹ کے دفتر کے باہر رکھ دی۔

پاکستان بننے کے بعد بھی یہ وہیں رہی جبکہ جون 1999 میں اسے بللت فورٹ ٹرسٹ کے حوالے کر دیا گیا ۔
55- آرمی میوزیم راولپنڈی
1961 میں قائم شدہ یہ عجائب گھر افواجِ پاکستان کے درخشاں ماضی کو محفوظ رکھنے کے لیئے بنایا گیا تھا۔ راولپنڈی کینٹ میں واقع یہ عجائب گھر پاک فوج سے متعلق تمام اہم نوادرات اور اسلحہ محفوظ کیئے ہوئے ہے۔


یہاں قدیم زمانے کے اسلحے اور وردیوں سے لے کر جنگوں میں بچ جانے والے ٹینک تک نمائش کے لیئے رکھے گئے ہیں۔ پاکستان آرمی کے ارتقاء کی تفصیلی تاریخ  میوزیم کی نئی عمارت میں نمائش کے لیئے موجود ہے۔
دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ اور اس میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کردار اور قبائلی علاقوں میں پاک فوج کے آپریشنز  پر ایک تفصیلی گیلری کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔


56- التت فورٹ میوزیم ہُنزہ
ہنزہ کی شاہانہ وجاہت کا عکاس ''التِت فورٹ''، دریائے ہُنزہ کے کنارے بالائی کریم آباد میں واقع ہے۔ التِت قلعے کو ''میر آف ہنزہ'' نے ہمسایہ ریاست نگر کے ''میر'' پراپنی طاقت اور عظمت کی دھاک بٹھانے کے لیئے تعمیر کروایا تھا۔ اور تقریباً 11 ویں صدی سے یہ اسی طرح ''قراقرم'' کے پہاڑوں پہ شان و شوکت سے براجمان ہے۔


اسی قلعے کو ایک میوزیم کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے جہاں اس کی ایک اک چیز دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے پھر چاہے قلعے کی عمارت ہو یا اس کے اندر موجود سامان۔
یہاں مختلف کمروں میں شاہی خاندان کے قدیم برتن اور بکس رکھے گئے ہیں۔ لکڑی کے چھوٹے دروازوں، سیڑھیوں اور کھڑکیوں خوبصورت کشیدہ کاری کی گئی ہے ۔ پرانے زمانے کےنقش و نگار تو نئے زمانے کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔


قلعے کا مرکزی ہال بیک وقت عبادت، کھانا پکانے اور مختلف مجالس کے لیئے استعمال ہوتا تھا۔ یہاں ایک صدیوں پرانا کھانا پکانے کا برتن اور لکڑی کا پرانا بکس رکھا ہے جس پر ''سواستیکا'' کے کئی نشان بنے ہیں۔  یہ بکس آٹا رکھنے کے لیئے استعمال کیا جاتا تھا۔
قلعے کے اندر شاہی مہمان خانوں کو ایک چھوٹے سے میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا ہے جس میں شاہی خاندان اور ہُنزہ سے متعلق نادر تصاویر رکھی گئی ہیں۔

اوپر چھت پر شکاری ٹاور، لکڑی کی ایک کھڑکی اور ایک چھوٹا کمرہ بنا ہوا ہے جس کے چھوٹے سے دروازے پر لکڑی کا خوبصورت کام کیا گیا ہے۔ قلعے کے باہر سبز پانی کا خوبصورت تالاب، ہینڈی کرافٹ شاپس، کیفے اور خوبصورت گھر بنے ہیں جن کے سامنے بیٹھے ہُنزہ کے آرٹست رباب پر قسم قسم کی دھنیں بجا کر سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔
ہر سال مٸی کی 18 تاریخ کو دنیا بھر میں عجائب گھروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی سیاح کا تعلق اسکی زمین، اسکی ثقافت سے تب تک نہیں جڑ سکتا جب تک وہ ان عجائب گھروں میں محفوظ اپنی تاریخ میں دلچسپی نہیں لیتا۔
سیاحت کا، تاریخ کا، رسم و رواج کا، ثقافت کا اور ان عجائب گھروں کا آپس میں ایک گہرا تعلق ہے اور انہی کے حسین امتزاج کو ہم ورثہ کہتے ہیں۔
عالمی یوم عجائب گھر، ہر سال دنیا بھر میں ''بین الاقوامی کونسل برائے عجائب گھر ''کے تعاون سے 18 مئی کو منایا جاتا ہے۔

اس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر عجائب گھروں کی اہمیت اور اس کے معاشرے اور ثقافت پر اثرات کا شعور اجاگر کرنا ہے۔ اس دن کو منانے کی ابتدا 1977ء میں ہوئی۔ عالمی یوم عجائب گھر کی شراکت میں عالمی سطح پر ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ 2016ء میں 145 ممالک کے 35,000 عجائب گھروں نے اس عالمی یوم میں شرکت کی۔
پاکستان کے حوالے سے بات کی جائے تو جتنا یہ تاریخ و ثقافت کے حوالے سے امیر ملک ہے، اتنے ہی کم ہمارے پاس عجائب گھر ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق حکومتی سرپرستی میں ہمارے پاس تقریباً 56 چھوٹے بڑے میوزیم اور 12 آرٹ گیلریز موجود ہیں۔ جبکہ دو درجن کے قریب نجی عجائب گھر بھی مقامی ثقافت کو سنبھالنے میں اپنا بھرپور حصہ ڈال رہے ہیں۔
یہ عجاٸب گھر ہمارا وہ قیمتی سرمایہ ہیں جن کے بغیر ہماری تاریخ نا مکمل ہے۔ انکی تعداد میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ملتان اور ڈیرہ غازی خان جیسے بڑے اور تاریخی شہروں میں میوزیم کا نہ ہونا بھی سراسر ایک زیادتی ہے۔

ذرا سوچیں تو، وہ شہر کہ جس کی بنیادوں میں بھی عجائبات بھرے پڑے ہیں ایک عجائب گھر سے محروم ہے۔ ملتان سمیت جنوبی پنجاب کی تاریخ کو محفوظ کرنے کے لیٸٕے یہاں ایک عجاٸب گھر کا قیام ناگزیر ہے۔ حکومت وقت کو اس پر سنجیدگی سے کام کرنا چاہیئے تاکہ اس خطے کے تاریخی و ثقافتی خزانوں کو یہیں نمائش کے لیئے رکھا جا سکے

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

ajaib gharoon ki dunya - 4th part is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 10 September 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.