ارطغرل غازی سیزن 5 ، قیامِ نو !!!

اگر تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے تو ڈرامہ سیریل " ارطغرل غازی " تاریخی حقائق اور تخیل (فکشن ) کا عمدہ امتزاج ہے۔ چونکہ " ارطغرل غازی " کے حالات زندگی اوربیشتر واقعات پرتاریخ خاموش ہے

عائشہ نور جمعرات جون

Ertugrul Ghazi Season 5 - Qayam e Nau
 سوغوت پر سب سے پہلے نازل ہونے والی منگول مصیبت  " آلنچاک " کا فوجی دستہ اور " الباستی " تھے  ۔ منگولوں کے خلاف سرعام جنگ کرکے نمٹنا کائی قبیلے کےلیے تقریباً ناممکن تھا ۔ چنانچہ ارطغرل غازی نے لیفکے قلعہ پر قابض باغی بازنطینی کماندار " دراگوس " سے منگول مخالف مزاحمتی اتحاد بنایا ۔ حالانکہ یہ شخص اپنی تمام تر تیاریاں سوغوت کو ارطغرل سے چھیننے کےلیے کرتا رہاتھا مگر منگول مداخلت نے یہ تمام تر وسائل ارطغرل کے دشمنوں کے خلاف استعمال ہونے کا سبب مہیا کردیا۔

جس کا تمام تر کریڈٹ " ارطغرل غازی " کی مربوط حکمت عملی کو جاتاہے ۔ " ارطغرل غازی " نے " سوغوت " کو بچانے کےلیے سرعام جنگ کا خطرہ مول نہ لینے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا اور تلوار کی بجائے عقلی مزاحمت کو ترجیح دی ۔

(جاری ہے)

اس طرح وہ " سوغوت " کو منگولوں کے ہاتھوں قتلِ عام کو بچانے میں   کامیاب رہے ۔ یہ بہت سبق آموز ہے کہ جذبات کی رو میں بہہ کر  طاقت کے استعمال کی بجائے کبھی کبھی معاملات مربوط سیاسی اور جنگی حکمت عملی سے بھی حل کیے جاسکتے ہیں ۔

گویا ارطغرل نے ایک بہادر جنگجو ہونے کے ساتھ ایک خود کو ایک بہترین منتظم , دوراندیش قائد بھی ثابت  کیا۔
یہ وہ دورظلمت تھا جب کہ منگول کماندار " باجو نویان " 1243 میں " کوش داغ " کی جنگ میں سلجوق سلطان " غیاث الدین کیحسرو " کو شکست فاش دے چکاتھا اور عملاً سلجوق پایۂ تخت " قونیہ" منگول فوج کے رحم و کرم پر تھا۔ " اناطولیہ " کے اصل حکمران منگول تھے جو سلجوقیوں سے بھاری بلکہ ظالمانہ  محصولات وصول کرتے تھے۔

" اناطولیہ" طوائف الملوکی کا شکار تھا ۔ سلجوق سلطان غیاث الدین کا ایک بیٹا " رکن الدین کلیچ ارسلان چہارم  " منگول حاکمیت کے سامنے گھٹنے ٹیک چکا تھا جبکہ اس کا دوسرا بھائی " عزالدین کیکاؤس دوئم " بھاگ کر نیقیا چلا گیا مگر بازنطینی حکومت نے اسے پناہ دینے کی بجائے قید کردیا اور بعدازاں اسے منگولوں کے حوالے کرنے کی ٹھان لی ۔ یہ سلجوقی سردار اعلی " ارطغرل غازی ٰ" کی زندگی کا ایک کڑا امتحان تھا ۔

آپ اپنی سیاسی بصیرت , فہم وفراست اور دوراندیش عسکری قائدانہ صلاحیتوں کے باعث اس امتحان پر پورے اترے۔ آپ نے " عزالدین کیکاؤس " کو  منگولوں سےبچاکر " برکےخان " کےہاں پناہ دلوائی , اناطولیہ سےجمع شدہ محصولات کو منگول حکمران " ہلاکو خان" تک پہنچنے سےروکا  , سلجوقی سطنت کےاہم راز منگولوں  کےہاتھ نہ لگنےدئیے۔ اس دورکی ترک خفیہ ایجنسی " سفیدداڑھی " والوں کی " ارطغرل غازی  " کو مدد حاصل رہی۔

سلجوق سردار اعلی کی ٰ حثیت میں ترک قبائل کو منگولوں کے خلاف مزاحمت کےلیے " ارطغرل غازی " نے پورےاناطولیہ میں منظم کرکے مسلمان منگول حکمران " برکے خان " اور مصر کی مملوک ریاست سے  اتحاد قائم کیا , بعد کے حالات نے  یہ ثابت کردیا کہ یہ اتحاد منگول طاقت کا شیرازہ بکھیرنےمیں کامیاب رہا   ۔ جب " ارطغرل غازی " اناطولیہ میں منگولوں کے خلاف مزاحمت منظم کررہے تھے , اس وقت عالمِ اسلام ایک سیاہ ترین دور سے گزر رہاتھا۔


1258ء میں ہلاکوخان نے منگوخان کے گورنر کی حیثیت سے بغداد پر حملہ کرکےخلافت عباسیہ ک ا خاتمہ کردیا اور بغداد شہر کی اینٹ سے بجادی  ۔ بغداد کے ساتھ ساتھ موصل حلب اور دمشق بھی ہلاکو خان کے ہاتھوں فتح ہوگئے۔ دمشق کے سوا (وہاں کے حاکم نے ہلاکو خان سے معاہدہ کرلیا تھا) عراق اور شام کے اکثر شہروں کو بغداد جیسی قتل و غارت گری کا نشانہ بنایا گیا۔

اس طرح تاتاری یلغار وسطی ایشیا سے نکل کر ایران، افغانستان، چین، روس اور ہندوستان کے اکثر علاقوں ، مشرقی یورپ، شام ، فلسطین، اور عراق کو نگل کر مصر کے دروازے تک پہنچ گئی۔
مصر کی شکست کی صورت میں منگولوں کا اگلا ہدف حجاز مقدس یعنی مکہ اور مدینہ ہوتے۔ گویا مصر کی حکومت مسلم دنیا کی آخری امید باقی بچی تھی ۔ چنانچہ 1260 میں "عین جالوت "کے تاریخی میدان میں ہلاکو خان کی 3 لاکھ فوج کے مقابلے میں مصر کے مملوک سلطان " سیف الدین قطز " کی 20 ہزار مصری فوج سپہ سالانہ رکن الدین بائیبرس کی قیادت میں مقابلے پر آئی ۔

یہ مٹھی بھر لوگ کسی طور بھی منگول ٹڈی دل کو نہیں روک سکتےتھے۔ پھر معجزہ خداوندی رونما ہوا اور قراقرم کے چوتھے خاقان " منگو خان " کا انتقال ہوگیا۔ اور ہلاکو خان کو اس آخری رسومات یعنی " قرولتائی " میں شرکت کےلیے قراقرم جانا پڑا۔ چنانچہ روانگی سے قبل اس نے مصر کے مملوک سلطان کو ایک دھمکی آمیز خط لکھا اور اور منگول سپہ سالار " کتبغا خان " کی زیر قیادت 20 ہزار فوج چھوڑ کر باقی لشکر کے ساتھ وہاں سے چلا گیا۔

روانگی سے قبل ہلاکو خان نے اس کے واپس آنے تک مصر پر حملہ نہ کرنے کا حکم دیا تھا مگر چونکہ مملوک سلطان نے ہلاکو خان کا دھمکی آمیز خط لے جانے والے سفیر کو قتل کروا دیا چنانچہ جنگ یقینی ہوگئ ۔ بالآخر منگول لشکر کی کم تعداد دیکھ کر مصری فوج منگولوں کے مدمقابل آگئ اور ماہ رمضان  بمطابق 1260 منگول فوج کو عبرتناک شکست فاش دی ۔ اور یوں عالم اسلام ایک بڑی تباہی سے بچ گیا۔

جس کے نتیجے میں ایک ایک کر مسلم مقبوضات نے منگولوں کے خلاف بغاوتیں برپا کرکے آزادی حاصل کرنا شروع کردی۔
اس کے بعد ستمبر 1262 میں ہلاکو نے ایک مرتبہ پھر شام اور مصر پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی مگر چنگیزخان کےپوتےاور  ہلاکو خان ہی کے چچازاد "برکے خان " جو اسلام قبول کرچکے تھے , اور قفقاز کے کوہساروں سے لے کر بلغاریہ تک اپنی حکومت قائم کرچکے تھے ۔

" برکے خان " نے ہلاکو خان کی مہم ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا , ہلاکو خان کا لشکر تباہ ہوا اور اس کا ایک بیٹا بھی قتل ہوا اور شکست خوردہ ہلاکو خان نے بحیرہ آذربائیجان کے ایک جزیرے میں پناہ لی ۔ مگر " مملوکوں اور برکے خان سے پے در پے شکستوں کے بعد منگول پھر کبھی نہ سنبھل پائے , چندبرس بعد  1265میں وحشی صفت ہلاکو خان ایک حادثاتی مگرعبرتناک موت  مرگیا , منگول سلطنت زوال پذیر ہونےلگی اور منگولوں کی بڑی تعداد مشرف بہ اسلام ہوگئ اور یوں تاریکی کے بادل بالآخر چھٹ گئے  ۔


اگر تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے تو ڈرامہ سیریل " ارطغرل غازی " تاریخی حقائق اور تخیل (فکشن ) کا عمدہ امتزاج ہے۔ چونکہ " ارطغرل غازی " کے حالات زندگی اوربیشتر واقعات پرتاریخ خاموش ہے۔ اس لیے ڈرامہ سیریل میں کئ فرضی کردار اور واقعات بھی    شامل کیےگئےہیں۔ جنہیں حقیقی کرداروں سے   جوڑنا مصنف " مہمت بوزداغ " کی تخلیقی کاوشوں کا نقطہ کمال ہے ۔ انہوں بڑی مہارت سے تاریخی کرداروں کو ڈرامائی انداز میں پیش کیاہے۔ جبکہ ڈرامہ سیریل میں ترک اداکاروں کی پرفارمنس بھی اپنی مثال آپ ہے ۔ یہ ہی وجہ ہےکہ یہ ڈرامہ سیریل لوگوں کی سوچ و عمل پر لاشعوری طورپر گہرے اثرات مرتب کرچکاہے

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Ertugrul Ghazi Season 5 - Qayam e Nau is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 25 June 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.