''ہم کیا چاہتے۔۔ آزادی''

بھارت کشمیر میں نیا قتل عام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس قتل عام کو پاکستانی اور کشمیری عوام خاموشی سے برداشت کریں گے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے

Salman Ahmad Qureshi سلمان احمد قریشی اتوار اگست

''hum kya chahte...azadi''
بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمہ سے خطہ میں غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کشیدگی کی آخری حدود کو چھونے کے بعد حالیہ بھارتی الیکشن میں نریندرا مودی کی کامیابی کی صورت میں بہتری کی امید لگائے وزیر اعظم عمران خان کیلئے یہ صورتحال غیر متوقع ہے۔ مودی سرکار کی انتہا پسندانہ سوچ سے کشمیر تنازع میں ایسی چنگاری بھڑک سکتی ہے جس پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔

پاکستان میں تبدیلی سرکار وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کو لئے خوش تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی بات کر کے بھارت کو مشکل میں ڈال دیا۔ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی تھی یا حکومت پاکستان کی ناکامی کہ تبدیلی سرکار کسی خوش فہمی میں مبتلا تھی۔

(جاری ہے)

مودی نے تعلقات بہتر بنانے کیلئے ثالثی تو ایک طرف پاکستان کے ساتھ ایل او سی پر بھی صوتحال کشیدہ رکھی اور کشمیر کی آئینی حیثیت کو بھی تبدیل کر دیا۔

اس بدلتی صورتحال اور بھارت کے اس اقدام پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیر کے حوالہ سے سکیورٹی کونسل کو خط لکھ کر اپنے موقف سے آگاہ کیا-
پاکستان کی درخواست پر سکیورٹی کونسل کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں مقبوضہ کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کیا جبکہ بھارت کا موقف تھا کہ یہ اسکا اندرونی معاملہ ہے۔ پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے بھارت کے حالیہ اقدامات غیر قانونی اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے منافی ہیں۔

بھارت کشمیر میں نیا قتل عام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس قتل عام کو پاکستانی اور کشمیری عوام خاموشی سے برداشت کریں گے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ پاکستان کے خدشات کس حد تک درست ہیں اس کا جواب عالمی برادری کو مل گیا۔ اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب زینگ جون نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اراکین نے گہری تشویش کا اظہار کیا۔

چینی مندوب نے کہا بھارتی اقدام سے چین کی سلامتی کو بھی چیلنج درپیش ہے۔ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے، کشمیر تسلیم شدہ تنازعہ ہے خصوصی حیثیت ختم کرنے سے خطہ میں کشیدگی پیدا ہوئی، بھارت کا یکطرفہ اقدام صورتحال کو مزید خراب کر سکتا ہے۔ 
آرٹیکل0 37کے خاتمے کے بعد سے کشمیر میں کرفیو کا نفاذ واضح کرتا ہے کہ کشمیر میں حالات نارمل نہیں۔

عید الضحیٰ کے موقع پر کشمیریوں کو نماز عید ادا کرنے اور قربانی کا فریضہ ادا کرنے سے بھی روکا گیا۔ انٹرنیٹ، موبائل سروس، لینڈ لائن، سکول، کالج، دفاتر سب بند۔۔ گلی محلوں میں مورچے قائم، مقامی رہنما نظر بند۔ یہ سب کچھ عیاں کرتا ہے کہ مودی کشمیر میں کوسوو طرز پر ریاستی معاملات چلانے کا خواہش مند ہے اور یہ سب اسی کی تیاری ہے۔ کشمیر کی آبادی کو قید کر کے انکی قسمت کا فیصلہ کیا جائے گا۔

عالمی برادری کے سامنے یہ سب کچھ لانا پاکستان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کشمیر اورکشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت کرتا ہے جبکہ بھارت خواہش رکھتا ہے کہ ظلم بھی ہو اور امن بھی رہے، ایسا ممکن نہیں۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے واضح کیا ہے کہ کشمیر کے مسئلہ پر ہم آخری حد تک جائیں گے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس سے بھارت کا چہرہ پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو گیا۔

 
سفارتی محاذ پر بے نقا ب ہونے کے ساتھ بھارتی وزیر دفاع کا بیان بھی عالمی امن کے خواہش مندوں کیلئے تشویش کا باعث ہے، ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کی بات بھارتی وزیر دفاع کی طرف سے سامنے آنا بھارت کے کردار کو واضح کرتا ہے کہ مودی سرکار عالمی امن کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے۔
بھارت پاکستان پر شر پسندوں کی معاونت کا الزام لگاتا آیا ہے لیکن پاکستان نے ہمیشہ اس الزام کو رد کیا ہے اور پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے اخلاقی اور سفارتی حمایت کا حامی ہے۔

اب بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہم پاکستان پر بھارت کو ترجیح دینے میں غلط تھے۔ مودی سرکار کشمیر کو غزہ کی پٹی کی طرح بنانا چاہتی ہے اور کشمیر کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہتی ہے جو اسرائیل فلسطین کے ساتھ کر رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ''اس وقت وہ ہر اس ادارے سے مایوس ہیں جس پر انہیں اس ملک کی اکثریت کی خواہشات اور ارادوں کے خلاف یقین تھا، اس اقدام نے کشمیر کا معاملہ مزید الجھا دیا ہے۔

اب اسکا حل مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اس واقعہ نے عالمی برادری کو یہ جاننے کا موقع دیا کہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے۔ آئینی تعلق ناجائز قبضہ میں تبدیل ہو گیا۔ ہم جدو جہد کریں گے''۔ 
قارئین کرام! حریت قیادت، پاکستان، کشمیری عوام اور اب بھارت سے امیدیں وابسطہ کرنے والی سیاسی قیادت بھی بھارت کے کھیل کو سمجھ چکی ہے۔پاکستان کی سیاسی قیادت امریکہ کے دورے کے بعد خوش تھی کہ ٹرمپ نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہہ کر بھارت کو مشکل میں ڈال دیا۔

امریکی صدر ٹرمپ کے اس مطالبہ سے بھارت قیادت میں کیا فرق پڑتا ہے جب 72سال سے کشمیرپر قابض بھارت اقوام متحد ہ کی قراد ادوں، شملہ معاہدہ کے تحت دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے معاملہ طے کرنے پر تیار نہ ہوا اورمسلسل پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کرنے میں مصروف رہا۔ بھارتی پراپیگنڈہ سے دنیا کس قدر متاثر ہوئی اس کا اندازہ ا س بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بالا کوٹ حملے پر فرانس نے بھارت کے حق میں بیان دیا، انسانی حقوق کی چیمپئین یورپی یونین پارلیمنٹ کشمیر کے مسئلے پر مکمل خاموش ہے۔

او آئی سی کے اجلاس میں بھی بھارت کو بطور مندوب شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا، امت مسلمہ بھی ایک ارب کی مارکیٹ سے وابستہ مفادات کو بالائے طاق رکھ کر انسانی حقوق کی بات کرنے پر تیار نہ ہوں تو بھارت کے حوصلے کیونکر بلند نہیں ہوں گے۔ 
دنیا میں بہت سے علاقوں میں آزادی کی تحریکیں موجود ہیں، کاتالونیا)سپین(اسکاٹ لینڈ(برطانیہ) کیوبک (کینیڈا)، ابخازیا (جارجیا)، عالمی برادری نے اپنا کردار کسی حد تک ادا کیا مگر جو ظلم کشمیر میں ہورہا ہے اس پر عالمی برادری کی خاموشی ایک مجرمانہ فعل ہے۔

آزادی اور خود مختاری کی تحریکیں، فلسطین ہو یا آئرلینڈ انکو اخلاقی حمایت ہمیشہ حاصل رہی۔کشمیر کے معاملے پر عالمی برادری اپنا کردا ر ادا کرنے میں اب تک ناکام ہے۔ 
اقوام متحدہ کی مداخلت سے مشرقی تیمور تو انڈونیشیا سے آزادی پا چکا، افسوس تو اس بات کا ہے زیادہ پرانی بات نہیں 30اگست 1999ء اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ریفرنڈم ہوا جس میں مشرقی تیمور کو حق دیا گیا کہ وہ فیصلہ کرے مکمل آزادی یا انڈونیشیا میں رہتے ہوئے زیادہ سے زیادہ خود مختاری۔

ریفرنڈم کے نتائج کے مطابق 78.5%عوام نے آزادی کے حق میں ووٹ دیکر انڈونیشیا سے آزادی حاصل کر لی۔مشرقی تیمور کو امریکہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور پرتگال کی حمایت حاصل تھی۔ مشرقی تیمور کے باغی لیڈروں کو نوبل انعام کا مستحق ٹھہرایا گیاجبکہ کشمیری حریت پسند بھارت کی نظر میں دہشتگرد ہیں اور عالمی برادری بھارت کے سامنے خاموش۔ یہاں یہ بات ملحوظ خاطر رکھیں 1976ء میں انڈونیشیا کے صدر سہارتو نے ایک معاہدے کے ذریعے مشرقی تیمور کو 27واں صوبہ قرار دیکر انڈونیشیا کا حصہ بنایا تھا، امریکہ سمیت عالمی برادری نے مشرقی تیمور کے ادغام کو سرکاری طور پر تسلیم کیا۔

اقوام متحدہ محض اس لئے مخالف تھی کہ انڈو نیشیا نے فوجیں اتارنے میں ان سے رسمی اجازت نہیں لی۔ سرد جنگ کے اس دور میں امریکہ نے اپنے مفاد کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ویٹو کیا، عالمی حالات بدلے تو 11مارچ 1999ء میں انڈونیشیا اور پرتگال کے درمیان اس بات پر معاہدہ ہو گیا کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں مشرقی تیمور کو آزادی کے حق یا مخالفت میں فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے گا۔

اس معاہدے پر عمل درآمد ہوا اور آج مشرقی تیمور ایک آزاد ملک ہے۔
اگر انڈونیشیا بھارت کی طرح عالمی برادری کے مطالبات کو ایک طرف رکھتے ہوئے فوج کشی کرتا تو قتل و غارت، خانہ جنگی پیدا ہوتی۔۔ میں سمجھتا ہوں اقوام متحدہ اور امن کے ٹھیکیداروں کو انڈونیشیا کے مثبت رویے کو سراہنا چاہئے جس نے عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ کے خواہش پر مشرقی تیمور کے عوام کی رائے کا احترام کیا۔

جبکہ بھارت 72سالوں سے کروڑوں کشمیری مسلمانوں کی رائے کو مسترد کرتے ہوئے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔اور اقوام متحدہ بھی کشمیر کے مستقبل کے بارے میں کچھ کرنے سے قاصر ہے۔
نریندرا مودی کو یاد دلوانا چاہتا ہوں کہ انڈونیشیا کے اس وقت کے صدر یوسف حبیبی نے مشرقی تیمور کی آزادی کے حق کے فیصلے کو خلوص دل سے قبول کیامگر آبدیدہ نگاہوں سے مسلمانوں کو پرامن اور صبر و تحمل کی تلقین کی۔

یوسف حبیبی جانتے تھے امن سب سے مقدم ہے۔ پاکستان کے سفارتکار جمشید مارکر اقوام متحدہ کے مشن کے سربراہ بن کر مشرقی تیمور گئے تھے جہاں کامیابی سے ووٹنگ ہوئی۔ مزید تفصیلات میں جائے بغیر صرف اتنا کہوں گا مشرقی تیمور کے دارلحکومت ڈالی اور نیو یارک سے ایک ساتھ آزادی کے اعلان پر خوشی کا اظہار دیکھنے میں آیا۔ امن و امان کے قیام کیلئے وہاں امن فوج بھی تعینات کی گئی۔

آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور برطانیہ کے جدید ہتھیاروں سے لیس دستے مشری تیمور پہنچے۔ 
مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے دیکھا جائے تو کشمیری عوام اقوام متحدہ کے تحت حق خود ارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ بھارت انسانی حقوق کی مسلسل تذلیل کر تا آ رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو مشرقی تیمور کی طرح حل کیا جا سکتا ہے اگر عالمی طاقتیں تہیہ کر لیں کہ اب امن کو موقع دینا ہے۔

کشمیر کا مسئلہ کوئی علاقائی جنگ نہیں معاملہ صرف کشمیریوں کو آزادی رائے کا حق دینے سے حل ہو سکتا ہے۔کشمیری عوام چاہتے کیا ہیں۔۔صرف آزادی۔
آج کشمیر عالمی ضمیر کی آزمائش ہے اور علاقائی قیادت کے امتحان کا وقت ہے۔ ایک طرف نریندرا مودی جیسا حکمران ہے جو ہٹلر بننے کے چکر میں ہے دوسری طرف انڈونیشیا کے صدر یوسف حبیبی کا سیاسی کردار ہے۔ عالمی طاقتوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ مودی کو یوسف حبیبی بننے پر مجبور کرنا ہے یا مودی کو ہٹلر بن کر خطے کے امن کو برباد کرنے کی اجازت دینی ہے۔کشمیر سے تو ایک ہی آواز آتی ہے۔ ہم کیا چاہتے۔۔آزادی

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

''hum kya chahte...azadi'' is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 18 August 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.