پاکستان کا مالی بحران اور وزیراعظم کی بیرونی دورے!

وزیر اعظم عمران خان نے بار بار اپنی تقاریر میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اس ملک کے غریب عوام مہنگائی میں پستے چلے جارہی ہیں اور زندگی گزارنا مشکل ہوگئی ہے اُنہوں نے بار بار خزانہ خالی ہونے کی بات بھی کی ہے لیکن

بدھ نومبر

Pakistan ka maali bohraan aur wazeer e azam ki bairooni doray
 (عثمان اجمیری)
وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں سعودیہ عرب اور دیگر ممالک کے دورے کئے ہیں اور اس دورے کے دوران پاکستان کے مالی بحران کے سلسلے میں قرض مانگے تھے جس میں اُنہیں بڑی خاطر خواہ کامیابی ہوئی ہے خاص طور پر سعودیہ عرب نے معاملات کو سمجھنے کے بعد بارہ ارب ڈالرکی امداد دینے کا اعلان کیا۔


وزیر اعظم عمران خان نے بار بار اپنی تقاریر میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اس ملک کے غریب عوام مہنگائی میں پستے چلے جارہی ہیں اور زندگی گزارنا مشکل ہوگئی ہے اُنہوں نے بار بار خزانہ خالی ہونے کی بات بھی کی ہے لیکن نئے وزراء کی تقریری خزانے پر بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے اور یہ ایسی بات ہے کہ آپ کے اپنے گھر میں معاملات کو چلانے کیلئے اہلیہ یہ کہتی ہے کہ آپ جو گھر یلو اخراجات کیلئے رقم دیتے ہیں اور ناکافی ہے اور دوسری جانب لوگوں کی آپ دعوتیں بھی خوب کررہے ہیں ۔

(جاری ہے)


وزیر اعظم عمران خان اگر ان 22وزراء کی تقرری کے موقع پر اگر یہ اعلان کرتے کہ یہ وزراء کوئی تنخواہ مراعات نہیں لیں گے نہ گاڑی ملے گی نہ پیڑ ول ملے گا اور نہ ہی گھر ملے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی پارٹی کے رکن قومی اسمبلی بھی کوئی تنخواہ نہیں لیں گے اور مراعات نہیں لیں گے تا کہ خزانہ پر بوجھ نہ ہو دیگر سیاسی جماعتوں کے جواراکین پارلیمنٹ میں منتخب ہو کر آئے ہیں ان کا مقصد ملک کی خدمت کرنا اور قانون سازی کرنا ہے ۔


اگر وہ بھی یہ اعلان کردیں کہ ملک کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر وہ بھی نہ تو تنخواہ لیں گے اور نہ ہی مراعات لیں گے۔وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقاریر میں باربار یہ کہا ہے کہ غریب عوام مہنگائی کے سبب اپنے گھر کا چولہا جلانے میں دشواری پیش آرہی ہے اور لوگ خود کشیوں پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے ایوان صدر وزیر اعظم ہاؤس کو بند کرنے کا ا علان بھی کیا ہے تا کہ ان اداروں پر سالانہ جو اربوں روپے خرچ ہوتے تھے وہ بچائے جا سکیں اس ملک کا غریب طبقہ اس بات کا خواہشمند ہے کہ شام کو ان کے بچوں کو آسانی کے ساتھ روٹی میسر ہو سکے اور ان کا چولہا جل سکے اب آپ عوام کو کیا ریلیف دے رہے ہیں ایک تجویز ہے کہ پورے پاکستان کے یو ٹیلٹی کار پوریشن فوری طور پر بند کر دےئے جائیں اس لئے کہ جب غریب آدمی اپنی باری پہ جب وہاں پہنچتا ہے تو اسے جواب ملتا ہے کہ راشن ختم ہو گیا اس سے امیر لوگوں ،بیوروکریٹس ،پولیس ،صحافی اور دیگر طبقہ بھرپور طریقے سے فائدہ اُٹھاتے ہیں جب ان کو راشن کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ منگوالیتے ہیں اُس کے برعکس یونین کو نسل کی سطح پر یوٹیلٹی سٹور قائم کئے جائیں جہاں پر اُس یوسی کا رہنے والا ہی راشن لے سکے ۔


غریب عوام کو ریلیف دینے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ان سٹورز سے 10روپے کلو آٹا ،دس روپے کلو چینی ،اور دس روپے کلو میں گھی فراہم ہو سکے ۔وزیر اعظم عمران خان اتنی رقم جو آپ بچا رہے ہیں اس کی سبسڈی عوام کو دیں تا کہ لوگوں کو آسانی کے ساتھ خاص طور پر غریب طبقہ اپنے بچوں کو آرا م کے ساتھ روٹی کھلا سکے جہاں تک بند کےئے جانے والے یوٹیلیٹی سٹورز کا وہ تمام عملہ ان یوسی سٹورز میں با آسانی کے ساتھ کھاپایا جا سکتا ہے اور وہ بے روزگارنہیں ہونگے متحدہ اپوزیشن کو مبارک ہوکہ ماضی کے پارلیمانی جمہوریت کے عظیم لیڈر نواب زادہ نصر اللہ خاں ،مولانا فضل الرحمان کی شکل میں اُن کو مل گئے ہیں مرحوم نوابزادہ نصراللہ خاں کا یہی کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کیا کرتے تھے توقع ہے کہ مولانا فضل الرحمن بھی جمہوریت کو بچانے کیلئے موثر کردار ادا کرتے ہیں گے ۔


متحدہ اپوزیشن کی جانب سے پارلیمنٹ کے باہر دھرنے احتجاجی جلسوں کا سلسلہ جاری ہے ۔عمران خان یہ سبق بھی آپ ہی نے دیا ہے جو اب متحدہ اپوزیشن ادا کررہی ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے حکمران جماعت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان جمہوریت کو بچانے کیلئے کوئی نہ کوئی راستہ نکالنا ہو گا جلد بازی سے اس ملک کے استحکام کو نقصان پہنچے گا آجکل پاکستان ٹیلی ویژن Donkey kingبڑے عروج پر ہے ماضی میں گدھے جب چلاتے تھے تو لوگ لاحول ولا قوة پڑھتے تھے کہ ان پرکوئی پریشانی آگئی ہے لیکن نئے پاکستان میں یہ تبدیلی ضرور آئی ہے کہ ”گدھے گانا بھی گارہے ہیں ‘مذاق بھی کررہے ہیں ‘بول
 بھی رہے ہیں “جس سے بچے بڑے لطف اندوز ہورہے ہیں زیادہ تر اپنی تعلیم پر توجہ دینے کی بجائے ان کا رحجان Donkey kingکی طرف ہے۔


Your Thoughts and Comments

Pakistan ka maali bohraan aur wazeer e azam ki bairooni doray is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 07 November 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.