سیف سٹی اتھارٹی

کیمروں کے زریعے ای چلاننگ کا سلسلہ جاری عوام دوست فیصلے ‘محفوظ پنجاب

بدھ اکتوبر

safe city authority
 افراز زہرا
جس جگہ ہم رہتے ہیں ،سانس لیتے ہیں ،اپنے زندگی کے امور سر انجام دیتے ہیں یہ جگہ،گلی ،محلّہ ،علاقہ ،صوبہ یا ملک کا کوئی بھی حصہ ہو سکتی ہے ۔ایسی جگہ جہاں پر ہمیں تمام سہولیات میسر ہوں مگر امن و امان نہ ہوتو ایسی جگہ ہر طرح کی سہولیات کے باوجود ہمیں وہ سکون نہیں دیتی جو اُس جگہ میسر آتا ہے جو ہمارے لیے محفوظ ہو ۔

جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح انسان کے اندر ایک خوف پیدا کر دیتی ہے ۔انسان اپنا تحفظ ہر قیمت پر چاہتا ہے اور جب انصاف سب کے لیے برابر ہو۔
اصول سب کے لیے برابر ہوں تو ایسی جگہ رہنے کے لیے ‘زندگی گزار نے کیلئے بہت پر سکون ہوتی ہے ۔ایک ایسی ہی جگہ جو ہر آنے والے دن کے ساتھ امن اور سکون کی راہ پر گامزن ہے وہ ہمارا پنجاب ہے جس کی گلیوں ،سڑکوں ،راستوں پر ہم سفر کرتے ہیں ۔

(جاری ہے)

اس سفر کے دوران اور اپنی مصروف زندگی میں اس بات کا بھی ڈر رہتا ہے کہ کوئی ایسا حادثہ نہ رونما ہو جائے جو ہمارے اندر کا خوف اور بڑھادے ۔
مگر اب جرائم کی شرح میں بہت حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے ‘اب پنجاب محفوظ پنجاب بننے جارہا ہے ۔ایسا پنجاب جہاں اس بات کا خوف نہ ہو گا کہ عام آدمی تو ہرا صول کی پابندی کرے گا مگر طاقتور طبقہ ہمیشہ کی طرح اپنی طاقت کے زور پر ہرا صول کو کچل کے آگے گزر جاے گا۔

اب پنجاب ایک نیا پنجاب محفوط پنجاب ہو گا۔
پنجاب سیف سٹی اتھارٹی اپنے نام کی طرح شہروں کو محفوظ رکھنے کیلئے بنائی گئی ہے ۔تحریک انصاف کی حکومت نے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی میں بہت اچھی اصلاحات متعارف کروائی ہیں ۔پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی(PSCA)ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مقصد امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے ۔تحریک انصاف کی حکومت میں پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی سر گر میاں سر ا ہے جانے کے قابل ہیں ۔

پنجاب میں سیف سٹیزاتھارٹی کے کیمروں کے ذریعے ای چلان کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔سیف سٹیز اتھارٹی کے افسران خلاف ورزی کی خود تصدیق کرتے ہیں ۔
پہلے فیز میں شہریوں کا چالان جمع کروانے کیلئے 12اکتوبر کا وقت دیا گیا تھا لیکن اب 2اکتوبر کے بعد سے شہری بینک آف پنجاب میں جرمانے اداکر سکتے ہیں ۔پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے ایک ہفتے میں سگنل کی خلاف ورزی پر 30ہزار چالان جاری کئے ہیں ۔

کار اور جیپ پر سگنل کی خلاف ورزی پر 500اور موٹر سائیکلوں کو 200کا چالان بھیجا گیا ہے ۔علاوہ ازیں شہر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر ایکشن کا سلسلہ جاری ہے ۔پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے مطابق شہر میں غیر قانونی طور پر سائرن اور ایمرجنسی لائٹس لگی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے ۔
ان کیمروں کی مدد سے خلاف ورزی کرنے والوں کی نشاندہی کی جائے گی۔

ان تمام اقدامات سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی ایک منظم ادارہ ہے اور ان کی خدمات سر اہے جانے کے قابل ہیں ۔وزیراعلیٰ پنجاب نے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا دورہ کیا جس میں انہوں نے محرم الحرام میں ہونے والے جلوس اور مجالس کی نگرانی کیلئے جدید نظام کو سراہا ہے ۔ای چلان صوبے کی امن وسلامتی کو بہتر بنانے کی ایک کار آمد کو شش ثابت ہوئی ہے ۔


کاغذی چالان میں بحث وتکرار سے معاملہ تاخیر کا شکار ہو جاتا تھا یا رفع دفع ہو جاتا تھا لیکن الیکٹر ا نک چالان سے بحث وتکرار کا سلسلہ ختم ہوگا۔اور سب کو برابری کی بنا پر چالان کئے جائیں گے ۔کیمروں کی مانیٹر نگ سے اس بات کی نشاندہی ہو گی کہ کون خلاف ورزی کا مر تکب پایا گیا ہے اور اس ثبوت کی بنا پر کوئی بھی انکار نہیں کر سکے گا۔ای چالان کی معلومات کیلئے 15پر رابطہ کر سکتے ہیں ۔

اس کے علاوہ بارش کے دوران ٹریفک کے کچھ اصول سامنے آئے ہیں ،جس کے مطابق بارش کے دوران رفتار کم کرکے ہم بہت سے نقصانات پر قابو پا سکتے ہیں کیونکہ بارش میں تیز رفتار ڈرائیونگ سے بہت سے حادثات پیش آتے ہیں لیکن پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے اس معاملے سے نپٹنے کیلئے بھی اقدامات کئے ہیں ۔ایک مقررہ حد سے تجاوز کرنے والی گاڑیوں پر چالان ہو گا اور جرمانہ اداکریں گے ۔


بار بار قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بلیک لسٹ میں ڈالا جائے گا اور ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاے گی۔آج کل ہر جگہ پر دیکھا جاتاہے کہ کم عمر افراد ڈرائیونگ کر رہے ہوتے ہیں ۔جو کہ نا سمجھ ہیں اور ان کے پاس ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں ہوتا ۔ان کو دیکھ کر ایسے لگتا ہے جیسے صوبے میں کوئی قانون ہی نہیں اور اس کو دیکھنے والا کوئی نہیں ۔

لیکن پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی اس حوالے سے اپنا کر دار ادا کرنے میں معاون ثابت ہوئی ہے ۔اس کے مطابق 18سال سے کم عمر افراد کا گاڑی چلانا قابل گرفت جرم ہے
۔اس خلاف ورزی پر صرف چالان نہیں ہو گا بلکہ ایسے افراد کو حراست میں لیا جائے گا۔اس عمل سے فائدہ یہ ہو گا کہ بہت سے حادثات سے بچا جا سکے گا۔ٹریفک قوانین کا علم نہ رکھنے والے افراد ہمیشہ ٹرینک کے بہاؤ میں رکاوٹ کا موجب بنتے ہیں ،جس کی وجہ سے ٹریفک کی بندش کا مسئلہ رہتا ہے لیکن اب پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے اس عمل سے ٹریفک معاملات بہتر ہونے کی امید نظر آرہی ہے ۔

گزشتہ کئی سال سے عوام کو سموگ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس کی وجہ سے بہت سے الرجی کے مسائل بڑھ رہے ہیں ۔اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہسپتالوں میں نظر آتا ہے ۔
جہاں ڈرماٹولوجی کے شعبے میں مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی مد د سے آئی جی پنجاب کی ہدایت پر دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف اینٹی سموگ یونٹ قائم کیا گیا ہے ۔

ان گاڑیوں کے خلاف یکم اکتوبر سے کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا جا چکا ہے ۔حادثات سے بچاؤ مہم بھی عوام کی بہتری اور بقاء کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے ۔حادثات کی ایک بڑی وجہ پبلک سروس Vehiclesمیں مقررہ مقداد سے زائد سواریوں کو بٹھانا ہے ۔
پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی بدولت بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ،جس نے صوبے بھر میں بہتری کا ایک روشن پہلوا جا گر کیا ہے ۔

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی وجہ سے پولیس اور ان کا عملہ زیادہ بہتر طریقے سے کام کر رہا ہے ۔ٹریفک انتظامیہ بہت بہتر ہو گئی ہے جس کی وجہ سے ایک نظم وضبط دیکھنے میں آیا ہے ۔پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی بدولت ہی جرائم کی شرح تبدیلی رونما ہوئی ہے ۔اور یہ ایک اہم پیش رفت ہے ۔
بس وہ وقت دور نہیں جب ہم حقیقت میں نئی تبدیلی اور نیا پاکستان دیکھیں گے ۔

ایک مشہور کہاوت ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی ۔بالکل اسی طرح ہمیں نیا پاکستان بنانے کیلئے مل جل کر کام کرنا ہو گا۔اگر حکومت اس مقصد کیلئے موثر کام سر انجام دے رہی ہے تو ہمیں بھی اپنے عمل وفعل کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے ۔صر ف حکومت کی کوششوں اور کاوشوں سے نئے پاکستان اور تبدیلی کی تعبیر ممکن نہیں۔اس مقصد کے حصول کیلئے ہمیں بھی حکومت کے ساتھ مل کر چلنا ہو گا۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

safe city authority is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 17 October 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.