سر سید اور تحریک پاکستان کی پہچان ”علی گڑھ“ کا نام ہری گڑھ رکھنے کی مذموم سازش

فسطائی نریندر مودی کے اسلام دشمن ہتھکنڈے منظر عام پر آنے لگے

ہفتہ 11 ستمبر 2021

Sir Syed Aur Tehreek e Pakistan Ki Pehchan Aligarh Ka Naam Harigarh Rakhne Ki Mazmoom Sazish
رابعہ عظمت
بھارت میں اسلاموفوبیا میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے مسلمانوں کا اسلامی تشخص مٹانے کیلئے مسلم عظمت رفتہ کی نشانیاں،علامتیں، اسلامی ثقافت کو ہندو رنگ میں ڈھالنے کی سازشیں عروج پر ہیں جس کی بڑی مثال مسلم حکمرانوں و رہنماؤں سے منسوب شہروں،عمارتوں اور مقامات کے تاریخی نام تبدیل کئے جا رہے ہیں۔

بھارت میں مودی کی فسطائی بھارتی حکومت اتر پردیش میں الہٰ آباد کا نام تبدیل کرنے کے بعد دیگر بھارتی شہروں کے نام تبدیل کر رہی ہے علی گڑھ کو ہری گڑھ میں بدلنے کی تیاری ہے۔اتر پردیش میں مودی کی منظور نظر یوگی حکومت علی گڑھ کا نام ہری گڑھ رکھنے کی تیاریاں کر رہی ہے اور اس سلسلے میں علی گڑھ کی ضلعی پنچایت نے ایک قرارداد بھی منظور کر لی ہے۔

(جاری ہے)

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ہی جدوجہد آزادی اور تقسیم ہند کی تاریخ کی بھی گواہ رہی ہے۔سخت گیر ہندو تنظیموں کو علی گڑھ پسند نہیں اور وہ اس کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔علی گڑھ میں مسلم طبقے کی اچھی خاصی تعداد آباد ہے تاہم حالیہ انتخابات کے بعد پنچایت پر سخت گیر موٴقف کی حامل ہندو نظریاتی تنظیم بی جے پی کا کنٹرول ہے اور اس نے اتفاق رائے سے یہ قراردار منظور کی ہے۔


 ضلعی پنچایت کے صدر وجے سنگھ نے میڈیا سے بات چیت میں اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا،علی گڑھ کو ہری گڑھ کرنے کی تجویز پیش کر دی گئی ہے۔فرقہ پرست یوگی حکومت گزشتہ چند برسوں کے دوران الہٰ آباد،مغل سرائے اور فیض آباد جیسے تاریخی شہروں کے نام بدل چکی ہے اور کوئی تعجب کی بات نہیں کہ علی گڑھ کا نام بھی بدل جائے۔جبکہ ہندو تنظیموں کا پروپیگنڈہ ہے کہ ماضی میں اس شہر کا نام ہری گڑھ تھا اور مسلمانوں نے اسے تبدیل کرکے علی گڑھ کر دیا تھا،اسی لئے وہ اس کا نام بدلنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

تاہم موٴرخین اسے مسترد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے کہ علی گڑھ کا نام پہلے کچھ اور تھا۔مسلم اداروں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے کہا کہ بی جے پی ریاستی انتخابات سے قبل،”حتیٰ الامکان فرقہ پرستی اور مسلم برادری کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش میں ہے تاکہ سیاسی فائدہ حاصل کر سکے۔

بی جے پی کے پاس انتخابات کے لئے اسی طرح کے فرسودہ دعوے ہیں جو تاریخی اعتبار سے جھوٹے ہیں۔“علی گڑھ کے سابق ایم ایل اے ضمیر اللہ شاہ بھی ان کی اس بات کی تائید کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ سب آئندہ انتخابات کیلئے ہے،”بی جے پی چاہتی ہے کہ کسی بھی طرح ہندو مسلم میں اختلافات پیدا ہوتے رہیں،علی گڑھ کو ہری گڑھ کیا جائے تاکہ شہر کا پرامن ماحول خراب ہو سکے۔

“ان کا کہنا تھا کہ اس مطالبے کو عوام کی بھی حمایت حاصل نہیں ہے اور علی گڑھ کوئی معمولی شہر تو ہے نہیں،”یہاں سے لوگ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں،جو علی گیریئن کہلاتے ہیں۔یہ شہر سر سید کے نام اور ان کی تحریک سے معروف ہے اگر نام تبدیل کیا جاتا ہے تو بھارت کو عالمی سطح پر بھی شرمندگی اٹھانی پڑے گی۔“
نوید حامد نے کہا کہ مسلم تنظیمیں بطور احتجاج زیادہ سے زیادہ ایک خط لکھ سکتی ہیں۔

”وہ اور زیادہ کر بھی کیا سکتی ہیں؟یہ ایک طویل قانونی لڑائی ہے اسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔باقی کچھ بھی کرنا بی جے پی کے ایجنڈے پر چلنے کے مترادف ہو گا۔“
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بھارت کا معروف تعلیمی ادارہ ہے جس کا جدوجہد آزادی میں ایک اہم کردار تھا۔بانی پاکستان محمد علی جناح اس دور میں اکثر اس یونیورسٹی میں خطاب کیلئے آتے تھے اور موٴرخین کے مطابق قیام پاکستان میں بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طالب علموں کا بڑا کردار تھا۔

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح یونیورسٹی کے تاحیات رکن تھے اور مستقل رکن کی حیثیت سے ان کی تصویر آج بھی یونیورسٹی میں آویزاں ہے۔تاہم ہندو تنظیمیں ان کی تصویر ہٹانے کا مطالبہ بھی کرتی رہی ہیں اور اس پر بھی کئی بار ہنگامہ ہو چکا ہے۔ دوسری جانب بھارتی وزیراعظیم نریندر مودی نے سب سے باوقار کھیل ایوارڈ’راجیو گاندھی کھیل رتن‘کا نام تبدیل کرکے اس کا نام میجر دھیان چند کھیل رتن کر دیا تھا،جس کے بعد سے ،یو پی میں خاص طور پر،کئی تاریخی شہروں کے نام بدلنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔


 بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہندو فرقہ پرست رہنماؤں نے یوگی حکومت سے کہا ہے کہ شہر مراد آباد،فیروز آباد اور مین پوری کے نام تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ان کے مطابق یہ تمام نام مسلم حکمرانوں نے رکھے تھے اس لئے فیروز آباد کو چندر نگر،مین پوری کو ایک ہندو سادھو کے نام پرمیان پوری کر دیا جائے۔یہ تمام مطالبات ایسے وقت کیے جا رہے ہیں جب ریاستی انتخابات میں محض چھ ماہ کا وقت بچا ہے۔

ہندو توا ریاستی حکومت فیض آباد کو ایودھیا،آلہ آباد کو پریاگ راج اور مغل سرائے کا نام دین دیال اپا دھیائے پہلے ہی کر چکی ہے۔چند روز قبل دہلی میں ہندو انتہا پسندوں نے بابر روڈ کے بورڈ پر بابر کے نام پر سیاہ رنگ پھینک دیا تھا۔ہندو تنظیمیں ماضی کے مسلم حکمرانوں کا تمسخر اڑاتی رہتی ہیں اسی لئے بی جے پی کی حکومت نے دہلی کے معروف اورنگ زیب روڈ کا نام بھی بدل دیا تھا۔

عالمی شہرت یافتہ شہر دیوبند کا نام ایک مرتبہ پھر بدلنے کا مطالبہ ہندو شدت پسند تنظیموں کی جانب سے شروع کر دیا گیا ہے۔دیو بند کا نام بدل کر دیو ورند نام کئے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ہندو شدت پسند تنظیم بجرنگ دل نے اسے لے کر مہم بھی شروع کر دی ہے،اسی کے تحت بجرنگ دل نے لوگوں سے رابطہ کرنا شروع کر دیا ہے اور گھر گھر پہنچ کر دیو بند کا نام دیو ورند کئے جانے کا مطالبہ حکومت اتر پردیش سے کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق دیو ورند کا مطلب دیوتاؤں کے ون سے ہے اور قدیم دور میں اس مقام پر گھنے درخت پائے جاتے تھے۔مہا بھارت کے وقت میں پانڈو بھی بنواس کے دوران انہیں گھنے دنوں میں کچھ وقت کیلئے آکر رُکے تھے۔اس کی تفصیل قدیم کتابوں میں بھی ملتی ہے۔
دکاس تیاگی نے کہا کہ ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جس طریقہ پر دیگر مغل دور کے ناموں کو تبدیل کر رہے ہیں،اسی طرح دیو بند کا نام بھی دیو ورند کیا جانا چاہئے۔

وشو ہندو پریش نے 2015ء میں علی گڑھ کا نام تبدیل کرکے”ہری گڑھ“ کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ملکی و بین الاقوامی سطح پر اس شہر کی اپنی اہمیت ہے۔کلیان سنگھ نے 1992ء میں وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز رہ کر علی گڑھ کا نام بدلنے کی کوشش کی تھی لیکن ناکام رہے۔اعظم گڑھ کا نام”آریم گڑھ“ ہو سکتا ہے۔پروانچل میں ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے اعظم گڑھ کا نام تبدیل کرکے ”آریم گڑھ“ کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔

یہ مطالبہ کافی پرانا ہے۔وزیر اعلیٰ یوپی یوگی آدتیہ ناتھ اپنی انتخابی مہم کے دوران عوامی اجلاس میں اعظم گڑھ کا نام ”آریم گڑھ“ لے کر کیا کرتے تھے۔مظفر نگر کا نام ”لکشمی نگر“اور آگرہ کا نام”اگرون“ ہو سکتا ہے۔شمالی آگرہ کے رکن اسمبلی جگن پرسادگرگ نے وزیر اعلیٰ کو خط ارسال کرکے آگرہ کا نام بدل کر ”اگرون“ کرنے کا مطالبہ کیا۔1633ء میں شاہ جہاں کے دور حکومت میں سید مظفر خان نے ضلع مظفر نگر کو آباد کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ضلع کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کرنے والے سنگیت سوم فرقہ وارانہ فسادات کے ملزم ہیں۔
برصغیر کی تقسیم سے قبل ہندوستان میں 1857ء کے بعد سے تقسیم کے مرحلے تک ایک محتاط اندازے کے مطابق 3 لاکھ سے زائد مسلمان شہید کیے گئے۔1947ء سے لے کر اب تک مختلف فسادات اور انکاؤنٹر کے نام پر 150000مسلمان مارے گئے۔جتنے مسلمان مارے گئے اس کی دگنی تعداد اپاہج بنا دی گئی اور یہ سب سیکولر بھارت میں ہوا اور بڑے طمطراق سے ہو رہا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ ہندو بنیا کو مسلمانوں پر ستم ڈھانے کی کھلی چھٹی دی گئی ہے اور عالمی فسطائی طاقتوں کی سرپرستی میں مسلم قتل عام جاری ہے۔اعداد و شمار کے مطابق اب تک 52 ہزار سے زیادہ چھوٹے بڑے فرقہ وارانہ فسادات رونما ہوئے جن میں بھارتی اقلیتوں بالخصوص مسلمانان ہند کے خون سے ہولی کھیلی گئی۔بھارت میں مسلمانوں کی ہمدرد و خیر خواہ کہلوانے والی کانگریس اقتدار میں ہو یا فرقہ پرست بھگوا پارٹی بی جے پی کی حکومت دونوں صورتوں میں مسلمان ہی تختہ مشق بنتے ہیں۔

آج بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کی زبوں حالی کا عالم یہ ہے کہ ان کی زندگیاں نچلے درجے کے دلتوں سے بھی بدتر ہے۔تعلیم،روزگار،سیاسی سماجی و معاشی ترقی کے دروازے ان پر بند ہیں۔یعنی یہاں نہ مسلمانوں کی جان محفوظ ہے اور نہ آبرو۔بھارت کے کسی بھی حصے میں جب دنگا فساد ہوتا ہے تو سب سے پہلے عزت مآب مسلم خواتین کو ہی درندگی کا شکار بنایا جاتا ہے۔

بھاگل پور،گجرات،آسام(نیلے)اور مظفر نگر فسادات اس کی بدترین مثالیں ہیں۔بھارتی مسلمانوں کی معاشی طور پر کمر توڑنے اور انہیں پسماندگی کے اندھیروں میں دھکیلنے کے لئے باقاعدہ منظم سازش کے تحت فرقہ وارانہ فساد کو موٴثر ہتھیار بنایا گیا۔
ہندو فرقہ پرست وزیراعظم نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد مذہبی دہشت گردی کے شاہکار’لو جہاد‘مسلم مخالف پروپیگنڈہ کے بعد ایک نئی سازش تیار کی ہے کہ غریب مسلمانوں پر عرصہ حیات اس قدر تنگ کر دیا جائے کہ وہ ہندو مت اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

گائے ذبحہ پر پابندی کی آڑ میں مسلمانوں کے گلے کاٹنے کا ہولناک سلسلہ بھی اسی مذموم سلسلے کی ایک کڑی ہے۔افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عالمی برادری اور حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیموں نے بھارتی دہشت گردی کے خلاف چپ سادھ رکھی ہے۔ان بنیاد پرست اور تشدد پسند تنظیموں نے مقامی میڈیا کو بھی قابو میں کر رکھا ہے۔اور بھارتی حکمران بھی ان تنظیموں کے ہاتھوں یرغمال ہو چکے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ان ہندو دہشت گردوں کو اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر ظلم ڈھانے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔حالات و واقعات نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ بھارت میں سیکولر ازم نام کی کوئی چیز نہیں رہی۔وہاں کا معاشرہ انتہا پسندی،ذات پات،تعصب اور درجہ بدنی کے کٹر نظریات پر قائم ہے۔
 بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی دہشت گردی،جنونیت خود بھارت کے لئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندو فرقہ پرست مسلمانوں سے ہزار سالہ دور حکمرانی کا بدلہ لینا چاہتے ہیں جس کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی کے فرقہ پرست لیڈر آنجہانی اشوک سنگھل نے بارہا اپنی زہریلی تقریروں اور بیانات میں کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کئی سو سالوں بعد ہندوستان پر اقتدار ملا ہے اور اب وہ ہندو راشٹر کے خواب کی تکمیل کرتے رہیں گے بلکہ اشوک سنگھل کی آخری رسومات کی تقریب میں بھی وزیراعظم نریندر مودی سمیت اور مابھارتی اور دیگر انتہا پسند لیڈروں نے وعدہ کیا کہ وہ ”ہندو راشٹر“ کے قیام کا خواب ضرور پورا کریں گے۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Sir Syed Aur Tehreek e Pakistan Ki Pehchan Aligarh Ka Naam Harigarh Rakhne Ki Mazmoom Sazish is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 11 September 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.