پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر ِپاکستان کا خطاب اور اپوزیشن!!

جمعہ ستمبر

Gul Bakhshalvi

گل بخشالوی

دنیا جان چکی ہے کہ جموں وکشمیر میں کشمیریوں پر بھارتی حکمران مودی نے جبر وتشدد کی انتہا کردی ہے ۔کشمیری اپنے کشمیر میں قید ہیں کشمیر میں ظلم وجبر کی انتہا ہے ۔ اورپاکستان کی عوام قومی یکجہتی کی مظہر ہے ۔کشمیری عوام کی آزادی کیلئے پوری قوم حکومت اور افواجِ پاکستان کیساتھ کھڑی ہے صدائیں گونج رہی ہیں قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں کشمیری قوم پر ظلم وتشدد کے خلاف قومی جذبہ عروج پر ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے سابق حکمران جنہوں نے اپنے دور اقتدار میں کشمیر اور کشمیری عوام کو نہ سوچا بلکہ کشمیری لاشوں پر سیاست کرتے رہے ۔


سابق حکمران جماعتو ں نے عملی طو رپر مقبوضہ کشمیر کے معصوم لوگوں کے درد کو محسوس نہیں کیا بلکہ کشمیریوں کے دشمن مودی کو گل لگاتے رہے اُس کیساتھ وطن عزیز اور بھارت میں بیٹھ کر دعوتیں اُڑاتے رہے آج اگر پاکستان مقبوضہ کشمیر میں مظلوم کشمیری قوم کی جدوجہد آزادی میں عملی طور پر کھڑا ہے ،کشمیری قوم کے زخموں پر مرہم رکھنے کیلئے آواز ِحق بلند ہورہی ہے افواجِ پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کے دوٹوک مئوقف سے اگر آزادی کشمیرکی جدوجہد کو عالمی سطح پر تقویت ملی ہے تو اپوزیشن کو بھی ذاتی اختلافات کو وقتی طور پر کشمیریوں کی حوصلہ افزائی کیلئے نظر انداز کردینا چاہیے تھا لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ پاکستان کی اپوزیشن سابق حکمران اور اُن کے درباری کشمیر کے درد سے بے خبر اور بے پرواہ ہے اگر اُن کو پرواہ ہے تو صرف اپنی اُس قیادت کی جو مختلف جرائم کے الزام میں زیر حراست ہیں ۔

(جاری ہے)


پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر پاکستان کے خطاب کا مقصد کشمیر کاز کو قومی سطح پر تقویت دینا تھا قومی یکجہتی کا اظہار کرنا تھا لیکن اپوزیشن نے اپنے کردار اور عمل سے دنیا پر ثابت کر دیا کہ ہمیں کشمیر سے یکجہتی کی ضرورت نہیں ہمیں اپنی وہ قیادت عزیز ہے جو مکافاتِ عمل کا شکار ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان قومی یکجہتی کی پہچان ہے دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کن حالات سے گزررہا ہے پاکستان دشمن کے نشانے پر ہے لیکن اپوزیشن کو احساس نہیں ہوا،اجلاس میں اُن کی شرکت کا مقصد مودی سرکارکو باور کرانا تھا کہ ہم کل بھی تمہارے ساتھ تھے آج بھی تمہارے ساتھ ہیں ۔

اپوزیشن زیر حراست قومی ملزمان اراکین پارلیمنٹ کی پورٹریٹ ساتھ لے کر آئی تھی اُن کا مقصد ہنگامہ آرائی تھا جس کا اپوزیشن نے بھرپور مظاہرہ کیا اپوزیشن کا کہنا تھا کہ زیرحراست اراکین اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر کیوں نہیں ہوئے ۔
سوچنا تو یہ ہے کہ قومی زیر حراست مجرمان وملزمان اراکین پارلیمنٹ کا پارلیمنٹ میں لانے کا کیا جواز ہے کیا ہی بہتر ہوتا کہ زیر حراست قومی ملزمان اراکین پارلیمنٹ کی رکنیت عدالت میں اُن پر لگے الزامات کے فیصلے تک معطل کردی جاتی اُن کی تنخواہیں اور مراعات بند کردی جاتیں لیکن میرے پاکستان میں تو ضمانت پر رہا قومی مجرم اپوزیشن لیڈر ہے اس سے زیادہ میرے قوم کی بدبختی اور کیا ہوسکتی ہے ۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن نے اپنے کردار وعمل سے قومی یکجہتی کے بلند ہونے والی آواز کو مجروح کردیا ۔
جس وقت وزیر اعظم پاکستان پارلیمنٹ میں داخل ہوئے وہ وزیر اعظم جس کی سیاسی بصیرت قوم پرستی ،وطن پرستی کو دنیا نے تسلیم کیا لیکن سابق حکمران اور اُن کے درباریوں نے ذاتی اختلافات میں عمران خان کو بحیثیت وزیر اعظم تسلیم نہیں کیا ۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف جب پارلیمنٹ میں داخل ہوئے تو پٹواریوں اور درباریوں کی شیر آیا ،شیر آیا کی صدائیں گونجنے لگیں اُن میں مریم اورنگزیب کی صداکچھ زیادہ ہی بلند تھی ۔
اسپیکراسد قیصر نے صدر ِپاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو خطاب کی دعوت دی تو اپوزیشن صدرپاکستان کے ڈائس کے گرد ہوگئی اپوزیشن کے اس عمل کو پاکستان کی میڈیا نے آن لائن دکھایا ذاتی اختلافات میں قومی اندھوں نے ایک لمحے کیلئے بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے مقاصد کو نہیں سوچااگر سوچا تو اُن قومی مجرموں کو جو یا توجیل میں ہیں یاعدالت کے کٹہرے میں کھڑے اپنے خلاف مقدمات بھگت رہے ہیں ۔


اپوزیشن گونیازی گو اور کشمیر کا سودا نامنظور نامنظور کی صدائیں بلند لگاتے رہے ،اپوزیشن کے اس غیر پارلیمانی اور غیر اخلاقی عمل سے ثابت ہوگیا ہے کہ یہ لوگ ذاتی مفادات کیلئے ذاتی اختلافات میں اخلاقی حدود سے بھی گزر جاتے ہیں ۔پوری قوم نے دیکھا کہ جب اپوزیشن اخلاقی حدود کی سرحد تک آگئی تو وزیرا عظم پاکستان اور صدر پاکستان کی حفاظت کیلئے اسلحہ بردار محافظوں کو بلالیا گیا اس سے زیادہ پارلیمنٹ کی توہین او رکیا ہوسکتی ہے کیا ہی بہتر ہوتا کہ عالمی سطح پر قومی پیغام کیلئے بلائے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاکستان کی عوام کشمیر اور آزادی کشمیر کیلئے اُٹھتی صداؤں کو تقویت دینے قومی یکجہتی کا اظہار کرتی اور دنیا کو باورکردیا جاتا کہ!!!
 ہم زندہ قوم ہیں ۔


© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Parliament K Mushtarka Ijlas Se Sadar E Pakistan Ka Khitab Column By Gul Bakhshalvi, the column was published on 13 September 2019. Gul Bakhshalvi has written 82 columns on Urdu Point. Read all columns written by Gul Bakhshalvi on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.