تاریخی یوٹرن

بدھ نومبر

Saif Awan

سیف اعوان

1970میں جب مصر کے صدر جمال عبدالناصر کی وفات ہوئی تو ان کے نائب انور السادات قائم مقام صدر بننے ۔انہوں نے ساٹھ دن میں الیکشن کرانے تھے لیکن انور السادات نے فوج کے ساتھ ساز باز کرکے اپنے اقتدار کو وسعت دے دی۔انور السادات نے جمال ناصر کی حکومت کے الٹ اقدام کیے ۔جمال ناصر لبرل اور قوم پرست تھے ان کا جکاؤ روس کی جانب تھا جبکہ انور سادات امریکی کیمپ میں چلے گئے۔

جیسے پاکستان ،سعودی عرب اور خلیجی ممالک کا جکاؤ بھی امریکہ کی طرف ہی تھا۔انور سادات اب خود کو جمال ناصر کے متبادل کے طور پر پیش کرنے لگے تھے لیکن اب تمام وہ کام کرنے لگے جو جمال ناصر کے دور اقتدار کے الٹ تھے۔انور سادات جمال ناصر کی طرح شعلہ بیاں اور بہترین مقرر بھی نہیں تھے لہذا انہوں نے مصری آئین میں ایک بڑی تبدیلی کی۔

(جاری ہے)

1971کو انور سادات نے اسلامی شرعیت کو قانون کی بنیاد بنادیا ۔

انور سادات اب خودکو لبرل ظاہر کرنے کی بجائے ایک اسلام پسند اور مذہبی شخصیت کے طور پر قوم پر ظاہر کرنے لگے۔وہ اہتمام کے ساتھ ایسی تصویریں اور ویڈیوز جاری کراتے جن میں ان کے قریب قرآن مجید پڑا ہوتا یا وہ تسبیٰ پڑھ رہے ہوتے۔انور سادات نے یونیورسٹیوں میں بھی سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دے دی۔انہوں نے بیوروکریسی اور فوج میں بھی اپنے ہم خیال لوگوں کو زیادہ سے زیادہ بڑے عہدے دیے تاکہ ان کے ہم خیال لوگ ہی ان کے اردوگرد رہیں۔

جبکہ یونیورسٹیوں میں اسلامی تنظیمیں پورے زورو شور کے ساتھ اب پھیلنے لگی ۔یہ طلبہ تنظیمیں زیادہ امریکہ اور اسرائیل کی خلاف تھیں۔انہی حالات میں انور سادات نے ایک تاریخی یوٹرن لے لیا۔انور سادات انہی دنوں کو شش کررہے تھے کہ اسرائیل سے اپنا تاریخی علاقہ صحرا سینا واپس لیا جائے۔عرب ممالک اسرائیل کے سخت ترین مخالف تھے۔انہوں اسرائیل کا مکمل بائیکاٹ کیا تھا ۔

عرب ممالک نے اسی سلسلے میں ایک تنظیم عرب لیگ بھی بنائی تھی جس کا ہیڈ آفس مصر کے شہر قاہرہ میں ہی تھا۔انور سادات نے یہ سب کچھ پس پشت ڈالا کسی عرب ملک سے مشورہ بھی نہ کیا اور سیدھے اسرائیل کی دارالحکومت تل ابیب پہنچ گئے۔ایئر پورٹ پر اسرائیلی فوج نے انور سادات کو سلوٹ کیا اور ریڈیو پر عرب کی مشہور گلوکارہ ام کلثوم کے گیت بھی چلتے رہے۔

یہ ملاقاتوں کا سلسلہ ایک سال تک جاری رہا ۔پھر 1978میں وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کی موجودگی میں انور سادات اور اسرائیل کے ساتھ امن ڈیل فائنل ہو گئی۔امن ڈیل کے سلسلے میں مصر کو آہستہ آہستہ صحرا سینا بھی واپس مل گیا اس کے بدلے میں انور سادات نے جو اسرائیل کیلئے کیا اس کاعرب ممالک تصور بھی نہیں کررہے تھے۔مصر نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا۔

انور سادات کے اس اقدام کو عرب ممالک اور مسلم دنیا میں شدید غصے سے دیکھا گیا۔عرب اسرائیل کے خاتمے اور فلسطین کے قیام کے کم سے کچھ بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے۔انور سادات کے دور میں جو اسلامی تنظیمیں مضبوط ہوئی تھی اب وہ بھی انور سادات کیخلاف ہو گئی۔اب انور سادات کو جان کے لالے پڑھ گئے۔مصر کی سڑکوں پر انور سادات مردہ باد کے نعرے لگنے لگے ۔

اسی طرح پاکستان ،عرب ممالک اور ایران میں انور سادات کیخلاف شدید مظاہرے ہونے لگے۔صحرا سینا واپس لینے پر ہیرو بننے کی بجائے انور سادات اسلامی دنیا اور اپنے ہی ملک میں تنہا اور صفر ہو گئے تھے۔ اب انور سادات کو یہ خطرہ لگنے لگا کہ انہی کا کوئی قریبی شخص یا گارڈ ان کو قتل کرسکتا ہے لہذا انہوں نے ڈیڑھ ہزار کے قریب فوجی اور بیوروکریسی کے عہدیدار فارغ کرکے نئی بھرتی کرلی۔

انہوں نے پھر ایک یوٹرن لیا اور طلبہ تنظیموں اور خواتین کے نقاب کرنے پر پابندی لگادی۔اب انہی اسلامی تنظیموں نے انور سادات کو قتل کرنے کا منصوبہ بنالیا۔ان تنظیموں کو اب یہ احساس ہو رہا تھا کہ مصر کو جو اپنی غذائی اجناس میں خود کفیل تھا وہ اب اپنی ضرورت کی آدھی گندم سمیت کئی اجناس پوری نہیں کررہا اور مصر کو اپنی ضرورت کی گندم اور دیگر اجناس بیرون ملک سے مگوانا پڑ رہی تھیں۔

6اکتوبر 1981کو قاہرہ کی گراؤنڈ میں فوجی پریڈ ہو رہی تھی جس میں مصری صدرانور سادات بھی موجود تھے۔ہوا میں مصری طیارے پرواز کررہے تھے جبکہ گراؤنڈ میں بیٹھے انور سادات مزے سے پریڈ دیکھ رہے تھے۔ان کے سامنے تین فوجی ٹرک آئے دو سامنے سے گزرگئے جبکہ ایک ٹرک ان کے سامنے آکر رک گیا۔جس میں سے کچھ فوجی نکلے اور انہوں نے انور سادات پر فائرنگ شروع کردی ۔

دیکھتے ہی دیکھتے انورسادات گولیوں سے چھنلی ہوگئے۔کئی ساتھیوں سمیت ان کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔یہ تھا ایک مسلمان ملک کے لیڈر کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا انجام ۔وہی عرب ممالک جو کبھی اسرائیل کے وجود کے ہی سخت ترین مخالفت تھے وہ آج اسرائیلی صدر سے کہی چھپ کر اور کہی کھلے عام ملاقاتیں کررہے ہیں ۔وہی پاکستان جو انور سادات کے اسرائیل کو تسلیم کرنے پر احتجاجی مظاہرے کررہا تھا اسی پاکستان کے وزیراعظم آج اسرائیل کے متعلق نرم گوشہ استعمال کررہے ہیں ان کے وزراء بھی اسی لائن پر چل رہے ہیں جبکہ نام نہاد صحافی اور تجزیہ کار بھی اسرائیلی ٹی وی چینلز اور اخباروں میں اپنے بیانات دیتے اور تجزیے دیتے نظر آرہے ہیں ۔

لیکن یہ سب حکمران لوگ انور سادات کا انجام اپنے ذہن میں ضرور رکھیں ۔قائد اعظم محمد علی جناح کا اسرائیل کے حوالے سے جوموقف ہے اسی پر ہی ریاست پاکستان کو آگے بڑھنا ہوگا ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Tareekhi UTurn Column By Saif Awan, the column was published on 25 November 2020. Saif Awan has written 39 columns on Urdu Point. Read all columns written by Saif Awan on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.