سیٹ بیلٹ کے ساتھ جو ہائی سے جونگشان تک کا سفر

جمعرات جنوری

Tasweer Ahmad

تصویر احمد

آج سے چند ہی دن پہلے میں اپنے شہر سے فیصل آباد کے لیے سفر کررہا تھا کہ اچانک سڑک پر میری بس کو شدید حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں بڑی ACگاڑی مُکمل طور پر اُلٹ گئی لیکن معجزانہ طور پر مجھ سمیت تمام مُسافر اور سڑک پر موجود لوگ محفوظ رہے۔ مجھے چند ہلکی سی چوٹیں اور خراشیں آہیں جو کہ اب آہستہ آہستہ ٹھیک ہو رہی ہیں۔بس ڈرائیور ، کنڈکٹر اور عینی شاہدین کے مطابق سڑک پر اچانک ایک طرف سے ایک موٹر سائیکل سوار نمودار ہوا ،اور بس ڈرائیور کے ہارن بجانے کے باوجود بھی وہ سائیڈ پر نہ ہوا کیونکہ وہ شاید موٹر سائیکل چلاتے ہوئے کان کیساتھ موبائل فون لگائے باتوں میں مگن تھا۔

ہماری بس کا ڈرائیور اُس شریف آدمی کو بچانے کی کوشش میں بس کا بیلنس کھو بیٹھااور اچانک بریک لگانے کیوجہ سے بس ایک سائیڈ پر گر گئی۔

(جاری ہے)

خدا کا شُکر ہے کہ موٹر سائیکل سوار، اور تمام مسافر و ڈرائیور محفوظ رہے۔ ادارہ شُماریات کے مطابق پاکستان میں ہر سال دس ہزار کے قریب روڈ ایکسیڈنٹ ہو تے ہیں جن میں ایک اندازے کیمطابق تقریبا چھ ہزار(6000)لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، اور اس سے کہیں زیادہ تعدادزخمی اور جسمانی معذور ہونے والوں کی بھی ہے۔

پاکستان میں روڈایکسیڈنٹ کی یہ تعداد دوسرے مُمالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، اور پاکستان کی سڑکیں، ٹرینیں اور ہوائی جہاز وں کا سفر دنیا کے سفروں میں سب سے زیادہ غیرمحفوظ سمجھا جاتا ہے۔اگرچہ میں نے اپنے روڈ ایکسیڈنٹ کی اطلاع بہت ہی کم لوگوں اور صرف فیملی ممبرز کو دی تھی جنہوں نے مجھ سے اظہارِ ہمدردی کیا جس کیلئے میں اُن کا مشکور ہوں اورمذید یہ کہ اِس اظہارِہمدردی کے جذبات میں مجھے اُنہوں نے چند ایک مشورے بھی دیے۔

مثلاً یہ کہ مجھے وقتاً فوقتاً صدقہ دیتے رہنا چاہیے، مجھے اُس کمپنی کی بس پر دوبارہ سفر نہیں کرنا چاہیے(چلیں اچھا)،مجھے فیصل آباد کیلئے بذریعہ موٹروے جانا چاہیے تھا(یہ بھی مان لیا)،مجھے اپنی گاڑی خرید لینی چاہیے(اوکے)وغیرہ ،وغیرہ۔لیکن چونکہ میں ایک اُلٹے دماغ کا شخص ہوں اِس لیے میں اِن ہمدردی کرنیوالے عزیزوں و اقارب سے اِن روڈایکسیڈنٹس کے تدارک یا ان میں کمی کا کوئی حل یا (solution)بھی پوچھتا رہا۔

تو کسی نے اِس بارے میں کہا کہ ہماری سڑکیں ٹھیک نہیں، ہماری ڈرائیونگ ٹھیک نہیں، ہم بہت تیز گاڑی چلاتے ہیں، ہمیں بڑی سڑکوں پر رکشا، موٹر سائیکل چلانے کی اجازت نہیں دینا چاہیے، ٹریفک پولیس کا نظام بہتر ہونا چاہیے وغیرہ، وغیرہ۔یہ سب باتیں کسی حد تک ٹھیک بھی ہیں اور حکومتِ وقت اور اربابِ اختیار کو اِن چیزوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔


صدقہ دینے کے حوالے سے میرے ذہن میں نہ جانے کیوں ایک عجیب وغریب سا خیال آتا رہتا ہے۔ پاکستانی بڑے فخر سے کہتے پھرتے ہیں کہ ہم پوری دُنیا میں سب سے زیادہ خیرات کرنیوالی قوم ہیں اور ساتھ ہی یہ بات بھی کہی اور سُنی جاتی ہے کہ صدقہ قُدرتی آفات اور ناگہانی اموات سے بچاتا ہے، لیکن اِس سب کے باوجود پاکستان میں ٹرین اور روڈ ایکسیڈنٹ یا نا گہانی آفات(آگ لگنے وغیرہ)میں ہلاک ہونیوالے لوگوں کی تعداددنیا کے دیگر مُمالک کے مُقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

اِس کی وجہ آج تک مجھے سمجھ نہیں آئی؟کسی بھی بڑے حادثے کے بعد لوگوں کیطرف سے یہ فقرہ عام ہوتا ہے کہ خدا کا شُکر ہے کہ اُس نے بچا لیا، یایہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا اور یہ ہونا ہی تھا۔ اِس قسم کے فِقرات میں نے 2020ء میں کراچی طیارہ حادثہ کے بعد بھی سُنے (میں بذاتِ خود اِس چیز کا انکاری نہیں ہوں کہ یہ سب کچھ خد ا تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے)۔

لیکن میر ا نقطہ یہ بھی ہے کہ یہ دُنیا دارلاسباب ہے اور ہمارے ہر حادثے اور واقعے کی کوئی نہ کوئی وجہ بھی ہوتی ہے جس کا ہمیں کھوج لگانا ہوتا ہے۔ لیکن ہم میں سے شاید ہی کوئی اِن واقعات اور حادثات کی کھوج لگانے یا اُن کا سبب معلوم کرنے کیطرف نہیں جاتاہو،اوریہ کہ ہمارے ملک میں اِس قدر روڈ ایکسیڈنٹ، ٹرین حادثات اور ہوائی حادثات کیوں واقع ہوتے رہتے ہیں؟ایک کتاب "The Compund Effect"اِن وجوہات اور اسباب کیطرف اشارہ کرتی ہے کہ حادثات کیونکر رونما ہوتے ہیں اور اُنکی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟ بہر حال اِس وقت یہ کتاب ہمارا موضوع نہیں ہے۔

دراصل کسی بھی واقعہ یا حادثہ کی کھوج لگانا ایک مُشکل، مُشقت طلب اور محنت طلب کاکام ہے اِس لیے ہم عصرِ حاضر کے مُسلمان اِس مُشکل کام کا تُرددکرنے کی بجائے اِسے بآسانی خدا تعالیٰ پر ڈال دیتے ہیں اور خود بری ذمہ ہوکر ایک دوسرے کو جھوٹی تسلیاں دیتے رہتے ہیں۔ ہم عصرِحاضر کے مُسلمان (سوائے چند فیصد کے)اِسقدر نا اہل اور نکمے ہیں کہ ہم پوری دُنیا میں صرف ایک consumer marketہیں اور ہمیں کھانا کھانے، شادیاں کرنے اور بچے پیدا کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں۔

دنیا میں ہم ایک ارب سے زیادہ مُسلمان کرونا ویکسین کی تیاری کے لیے بھی آکسفورڈ یونیورسٹی، امریکی، چینی، اور یہودیوں کی کمپنیوں اور لیبارٹریوں کا انتظار ہے کہ وہ دن رات ایک کرکے ہمارے لیے کرونا ویکسین تیار کریں اور ہم باقی کی زندگی تین ٹائم گندم کی روٹیاں اور قیمے والے نان کھا کر برباد کرسکیں۔
میں واپس اپنے موضوع کیطرف آتا ہوں جس میں ،مِیں روڈ ایکسیڈنٹ اور سیفٹی سے متعلق بات کر رہا تھا۔

2019ء مارچ میں میرے چائنہ میں قیام کے دوران مجھے کچھ عرصہ کیلئے ایک دوسرے شہر جوہائی(Zhuhai)میں واقع ایک ریسرچ سنٹر میں کام کرنے کا موقع مِلا۔جوہائی شہر میں میرا قیام میری زندگی کا بہت ہی حسین اور شاندار وقیام تھا، جس میں میرا ریسرچ سنٹر اور اپارٹمنٹ South China Seaسے صرف تین کلو میٹر کے فاصلے پر واقع تھے ، وہا ں پر confluenceبھی تھا کہ جہاں پر ایک دریا سمند ر میں گِر رہا تھااور قریب میں پہاڑ بھی موجود تھے۔

غرض ہر لحاظ سے یہ ایک ideal living placeتھی ۔ اِس دس ماہ کے قیام کے دوران مجھے دو سے تین مرتبہ جوہائی سے ایک قریبی شہر جونگشان(Zhongshan)بذریعہ بس جانے کا اتفاق بھی ہوا۔میں جب اِس بس پر بیٹھا تو میں حیران ہو گیا کہ اس بس میں ایک تو سیٹ بیلٹ پہننا لازمی تھا اور اِس پر مذید یہ کہ اِس بس میں لگی LCDسکرینوں پر وقتاً فوقتاً ایسی وڈیوز چلائی جاتی تھیں جس میں بسوں اور کاروں کے ہونیوالے حادثات اور واقعات کو عکس بند کیا گیاتھا اور دکھایا گیا تھا کہ اگر آپ نے سیٹ بیلٹ نہیں پہنی ہوئی اور آپ کی بس کا کسی حادثہ کاشکار ہو جاتی ہے تو اُس وقت کا منظر کس طرح کا ہوسکتا ہے اور مُسافر کِس کِس طرح سے گِر سکتے ہیں اور کس قدر زخمی ہو سکتے ہیں؟ اِسکے ساتھ ہی یکے بعد دیگرے وہ وڈیوز بھی دکھائی جاتی تھیں کہ اگر بس کسی حادثے کا شکار ہو جاتی ہے اور مُسافروں نے سیٹ بیلٹ پہن رکھی ہیں تو کس حدتک سیٹ بیلٹ اُس حادثے کی شدت کو کم کر سکتی ہے اور بس میں سوار بچوں یا مُسافروں کی زندگی کو محفوظ بنا سکتی ہے ؟ جوہائی سے جونگشان والے اِس ایک گھنٹے کے سفر میں اُس بس سروس میں actual accident scenesاورanimated accident scenesبھی دکھائے جاتے رہے۔

میر ے ذہن پر جوہائی سے جونگشان والے اُس سفر نے بہت گہرے نقش چھوڑے اور میں نے فیصلہ کیا کہ میں آئندہ ساری زندگی سیٹ بیلٹ کیساتھ سفر کروں گا۔اور اپنی فیملی کے لوگوں اور دوست احباب کو بھی سیٹ بیلٹ کیساتھ سفر کرنے کی تاکید کرتا رہوں گا۔اِسی لیے اب پاکستان میں رہتے ہوئے بس یا کار میں سفر کرتے ہوئے ہمیشہ سیٹ بیلٹ کا استعمال کرتا ہوں،اور قریب بیٹھے ہوئے مسافر حیرت اور پریشانی کیساتھ میرے منہ کیطرف دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔

چائنہ میں ٹیکسی یا کار میں سفر کرتے ہوئے ڈرائیور اور فرنٹ سیٹ پرسن کیلئے سیٹ بیلٹ پہننا لازمی ہے اور اِسی طرح بڑی گاڑی میں سفر کے دوران سیٹ بیلٹ پہننا لازمی ہے، بلکہ کچھ گاڑیوں میں تو یہاں تک کہ اگر دورانِ سفر آپکی سیٹ بیلٹ اُتری ہوئی ہے تو گاڑی میں ایک بیپ (beep)آنے لگ جاتی ہے اور ڈرائیور مسافر کو سیٹ بیلٹ باندھنے کی سختی سے ہدایت بھی کرتا ہے۔


اب میں آپکو پاکستان میں گاڑیوں میں سیٹ بیلٹ کے حوالے سے صورتحال سے بھی آگاہ کرتا ہوں۔پاکستان میں اکثر بڑی گاڑیوں اور مشہور کمپنیوں کی بسوں میں سِرے سے سیٹ بیلٹ ہوتی ہی نہیں ہیں، یا چند ایک گاڑیوں میں ہوتی ہیں یا ایک بس میں صرف چند سیٹوں کیساتھ سیٹ بیلٹ لگی ہوتی ہیں ، ہر سیٹ کیساتھ بیلٹ نہیں ہوتیں، اور دوسرا یہ کہ جن بسوں یا سیٹوں کیساتھ سیٹ بیلٹس ہوتی بھی ہیں تو اُنکی حالت بھی بہت خستہ ہوتی ہیں، کسی سیٹ بیلٹ کا بِکل (buckle)نہیں ہوتا یا وہ صحیح طرح سے بند نہیں ہوتا، وغیرہ ۔

کچھ بسوں میں تو یہ صورتحال ہوتی ہے کہ روڈ ہوسٹس(road hostess)کے سیٹ بیلٹ پہننے کے اعلان کے باوجود اُس بس میں سیٹ بیلٹس ہی موجود نہیں ہوتیں۔چھوٹی کوسٹرز اور Hi-Aceگاڑیوں میں تو مسافروں کیلئے سیٹ بیلٹ پہننے کا سرے سے کوئی رواج ہی نہیں، بس یہاں پاکستان میں سب کچھ اللہ کے سہارے چل رہا ہے!اچھا دلچسپ بات یہ ہے کہ جن بڑی گاڑیوں میں سیٹ بیلٹس موجود ہوتی ہیں وہاں لوگ شرما شرمی میں بھی کوئی نہیں پہنتا۔

اگر کوئی غلطی سے پہن لے تو ہمارا رویہ اُس مُسافر کیساتھ بڑا تضحیک آمیز اور ہتک آمیز ہوتا ہے اور ہم یہ سوچتے ہیں یہ بڑا آیا سیٹ بیلٹ پہننے والا ؟
بہرحال میرے ناقص رائے میں ہمیں اپنے لوگوں کوگاڑی میں سفر کیلئے سیٹ بیلٹ اور موٹر بائیک کے سفر کے لیے ہیلمٹ پہننے کی تلقین کرنی چاہیے ، بلکہ بڑی سختی سے تلقین کرنی چاہیے۔ آپ یقین کریں سیٹ بیلٹ پہننے کیوجہ سے ٹریفک حادثات کے دوران آپ بڑی حد تک کسی بڑے نقصان سے بچ سکتے ہیں، اور اپنے سفر کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔

بدقسمتی سے میں جس بس میں سفر کررہا تھااور مجھے اچانک حادثہ پیش آیا ،اُس بس میں میں نے بھی سیٹ بیلٹ نہیں پہن رکھی تھی۔دراصل مجھ سے غلطی یہ ہوئی کہ مجھے یہ لگا کہ اِس بس میں بھی شاید سیٹ بیلٹ نہیں ہوگی ،اور میں نے بغور جائزہ نہیں لیا کہ کیااِس بس میں سیٹ بیلٹ ہے یا نہیں؟میں اب سوچ رہا ہوں کہ اگر میں اُس وقت غور سے سیٹ بیلٹ کو ٹٹولتا اور سیٹ بیلٹ تلاش کرکے باندھ لیتا تو شاید آج میری تکلیف کچھ کم ہوتی۔


میری اِس کالم کے پڑھنے والوں سے التجا ہے کہ خدایا وہ اپنی زندگی کی قدروقیمت کو غنیمت جانیں اور سفر کے دوران ہمیشہ سیلٹ بیلٹ کا استعمال کیا کریں اور ہمیشہ اِس طرح کی بس یا گاڑی میں سفر کیا کریں کہ جس میں سیٹ بیلٹ موجود ہو۔خدا تعالیٰ!آپ سب کی حفاظت فرمائے،آمین۔شکریہ!
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Seat Belt Kay Sath Zhuhai Sey Zhongshan Tak Ka Safar Column By Tasweer Ahmad, the column was published on 14 January 2021. Tasweer Ahmad has written 33 columns on Urdu Point. Read all columns written by Tasweer Ahmad on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.