Live Updates

سندھ اسمبلی میں پیر کو آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ پر عام بحث کا آغاز ہوگیا

حکومتی ارکان نے صوبائی بجٹ کو عوامی امنگوں اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے عوام دوست وژن کا آئینہ دار قرار دیا روٹی،کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والی جماعت نے سندھ کے عوام کو دو وقت کی روٹی سے بھی محروم کردیا ہے ، اپوزیشن ارکان

پیر 16 جون 2025 22:24

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 جون2025ء) سندھ اسمبلی میں پیر کو آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ پر عام بحث کا آغاز ہوگیا جو کئی روز تک جاری رہے گی ۔ پہلے روز حکومت اور اپوزیشن کے متعدد ارکان نے بحث میں حصہ لیا ۔ حکومتی ارکان نے صوبائی بجٹ کو عوامی امنگوں اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے عوام دوست وژن کا آئینہ دار قرار دیا جبکہ اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا کہ روٹی،کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والی جماعت نے سندھ کے عوام کو دو وقت کی روٹی سے بھی محروم کردیا ہے ۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر نوید انتھونی کی زیر صدارت شروع ہوا ۔ بحث کا آغاز کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی جمال احمد خان نے اپنے حلقہ انتخاب کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ نارتھ ناظم آباد میں لوگ پانی کو ترس گئے ہیں۔

(جاری ہے)

سالڈ ویسٹ بھی صحیح کام نہیں کر رہا ہے، آلائشیں تین دن تک پڑی رہیں۔ میئر کراچی نے کہا ہم روڈ کو دھوئیں گے، روڈ ہے کہاں جو دھوئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ہماری اسکیمز کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔ پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ کریم نے کہا کہ وفاق نے سندھ کے ساتھ بجٹ میں اچھا سلوک نہیں کیا۔ وفاقی بجٹ میں سندھ کو نظر انداز کیا گیا کراچی موٹر وے , حیدر آباد موٹر وے اورکراچی میں کے فور کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈبلیو ڈی کی اسکیمیں کسی کی فرمائش پر وفاق نے اپنے کنٹرول میں لی ہیں کیا سندھ وفاق کا غلام ہے انہوں نے کہا کہ میں نے لیاری کو بڑا ترقیاتی پیکیج دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

لیاری میں انفرا اسٹرکچر کا کام شروع ہوگیا ہے ۔ پیپلز پارٹی کے رکن اعجاز شاہ بخاری نے کہا کہ کراچی میں بوری بند لاشیں کوئی نہیں بھولا , پیپلز پارٹی لوگوں کی خدمت کرتی ہے اس لیئے دلوں میں بستی ہے پی ٹی آئی کی حکومت کی طرح آج بھی وفاق کا رویہ درست نہیں . سندھ میں سولہ سولہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے . انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹنڈو محمد خان کے اسپتال کو ضلعی اسپتال کا درجہ دیا جائے اسپتال کے بجٹ میں بھی اضافہ کیا جائے ٹنڈو محمد خان میونسپل کمیٹی کے پاس فائر برگیڈ نہیں ہے ۔

ہمارے ضلع کو فائر برگیڈ دیا جائے ۔ ایم کیو ایم کے رکن عبداللہ شیخ نے کہا کہ مہاجروں پر بلاجواز الزام تراشی کرکے ایوان کا ماحول خراب نہ کیا جائے , ذوالفقار مرزا پہلے کس جماعت میں تھا جس کے دور میں گینگ وار ہوئی کراچی میں ہم نے سب کچھ دیکھ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرجانی ٹان میں کل بھتے کی پرچی آئی ایک شخص جاں بحق ہوگیا ۔ پیپلز پارٹی کی رکن ملیحہ منظور نے کہا کہپیپلز پارٹی کی قیادت کے وژن کے مطابق عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے۔

سندھ پیپلز ہائوسنگ ایک اچھا منصوبہ ہے۔ سیلاب کے متاثرین کو عورتوں کا مالکانہ حقوق دیے جا رہے ہیں غربت سے نمٹنے کے لیے پیپلز پارٹی نے بہت سے منصوبے رکھے ہیں ۔ کراچی میں پنک بسز چلتی ہیں۔ اسکوٹیز اور ای وی ٹیکسیز بھی لائی جا رہی ہیں۔ ہمیں سندھ حکومت پر فخر ہے۔ ایم کیو ایم کی فرح سہیل نے کہا کہ گزشتہ سترہ سال کی طرح یہ بجٹ بھی عوام دشمن ہے۔

روٹی کپڑا اور مکان کا نعرے دینے والی جماعت نے لوگوں سے منہ کا نوالہ چھین لیا۔ بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے رقم کم کردی گئی اور ترقیاتی منصوبے شروع بھی نہیں ہوئے۔ بہت فخر سے کہا جاتا ہے کہ صحت کے شعبے میں بہت کام ہوا لیکن افسوس کہ ایک رکن اسمبلی سرکار سے سات کروڑ روپے لیکر باہر علاج کروانے جاتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے رکن اعجاز الحق نے کہا کہ ایسے لگ رہا ہے کہ ہم جاپان میں رہتے ہوں , ہمیں کراچی میں ہونے والے کام نظر کیوں نہیں آ رہے جو لوگ تنقید کرتے ہیں وہ تنقید سہنے کا حوصلہ بھی رکھیں بجٹ کی کتاب میں اورنگی ٹان کے لیئے کچھ نہیں رکھا ۔

قطر اسپتال کے لیئے ہم نے بارہا ٹراما سینٹر کا مطالبہ کیا لیکن آپ نے نہیں سنا ۔ انہوں نے کہا کہ مصطفی کمال مرد قلندر ہیں جنہوں نے کراچی کو ترقی دی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی شہر اور اورنگی ٹان اس بجٹ کو مسترد کرتا ہے ۔ پیپلز پارٹی کی رکن نزہت پٹھان نے کہا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کو بلکل نظر انداز کردیا ہے ان حالات میں بھی سندھ کو بہتر بجٹ ملا جس کا کریڈٹ پی پی قیادت کو جاتا ہے ۔

انہوں نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ حیدر آباد کے واسا پر نظر رکھی جائے واسا کا نظام ٹھیک نہیں حیدر آباد میں صاف پانی نہیں مل رہا نزہت پٹھان نے کہا کہ ایم کیو ایم کو ہم ختم نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ از خود ختم ہو چکی ہے اور اب متحدہ ہے ۔ پیپلز پارٹی کی فرزانہ بلوچ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک مسلسل بڑھ رہا ہے ہمارا ووٹ بینک کبھی کم نہیں ہوا جو پارٹی پر عوامی اعتماد کا مظہر ہے ۔

انہوں کہا کہ کے الیکٹرک کی اوور بلنگ سے پورا شہر پریشان ہے جو بل دیتے ہیں وہ پریشان ہیں جو بل نہیں دیتے ان سے کوئی نہیں پوچھتاکراچی میں لاکھوں کی تعداد میں کنڈے لگے ہوئے ہیں۔ کے الیکٹرک نے لوگوں کا جینا حرام کردیا ہے۔ پیپلز پارٹی خدمت کرتی ہے کوئی مانے یا نہ مانے ۔ پی ٹی آئی کے محمد اویس نے کہا کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی یوتھ کی ریلی تھی ہمارے ایم پی اے اور کارکنوں کو بے دردی سے گرفتار کیا گیا جن میں سابق اپوزیشن لیڈر بھی شامل ہیں ۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ اپوزیشن کی کسی بھی تجویز کو بجٹ میں شامل نہیں کیا گیا اور سندھ حکومت سے کے الیکٹرک سنبھالا نہیں جا رہا ہے ۔ بعدازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس منگل کی صبح دس بجے تک ملتوی کردیا گیا ۔سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے ارکان آمنے سامنے، ایوان میں شدید تلخی، اقربا پروری کا الزام، اسپیکر کی مداخلتکراچی( )سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیر کو اس وقت شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی جب ایم کیو ایم پاکستان اور پیپلز پارٹی کے ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی عادل عسکری نے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ اور چیف سیکریٹری سندھ کے رشتے کو اقربا پروری قرار دیتے ہوئے سخت اعتراضات اٹھائے، جس پر پیپلز پارٹی کے رکن مکیش چالہ نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور وزیراعلی کا نام ایوان کی کارروائی سے حذف کرنے کا مطالبہ کر دیا۔عادل عسکری نے ایوان سے خطاب میں کہا کہ صوبے میں مراد علی شاہ وزیراعلی ہیں اور ان کے بہنوئی چیف سیکریٹری تعینات ہیں، یہ صریحا اقربا پروری ہے اور گڈ گورننس کے اصولوں کے خلاف ہے۔

ان کے ان بیانات پر پیپلز پارٹی کے ارکان سیخ پا ہو گئے اور ایوان میں شور شرابا شروع ہو گیا۔مکیش چالہ نے عادل عسکری کی تقریر پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی کا نام کارروائی سے حذف کیا جائے، ایسے بیانات غیر ضروری اور اشتعال انگیز ہیں۔ اعتراض کے بعد دونوں جماعتوں کے ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور ایوان میں ایک دوسرے کے خلاف سخت جملوں کا تبادلہ شروع ہو گیا، جس سے اجلاس کا ماحول کشیدہ ہو گیا۔

صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے قائم مقام اسپیکر کو مداخلت کرنا پڑی۔ انہوں نے دونوں جماعتوں کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: آپس میں ایک دوسرے کو مخاطب نہ کریں، ایوان کے تقدس کا خیال رکھا جائے۔ایوان میں اس وقت مزید گرما گرمی پیدا ہوئی جب ایم کیو ایم کے ایک اور رکن نے پیپلز پارٹی کے رکن فاروق اعوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: جب آپ کے بقول بانی ایم کیو ایم شیطان تھا، تو آپ اس وقت سندھ پولیس میں انسپکٹر تو ہوں گے، اگر اس وقت ہمت کرتے تو اچھا ہوتا۔

اب جب اس کی سیاست ختم ہو گئی ہے تو اسے کوسنے کا فائدہ نہیں۔ ایوان میں پیش آنے والا یہ واقعہ سندھ اسمبلی کی کارروائی کو مچھلی بازار کا منظر پیش کرنے پر مجبور کر گیا، جبکہ دونوں جماعتوں کے درمیان موجود سیاسی و ذاتی اختلافات ایک بار پھر شدت کے ساتھ سامنے آ گئے ہیں۔
Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات