Live Updates

کوئی سیاسی لیڈر پاکستان سے بڑا نہیں، ملک کے وقار کو نقصان پہنچانا ناقابل برداشت ہے، وزیراطلاعات

پاکستان کے خلاف مہم چلانے والے عناصر اور ان کے سہولت کار بے نقاب ہو چکے ہیں،پاکستان کی سفارتی کوششوں سے بھارت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے،عطاء اللہ تارڑ پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کے رہنما زلفی بخاری کی عارف آجاکیہ سے ملاقات کی تصاویر بھی دکھائی گئیں

جمعرات 26 مارچ 2026 21:05

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 مارچ2026ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ کوئی سیاسی لیڈر پاکستان سے بڑا نہیں، ملک کے وقار کو نقصان پہنچانا ناقابل برداشت ہے، پاکستان کے خلاف مہم چلانے والے عناصر اور ان کے سہولت کار بے نقاب ہو چکے ہیں،پاکستان کی سفارتی کوششوں سے بھارت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔

جمعرات کو یہاں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مشرق وسطی کی صورتحال کے حوالے سے پاکستان کا ثالث کے طور پر کلیدی کردار سامنے آیا ہے، پاکستان کو ایک ذمہ دار ملک سمجھا جاتا ہے جبکہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو پوری دنیا سراہ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی کوششوں کا لوہا منوایا ہے اور آج دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان نے ہر سطح پر بھرپور کردار ادا کیا ہے۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں سے بھارت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور پاکستان کے ابھرتے ہوئے تشخص اور بڑھتی اہمیت سے اسے تکلیف ہوئی ہے جبکہ بھارتی میڈیا بھی اپنی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بھارت پاکستان کی کامیابیوں سے شدید پریشان ہے وہیں جنیوا اجلاس میں بھی افسوسناک پیشرفت دیکھنے میں آئی۔

بانی پی ٹی آئی کے بیٹے قاسم خان نے وہاں جا کر تقریر کی، پی ٹی آئی ملک دشمنی میں اتنا آگے چلی گئی ہے کہ اس نے پہلے آئی ایم ایف سے کہا کہ پاکستان کو سپورٹ نہ کیا جائے اور اب پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس واپس لینے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ عارف آجاکیہ جیسے غدار سے ملاقات کرتے ہیں۔ پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کے رہنما زلفی بخاری کی عارف آجاکیہ سے ملاقات کی تصاویر بھی دکھائی گئیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ زلفی بخاری پہلے عارف آجاکیہ سے ملاقات کرتے ہیں اور بعد میں کہتے ہیں کہ وہ ان کو نہیں جانتے۔ انہوں نے کہا کہ عارف آجاکیہ برطانیہ میں پاکستان کے خلاف مہم چلاتا ہے اور اسے ہمیشہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرتا دیکھا گیا ہے جبکہ زلفی بخاری اینڈ کمپنی پاکستان کے خلاف سازشوں میں ملوث ہے۔ پوری دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ عارف آجاکیہ کے ساتھ ان کے تانے بانے ملتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جتنا یہ پاکستان کے خلاف سازش کریں گے ملک اتنا ہی مضبوط ہوگا اور ترقی کرے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے دور میں پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا، کہاں گئیں وہ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر، انہوں نے اپنے دور میں ملک کو شدید نقصان پہنچایا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس ملک میں سیاست ہوتی رہی ہے اور میں نے اپوزیشن سے ہمیشہ کہا ہے کہ آپ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کریں، جب ہم اپوزیشن میں تھے تو جو پارٹی برسراقتدار تھی ہم بھی اس کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے لیکن ایک فرق واضح رہنا چاہئے کہ پاکستان کا مفاد سب سے مقدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں شہباز شریف صاحب اپوزیشن لیڈر تھے، انہیں کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے اجلاسوں میں بلایا گیا، وہ شریک ہوئے لیکن اس وقت کے وزیراعظم عمران احمد نیازی اس وجہ سے ان اجلاسوں میں نہیں آئے کہ اپوزیشن لیڈر وہاں بیٹھا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قومی مفاد ہمیشہ مقدم ہوتا ہے اور کوئی سیاسی جماعت یا سیاسی لیڈر پاکستان سے بڑا نہیں ہو سکتا۔

اس ملک نے ہمیں سب کچھ دیا ہے، یہ سارے عہدے، پارٹیاں اور جتنا کچھ ہے وہ مملکت خداداد پاکستان کا مرہون منت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب قومی مفاد کو پس پشت ڈال کر ذاتی مفاد کو مقدم رکھا جائے تو اس سے قبیح حرکت کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کی فتح کے بعد ہماری سفارتی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا ہے لیکن ایک سیاسی جماعت ملک کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور ملک کی پالیسیوں کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک میں بڑے بڑے سیاستدانوں نے قربانیاں دی ہیں، پاکستان کھپے کے نعرے لگائے گئے ہیں لیکن کبھی کسی نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی شخصیت پرستی اور انا پرستی میں مبتلا ہے، یہ سڑک پر چار بندے نہیں نکال سکتی، یہ جماعت گروپوں میں تقسیم ہو چکی ہے، یہ خود کو ٹھیک نہیں کر سکے تو ملک کی پالیسیاں کیا بنائیں گے، ملک کے خلاف مہم چلانے پر انہیں شرم آنی چاہئے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران نیازی کے دونوں صاحبزادوں کو پاکستان کا شہری ہونے اور نائیکوپ کے ذریعے پاکستان آنے پر شرمندگی ہو رہی ہے حالانکہ ہم نے کھلے دل سے کہا کہ آپ پاکستان آئیں، ہم آپ کو خوش آمدید کہیں گے لیکن انہیں نائیکوپ کے ذریعے پاکستان آنا قبول نہیں، کیا حب الوطنی کا تقاضا نہیں ہے کہ آپ نائیکوپ پر سفر کر کے پاکستان آئیں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگوں نے ہمیشہ کہا کہ ان کا لیڈر پاکستان سے بڑا ہے، وہ نہیں تو کچھ نہیں، انہوں نے آئی ایم ایف کو خطوط لکھے، آئی ایم ایف سے اپیل کی کہ پاکستان کو بیل آئوٹ پیکیج نہ دیا جائے تاکہ ملک ڈیفالٹ کر جائے، یہ ملک کو ڈیفالٹ کر کے پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے، ان کے اپنے لیڈر کے منہ سے بھی یہ نکلا کہ پاکستان ڈیفالٹ کرنے والا ہے لیکن الحمد اللہ پاکستان نے ڈیفالٹ نہیں کیا۔

ایف بی آر کی ریفارمز کے حوالے سے پاکستان کے معاشی ماڈل کو ورلڈ بینک کے اجلاس میں ایک کامیاب ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ لوگ پھر بھی باز نہیں آئے انہوں نے 2024 میں کال دی کہ پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس واپس لیا جائے تاکہ برآمد کنندگان کو نقصان پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم بیرون ملک بڑی بڑی دکانوں میں جاتے ہیں تو میڈ ان پاکستان کا ٹیگ دیکھ کر دل کو تسلی ہوتی ہے جبکہ یہ لوگ چاہتے تھے کہ پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس واپس لیا جائے تاکہ برآمد کنندگان کو نقصان پہنچے، فیکٹریاں بند ہو جائیں اور لوگ بے روزگار ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے جو کرنا ہے کر لیں، ان کی سازشوں سے پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اکائونٹس سے کبھی اسرائیل کی مذمت نہیں دیکھی گئی، اسرائیل کے کسی ایک اقدام کی انہوں نے مذمت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے نسیم بلوچ شدت پسندی کو سپورٹ کرتے ہیں، پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات پر خوش ہوتے ہیں اور بلوچستان میں شرانگیزی پھیلانے میں ملوث ہیں اور یہ لوگ ان کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ہم اس ملک کی وجہ سے ہیں اور اس ملک پر سو بار ہماری جان قربان، اس ملک نے ہمیں عزت، وقار اور تحفظ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان کی تمام تر سازشوں کے باوجود مضبوط رہے گا، یہ سو مرتبہ کوشش کرلیں پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ ان کا مکروہ چہرہ پوری دنیا دیکھ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی محب وطن پاکستانی ان کی اس قبیح حرکت کی حمایت نہیں کرے گا۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ قاسم خان جہاں رہتے ہیں اور جن کی تربیت میں ہیں اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں، زیک گولڈ سمتھ اسرائیل کو فنڈنگ کرتے ہیں، قاسم خان کے والد کی کوئی ایک ٹویٹ دکھا دیں جس میں انہوں نے غزہ کے معاملے پر اسرائیل کی مذمت کی ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ کبھی اسرائیل کی مذمت نہیں کریں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سٹریٹجک رابطے ہر سطح پر ہوتے ہیں، دفتر خارجہ، وزارت دفاع اور وزیراعظم ہائوس کے عالمی سطح پر رابطے ہوتے رہتے ہیں، مختلف سطحوں پر سفارت کاری میں جو اپنا کردار ادا کر سکتا ہے اسے کرنا چاہئے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں تحریک انصاف بطور سیاسی جماعت موجود نہیں ہے، پاکستان کے موجودہ قوانین کے مطابق پی ٹی آئی کی سیاسی حیثیت ختم ہو چکی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے حوالے سے بھی ہماری نیک نیتی رہی ہے جس طرز کی سیاست یہ لوگ کر رہے ہیں وہ ناقابل قبول ہے۔ آپ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کر سکتے ہیں لیکن ملک کی سالمیت اور مفاد کو دائو پر نہیں لگا سکتے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے اس موقع پر پروین شاکر کا شعر بھی پڑھا کہ تہمت لگا کے ماں (وطن) پر جو دشمن سے داد لیایسے سخن فروش کو مر جانا چاہئیایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو حکومت نے مکمل طبی سہولت فراہم کی ہے، بانی پی ٹی آئی کو کوئی سیریس مسئلہ نہیں اور ان کی آنکھ ٹھیک ہو رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزارت بعد میں ہے، سب سے پہلے خود کو پاکستانی سمجھتا ہوں اور بطور پاکستانی میری ذمہ داری تھی کہ حقائق سامنے لائے جائیں، پوری قوم کو بتانا ضروری تھا کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر پاکستان نے جو کردار ادا کیا وہ تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ایران اور فلسطین کے حوالے سے آواز اٹھانا، سفارتی سطح پر توازن قائم رکھنا اور دوست ممالک سے بات چیت کرنا پاکستان کے کردار کا حصہ ہے جبکہ پاکستان کے مندوب عاصم افتخار نے اسرائیل کے نمائندے کو جس انداز میں جواب دیا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے، جی ایس پی کے حوالے سے مشن پاکستان آیا تھا اور انہیں تمام چیزوں سے آگاہ کیا گیا۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات