کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 مئی2026ء) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ
سندھ و صدر
پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی نے کہا ہے کہ معرکہ حق میں
دنیا کی تاریخ میں
پاکستان کی
فوج کو تاریخی کامیابی ملی ہے۔
بھارت نے پہلگام واقعے کا الزام
پاکستان پر لگایا اور آج تک وہ
دنیا کے سامنے اس کے شوہر نہیں دے سکا ہے۔ جبکہ ہمیں تو ایسے شواہد بھی ملے ہیں کہ پہلگام واقعے میں
بھارت خود ملوث ہے۔
مودی کو اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہوچکا ہے کہ
مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر اب کوئی دوسرا راستہ اس کے پاس نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز سندھ
اسمبلی کے میڈیا کارنر پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر
پیپلز پارٹی کراچی کی انفارمیشن سیکرٹری
شرمیلا فاروقی ، ڈسٹرکٹ ساتھ کے صدر جاوید ناگوری، شکیل چوہدری و دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
(جاری ہے)
, سعید غنی نے کہا کہ اس وقت پورے ملک میں معرکہ حق کا جشن منایا جا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے
پیپلز پارٹی کراچی نے بھی ایک عظیم الشان پروگرام کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں ہفتہ 9 مئی کو شام 5 بجے، نشان
پاکستان، سی ویو کلفٹن پر بڑا جشن منایا جائے گا، جس میں ملک کے نامور فنکار حصہ لیں گے اور اس میں قومی، ملی اور علاقائی نغمے پیش کریں گے۔ اس تقریب میں لیزر لائٹنگ اور آتشبازی کا بھی شاندار پروگرام رکھا گیا ہے۔
سعید غنی نے کہا کہ معرکہ حق کے ایک سال مکمل ہونے پر
پیپلز پارٹی کی جانب سے پورے شہر میں بینرز اور پینا فلیکس لگائے گئے ہیں جبکہ مختلف اضلاع میں کیمپس بھی لگائے گئے ہیں ۔ سعید غنی نے کہا کہ معرکہ حق میں
دنیا کی تاریخ میں
پاکستان کی
فوج کو تاریخی کامیابی ملی ہے۔ اس
جنگ میں ہماری پاک
فوج نے اپنے سے گئی گنا بڑی
فوج کو شکست دی۔ انہوں نے کہا کہ
بھارت نے اپریل 2025 میں
پاکستان پر پہلگام واقعے کا الزام عائد کیا، جس پر
پاکستان نے اس الزامات کی نہ صرف تردید کی بلکہ
بھارت کو اس کی غیر جانبدارانہ انکوائری کا بھی کہا لیکن
بھارت کی جانب سے ایک سال گزر جانے کے بعد بھی آج تک اس کے شواہد نہیں دے سکا ہے۔
سعید غنی نے کہا کہ ہمیں تو ایسے شواہد بھی ملے ہیں کہ پہلگام واقعے میں
بھارت خود ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ 6 اور 7 مئی 2025 کو
بھارت نے
پاکستان کے نہتے شہریوں ، مساجد اور مدارس پر میزائل حملے کرکے
شہید کیا، جس کا ہماری
پاک فضائیہ، بحری اور بری
فوج نے
بھارت کو کئی گھنٹے میں منہ توڑ جواب دیا گیا اور چند لمحوں میں پاک
فوج نے 4 رافیل طیاروں سمیت 8 طیارے مار گرائے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری پاک
فوج نے
بھارت کے ایئر ڈیفینس سسٹم کو جام کیا گیا تھا اور پھر
بھارت نے
امریکہ کو منتیں کرکے
جنگ رکوائی۔
جنگ رکتے ہی
بھارت کی گھمنڈ ختم ہوئی۔ ساتھ ہی
بھارت کی اس خطے میں اجارہ داری ختم ہوگئی۔ یہ سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ حالیہ
امریکہ -
ایران جنگ میں
پاکستان کا نمایاں کردار نظر آیا اس کے برعکس
بھارت کا کہیں کوئی کردار نظر نہیں آیا۔
ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ معرکہ حق میں جہاں پاک
فوج کا شاندار کردار رہا وہاں اس ملک کی سیاسی جماعتوں کا بھی بھرپور کردار رہا ہے۔ اس موقع پر
آصف علی زرداری صدر ہیں ان سے مشاورت ہوئی جبکہ
بلاول بھٹو زرداری نے عالمی فورم پر جواب دیا۔ سعید غنی نے کہا کہ
پاکستان کی جانب سے ایک وفد چیئرمین
بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں بھیجا گیا جبکہ
بھارت نے اپنے وزیر خارجہ جو انتہائی سنئیر ششی تھرو کی سربراہی میں بھیجا اس کے مقابلے میں
بلاول بھٹو نوجوان تھا۔
لیکن انہوں نے بڑے بڑے فورمز پر
بھارت کو تہس نہس کردیا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاک
فوج کی کامیابی سے پاکستانی عوام کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور آئندہ
بھارت تو کیا کوئی اور بڑے سا بڑا ملک بھی
پاکستان پر حملے کا سوچیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ایک موقع پر
مودی نے خود کہا تھا کہ
کشمیر پر بات کرنے کو تیار ہیں اور
مودی یہ بات سمجھ چکا ہے کہ
مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر اب اس کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس
جنگ کے بعد
پاکستان کے کردار سے
کشمیر کا مسئلہ ابھر کر آیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ بھارت
اسرائیل کا تو پہلے سے اتحادی ہے اگر دیگر ممالک اس کا ساتھ دیں گے تو ان کو سوچنا چاہئے، اس وقت تو
بھارت خود شرمسار ہے۔ دفعہ 144 کے نفاذ کے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ
پیپلز پارٹی ہر چھوٹے یا بڑے ایونٹ کی باقاعدہ قانونی منظوری لیتی ہے۔
9 مئی کے پروگرام کے لیئے باقاعدہ اجازت لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام صرف پاکستان
پیپلز پارٹی کا نہیں بلکہ یہ تمام پاکستانیوں کا پروگرام ہے۔ ہم تمام شہریوں کو دعوت دیتے ہیں کہ پروگرام میں بھرپور شرکت کریں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ
پاکستان میں
دہشت گردی والے لوگوں کے
بھارت سے تعلق ہیں۔ ہماری
امن و امان کی قیام کے اداروں کی کارکردگی کے باعث الحمد اللہ
کراچی میں سال ڈیڑھ سے
دہشت گردی کا کوئی واقعہ نہیں ہوا ہے۔
دیگر سیاسی جماعتوں کو اس تقریب میں شرکت کی دعوت کے سوال پر سعید غنی نے کہا کہ ہم نے اس تقریب کی اپنے کسی منتخب رکن کو بھی دعوت نہیں دی ہے بلکہ یہ مکمل عام اور عوامی تقریب ہے جس میں ہر ایک کو شرکت کی دعوت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے کوشش کی ہے کہ آدھی سڑک
ٹریفک کے لیئے کھلی رہے اور عوام کو کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو اور عوامی مشکلات کو کم سے کم کرنے کے لئے تمام انتظامات کئے گئے ہیں البتہ خلشہریوں کو کچھ نہ کچھ تکلیف ضرور ہوگی جس کے لئے ہم پہلے ہی ان سے معذرت خواہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ قومی تہوار ہے اس کو سب مل کر منائیں۔