Live Updates

عمران خان کو فوری طور پر مکمل طبی معائنہ، ذاتی ڈاکٹروں تک اور الشفا یا شوکت خانم منتقل کیا جائے، راجہ اظہر

میر علی رضا قتل کیس میں شفاف تحقیقات اور تمام شواہد کو تفتیش کا حصہ بنایا جائے، 27 ستمبر کی پرامن جدوجہد میں عوام اور کارکنان بھرپور شرکت کریں، ارسلان خالد

پیر 10 اگست 2026 19:45

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 اگست2026ء) پاکستان تحریک انصاف کراچی ڈویڑن کے صدر راجہ اظہر نے انصاف ہاؤس کراچی میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین عمران خان کی صحت سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نے پوری قوم کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت، جیل انتظامیہ اور متعلقہ حکام عمران خان کی صحت کے حوالے سے تمام حقائق فوری طور پر قوم کے سامنے لائیں اور کسی قسم کی ابہام یا افواہوں کی گنجائش نہ چھوڑی جائے۔

راجہ اظہر نے کہا کہ عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں جبکہ دوسری آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی اطلاعات پر بھی شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ حکومت اور جیل انتظامیہ کی جانب سے واضح اور شفاف معلومات فراہم نہ کیے جانے سے عوام کے خدشات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت کسی سیاسی مفاد کا معاملہ نہیں بلکہ انسانی صحت اور زندگی کا معاملہ ہے، اسے سیاست سے بالاتر ہو کر دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان سابق وزیراعظم اور ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنماؤں میں سے ایک ہیں، انہیں معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عمران خان کو فوری طور پر مکمل طبی معائنہ اور ضرورت کے مطابق علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔ انہیں الشفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو شوکت خانم اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔

راجہ اظہر نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے ذاتی اور ماہر ڈاکٹروں کو ان تک فوری رسائی دی جائے تاکہ ان کا طبی معائنہ اور علاج ان کے منتخب کردہ ماہرین کی نگرانی میں ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ بلڈ پریشر سمیت صحت کے سنگین مسائل کی اطلاعات کے پیش نظر کسی قسم کی غفلت ناقابل قبول ہوگی۔ عمران خان کے اہلخانہ اور وکلا کو ملاقات کی اجازت نہ دینا بھی تشویشناک ہے، حکومت واضح کرے کہ اہلخانہ اور قانونی ٹیم کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے خلاف تین سو سے زائد مقدمات میں ان کے وکلا کو اپنے موکل تک مؤثر رسائی نہ ملنے سے قانونی کارروائی متاثر ہو رہی ہے۔ وکلا کو اپنے موکل سے ملاقات اور مقدمات کے حوالے سے ضروری مشاورت کا مکمل حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق مکمل اور شفاف طبی رپورٹ قوم کے سامنے لائی جائے اور اگر کوئی طبی رپورٹ عدالتی احکامات کے باوجود اہلخانہ کو فراہم نہیں کی گئی تو اس معاملے کی بھی تحقیقات کی جائیں۔

راجہ اظہر نے کہا کہ اگر حکومت عمران خان کی صحت سے متعلق اطلاعات کی فوری وضاحت نہیں کرتی تو عوام کے خدشات مزید بڑھیں گے۔ حکومت کی خاموشی افواہوں کے خاتمے کے بجائے انہیں تقویت دے رہی ہے۔ عمران خان کی صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے لانا حکومت، پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر پی ٹی آئی کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی اور کسی بھی غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اس موقع پر راجہ اظہر نے میر رضا قتل کیس کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں پولیس کی کارروائی پر کئی اہم سوالات اٹھ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کراچی کی ٹیم نے میر رضا کے اہلخانہ سے رابطہ کیا ہے جبکہ ان کے والد نے واقعے کے حوالے سے پولیس کو اہم معلومات بھی فراہم کی ہیں۔ ان کے مطابق واقعہ رات تقریباً چار بجے کے قریب پیش آیا اور انہوں نے خود گلستان جوہر میں متعلقہ مکان تلاش کیا۔

راجہ اظہر نے سوال اٹھایا کہ ایف آئی آر میں نامزد گیسٹ ہاؤس کی بروقت تفتیش کیوں نہیں کی گئی اور میڈیکل رپورٹ سامنے آنے کے بعد گیسٹ ہاؤس کو سیل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی انہوں نے کہا کہ میر رضا کے قتل کی تحقیقات میں تمام دستیاب شواہد کو شامل کیا جائے اور مقتول کے والد کے پاس موجود معلومات اور شواہد بھی تحقیقاتی ٹیم حاصل کرے۔انہوں نے کہا کہ قاتلوں کی گرفتاری اور اصل حقائق سامنے لانا پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

قتل کیس کو غیر متعلقہ معاملات کی طرف لے جانے کے بجائے شفاف اور بلاامتیاز تحقیقات کی جائیں۔ میر رضا کے قتل کا میاں بیوی کے خلع کے معاملے سے کیا تعلق ہے، اس حوالے سے بھی پولیس کو واضح جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میر رضا کیس میں ملوث افراد خواہ کسی بھی عہدے یا حیثیت پر ہوں، قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔راجہ اظہر نے کہا کہ میر رضا کے اہلخانہ کو انصاف فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

کراچی کے نوجوانوں نے بھی میر رضا کے انصاف کے لیے آواز اٹھائی ہے اور عوام کے احتجاج کے بعد حکومت اور پولیس کی جانب سے اس کیس پر توجہ دی گئی۔ تحقیقاتی کمیٹی کو میر رضا کے قتل کے تمام پہلوؤں کی مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرنی چاہئیں۔ میڈیکل رپورٹ میں سامنے آنے والے سوالات کے واضح جوابات دیے جائیں اور جسم پر موجود نشانات کی مکمل طبی وجوہات بھی سامنے لائی جائیں۔

پی ٹی آئی کراچی کے صدر نے کہا کہ والدین اگر پولیس کی تفتیش سے مطمئن نہیں تو انہیں اعتماد میں لے کر تمام حقائق سے آگاہ کیا جائے۔ میر رضا کو انصاف دینا صرف اس کے خاندان کو انصاف دینا نہیں بلکہ پورے کراچی کے نوجوانوں کو یہ یقین دلانا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔راجہ اظہر نے ملک میں بڑھتی مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافے نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں اور ملک میں پیٹرول کی قیمت کے درمیان فرق پر حکومت کو قوم کے سامنے مکمل وضاحت دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دور حکومت میں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت موجودہ سطح سے زیادہ ہونے کے باوجود عوام کو نسبتاً کم قیمت پر پیٹرول فراہم کیا گیا۔ مارچ 2022 میں پیٹرول پر لیوی اور ٹیکس کے حوالے سے کیے گئے اقدامات بھی عوام کے سامنے موجود ہیں۔

آج عوام سے پیٹرول اور ڈیزل پر بھاری لیوی، ٹیکس اور دیگر مارجنز وصول کیے جا رہے ہیں، حکومت بتائے کہ عوام پر یہ اضافی بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے۔راجہ اظہر نے کہا کہ جو سیاسی قوتیں ماضی میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کرتی رہی ہیں، آج اقتدار میں آکر عوام کی مشکلات پر خاموش کیوں ہیں شہباز شریف حکومت عوام کو ریلیف دینے کے اپنے وعدے پورے کرے اور پیٹرول کی قیمتوں، بجلی کے بلوں اور مہنگائی کے بوجھ میں کمی لائے۔

عوام کو مزید مہنگائی کے نیچے دبانے کے بجائے حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔5 اگست کے احتجاج کے حوالے سے راجہ اظہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کراچی نے انتظامیہ کو بروقت اپنے احتجاج سے آگاہ کیا تھا اور ڈپٹی کمشنر ساؤتھ نے 24 جولائی کو احتجاج سے متعلق پی ٹی آئی کا خط وصول کیا تھا۔ اس کے باوجود انتظامیہ نے احتجاج کے مقام، مقصد اور سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے پی ٹی آئی سے مناسب رابطہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے پرامن احتجاج کے لیے سیکیورٹی فراہم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، لیکن کنٹینرز لگا کر راستے بند کیے گئے اور پرامن احتجاج کے لیے جانے والے کارکنوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 5 اگست کو پی ٹی آئی کارکنوں، خواتین اور سیاسی کارکنوں پر مبینہ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

تحقیقات ہونی چاہئیں کہ لاٹھی چارج، آنسو گیس اور گرفتاریوں کے احکامات کس نے دیے۔راجہ اظہر نے کہا کہ اگر کارکنوں کے راستے بند نہ کیے جاتے تو وہ پرامن احتجاج ریکارڈ کرا کے واپس چلے جاتے، لیکن حکومت نے رکاوٹیں کھڑی کرکے خود احتجاج کو مزید نمایاں کردیا۔ سیاسی مخالفین کے ساتھ بھی جمہوری اور انسانی رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فریال تالپور سندھ اسمبلی اور قائمہ کمیٹی داخلہ کی چیئرپرسن ہیں، سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائی کے معاملے پر ان کی خاموشی افسوسناک ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی اپنے آئینی، قانونی اور جمہوری حق کے تحت پرامن احتجاج جاری رکھے گی۔ عمران خان کی رہائی، ان کے اہلخانہ اور وکلا کو رسائی، شفاف مقدمات اور بنیادی حقوق کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکریٹری ارسلان خالد نے بھی عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بانی چیئرمین کی دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہونے اور دوسری آنکھ سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات انتہائی سنجیدہ ہیں۔

حکومت فوری طور پر ان اطلاعات کی تصدیق یا تردید کرے اور عمران خان کے علاج، طبی معائنے اور صحت کی صورتحال سے متعلق مکمل حقائق قوم کے سامنے لائے۔ارسلان خالد نے کہا کہ عمران خان کے ذاتی اور ماہر ڈاکٹروں کو ان تک رسائی نہ دینا قابل تشویش ہے۔ عمران خان کے اہلخانہ کو ملاقات کی اجازت دی جائے اور ان کے بچوں کو بھی والد سے رابطے کی سہولت فراہم کی جائے۔

اگر طبی رپورٹس کے حوالے سے عدالتی احکامات موجود ہیں تو ان پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے میں جیل قوانین اور طبی ضوابط پر مکمل عمل کیا جانا چاہیے۔ تین سالہ قید کے دوران سامنے آنے والے صحت کے مسائل پر فوری توجہ دی جائے اور بلڈ پریشر سمیت دیگر طبی مسائل کے پیش نظر انہیں فوری اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

ارسلان خالد نے کہا کہ ماضی میں دیگر سیاسی رہنماؤں کو علاج کے لیے طبی سہولیات اور ریلیف فراہم کیا گیا، لہٰذا عمران خان کے معاملے میں بھی انسانی بنیادوں پر کسی قسم کا امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔ عمران خان کی صحت پر عوام اور کارکنان گہری تشویش میں مبتلا ہیں اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام خدشات دور کرے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں، ان کی صحت اور سلامتی کو یقینی بنانا حکومت اور جیل انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔

پی ٹی آئی عمران خان کی فوری رہائی، بہتر طبی سہولیات اور ان کے منتخب ڈاکٹروں تک مکمل رسائی کا مطالبہ کرتی ہے۔ارسلان خالد نے کہا کہ 27 ستمبر کی پارٹی کال کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں بلکہ ایک پرامن اور جمہوری جدوجہد کے لیے ہے۔ سندھ کے عوام، کارکنان اور شہری اپنے بچوں اور خاندانوں کے ہمراہ اس پرامن جدوجہد کا حصہ بنیں اور عمران خان کی رہائی، آئین کی بالادستی اور انصاف کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔

پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کراچی کے سیکریٹری اطلاعات فوزیہ صدیقی، انصاف لائرز فورم کراچی کے صدر ایڈووکیٹ شجاعت علی خان، پی ٹی آئی رہنماؤں راو? محمد اعظم، عمران مرزا، حامد نواز، غلام رسول، یونس تنولی اور دیگر بھی موجود تھے۔پی ٹی آئی کراچی رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عمران خان کی صحت، سلامتی اور رہائی کے ساتھ ساتھ کراچی کے شہریوں کے بنیادی حقوق، امن و امان اور انصاف کے لیے سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات