پاکستان کی شرح نمو 5.37 فیصد تک پہنچ گئی ہے،ن لیگ کے4 لوگ نواز شریف کو ہٹا کر خود قیادت سنبھالنا چاہتے ہیں

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات جلد ہوں گے جمہوری لوگ تیاری کریں،وزیر مملکت برائےاطلاعات و نشریات فرخ حبیب

ہفتہ 22 جنوری 2022 17:01

پاکستان کی شرح نمو 5.37 فیصد تک پہنچ گئی ہے،ن لیگ کے4 لوگ نواز شریف کو ہٹا کر خود قیادت سنبھالنا چاہتے ہیں
فیصل آباد(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 22 جنوری 2022ء) وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا کہ کورونا کی عالمی وبا کے باوجود وزیر اعظم عمران خان اور ان کی ٹیم کے مثالی اقدامات کے باعث پاکستان کی شرح نمو 5.37 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور مسلم لیگ ن کے رہنما مفتاح اسماعیل سمیت ان کے دیگر رہنمابھی میڈیا پر آکر ہماری شرح نمو کو قبول کررہے ہیں کیونکہ ہماری شرح نمو سسٹین ایبل گراوتھ اور ٹھوس و مستقل بنیادوں پر تھی ،ہم نے ن لیگ کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی طرح نہ تو کریڈٹ کارڈ گراوتھ کے ذریعے جعلی اعداد و شمار کا سہارا لیا اور نہ ہی پیسے دیکر یکطرفہ اور حقائق کے منافی سروے شائع کروائے،دوسری جانب ن لیگ کے4 لوگ نواز شریف کو ہٹا کر خود قیادت سنبھالنا چاہتے ہیں اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے بارے میں ابہام پیدا کر رہے ہیں لہٰذا سب جان لیں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات جلد ہوں گے اسلئے جمہوری لوگ تیاری کریں۔

(جاری ہے)

ہفتہ کی سہ پہر جناح ہال ضلع کونسل فیصل آباد میں ممتاز سفر نگار، مصنف و محقق ندیم رضوی کے دوسرے دلچسپ سفر نامے پر مبنی کتاب مانچسٹر سے مانچسٹر تک کی تقریب رونمائی کے موقع پرمیڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ کورونا کے باعث دنیا کی معیشتیں سکڑنا شروع ہوگئیں لیکن اس کے برعکس ہم نے کوروناکا بہترین حکمت عملی کے ساتھ مقابلہ کیااورسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اپنائی جس سے جہاں ایک طرف صنعتوں کو بند نہیں ہونے دیاگیا وہیں دوسری جانب ایس او پیز کے تحت کاروبار بھی کھلے رہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کے باعث بھارت اور برطانیہ سمیت کئی ترقی یافتہ بلکہ ترقی پذیر ممالک کی گراوتھ منفی میں چلی گئی،دنیا کی کرنسی ڈی ویلیو ہوگئی، بین الاقوامی سطح پر مکمل لاک ڈاؤن لگ گیاجس کی وجہ سے معیشت پر بڑا پریشر آیا لیکن اس کے برعکس پاکستان نے انتہائی دانشمندی کا مظاہرہ کیا جس کے باعث ڈبلیو ایچ او،ورلڈ اکنامک فورم، یو این او اور دیگر عالمی اداروں سمیت دنیا کے مؤقر ترین جریدے اکانومسٹ نے بتایا کہ جنوری 2021 سے جنوری 2022 کے عرصہ میں پاکستان اپنی بہترین پالیسیوں کے باعث نارملائزیشن میں 50 ممالک میں دوسرے نمبر پر رہا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے انڈسٹری بند نہ ہونے دی، نہ ہی لاک ڈاؤن لگایا بلکہ سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اپنا کرپاکستان میں کورونا کے اثرات کو ہینڈل کیا۔انہوں نے کہا کہ اب ایک بار پھر شہریوں کی کوتاہی اور ایس او پیز کو نظر انداز کرنے سے کورونا کے کیسز میں تیزی آرہی ہے لہٰذا ہمیں گزشتہ سال کی طرح ایک بار پھر دانشمندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

فرخ حبیب نے کہا کہ پاکستان کی شرح نمو 5.37 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ اکانومی ری بیس میں بھی یہ شرح ساڑھے 5 فیصد رہی جس کے ساتھ ساتھ لارج سکیل مینو فیکچرنگ میں اضافہ ہوا، آئی ٹی اور ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات بڑھیں، معیشت کو سپیڈی گیئر لگا اور ٹیکس وصولی میں کئی گنا اضافہ ہوا، اسی طرح نئی انڈسٹری اور کاروباروں کیلئے 1000 ارب روپے سے زائد کے لون جاری ہوئے جن سے نئی صنعتیں لگ اور روزگار کے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔

وزیر مملکت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو ملکی معیشت ہمیں ڈیفالٹ پر ملی تھی، زر مبادلہ کے ذخائر نہ ہونے کے برابر تھے اور ملک قرضوں میں جکڑا ہوا تھا مگر ہماری حکومت نے عمران خان کی قیادت میں بہترین فیصلوں سے صورتحال یکسر بدل کر رکھ دی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے کورونا کی وبا کے دوران انرجی پیکیج دیئے جن سے ٹیکسٹائل سیکٹر میں تاریخی گراوتھ ہوئی اور فیصل آباد جو پہلے ٹیکسٹائل مشینری کا قبرستان بنا ہوا تھا اس میں بہتری آنا شروع ہوگئی حتیٰ کہ اب فیصل آباد انڈسٹریل سٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی سمیت علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی میں بڑی تعداد میں نئی ملکی و غیر ملکی صنعتیں لگ رہی ہیں یہی نہیں بلکہ کنسٹرکشن سیکٹر میں بھی 1000 ارب روپے کے منصوبے منظور ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹرف کے تحت500 ارب روپیہ مارکیٹ میں انڈکٹ ہوا۔فرخ حبیب نے کہا کہ حکومت نے بیرون ممالک سے ڈیڑھ ارب ڈالر یعنی 250 ارب روپے کی کورونا ویکسین منگوائی اور تمام افراد کی مفت ویکسی نیشن کی گئی اور اب تک 7 کروڑ سے زائد لوگ کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوا چکے ہیں اور باقی افراد کو ویکسین لگانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ اب بھی ہماری صنعتیں، بازار، کاروبار اور تعلیمی ادارے کھلے اور نظام زندگی100 فیصد معمول کے مطابق چل رہا ہے لیکن اب بھی بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پر بلاجواز تنقید کرکے مایوسیاں پھیلانے والی اپوزیشن نے اپنے دور میں ملکی معیشت کا بیڑا غرق کردیا اور اب جو کہتے ہیں کہ ہم نے ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی وہ بتائیں کہ یہ مسرور انور کون ہے جس کے ذریعے شہباز شریف کے اکاؤنٹ میں براہ راست کروڑوں اربوں روپے آجا رہے ہیں، ان کے جن ملازمین کے اکاؤنٹس سے منی لانڈرنگ کے اربوں روپے نکل رہے ہیں یہ لوگ کون ہیں اور بیس تیس ہزار تنخواہ والے ان افراد کے جعلی و فرضی اکاؤنٹس سے اربوں کی منی لانڈرنگ کیسے ہورہی ہے اور کون کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب نواز شریف اور شہباز شریف کو آئیں بائیں شائیں کرنے کی بجائے جواب دینا ہوگا۔ فرخ حبیب نے کہا کہ کرپشن والوں کو بتانا ہوگا کہ مسرور انور کا ایچ بی ایل اکاؤنٹ کون آپریٹ کرتا ہے اور ساڑھے 7 ارب کی ٹی ٹیاں کیسے لگیں۔انہوں نے کہا کہ اب ن لیگ کی جانب سے ایک اور آڈیو لیک کا معاملہ سامنے آگیا ہے اور رانا شمیم کا حلف نامہ تصدیق کرنیوالے کا کہنا ہے کہ اس نے یہ حلف نامہ لندن میں حسین نواز کے دفتر میں بیٹھ کر تصدیق کیااس طرح یہ لوگ کبھی عدلیہ پر حملہ آور ہوتے ہیں اور کبھی دوسرے ملکی اداروں پر۔

انہوں نے کہا کہ شریف خاندان احتساب میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے لیکن اب انہیں جواب دہ ہونا پڑے گا کیونکہ ہم انہیں راہ فرار اختیار نہیں کرنے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ حکومت پر بھونڈے الزام لگا اور تنقید برائے تنقید کرتی ہے لیکن وہ ن لیگ کی قیادت سے کہتے ہیں کہ جس طرح ہم پانامہ کیس عدالت لیکر گئے اور اسے منطقی انجام تک پہنچایا لہٰذا اگر ان کے پاس بھی کوئی ایسی چیزیں ہیں تو وہ اسے لیکر عدالت چلے جائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے۔

فرخ حبیب نے کہا کہ ہمارا بنیادہ مقصد اور فوکس سسٹین ایبل،دیرپا و ٹھوس گراوتھ پر ہے لہٰذا ہم کریڈٹ کارڈ کے ذریعے مہنگے کپڑوں، امپورٹڈ گاڑیوں اور بنگلوں کا سہارا لینے کی بجائے ٹھوس گراوتھ پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمرشل بینکوں سے لوگ دھڑا دھڑ قرض لے رہے ہیں جنہیں کاروبار میں لگایا جارہا ہے۔ سولڈ گراوتھ کے باعث ٹارگٹ سے زیادہ ٹیکس اہداف حاصل ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے کیونکہ کورونا کے دوران کرنسیاں ڈی ویلیو ہوئیں، پروڈکشن میں کمی آئی، پٹرول 40 سے 85 ڈالر فی بیرل پر چلا گیا، پام آئل کی قیمت 400 سے بڑھ کر 1300 ڈالر فی ٹن، ایل این جی 6سے بڑھ کر 40 ڈالر پر اور2000 والاکارگو کنٹینر 10 ہزار پر چلا گیا اسی لئے عالمی سطح پر قیمتیں بڑھنے سے ہم بھی متاثر ہوئے لیکن جوں جوں قیمتیں نیچے آئیں گی ہم بھی عوام کو ریلیف دیں گے۔

سانحہ انارکلی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ متعلقہ ادارے اس کیس کی تہہ تک پہنچ چکے ہیں جبکہ سانحہ مری کی طرح اس میں بھی جس جس کی غفلت پائی گئی اس کے خلاف کاروائی ہوگی۔ فرخ حبیب نے کہا کہ سٹیٹ بینک کو ہم نے خود مختاری ضرور دی ہے لیکن اب بھی وہ حکومت کے ماتحت ہی کام کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس ماضی کے مقابلے میں زیادہ اکٹھا ہورہا ہے اورعمران خان کی قیادت میں بہترین فیصلوں کے باعث ہماری معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے جس سے ٹیکسٹائل کے شعبے میں ریکارڈ ترقی نظر آرہی ہے اورملک میں تیزی سے انڈسٹری لگ رہی ہے اسی طرح ہم تعمیراتی شعبے کوبھی مزید بہتر بنارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کے دوران این سی او سی نے بہترین انداز میں کام کیاجس سے کاروباری سرگرمیاں جاری اور صنعتیں چل رہی ہیں اور کورونا کے بعد حالات معمول پر آنا شروع ہوگئے ہیں یہی وجہ ہے کہ کورونا کے بعد نارملائزیشن انڈیکس میں پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔

فیصل آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments