ایشز سیریز برابر| آخری 2ٹیسٹ میچ| پہلا حصہ

Ashes Series Draw 2-2

سیریز کے کامیاب بلے باز آسٹریلیا کے سٹیو سمتھ رہے اور ناکام ترین بھی آسٹریلیا کے اوپنر ڈیوڈ وارنر

Arif Jameel عارف‌جمیل منگل ستمبر

Ashes Series Draw 2-2
آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کے افتتاحی ایڈیشن میں یکم اگست 2019ءکو انگلینڈ میں ایشز سیریز کا آغاز ہوا ۔انگلینڈ اور آسٹریلیا کا جوڑ خوب رہا اور سیریز برابری کی سطح پر 14ِستمبر2019ءکو ختم ہوگئی۔آسٹریلیا نے چوتھے ٹیسٹ میں واپسی کی تو آخری ٹیسٹ میں انگلینڈ کی میزبان ٹیم نے جو روٹ کی زیر ِکپتانی آسٹریلیا کو شکست دے کر اُنکی ایشز سیریز جیتنے کی اُمید پر پانی پھیر دیا۔

ایشز سیریز کی اہم خبریں: ٓ ﴿ یاد رہے کی آسٹریلین کینگروز نے 18سال قبل2001ءمیں انگلینڈ کی سرزمین پر ایشز سیریز میں کامیابی حاصل کی تھی۔ ﴿ آسٹریلیا نے تیسرے ٹیسٹ میں شکست کے بعد ایشز کو عزت کا مسئلہ بنا لیا تھا اس لیئے آسٹریلیا سے سابق کپتان اسٹیو وا کو مانچسٹر بُلا کر ٹریننگ کے دوران اُ نکی بھی خدمات حاصل کیں ۔

(جاری ہے)

اس سیریز کے پہلے 2میچوں میں بھی اُنکو ذمہداری سونپی گئی تھی جو نبھا کر وہ واپس چلے گئے تھے۔

﴿ اس سیریز کے کامیاب بلے باز آسٹریلیا کے اسٹیون سمتھ رہے اور ناکام ترین بھی آسٹریلیا کے اوپنر ڈیویڈ وارنر۔ ﴿ اسٹیون سمتھ نے4ٹیسٹ میچوں میںکُل774رنز بنا ئے ۔اُنکا سابقہ ریکارڈ انڈیا کے خلاف 15 ۔2014 میں769رنز کا تھا۔ ﴿ ویسٹ انڈیز کے برائن لارا کا 1994ءکی سیریز میں 778رنز کا عالمی ریکارڈ ہے۔ ﴿ اسٹیون سمتھ نے اس سیریز میں انگلینڈ کے خلاف مسلسل 10دفعہ50 یااس زیادہ رنز بنانے کا ایک اور کارنامہ انجام دیا ۔

اس سے پہلے پاکستان کے مایہ ناز بلے باز انضمام الحق کا انگلینڈ کے خلاف مسلسل 9 دفعہ 50 یا اس سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ تھا۔ ﴿ آسٹریلیا کے اوپنر ڈیویڈ وارنر کو اس سیریز میں انگلینڈ کے فاسٹ باﺅلر اسٹورٹ براڈ نے 7دفعہ آﺅٹ کیا۔ سیریز کی10اننگز میں صرف دو دفعہ ڈبل فیگر میں داخل ہوئے 61 اور11 ۔تین اننگز میں لگاتار صفر پر بھی آﺅٹ ہوئے۔

﴿ ایشز سیریز2019ءکے مین آف دی سیریز انگلینڈ کے بین اسٹوکس اور آسٹریلیا کے اسٹیون سمتھ ہوئے۔ ﴿ آسٹریلیا کے فاسٹ باﺅلر پیٹ کمنز نے اس ایشز سیریز کی کسی بھی اننگز میں5وکٹیں لیئے بغیر سب سے زیادہ29وکٹیں لیں اور ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں منفرد اعزاز اپنے نام کیا۔ ﴿ آسٹریلیا کے سپن باﺅلر نیتھین لیون کی اس سیریز میں363وکٹیں ہو گئیں۔

پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان اور نیوزی لینڈ کے ڈینیل ویٹوری کی یکساں362وکٹیں ہیں۔ مانچسٹر میں چوتھے ٹیسٹ کے بارے چند اہم معلومات: ﴿ میچ شروع ہو نے پہلے تاریخی تشویشناک بات جو سامنے تھی وہ میچ کے اختتام پر بھی قا ئم رہی کہ انگلینڈ کی ٹیم 1981ءکے بعد کبھی بھی مانچسٹر میں ایشز ٹیسٹ نہیں جیت سکی۔ ﴿ مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ کرکٹ گراﺅند کی پچ گھاس سے خالی تھی لیکن کریک کی بھرمار نظر آرہی تھی جسکی وجہ سے واضح تھا کہ چوتھی اننگز میں بیٹنگ میں مشکل ہو گی۔

لہذا ٹاس جیتنے والی ٹیم بلے بازی کو ترجیح دے گی۔ ﴿ تما م دنوں میں بارش کی پیشین گوئی تھی جسکا زور جمعہ کا دن تھا ۔ پھر ایسا ہی ہوا اور اُس دن انگلینڈ کی بیٹنگ کے دوران کھیل روکنا پڑا۔ ﴿ 3ِستمبر2019ءکو جاری ہونے والی نئی ٹیسٹ رینکنگ میں ایشز کے پہلے دومیچ میں آسٹریلیا کی طرف سے شاندار بیٹنگ کرنے والے بلے بازاور سابق کپتان اسٹیو ن سمتھ پہلی پوزیشن پر آگئے۔

اس سے پہلے انڈیا کے کپتان ویرات کوہلی جو کئی ماہ سے ٹیسٹ بلے باز کی پہلی پوزیشن پر براجمان تھے اُنکی دوسرے نمبر پر تنزیلی ہو گئی۔ ﴿ اسٹیون سمتھ نے چوتھے ٹیسٹ میں ڈبل سنچری بنا کر اپنی26ویں سنچری مکمل کی اور انگلینڈ کے خلاف11ویں سنچری بنا کر دوسرے نمبر پر آگئے۔انگلینڈ کے خلاف آسٹریلیا و دُنیا کرکٹ کے نامور بلے باز بریڈ مین کی سب زیادہ 19 ریکارڈسنچریاں ہیں۔

﴿ اسٹیون سمتھ نے ہی اس ٹیسٹ میچ میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں میں انفرادی طور پر سب زیادہ اسکور کیا 211اور82۔ ﴿ انگلینڈ کی اس ٹیسٹ میں شکست پر کپتان جوئے روٹ اور فاسٹ باﺅلر جوفرا آرچر کے اختلافات کی خبریں بھی گرم رہیں۔ چوتھا ٹیسٹ : 4ستمبر تا 8ستمبر2019ءتک کھیلے جانے والا یہ ٹیسٹ بھی حسب معمول بارش کی نذر رہا۔بلکہ تیسرے دن کا کھیل بارش کی وجہ سے جاری نہ رہ سکا۔

لہذا آسٹریلیا کیلئے وقت کم مقابلہ سخت والے حالات رہے۔ ا یشز کے چوتھے ٹیسٹ کا ٹاس آسٹریلیا کے کپتان ٹم پین نے جیت کر وکٹ کے مطابق پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور ایک دفعہ پھر سابق کپتان اور بلے باز اسٹیون سمتھ نے شاندار ڈبل سنچری کرتے ہو ئے211رنز کی اننگز کھیل ڈالی۔ ساتھ میں لبوچن ،کپتان ٹم پین اور باﺅلر اسٹارک مچل نے بھی نصف سنچریاں بنائیں اور دوسرے دن چائے کے وقفے کے بعد جب 8کھلاڑی آﺅٹ پر اسکور497ہو اتو آسٹریلیا کے کپتان نے اننگز ڈکلیئر کر دی۔

انگلینڈ کی طرف سے براڈ 3کھلاڑی آﺅٹ کرنے میں کامیاب ہو ئے۔ انگلینڈ ماضی کی طرح آسٹریلیا کے خلاف اپنی ہوم گراﺅنڈ پر ایک دفعہ پھر ناکام ہوا اور301کے مجموعی اسکور پر آل ٹیم آﺅٹ ہو گئی۔برنز81اور کپتان جو روٹ 71رنز بنا کر نمایاں بلے باز رہے۔آسٹریلیا کی طرف سے ہیزل وُڈ نے4کھلاڑی آﺅٹ کیئے۔ آسٹریلیا نے پہلی اننگز کی196رنز کی برتری کے ساتھ چوتھے دن کے کھانے کے وقفے کے کچھ دیر بعد دوسری اننگز کا آغاز کیا اورچائے کے وقفے تک 64رنز پر 4کھلاڑی بھی آﺅٹ ہوگئے۔

اصل میں آسٹریلیا کے کپتان ٹم پین کی کوشش تھی کہ برتری کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے تیز بلے بازی کرکے مزید رنز بنا لیئے جائیں اور انگلینڈ کو ایک بڑاہدف دے کر چوتھے دن کے اختتام کے قریب بلے بازی کروا کر کچھ وکٹیں بھی حاصل کر لی جائیں۔ بلے باز سٹیو سمتھ ابھی وکٹ پر کھڑے تھے لہذا وہ ایک دفعہ پھر کپتان کی اُمید پر پورے اُترے اور 82رنز کی ذمہدارانہ اننگز کھیل کر آﺅٹ ہوئے۔

جسکے کچھ دیر بعد کپتان ٹم پین نے 186رنز 6کھلاڑی آﺅٹ پر دوسری اننگز بھی ڈکلیئر دی۔جوفرا آرچر جنہوں نے پہلی اننگز میں کوئی وکٹ نہیںلی تھی اس اننگز میں انگلینڈ کی طرف سے 3وکٹیں لیکر نمایاں رہے۔بلکہ اسٹیون سمتھ آﺅٹ ہونے سے ایک اوور پہلے آرچر کے ایک باﺅنسر سے بچتے ہوئے وکٹ پر گر بھی پڑے ۔ انگلینڈ کیلئے میچ جیتنے کیلئے ہدف تھا383 رنز جو وکٹ کی حالت سے ناممکن نظر آرہا تھا۔

لہذا ظاہرًاُنکے بلے بازوں کی اولین کوشش میچ برابر کرنے کی تھی۔ لیکن چوتھے دن کے آخری لمحات میں انگلینڈ کے2 اہم بلے باز اوپنر برنز اور کپتان جوئے روٹ صفر پر آﺅٹ ہوگئے۔دن کے اختتام پر اسکور تھا18۔آخری دن کا کھیل شروع ہوا اور چائے کے وقفے کے بعد انگلینڈ کے197رنز آل آﺅٹ پر ختم ہوا۔ صرف اوپنرڈینلی نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہوئے۔آسٹریلیا کی طرف سے باﺅلر کمنزنے4وکٹیں لیکر انگلینڈ کے بلے بازوں کی کمر توڑی۔

انگلینڈ کو ایشز کے چوتھے ٹیسٹ میں 185رنز سے شکست ہوئی اور مین آف دی میچ ہو ئے آسٹریلیا کے بلے باز اسٹیون سمتھ۔ایشز سیریز میں آسڑیلیا کو 2۔1سے برتری حاصل ہو گئی اور ابھی آخری 5 واں ٹیسٹ باقی ہے۔ 5ویں ٹیسٹ کے اہم لمحات: ﴿ آسٹریلیا کے کپتان نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ، جس کا رنگ پہلے دن ہی بے رنگ ہو نا شروع ہو گیا۔ ﴿ انگلینڈ کے باﺅلرجوفرا آرچر نے پہلی اننگز میں 6 وکٹیں لے کر میچ انگلینڈ کے حق میں کر دیا لیکن دوسری اننگز میںکوئی وکٹ نہ لے سکے۔

﴿ جوفرا آرچر اس میچ کے مین آف دی میچ ہوئے۔ ﴿ آسٹریلیا کے میتھیو ویڈ نے اس ٹیسٹ میں سیریز کی دوسری سنچری بنائی۔ آخری ٹیسٹ ایشز کا : اوول، جنوبی لندن کا ڈسٹرکٹ اور وجہ شہرت اوول کرکٹ گراﺅنڈجہاں 12ستمبر2019ءکو ایشز کا آخری5واں ٹیسٹ میچ ٹم پین الیون اور روٹ الیون کے درمیان کھیلا گیا۔ٹاس جیتا آسٹریلیا کے کپتان ٹم پین نے اور لندن میں بادلوں میں چھپے اوول کرکٹ گراﺅند میں فیلڈنگ کو ترجیح دی۔

انگلینڈ کیلئے یہ ٹیسٹ جیت کر سیریز برابر کرناتھی۔ لہذا محتاط انداز میں بلے بازی کا آغاز کیا اور 103پر2کھلاڑی آﺅٹ سے اُمید ہوئی کے انگلینڈپہلی اننگز میں بڑا اسکور کرے گا لیکن آسٹریلیا کے باﺅلرز کا پلڑا بھاری ہو نا شروع ہوا اور انگلینڈ کی وکٹیں خزاں رسیدہ پتوں کی طرح جھڑنے لگیں۔انگلینڈ کے کپتان جوئے روٹ جنکو 3چانس ملے وہ بھی57اسکور بنا کر آﺅٹ ہوگئے۔

وکٹ کیپر جوس بٹلر نے کچھ ذمہدارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور کسی حد تک انگلینڈ کو تباہی سے بچا لیا۔دوسرے دن کے آغاز میں انگلینڈ 294رنز پر پویلین لوٹ گئی ۔بٹلر نے 70رنز بنائے اور آسٹریلیا کی طرف سے مچل روس مارش نے 5کھلاڑی آﺅٹ کر کے ٹیم میں اپنی واپسی کا لوہا منوایا۔ سٹیو سمتھ 80رنز بنا کر ووکس کی بال پر ایل بی ڈبلیو ہوئے اور پہلی اننگز میں آسٹریلیا کی آل ٹیم کا سورج 225 کے مجموعی اسکور پر ڈوب گیا۔

کارنامہ تھا انگلینڈ کے فاسٹ باﺅلر جوفرا آرچر کا جو آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن پر قہر بن کر برسے اور6وکٹیں لیکر انگلینڈ کی جیت کیلئے پہلی اینٹ رکھ دی۔ آسٹریلیا کے باﺅلرز دوسری اننگز میں انگلینڈ کے بلے بازوں کو آﺅٹ کرنے میں ناکام نظر آئے اور وہ رنز کے مجموعے میں اینٹ پر اینٹ رکھتے ہوئے 69رنز کی برتری ملاتے ہوئے399رنز کے ہدف کی دیوار کھڑی کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

دوسری اننگز میںانگلینڈ 329رنز پر آل آﺅٹ ہوا اور اوپنرڈینلی94رنز بنا کرنمایاں رہے لیکن اپنی پہلی سنچری بنانے میں ناکام رہے۔آسٹریلیا کی طرف سے سپن باﺅلر نیتھین لیون نے4وکٹیں لیں۔ دوسری اننگز جس میں وکٹ کی حالت کچھ اچھی نہیں رہی تھی آسٹریلیا کے بلے باز میتھیو ویڈ نے تھرڈ اﺅن آکر ذمہداری سنبھالی اور سنچری بناتے ہوئے117کی اننگز کھیل ڈالی لیکن اُنکے ساتھ کوئی بلے باز جم نہ سکا ۔

اسٹیون سمتھ سیریز میں پہلی دفعہ 50سے کم اسکور 23 رنزپر آﺅٹ ہو چکے تھے۔ ویڈکی سنچری بھی کچھ کام نہیں اور اُنکے آﺅٹ ہو تے ہی باقی 2کھلاڑی بھی263 کے مجموعی اسکور پر آﺅٹ ہو گئے۔انگلینڈ کی طرف سے براڈ اور جیک لیچ نے4،4کھلاڑی آﺅٹ کیئے اور میچ چوتھے دن کے آخری اوقات میں ہی ختم ہو گیا۔ انگلینڈ نے135رنز سے آسٹریلیا کو شکست دے کر ایشز سیریز2۔2سے برابر کر لی جو بحیثیت میزبان اُنکے لیئے عزت کا باعث تھی۔ "آگے کھیلتے ہیں دیکھتے ہیں اور ملتے ہیں "۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments