کامن ویلتھ گیمز:پاکستان کا ابتدائی دستہ دہلی پہنچ گیا

Cwg Pakistani Dasta Dehli Pohanch Giya

گیمز ویلیج سے چار سانپ نمودار،آرمانوں سے بنا پُل گرگیا، نیند کے دوران بیڈ ٹوٹنے لگے ،جگہ جگہ گندگی کی ڈھیروں نے ہندوستان کو شرمندہ کردیا پاکستان کی ہاکی ، ٹینس اور ویٹ لفٹنگ میں میڈلز کی امیدیں،تنقید سے بچنے کیلئے پاکستانی اتھلیٹس کا دہلی میں خاص ”سواگت“

جمعرات 30 ستمبر 2010

اعجازوسیم باکھری: بھارتی درالحکومت دہلی میں کامن ویلتھ گیمز کا میلہ شروع ہونیوالا ہے تاہم تنازعات ، تنقید ، شرمندگی اور مایوسی چاروں اطراف سے گیمز کو گھیرے ہوئے ہے۔ایک طرف تو بھارتی حکومت گیمز کو کامیاب بنانے اور شریک ممالک کی شکایات دورکرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں مصروف ہے تو دوسری جانب مقامی میڈیا آئے روز ناقص انتظامات کے نئے سے نئے واقعات منظرعام پر لاکرنہ صرف حکومتی کوششوں کو محض خانہ پری کے طور پر ظاہرکررہا ہے بلکہ دنیا کو یہ باور کرایا جارہا ہے کہ ہندوستان ابھی اُس مقام تک نہیں پہنچا جہاں اُسے 70سے زائد ممالک کے درمیان ہونیوالے گیمز کی میزبانی سونپی جائے۔

گیمز تو جیسے تیسے شروع ہوکر اختتام ہوجائیں گے لیکن بھارت کو جو شرمندگی اٹھانی پڑرہی ہے اس کا مدوا شاید نہ ہوسکے۔

(جاری ہے)

بھارت کو کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی 2006ء میں سونپی گئی تھی جبکہ دہلی میں گیمز کے انعقاد کی تیاری آٹھ سے قبل شروع ہوچکی تھی لیکن جوں جوں گیمز کا وقت قریب پہنچا نہ صرف ناقص انتظامات کا پول کھل کر سامنے آگیا بلکہ بھارتی حکومت کی بوکھلاہٹ بھی دیدنی تھی۔

ابھی حال ہی میں بھارت میں ہاکی ورلڈکپ کا انعقاد ہوا جس میں سیکورٹی سب سے بڑا ایشو بن کر سامنے آیا لیکن انتظامات پر کسی نے انگلی نہیں اٹھائی لیکن 70سے زائد ممالک کے کھلاڑیوں کے مابین ہونیوالے کامن ویلتھ گیمز میں گیمز ویلیج سے لیکر مقابلوں کیلئے تیار کیے گئے ٹریک ،گراؤنڈز،سٹیڈیمز اورکھانے پینے کی اشیاء تک ناقص نکلیں جس پر بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ کو غیرمئوثرکرتے ہوئے خود چارج اپنے ہاتھوں لیا اور سفارتی تعلقات استعمال کرکے شریک ممالک کو بھارت آنے پر راضی کیا ۔

اس کے باوجود دنیا بھر سے دو درجن سے زائد کھلاڑیوں اور آفیشلز نے بھارت آنے سے انکارکردیا۔گیمز ویلیج میں ناقص انتظامات کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ آغاز سے قبل چار عدد سانپ ویلیج سے پکڑے جاچکے ہیں جن میں ایک سکاٹ لینڈ کے اتھلیٹ کی نشاندہی پر پکڑا گیا ،جبکہ ویلیج کے باہرقائم کردہ پل کا گرنا، سیوریج کا ناقص انتظام اور ویلیج میں پھیلی بدبو، جگہ جگہ بارش کا گندہ پانی ، گندگی سے بھرے باتھ رومز اور بھارتی اتھلیٹس کی جانب شکایت کی گئی ہے کہ سونے کیلئے ناقص بیڈ ہیں جو بیٹھتے ہی ٹوٹ گئے ، جبکہ بچوں سے مزدوی کرانے کے ساتھ ساتھ تعمیراتی کام کا ادھورہ ہونا بھی بھارت کیلئے شرمندگی کا باعث بن رہا ہے۔

پاکستان کا 75رکنی دستہ کامن ویلتھ گیمز میں شریک ہے ، بھارتی حکومت نے پاکستانی دستے کی رہائش ،پریکٹس سہولیات اور دیگر ضروریات پوری کرنے کیلئے خاص انتظامات کیے ہوئے ہیں کیونکہ پاکستان کی جانب سے عدم اطمینان کا اظہار گیمز کے انعقاد کو سخت نقصان پہنچا سکتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو گیمز ویلیج کی بجائے الگ ہوٹل میں ٹھہرانے کافیصلہ کیا گیاہے تاکہ پاکستانی اتھلیٹ انتظامات پر انگلیاں نہ اٹھائیں اوراگر ایسا ہواتو بھارت دنیابھرمیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا۔

پاکستان کو مطمئن کرنے کیلئے بھارتی وزیرخارجہ نے نیویارک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران شاہ محمود قریشی کے ساتھ ملاقات کی خواہش کا اظہار بھی کیا جسے پاکستانی وزیرخارجہ نے قبول کرنے سے انکارکردیا اور انہیں کامن ویلتھ گیمزمیں شرکت کی دعوت بھی دی گئی تاکہ شاہ محمود انتظامات پر تعریف کے چند کلمات ادا کردیں جس سے انتظامیہ کی عزت میں اضافہ ہوگا ،تاہم شاہ محمود قریشی نے گیمز دیکھنے سے یکسر انکارکردیا۔

ممبئی حملوں کے بعد سے پاکستانی ایتھیلٹس کے اتنی بڑی تعداد میں سرحد پار جانے کا یہ پہلا موقع ہے ،پاکستان اولمپک ایسو سی ایشن کے صدر لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ سید عارف حسن نے بھی بھارت میں بد انتظامی کے ساتھ ساتھ بدلے ہوئے حالات میں کھلاڑیوں کی سلامتی پرتحفطات کا اظہار کیا روانگی سے قبل ان کا کہنا تھا کہ ایونٹ سے دستبردار ہونے کے کا کوئی جواز نہیں۔

پاکستان کا ابتدائی 53رکنی دستہ بھارت پہنچ چکا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں دو اکتوبر کو پاکستانی دستہ سرحد پار کریگا ۔ماضی کے برعکس پاکستان نے اس بار صرف سات کھیلوں میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا ہے جن میں ہاکی، سکواش، شوٹنگ، باکسنگ، ٹینس، ویٹ لفٹنگ اور ریسلنگ شامل ہیں۔ سال 2006ء کے میلبورن دولت مشترکہ کھیلوں میں پاکستان نے گیارہ ایونٹس میں حصہ لیکر ایک طلائی سمیت پانچ تمغے جیتے تھے ۔

مگرپاکستان اولمپک ایسو سی ایشن اس بار اپنے ایتھلیٹس سے زیادہ بہتر کارکردگی کی آس لگائے بیٹھی ہے تاہم ہمیشہ کی طرح اس بار بھی امیدوں کا بڑا مرکز پاکستان کی ہاکی ٹیم ہے ۔ گزشتہ ایونٹ کی رنر اپ پاکستان ٹیم کو جس گروپ میں رکھا گیا ہے اس میں کامن ویلتھ ہاکی کی 16سالہ مختصرتاریخ کے تمام یعنی تینوں گولڈ میڈل جیتنے والی آسٹریلیا اور میزبان بھارت کے علاوہ ملائشیا اورسکاٹ لینڈ کی ٹیمیں شامل ہیں۔

پاکستان کی دوسری امید اعصام الحق اور عقیل خان ہیں جن سے ٹینس ایونٹ میں میڈل کی توقع کی جارہی ہے ۔ چند ہفتے پہلے یو ایس اوپن میں اعصام الحق کی غیر معمولی کامیابیوں کی وجہ کامن ویلتھ گیمز میں وہ پریشر میں ضرور ہونگے کیونکہ ان سے پہلے کے مقابلے کافی زیادہ توقعات وابستہ کرلی گئی ہیں مگر خوداعصام الحق،جن کی ڈبلز میں عالمی رینکنگ چھ ہو چکی ہے اور اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ دہلی میں گولڈ میڈل جیتنے آسان نہیں ہوگا ۔

چار برس قبل آسٹریلوی کامن ویلتھ گیمز کا پاکستان کے لئے واحد طلائی تمغہ جیتنے والے ویٹ لفٹر شجاع الدین ملک دہلی میں بھی میڈل جیتنے کے لئے فیورٹ سمجھے جا رہے ہیں۔ شجاع الدین ملک کے علاوہ ویٹ لفٹنگ میں پاکستان کی نظریں 1971 کامن ویلتھ گیمز کے سلور میڈلسٹ عبدلغفور کے دو فرزندوں اشتیاق غفور اور عبداللہ غفور پر لگی ہیں۔پاکستان 1972سے 1990 تک سیاسی وجوہات کی بنا پر کامن ویلتھ گیمز سے دور رہا البتہ اس سے پہلے اور بعد کے دور میں پاکستان نے دس بارکامن ویلتھ گیمز میں حصہ لیکر 22 گولڈ میڈل سمیت مجموعی طور پر 60 تمغے جیتنے کا اعزاز حاصل کررکھا ہے اور اس بار حالات جیسے بھی ہیں پاکستانیوں کی امیدیں آسمان کو چھو رہی ہیں ۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments