آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ |پہلی 3سیریز| حصہ دوم

Icc World Test Championship Undeway

ایشز سیریز اور سری لنکا اور نیوزی لینڈ کی سیریز برابر رہی ،بھارت نے ویسٹ انڈیز کیخلاف کلین سویپ کیا

Arif Jameel عارف‌جمیل جمعرات ستمبر

Icc World Test Championship Undeway
یکم اگست2019ءکو آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کے آغاز سے 16ستمبر2019ءتک 3سیریز میں9میچ کھیلے جاچکے ہیں ۔5ایشز سیریز کے انگلینڈ بمقابلہ آسٹریلیا جو 2۔2سے برابر ہو گئی۔ سری لنکابمقابلہ نیوزی لینڈ2ٹیسٹ کی سیریز 1۔1سے برابر اور 2 ہی ٹیسٹ کی سیریز ویسٹ انڈیز سے انڈیانے2۔0 سے جیت لی ۔لہذا تازہ ترین پوائنٹس چارٹ کی صورت ِحال ذیل میںہے: Pts. D L W M S Teams Sr.no 56 1 2 2 5 1 England 1 56 1 2 2 5 1 Australia 2 60 0 1 1 2 1 Sri Lanka 3 60 0 1 1 2 1 New zeland 4 0 0 2 0 2 1 West Indies 5 120 0 0 2 2 1 India 6 - - - - - - South Africa 7 - - - - - - Bangladesh 8 - - - - - - Pakistan 9 اس پوائنٹس چارٹ کو سمجھنے کیلئے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کے پہلے ایڈیشن کے اصولوں کو مدِنظر رکھنا پڑے گا۔

اصول: آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ اگست2019ءتا جون2021ءتک کھیلی جا ئے گی۔

(جاری ہے)

جس میں 9 ٹاپ ٹیسٹ ٹیمیں حصہ لیں گی۔آسٹریلیا،انگلینڈ،پاکستان ،بھارت،سری لنکا ، بنگلہ دیش ،نیوزی لینڈ ،جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز۔ اس 2سال پر محیط چیمپئین شپ کا فارمیٹ کچھ اسطرح ترتیب دیا گیا ہے: ﴿ دُنیا کرکٹ کی 9 ٹیسٹ ٹیمیں حصہ لیں گی۔ ﴿ 27سیریز کھیلی جائیں گی جس میں مجموعی طور پر72ٹیسٹ میچوں کامیدان سجے گا۔

﴿ ہرملک کی ٹیم 3 ملکی اور3غیر ملکی سیریز کھیلے گی۔6ٹیموں کے ساتھ۔کسی بھی ملک کی کسی بھی 2ٹیموں سے کوئی سیریز نہیں ہو گی۔ ﴿ اسطرح بعض ٹیسٹ ٹیموں کے درمیان اس چیمپئین شپ میں کوئی سیریز بھی نہیں ہوگی۔جو چیمپئین شپ کے اصول کا حصہ ہے۔مثلاً پاکستان کے ٹوٹل13ٹیسٹ میچ ہیں لیکن بھارت اور ویسٹ انڈیز کے ساتھ کوئی ٹیسٹ میچ نہیں۔ ﴿ دوسرا ہر ملک برابرٹیسٹ میچ نہیں کھیلے گا لیکن سیریز سب برابر 6,6 کھیلیں گے۔

﴿ ہر سیر یز کے120پوائنٹس ہوں گے۔ ﴿ 2 ٹیسٹ پر مشتمل سیریز کے60،60پوائنٹس ہوں گے اور 3ٹیسٹ سیریز کے40پوائنٹ اور4ٹیسٹ پر مشتمل سیریز کے30 پوائنٹ فی ٹیسٹ ہوں گے ۔5ٹیسٹ پر مشتمل سیریز میں ایک ٹیسٹ جیتنے پر24پوائنٹس ملیں گے۔ ﴿ پوائنٹس 60،40،30اور24 فی میچ جیتنے والی ٹیم کے حصے میں آئیں گے۔ ﴿ میچ ٹائی رہنے پر پوائنٹس دونوں ٹیموں میں برابر تقسیم ہوں گے:30،20،15اور 12۔

﴿ میچ برابر ہونے پر فی ٹیم پوائنٹس ملیں گے: 20،13،10اور8۔ ﴿ ناقص وکٹ تیار کرنے پر میزبان ملک کے بورڈ کو سخت سزا ملے گی۔ ﴿ میچ خراب صورت ِحال کی نذر ہوا تو فاتح پوائنٹس مہمان ٹیم کے حصے میں جائیں گے۔ ﴿ سلو اوور ریٹ کا شکار ہونے والی ٹیم کو فی اوور 2پوائنٹس کی کٹوتی کا سامنا ہو گا۔ ﴿ چیمپئین شپ کا آغاز یکم اگست 2019ءکو انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان پہلے ٹیسٹ سے ہو چکا ہے ﴿ چیمپئین شپ کا آخری فائنل میچ10سے 14جون2021ءکو لارڈز ،لندن میں کھیلا جائے گا۔

﴿ افغانستان، آئیر لینڈ اور زمباوے اس چیمپئین شپ کا حصہ نہیں ہو نگی۔ ﴿ یہ چیمپئین شپ لیگ کی بنیاد پر کھیلی جائے گی۔جسکے بعد فائنل میچ کھیلا جائے گا۔ پہلی 3سیریز : جو آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کے تحت کھیلی گئیںاُس میں سری لنکا اپنی ہوم گراﺅنڈ کی وجہ سے بہتر نظر آئی کیونکہ اُنکے کرکٹ بوڑد کے حالات سے ٹیم میں تبدیلیوں تک مسائل چلے آرہے تھے۔

سری لنکا کی طرف سے اُبھرتے ہوئے سپن باﺅلر آکیلا داننجایا اوراوپنر کپتان دیمتھ کرونارتنے سیریز میں نمایاں رہے۔دوسری طرف نیوزی لینڈ کی ٹیم چند روز پہلے ہی عالمی کپ 2019ءمیں رنرز اَپ رہی اور اعلیٰ کارکردگی دکھا کر سری لنکا کی سر زمین پر ٹیسٹ سیریز کھیلنے آئی ۔ لہذا وہ اعتماد کے ساتھ 2ٹیسٹ کی سیریز برابر کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ٹام لیتھم نے کیرئیرکی 10ویں سنچری بنائی۔

انڈیا کی کرکٹ ٹیم اپنے کپتان و یرات کوہلی کی صلاحیتوں کے باعث ایک بہتریم موریل رکھتے ہوئے میدان میں قدم رکھتی ہے اور ٹیسٹ سیریز میں بھی دوسرے ٹیموں کا بھرپور مقابلہ کرتی ہے۔ چاہے مخالف کا ہی ہوم گراﺅنڈ ہو۔ دوسری ٹیسٹ سیریز ویسٹ انڈیز میں کھیلی گئی جس میں انڈیا نے بیٹنگ ،باﺅلنگ اور فیلڈنگ کے میدان میں ویسٹ انڈیز کو واقعی چاروں شانے چت کر دیااور 2ٹیسٹ کی سیریز جیت لی۔

بمرا کی باﺅلنگ و ہیٹرک اورہانیوما ویہاری کی بلے بازی و سنچری اس سیریز میں یادگار رہے گی۔ ویسٹ انڈیز کا ٹاس جیت کر دونوں دفعہ فیلڈنگ کرنا حیران کن رہا۔ کمال دکھایا کوئی نہیں اور مار بھی کھائی۔ تیسری سیریز جسکا کا آغاز ٹیسٹ چیمپئین شپ میں سب سے پہلے ہوا اور 5ٹیسٹ میچوں کی وجہ سے 15ستمبر2019ءکو ختم ہوئی سب سے دلچسپ رہی۔خصوصی طور پر انگلینڈ کیلئے عالمی کپ2019ءجیتنے کے بعد فوراً اپنے ہوم گراﺅنڈ پر آسٹریلیا کے ساتھ کھیلنا ایک چیلنج تھا۔

جس میںکامیابی یقینی نظر آرہی تھی کیونکہ اگر تجزیہ کیاجائے تو آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم 5ٹیسٹ میچوں میں اُنکے آگے کمزور نظر آئی ۔لیکن یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ انگلینڈ کی ٹیم کے کھلاڑیوں نے سیریز میں کوئی خاص کارنامہ دکھایا۔یعنی دونوں ٹیموں نے سیریز میں ایک اننگز میں بھی500رنز نہیں بنائے۔آسڑیلیا نے پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں487 اور چوتھے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں497رنز بنائے اور دونوں دفعہ ڈکلیئر ضرورکیا۔

سیریز میںخاص کیا رہا؟ آسٹریلیا کے سابق کپتان و بلے باز اسٹیون سمتھ کی بیٹنگ ،پیٹ کمنز کی باﺅلنگ۔ انگلینڈ کی طرف سے عالمی کپ2019ءکے ہیرو بین سٹوکس اور اس سیریز میں ڈبیو کرنے والے فاسٹ باﺅلر جوفرا آرچر۔آسٹریلیا 2ٹیسٹ جیتا اسٹیون سمتھ کی پہلے ٹیسٹ میں 2سنچریوں کی وجہ سے اور چوتھا ٹیسٹ اُنکی ڈبل سنچری کی وجہ سے۔انگلینڈ سیریز کا ایک ٹیسٹ جیتا چوتھی اننگز میں359رنز کے ہدف کے تعاقب میں بین سٹوکس کی شاندار ناقابل ِشکست سنچری کی وجہ سے اور دوسرا ٹیسٹ پہلی اننگز میں جوفرا آرچر کی شاندار 6وکٹیں حاصل کر نے کی وجہ سے۔

اُنھوں نے اپنی پہلی سیریز میں4ٹیسٹ میچ کھیلتے ہو ئے22وکٹیں لیں۔ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کے انقعاد سے ٹیسٹ کرکٹ کو آکسیجن مہیا کردی گئی ہے اور جیسے جیسے مقابلے آگے بڑھیں گے دلچسپی میں مزید اضافہ ہو تا چلا جائے گا۔ ابھی جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش اور پاکستان نے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ میں قدم رکھنا ہے۔ "آگے کھیلتے ہیں دیکھتے ہیں اور ملتے ہیں "۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments